خواتین کی تعلیم و تربیت-2

دوسری رائے:
عورتوں کو انگریزی تہذیب کے دعویداروں کے طریقۂ تعلیم کے مطابق تعلیم دی جائے، ان کا کہنا ہے کہ ہمیں زیادہ قیل و قال اور فضول جھگڑوں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں دنیا میں بعض قومیں اوج ترقی پر فائز ہیں اور خوش قسمتی ان کے قدم چومتی ہے جب کہ کئی دوسری قومیں ذلت، پستی، غلامی اور بد بختی سے دو چار ہیں، غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کی خوش قسمتی اور
ان کی بد قسمتی کا سبب محنت اور مال ہے جس کی بناء پر ہم تہیہ کر چکے ہیں، کہ ترقی یافتہ قوموں کی تقلید کریں تاکہ ہمیں وہی مقام حاصل ہو جائے، ہم درس و تدریس میں، تعلیم و تربیت میں، اندازِ فکر، لباس، معاشرہ اور نظامِ دستور میں غرضیکہ ہر معاملہ میں ان کے نقش قدم پر چلیں گے اور اسی ضمن میں تعلیم نسواں، عورتوں کی آزادی اور ہر ممکن معاملہ میں بلا قید و بند مرد عورت کے حقوق کی مساوات بھی ہے، ہمارا اسی پر ایمان ہے اور اس کی تنفیذ کے لئے کوشاں ہیں۔
لیکن تمہارا یہ کہنا کہ عورتیں اپنے گھروں میں دفن رہیں، انہیں اپنے مال و متاع اور ضروریاتِ زندگی میں کسی قسم کا تصرف کا حق نہ ہو حتیٰ کہ کھلی فضاء میں سانس تک نہ لےسکیں اور ضرورت پڑنے پر گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں اسے دیکھنے سے روک دینا۔ پھر تم نے یہاں تک غلو کیا کہ اس کی آواز کو بھی موجب شرم قرار دیا۔ اس کا حق وراثت مرد کی نسبت ناقص یعنی آدھا قرار دیا لیکن اے کاش، اس کا نصف بھی تو سالم رہ جاتا کہ اس پر پردہ نشینی لازم اور لابدی قرار دی گئی تو اس کے خارجی امور کا نگران، اس کا بھائی، باپ اور چچازاد ٹھہرا، تو یوں سمجھو کہ آپ کا عطا کردہ نصف بھی ہضم ہو گیا اس لئے کہ بسا اوقات یہی قریبی رشتہ دار از خود اس کے مال پر ناگ بن جاتا ہے اور سب کچھ غصب کر کے کھا جاتا ہے، لیکن عورت، تو وہ بوجہ حجاب اپنے جائز حق کو تلف ہوتے دیکھ کر بھی کسی کچہری یا عدالت میں مطالبہ تک پیش نہیں کرتی صرف وہ گھر کی جیل میں پردہ نشین ہو کر اپنے خدا سے مردوں کے جو روستم کا شکوہ کرتی رہتی ہے، پھر معاملہ یہیں پر
ختم نہیں ہو جاتا بلکہ یہ دنیا، اپنے نصف جن سے مراد مستورات وغیرہ ہیں۔
ان کے بارے میں خواہ یورپین قوموں کی رائے تسلیم کر لیں کہ یہی نصف افضل ہے، خواہ اسے باقی ماندہ نصف یعنی مردوں کے ہم پایہ تسلیم کر لیا جائے۔ ان کی رونق سے محروم ہو جاتا ہے، کیا ایسی قوم دنیا میں زندہ رہ سکتی ہے جس کا نصف تو بالکل مردہ ہو اور باقی جہالت اور پستی کی وجہ سے بالکل ناکارہ ہو حالانکہ یہ امر مسلمہ ہے کہ ترقی ناقابلِ تقسیم ہے، یا تو ماں، باپ اور اولاد سب ترقی یافتہ ہوں اور یا پھر سب ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کر رہے ہوں، کیا کبھی ایسی قوم بھی سننے میں آئی ہے کہ مرد تو شائستہ اور مہذب ہوں، لیکن عورتیں جہالت، وحشت اور بددیت کی زندگی بسر کر رہی ہوں۔
اور کیا وجہ ہے کہ عورت حکمران، ملکہ، صدر مملکت، وکیل، نوابوں کی مجلس کی نائب اور پبلک کے ذمہ دار اور صاحب حیثیت لوگوں کی سربراہ نہیں بن سکتی؟ کیا ان تمام امور کے انتظام کا دارومدار عقل و تدبر اور فہم و فراست پر نہیں؟ کیا آپ لوگ اتنے دلیر ہیں کہ عورت کو عقل و فہم اور سوچ بچار سے کلیۃً عاری سمجھتے ہیں اور آپ کے نزدیک اس کا کام ڈھور ڈنگر کی طرح صرف
افزائش نسل ہے۔ اگر تمہار یہی خیالات ہیں تو تم نے اپنی ہی ماؤں کو نہایت ذلیل و خوار کیا۔
مجھے اپنی عمر کی قسم ہے کہ ایسے خیالات کا نتیجہ ماسوائے اس کے کچھ نہیں ہو گا کہ قوموں کو اوج ترقی سے ذلت کے گڑھے میں پھینک کر ان پر سستی او کاہلی کی چادر پھیلا دیں۔ اسی پر ہی اکتفا نہیں بلکہ قوموں کو جہالت اور دیوانگی کے قبرستان میں دفن کر دیں۔کئی لاکھ عورتیں آخری جنگ عظیم میں شریک ہوئیں۔ اگر تمہاری اس بری رائے کو من و عن تسلیم کر لیا جائے تو کوئی ایک
عورت بھی ایسی نہ ملے گی جو کہ گھروں کے قبرستانوں سے نکل کر وطن کے دفاع میں ایک تیر تک چلا سکے۔
اور جو تم نے عفت و عصمت کی رٹ لگا رکھی ہے تو یہ صرف ایک عادت ہے اور عادتیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں، اگرچہ زمانۂ ماضی میں اس پاک دامنی کا اعتبار تھا لیکن آج اس کی حیثیت مذاق اور تمسخر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، مطلق العنان حکومتیں اور دنیاوی جاہ و جلال سے بہرہ مند ملکوں میں تمام شریف لوگ جن میں فلسفی، عالم، امیر اور وزیر شامل ہیں۔ وہ ایسے معاملات کی ہرگز پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی ایسی باتوں کا محاسبہ کرتے ہیں، ان کا طرزِ عمل یہی ہے کہ لڑکی جب سن بلوغت کو پہنچ جائے تو وہ اپنے نفس کی خود مختار ہے، جو چاہے کرے، جس سے چاہے تعلقات پیدا کرے دن رات اکیلی پھرے ہم تو ان قوموں کے طرزِ عمل کو ہی اپنائیں گے اور ہر معاملہ میں ان ہی کی تقلید کریں گے۔
تیسری رائے:
یہ رائے پہلی دونوں آراء کے بین بین ہے، یہ رائے پچھلی دونوں رایوں کے نقائص اور غلطیوں سے پاک اور ان کی خوبیوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے، اور یہ اس طرح کہ اولاً ان کی ایسی تعلیم سے انکار نہیں کیا جا سکتا جن سے عورت امور خانہ داری، گھریلو سہولتوں او ان کے انتظام سے واقفیت اور نیک بچے اور بچیوں کے لئے ایک نیک ماں بننے کی صلاحیت سے متصف اور بہرہ مند ہو سکے۔ ثانیاً جس سے عورت زندگی کے تمام شعبوں میں، خواہ وہ معاش سے متعلق ہوں، حرب و ضرب سے یا طبیعات سے ہر شعبۂ حیات میں مرد کی مد اور معاون ثابت ہوں۔

تیسری رائے رکھنے والوں کی نظر میں، پہلی رائے کے قائل افراط میں مبتلاء ہیں جبکہ دوسری رائے رکھنے والے تفریط کا شکار ہیں اور یہ دونوں ہی قابل نقد و جرح ہیں ابھی پہلی رائے کا حال سنئے۔

ڈاکٹر تقی الدین ہلالیؔ اور مولانا عبد السلام کیلانیؔ مدنی
جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: