جہیز

عصر حاضر میں خاندانی ادارے کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان سب کا احاطہ تو شاید ممکن نہ ہو، ہرمعاشرے میں یہ چیلنج ایک دوسرے سے مختلف ہیں؛ بلکہ بعض حالات میں متضاد بھی۔ مثلاً کہیں جہیز کا اژدہا بے شمار جوانیوں کوچاٹ جاتا ہے اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں عفت مآب دوشیزائیں ہوس پرست نوجوانوں اور ان کے والدین کی ”ہل من مزید“ کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
دوسری طرف کوئی باپ اپنی جوان بیٹی کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے لیے دندانِ حرص تیز کررہا ہوتا ہے۔ رسول اکرم ﷺنے اِن دو طرفہ ہوس پرستوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
عورت سے نکاح چار اسباب کی بنیاد پر کیاجاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب و نسب کے باعث، اس کے حسن وجمال کے سبب سے اور اس کے دین کے تعلق سے؛ لہٰذا تم دین دار خواتین کو منتخب کرو۔ (مسلم شریف: ۲۶۶۱، بخاری شریف: ۴۷۰۰)
نیز آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:
جب کوئی ایسا شخص جس کے دین اوراخلاق پسندیدہ ہوں نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح کردیا کرو، بصورتِ دیگر زمین میں فتنہ وفساد برپاہوگا۔ (سنن الترمذی: ۱۰۰۴)
نکاح کے لیے مال ودولت کو معیار بنانا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اورنہ آپ کے رسول اللہ ﷺکو، ارشاد ربانی ہے:
اگر وہ غریب ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو غنی فرمادے گا۔ (النور:
۱۸=۳۲)
جہیز کی حقیقت
 جہیز اور بری یہ دونوں درحقیقت زوج (لڑکے والوں کی) طرف سے زوجہ یا اہل زوجہ کو ہدیہ ہے اور جہیز جو درحقیقت اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے فی نفسہ امر مباح بل کہ مستحسن  ہے۔ (اصلاح الرسوم،ص:۵۶)
اگر خدا کسی کو دے تو بیٹی کو خوب جہیز دینا برا نہیں؛ مگر طریقے سے ہونا چاہیے، جولڑکی کے کچھ کام بھی آوے۔ (حقوق البیت،ص:۵۲)
جہیز میں قابل لحاظ امور
جہیز میں اس امر کا لحاظ رکھنا چاہیے: اوّل تو اختصار یعنی گنجائش سے زیادہ کوشش نہ کرے۔
دوم: یہ کہ ضرورت کا لحاظ کرے؛ یعنی جن چیزوں کی ضرورت فی الحال ہو وہ دینا چاہیے۔
سوم: یہ کہ اعلان نہ ہو؛ کیوں کہ یہ تواپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے دوسروں کو دکھلانے کی کیاضرورت ہے؟
حضور ﷺکے فعل سے جو اس روایت میں مذکور ہے تینوں امر ثابت ہیں۔ (اصلاح الرسوم،ص:
۹۳)
حضرت فاطمہ ؓ کا جہیز
حضرت فاطمہ ؓ کا جہیز یہ تھا:
دو یمنی چادر، دو نہالی جس میں اَلْسِی کی چھال بھری تھی، چار گدے، چاندی کے دو بازوبند، ایک کملی، ایک تکیہ، ایک پیالہ،ایک چکی، ایک مشکیزہ اور پانی رکھنےکا برتن یعنی گھڑا اور بعض روایتوں میں ایک پلنگ بھی آیا ہے۔ (ازالة الخفا واصلاح الرسوم،ص:۹۳)
حضرت فاطمہ ؓ کے جہیز کی حقیقت
ہمارے معاشرے میں جب جہیز کی بات آتی ہے تو سارے عہد نبوی سے ایک سیدہ فاطمہ ؓ کی اکلوتی مثال کو اس قدر زور بیان اور قوت استدلال فراہم کردیاجاتا ہے؛ گویا سنت نبوی کا تمام ترانحصار اسی پر ہے۔ سیّدہ فاطمہ ؓ کے اسباب کے ذریعے جہیز کو مسنون ثابت کرنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی اور دیگر صاحب زادیاں تھیں، آپ نے اُنھیں کتنا سامانِ جہیز دیا، اگر نہیں دیا ہے تو کیاوجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺیہ تلقین فرمارہے ہیں:
اولاد کو عطیہ دینے میں مساوات کو پیش نظر رکھو۔ (بیہق)
ایک صحابی نعمان بن بشیرؓ اپنے ایک بیٹے کو عطیہ دینے کے سلسلے میں گواہ بنانے حاضر ہوئے توآپ ﷺنے پوچھا:کیا ساری اولاد کو اسی طرح کے عطیات دے رہے ہو؟ اُنھوں نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اولاد کے بارے میں انصاف سے کام لو، کسی ایک کو دینا دوسرے کو نظر انداز کردیناظلم ہے اور میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ (متفق علیہ)
رسول اللہ ﷺکے ہاں یہ معاملہ آتاہے تو ایک بیٹی کو جہیز دے کر روانہ کرتے ہیں اور دوسری بیٹیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں حال آں کہ آپ ﷺکاارشاد ہے: میں انصاف نہیں کروں گا تو کون انصاف کرے گا؟
بخدا دامنِ نبوت ہر قسم کی نا انصافی سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صحیح روایت سے یہ ثابت ہوجائے کہ آپ نے سیّدہ فاطمہ ؓ کے گھرکا سامان اپنے پاس سے دیا اور اُن چار سو اسی دراہم سے نہیں خریدا گیاجو حضرت علی ؓ نے اپنا واحد اثاثہ غزوئہ بدر میں ملنے والی زرہ کو فروخت کرکے حاصل کیاتھا تو بھی صورتِ حال علاحدہ تھی۔
بعثتِ نبوی سے پہلے کی بات ہے۔ رسول اللہ ﷺکواپنے چچا ابوطالب کی معاشی تنگی کا شدت سے احساس تھا، ایک روز آپ نے اپنے دوسرے چچا حضرت عباس ؓ سے کہا: آئیے ہم ان کی مدد کرتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کا ایک بیٹا میں لے لیتاہوں ایک آپ لے لیں۔ اس طرح ان کی معاشی ذمے داری کم ہوجائے گی؛ چناں چہ آپ ﷺنے حضرت علی ؓ کی کفالت کی ذمے داری لی جو شادی تک آپ کے ساتھ رہے۔ چوں کہ حضرت علی ؓ کی کفالت آپ کےذمے تھی؛ اِسی لیے مدینہ منورہ میں مواخات کے موقعے پر جب ایک ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بھائی بنایاگیا توآپ ﷺنے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑکر فرمایا: یہ میرا بھائی ہے۔
مطلب یہ تھا کہ اس کی کفالت جس طرح مکہ معظمہ میں میرے ذمے تھی اب بھی میرے ذمے ہے؛ چوں کہ حضرت علی ؓ کی کفالت آپ کی ذمے داری تھی؛ اِس لیے حضرت علی ؓ نے جب نیاگھر بسانے کا اِرادہ کیاتو آپ نے اُن کے سرپرست ہونے کی ذمے داری پوری کرتے ہوئے کچھ ضروری سامان ساتھ کردیاجسے بعد میں ہوس پرستوں نے کچھ کا کچھ کردیا۔
مروّجہ جہیز کی خرابیاں
مگر اب جس طرح سے اس کارواج ہے اس میں طرح طرح کی خرابیاں ہوگئی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ اب ہدیہ مقصود رہا نہ صلہ رحمی؛ بلکہ ناموری اورشہرت اور رسم کی پابندی کی نیت سے کیاجاتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ بری اور جہیزی دونوں کا اعلان ہوتا ہے،متعین اشیا ہوتی ہیں، خاص طرح کے برتن بھی ضروری سمجھے جاتے ہیں، جہیز کے اسباب بھی معین ہیں کہ فلاں چیز ضروری اور تمام برادری اور گھر والے اس کو دیکھیں گے، جہیز کی تمام چیزیں مجمع عام میں
لائی جاتی ہیں اورایک ایک چیز سب کو دکھلائی جاتی ہے اور زیور اور جہیز کی فہرست سب کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ آپ خود فرمائیے یہ پوری ریا دکھلاوا ہے یانہیں؟ اس کے علاوہ زنانہ کپڑوں کا مردوں کو دکھلانا کس قدر غیرت کے خلاف ہے۔اگر صلہ رحمی مقصود ہوتی تو کیف ما اتفق جو میسر آتا اور جب میسر آتابطور سلوک کے دے دیتے۔
اسی طرح ہدیہ اور صلہ رحمی کے لیے کوئی شخص قرض کا بار نہیں اٹھاتا؛ لیکن ان دونوں رسموں کو پورا کرنے کے لیے اکثر اوقات مقروض بھی ہوتے ہیں گوسود ہی دینا پڑے اور گو باغ ہی فروخت یا گروی ہوجائے پس اس میں الزام مالا یلزم اور نمایش اور شہرت اور اسراف وغیرہ خرابیاں موجود ہیں؛ اِس لیے یہ بھی بطریق متعارف (مروّجہ طریقے سے) ممنوعات کی فہرست میں  داخل ہوگیا۔ (اِزالة الخفاء، اصلاح الرسوم،ص:۵۱و ص:۵۷)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: