وہ جو کعبہ گرانا چاہتے تھے-1

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے  نام سے  شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان رحمت والا ہے
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیاسلوک کیا
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ
کیا اس نے ان کے مکر و فریب کو باطل و ناکام نہیں کر دیا
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
اور اس نے ان پر (ہر سمت سے) پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے
تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ
جو ان پر کنکریلے پتھر مارتے تھے
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ
پھر (اﷲ نے) ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح (پامال) کر دیا
وہ عزت و احترام کہ جو مکّہ المکّرمہ اور کعبہ شریف کے حصے میں آیا اس کو دیکھ کر دور دور کے بادشاہان بھی رشک اور حسد میں مبتلا تھے۔ انہیں میں سے ایک کے دل میں یہ خیال آیا کہ  کیوں نہ وہ بھی ایک ایسی عمارت تعمیر کرے کہ جو ان لوگوں گے لئے باعث کشش ہو کہ جو مکّہ المکرمہ سے دور رہتے ہوں ۔
نجران میں یمن کے یہودی فرمانروا ذونواس نے پیروانِ مسیح علیہ السلام پر جو ظلم کیا تھا اس کا بدلہ لینے کے لیے حبش کی عیسائی سلطنت نے یمن پر حملہ کر کے حمیری حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور 525ء میں اس پورے علاقے پر حبشی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ یہ ساری کارروائی دراصل قسطنطنیہ کی رومی سلطنت اور حبش کی حکومت کے باہم تعاون سے ہوئی تھی، کیونکہ حبشیوں کےپاس اس زمانے میں کوئی قابل ذکر بحری بیڑا نہ تھا۔ بیڑا رومیوں نے فراہم کیا اور حبش نے اپنی 70 ہزار فوج اسی کے ذریعے سے یمن کے ساحل پر اتاری۔ یہ ذہن نشین ضرور کر لیجئے گا کہ یہ سب کچھ مذہبی جذبے سے نہیں ہورہا تھا بلکہ اس کے پیچھے معاشی اور سیاسی اغراض کام کر رہی تھیں ،اور  بلکہ غالباً یہی اس کی اصل محرک تھیں اور عیسائی مظلومین کے خون کا انتقام ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ رومی سلطنت جب سے مصر و شام پر قابض ہوئی تھی اسی وقت سے اس کی یہ کوشش تھی کہ مشرقی افریقہ، ہندوستان، انڈونیشیا وغیرہ ممالک اور رومی مقبوضات کے درمیان جس تجارت پر عرب صدیوں سے قابض چلے آ رہے تھے ، اسے عربوں کے قبضے سے نکال کر وہ خود اپنے قبضے میں لے لے ، تاکہ اس کے منافع پورے کے پورے اسی کوحاصل ہوں اور عرب تاجروں کا واسطہ درمیان سے ہٹ جائے۔ اس مقصد کے لیے 24 یا 25 قبل مسیح میں قیصر آگسٹس نے ایک بڑی فوج رومی جنرل ایلیس گالون کی قیادت میں عرب کے مغربی ساحل پر اتار دی تھی تاکہ وہ اس بحری راستے پر قابض ہو جائے جو جنوبی عرب سے شام کی طرف جاتا تھا۔ لیکن عرب کے شدید جغرافیائی حالات نے اس مہم کو ناکام کر دیا۔ اس کے بعد رومی اپنا جنگی بیڑہ بحیرہ احمر میں لے آئے اور انہوں نے عربوں کی اس تجارت کو ختم کر دیا جو وہ سمندر کے راستے کرتے تھے اور صرف بری راستہ ان کے لیے باقی رہ گیا۔ اسی بحری راستے کو قبضے میں لینے کے لیے انہوں نے حبش کی عیسائی حکومت سے گٹھ جوڑ کیا اور بحری بیڑی سے اس کی مدد کر کے اس کو یمن پر قابض کرا دیا۔ یمن پر جو حبشی فوج حملہ آور ہوئی تھی ۔
اس کے متعلق عرب مورخین کے بیانات مختلف ہیں:
حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ وہ دو امیروں کی قیادت میں تھی، ایک اریاط دوسرا ابرہہ اور محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس فوج کا امیر اریاط تھا اور ابرہہ اس میں شامل تھا۔ پھر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ابرہہ اور اریاط باہم لڑ پڑے ، مقابلے میں اریاط مارا گیا، ابرہہ ملک پر قابض ہو گیا اور پھر اس نے شاہ حبش کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اسی کو یمن پر اپنا نائب مقرر کرے۔
اس کے برعکس یونانی اور سریانی مورخین کا خیال ہے کہ فتح یمن کے بعد جب حبشیوں نے مزاحمت کرنے والے یمنی سرداروں کو ایک ایک کر کے قتل کرنا شروع کر دیا تو ان میں سے ایک سردار السمیفع اشوعنے حبشیوں کی اطاعت قبول کر کے اور جزیہ ادا کرنے کا عہد کر کے شاہ حبش سے یمن کی گورنری کا پروانہ حاصل کر لیا لیکن حبشی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور ابرہہ کو اس کی جگہ گورنر بنا دیا۔ یہ شخص حبش کی بندرگاہ ادولیس کے ایک یونانی تاجر کا غلام تھا جو اپنی ہوشیاری سے یمن پر قبضہ کرنے والی حبشی فوج میں بڑا اثر و رسوخ حاصل کر گیاتھا۔
شاہ حبش نے اس کی سرکوبی کے لیے جو فوجیں بھیجیں وہ یا اس سے مل گئیں یا اس نے ان کو شکست دے دی۔ آخر کار شاہ حبش کے مرنے کے بعد اس کے جانشیں نے اس کو یمن پر اپنا نائب السلطنت تسلیم کر لیا (یونانی مورخین اس کا نام ابرامس
Abrames اور سریاری مورخین ابراھام Abraham لکھتے ہیں۔ ابرہہ غالباًً اسی کا حبشی تلفظ ہے کیونکہ عربی میں اسکا تلفظ ابراہیم ہےاوراس کا پورا نا م تاریخ میں ابرہہ الاشرم ملتا ہے) یہ شخص رفتہ رفتہ یمن کا خود مختار بادشاہ بن گیا، مگر برائے نام اس نے شاہ حبش کی بالا دستی تسلیم کر رکھی تھی اور آپکو مفوض  الملک (نائبِ شاہ) لکھتا تھا۔ اس نے جو اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ جب 543ء میں وہ سد مارب کی مرمت سے فارغ ہوا تو اس نے ایک عظیم الشان جشن منایا جس میں قیصر روم، شاہ ایران، شاہ حیرہ اور شاہ غسان کے سفرا شریک ہوئے۔ اس کا مفصل تذکرہ اس کتبے میں درج ہے جو ابرہہ نے سد مارب پر لگایا تھا۔ یہ کتبہ آج بھی موجود ہے اور گلیزر (Glaser) نے اس کو نقل کیا ہے۔ یمن میں پوری طرح اپنا اقتدار مضبوط کر لینے کے بعد ابرہہ نے اس مقصد کے لیے کام شروع کر دیا جو اس مہم کی ابتدا سے رومی سلطنت اور اس کے حلیف حبشی عیسائیوں کے پیش نظر تھا، یعنی ایک طرف عرب میں عیسائیت پھیلانا اور دوسری طرف اس تجارت پر قبضہ کرنا جو بلادِ مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ یہ ضرورت اس بنا پر اور بڑھ گئی تھی کہ ایران کی ساسانی سلطنت کے ساتھ روم کی کشمکشِ اقتدار نے بلادِ مشرق سے رومی تجارت کے دوسرے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ابرہہ نے اس مقصد کے لیے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کرایا جس کا ذکر عرب مورخین نے اَلقَلِیس یا اَلقُلَیس یا اَلقُلَّیس کے نام سے کیا ہے (یہ یونانی لفظ Ekklesia کا معرب ہے اور اردو کا لفظ کلیسا بھی اسی یونانی لفظ سے ماخوذ ہے ) اس کی تزین و آرائش نہایت ہی احتیاط سے کی تھی۔خوبصورت فرنیچر اور مجسمات سیے سجا کر وہ سمجھتا  تھا کہ وہ اب نہ صرف اہل عرب بلکہ مکّہ کے رہنے والوں کو بھی اپنے بنائے گھر کی جانب راغب کر لے گا۔
 محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کام کی تکمیل کے بعد اس نے شاہ حبش کو لکھا کہ میں عربوں کا حج کعبہ سے کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا ( یمن پر سیاسی اقتدار حاصل کرنےکے بعد عیسائیوں کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ کعبہ کے مقابلے میں ایک دوسرا کعبہ بنائیں اور عرب میں اس کی مرکزیت قائم کر دیں۔ انہوں نے نجران میں بھی ایک کعبہ بنایا تھا) ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس نے یمن میں علی الاعلان اپنے اس ارادے کا اظہار کیا اور اس کی منادی کرا دی۔ اس کی اس حرکت کا مقصد ہمارے نزدیک یہ تھا کہ عربوں کو غصہ دلائے تاکہ وہ کوئی ایسی کارروائی کریں جس سے اس کو مکّہ پر حملہ کرنے اور کعبے کو منہدم کر دینے کا بہانہ مل جائے۔
اسکے اس اعلان پر غضبناک ہو کر قبیلۂ بنی کنانہ کے ایک شخص نے کسی نہ کسی طرح کلیسا میں گھس کر رفع حاجت کر ڈالی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ فعل ایک قریشی نے کیا تھا اور مقاتل بن سلیمان کی روایت ہے کہ قریش کے بعض نوجوانوں نے جا کر اس کلیسا میں آگ لگا دی تھی۔ ان میں سے کوئی واقعہ بھی اگر پیش آیا ہو تو کوئی قابل تعجب امر نہیں ہے کیونکہ ابرہہ کا یہ اعلان یقیناً سخت اشتعال انگیز تھا اور قدیم جاہلیت کے دور میں اس پر کسی عرب، یا قریشی کا، یا چند قریشی نوجوانوں کا مشتعل ہو کر کلیسا کو گندا کرنا یا اس میں آگ لگا دینا کوئی ناقابل فہم بات نہیں تھی۔ لیکن یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابرہہ نے خود اپنے کسی آدمی سے خفیہ طور پر ایسی کوئی حرکت کرائی ہو تاکہ اسے مکّہ پر چڑھائی کرنے کا بہانہ مل جائے اور اس طرح وہ قریش کو تباہ اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے اپنے دونوں مقاصد حاصل کر لے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، جب ابرہہ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ کعبے کے معتقدین نے اس کلیسا کی یہ توہین کی ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین نہ لوں گا جب تک کعبے کو ڈھا نہ دوں۔
اس کے بعد وہ 570ء یا 571ء میں 60 ہزار فوجی اور 13 ہاتھی (اور بروایت بعض 9 ہاتھی) لے کر مکّہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں پہلے یمن کے ایک سردار
ذونفر نے عربوں کا ایک لشکر
جمع کر کے اس کی مزاحمت کی، مگر وہ شکست کھا کر گرفتار ہو گیا۔ پھر
خثعم کے علاقے میں ایک عرب سردار نفیل بن حبیب خثعمی اپنے قبیلے کو لے کر مقابلے پر آیا، مگر وہ بھی شکست کھا کر گرفتار ہو گیا اور اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بدرقے کی خدمت انجام دینا قبول کر لیا۔ طائف کے قریب پہنچا تو بنی ثقیف نے محسوس کیا کہ اتنی بڑی طاقت کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے ، اور ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ ان کے معبود لات کا مندر بھی تباہ نہ کر دے۔
چنانچہ ان کا سردار مسعود ایک وفد لے کر ابرہہ سے ملا اور اس نے کہا کہ ہمارا بت کدہ وہ معبد نہیں ہے جسے آپ ڈھانے آئے ہیں ، وہ تو مکّہ میں ہے ، اس لیے آپ ہمارے معبد کوچھوڑ دیں ، ہم مکّہ کا راستہ بتانے کے لیے آپ کو بدرقہ فراہم کیے دیتے ہیں۔ ابرہہ نے یہ بات قبول کر لی اور بنیثقیف نے ابو رغال نامی ایک آدمی کو اس کے ساتھ کر دیا۔ جب مکّہ تین کوس رہ گیا تو المغمس نامی مقام پر پہنچ کر ابو رغال مر گیا اور عرب مدتوں تک اس کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے۔ بنیثقیف کو بھی وہ سالہا سال تک طعنے دیتے رہے کہ انہوں نے لات کےمندر کو بچانے کے لیے بیت اللہ پر حملہ کرنے والوں سے تعاون کیا۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ المغمس سے ابرہہ نے اپنے مقدمۃالجیش کو آگے بڑھایا اور وہ اہل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی لوٹ لے گیا جن میں رسول اللہ ﷺ کے دادا حضرت   حضرت  عبد المطلب کے بھی 200اونٹ تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے ایک ایلچی کو مکّہ بھیجا اور اس کے ذریعے اہل مکّہ کو پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ہوں بلکہ اس گھر (کعبہ) کو ڈھانے آیا ہوں۔ اگر تم نہ لڑو تو میں تمہاری جان و مال سے کوئی تعرض نہ کروں گا۔ نیز اس نے اپنے ایلچی کو ہدایت کی کہ اہل مکّہ اگر بات کرنا چاہیں تو ان کے سردار کو میرے پاس لے آنا۔ مکّے کے سب سے بڑے سردار اس وقت حضرت عبد المطلب تھے۔ ایلچی نے ان سے مل کر ابرہہ کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں ابرہہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ اللہ کا گھر ہے ، وہ چاہے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا۔ ایلچی نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ابرہہ کے پاس چلیں۔ وہ اس پرراضی ہو گئے اور اس کے ساتھ چلے گئے۔ وہ اس قدر وجیہہ اور شاندار شخص تھے کہ ان کو دیکھ کر ابرہہ بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ پھر پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ہیں وہ مجھے واپس دے دیے جائیں۔ ابرہہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں بہت متاثر ہوا تھا، مگر آپ کی اس بات نے آپ کو میری نظر سے گرا دیا کہ آپ اپنے اونٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ گھر جو آپ کا اور آپ کے دین آبائی کا مرجع ہے۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ انہوں نے کہا میں تو صرف اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور انہی کے بارے میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں۔ رہا یہ گھر، تو اس کا ایک رب ہے ،وہ اس کی حفاظت خود کرے گا۔ ابرہہ نے جواب دیا وہ اس کو مجھ سے نہ بچا سکے گا۔ حضرت عبد المطلب نے کہا آپ جانیں اور وہ جانے۔ یہ کہہ کر وہ ابرہہ کے پاس سے اٹھ آئے اور اس نے ان کے اونٹ واپس کر دیے۔ ابن عباس ؓ  کی روایت اس سے مختلف ہے۔ اس میں اونٹوں کے مطالبے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، حاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے ان سے جو روایات نقل کی ہیں ان میں وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابرہہ الصِفاح کے مقام پر پہنچا (جو عرفات اور طائف کے پہاڑوں کے درمیان حدود حرم کے قریب واقع ہے ) تو حضرت  عبد المطلب خود اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ کو یہاں تک آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو اگر کوئی چیز مطلوب تھی تو ہمیں کہلا بھیجتے ، ہم خود لے کر آپ کے پاس حاضر ہو جاتے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے یہ گھر امن کا گھر ہے ، میں اس کا امن ختم کرنے آیا ہوں۔ حضرت   عبد المطلب نے کہا کہ یہ اللہ کا گھر ہے ، آج تک اس نے کسی کو اس پر مسلط نہیں ہونے دیا ہے۔ ابرہہ نے جواب دیا ہم اسے منہدم کیے بغیر نہ پلٹیں گے۔ حضرت عبد المطلب نے کہا آپ جو کچھ چاہیں ہم سے لے لیں اور واپس چلے جائیں۔ مگر ابرہہ نے انکار کر دیا اور حضرت   عبد المطلب کو پیچھے چھوڑ کر اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ دونوں روایتوں کو اس اختلاف کو اگر ہم اپنی جگہ رہنے دیں اور کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیں ، تو ان میں سے جو صورت بھی پیش آئی ہو، بہرحال یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکّہ اور اس کے آس پاس کے قبائل اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اس لیے یہ بالکل قابل فہم بات ہے کہ قریش نے اس کی مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی۔
قریش کے لوگ تو جنگ احزاب کے موقع پر مشرک اور یہودی قبائل کو ساتھ ملا کر زیادہ سے زیادہ 10،12ہزار کی جمعیت فراہم کر سکے۔ وہ 60 ہزار فوج کا مقابلہ کیسے کرتے۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ابرہہ کی لشکر گاہ سے واپس آ کر حضرت   عبد المطلب نے قریش والوں سے کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے کر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ہو جائے۔ پھر وہ اور قریش کے چند سردار حرم میں حاضر ہوئے اور کعبے کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر اور اس کے خادموں کی حفاظت فرمائے۔ اس وقت خانۂ کعبہ میں 360 بت موجود تھے۔ مگر یہ لوگ اس نازک گھڑی میں ان سب کو بھول گئے اور انہوں نے صرف اللہ کے آگے دستِ سوال پھیلایا۔ ان کی جو دعائیں تاریخ میں منقول ہوئی ہیں ان میں اللہ واحد کے سوا کسی دوسرے کا نام تک نہیں پایا جاتا۔ ابن ہشام نے سیرت میں حضرت   عبد المطلب کے جو اشعار نقل کیے ہیں :
لَا ھُمَّ اِنَّ الْعَبْدَیَمْنَعُ رَحْلَہٗ فَامْنَعْ رِحَالَکَ                         خدایا بندہ اپنے گھر والوں  کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے لوگوں  کی حفاظت کر
لَایَغْلِبَنَّ صَلِیْبُھُمْ وَمِحَالُھُمْ غدْوً ا مِحَالَکْ                      کل ان کی صلیب اور ان کی قوت تیری قوت پر غالب نہ آنے پائے
اِنْکُنْتَ تَارِ لُھُمْ وَ قِبْلَتَنَا فَاَمْرٌ مَابَدَالَکْ                                                             اگر تو ان کو اور ہمارے قبلہ کو یونہی چھوڑ دینا چاہتا ہے تو پھر تیری مرضی
(سیرت ابن ہشام ج 1ص 51)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: