حضرت عزیر علیہ السلام

عربى زبان میں  عزیر  انہى كو كہاجاتا ہے جو یہودیوں كى لغت میں  عزرا كہلاتے ہیں ،عرب چونكہ جب غیر زبان كا كوئی نام اپناتے ہیں تو عام طورپر اس میں تبدیلى كر دیتے ہیں خصوصا ًاظہار محبت كے لئے اسے صیغہ تصغیر میں بدل لیتے ہیں ۔ عزرا كو بھى  عزیر میں تبدیل كیا گیا ہے جیسا كہ  عیسى  كے اصل نام كو جو در اصل  یسوع  تھا اور  یح  كو جو كہ  یوحنا تھا بدل دیا ۔ بہرحال عزیر یا عزرایہودیوں كى تاریخ میں ایك خاص حیثیت ركھتے ہیں یہاں تك كہ ان میں سے بعض ملت و قوم كى بنیاد اور اس جمعیت كى تاریخ كى درخشندگى كى نسبت ان كى طرف دیتے ہیں ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام ،دراز گوش پر سوار ساتھ میں کچھ کھانے کا سامان ،ایک بستی سے گزرے جو کہ بڑی وحشتناك حالت میں تھى ،ویران ہو چكى تھى وہ اس بستی میں پھرے کسی شخص کو وہاں نہ پایا بستی کی عمارتوں کو منہدم دیکھا جو اور اس كے باسیوں كے جسم اور بوسیدہ ہڈیاں نظرآارہى تھیں ،جب اس نے یہ وحشتناك منظر دیكھا تو براہ تعجب کہا:
(سورہ بقرہ كى آیت 259)
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىَ يُحْيِـي هَـذِهِ اللّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللّهُ مِئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِئَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَى العِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو ایک بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی تو اس نے کہا کہ اﷲ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ فرمائے گا، سو (اپنی قدرت کا مشاہدہ
کرانے کے لئے) اﷲ نے اسے سو برس تک مُردہ رکھا پھر اُسے زندہ کیا، (بعد ازاں) پوچھا: تُو یہاں (مرنے کے بعد) کتنی دیر ٹھہرا رہا (ہے)؟ اس نے کہا: میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں، فرمایا: (نہیں) بلکہ تُو سو برس پڑا رہا (ہے) پس (اب) تُو اپنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیّر (باسی) بھی نہیں ہوئیں اور (اب) اپنے گدھے کی طرف نظر کر (جسکی ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ان) ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کیسے جُنبش دیتے (اور اٹھاتے) ہیں پھر انہیں گوشت (کا لباس) پہناتے ہیں، جب یہ (معاملہ) اس پر خوب آشکار ہو گیا تو بول اٹھا: میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اﷲ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
پھر آپ نے کچھ توقف کی نیت سے اپنی سواری کے حمار  کو وہاں باندھ دیا اور آرام فرمایا کہ اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئی اور دراز گوش یعنی گدھا بھی مرگیا یہ صبح کے وقت کا واقعہ ہے ۔ 
اس دوران کہ جب ان پر موت طاری رہی دوسری جانب بخت النصر بادشاہ  بابل نے یہود كو نیست و نابود كردیا تھا اور ان كے شہر اس كى فوج كے ہاتھ آگئے ،ان كا عبادت خانہ ویران ہوگیا اورانكى كتاب توریت جلادى گئی ،ان كے مرد قتل كر دیئے گئے اور ان كى عورتیں اور بچے قید كر كے بابل كى طرف منقتل كر دیئے گئے۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ نے شاہان فارس میں سے ایک بادشاہ کو مسلط کیااور وہ اپنی فوجیں لے کر بیت المقدس پہنچا اور اس کو پہلے سے بھی بہتر طریقہ پر آباد کیا اور بنی اسرائیل میں سے جو لوگ باقی رہے تھے اللّٰہ تعالیٰ انہیں پھر یہاں لایا اور وہ بیت المقدس اور اسکے نواح میں آباد ہوئے اور ان کی تعداد بڑھتی رہی اس زمانہ میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عُزیر علیہ السلام کو دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا اور کوئی آپ کو نہ دیکھ سکا۔
جب حضرت عُزیر علیہ السلام کی وفات کو سو برس گزر گئے تو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ کیا پہلے آنکھوں میں جان آئی ابھی تک تمام جسم مردہ تھا وہ آپ کے دیکھتے دیکھتے زندہ کیا گیا یہ واقعہ شام کے وقت غروب آفتاب کے قریب ہوا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا :تم یہاں کتنے دن ٹھہرے ؟
آپ علیہ السلام نے اندازہ سے عرض کیا کہ :ایک دن یا کچھ کم آپ کا خیال یہ ہوا کہ یہ اسی دن کی شام ہے جس کی صبح کو سوئے تھے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا : تم سو برس ٹھہرےرہے ہو۔
لیكن اپنے كھانے پینے كى چیزوں كى طرف دیكھو، كیسے طویل مدت میں حكم خدا كى وجہ سے ان میں تغیرنہیں ایا ۔ یعنى وہ خدا جو تمہارى جلد خراب ہونے والى غذاكو صحیح و سالم ركھ سكتا ہے ا سكےلئے مردوں كو زندہ كرنا آسان ہے كیونكہ یہاں یك سرح سے زندگى كا ادامہ ہے، اور غذا كو صحیح و سالم ركھنا جس كى عمر كم ہوتى ہے مردوں كو زندہ كرنے سے آسان ہے۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے كہ اس پیغمبر كے ساتھ كونسى غذا تھی۔ قرآن نے نہیں بیان كیا،بعض مفسرین كا كہنا ہے كہ آ پ کے ساتھ غذا کےطور پر کھجوریں(کہیں کہیں انجیر کا بھی ذکر آیا ہے) اور ایک پیالہ انگور کا رس تھا۔سب ہی جانتے ہیں كہ یہ دونوں چیزیں بہت جلد خراب ہوجاتى ہےں ،لہذا ان دونوں كا باقى رہنا ایك اہم موضوع ہے۔ان کی غذا میں بو تک بھی نہ آئی تھی۔
اس كے بعد دوبارہ حكم ہواكہ اب اس دلیل كے لئے كہ تم جان لو كہ تمہیں سوسال موت كے عالم میں گزرگئے ذرا اپنى سوارى كى طرف نگاہ كرو اور دیكھو كہ كھانے پینے كى چیزوں كے بر عكس وہ ریزہ ریزہ ہو كر بكھر چكى ہے اور سفید ہڈیاں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔اور طبیعت كے عام قوانین اسے اپنى لپیٹ میں لے چكے ہیں ،اور موت نے اس كے جسم كو منتشر كر دیا ہے۔ 
اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا : اب دیكھو كہ ہم اس كے پر اگندہ اجزاء كو كیسے جمع كركے اسے زندہ كرتے ہیں ۔آپ کی نگاہ کے سامنے اس کے اعضاء جمع ہوئے اعضاءاپنے اپنے مواقع پر آئے ہڈیوں پرگوشت چڑھا گوشت پر کھال آئی بال نکلے پھر اس میں روح پھونکی وہ اٹھ کھڑا ہوا اور آواز کرنے لگا۔
اس نے یہ منظر دیكھا توكہنے لگے :میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اﷲ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
پھر آ پ اپنی اس سواری پر سوار ہو کر اپنے محلہ میں تشریف لائے سر اقدس اور ریش مبارک کے بال سفید تھے عمر وہی چالیس سال کی تھی کوئی آپ کو نہ پہچانتا تھا۔ اندازے سے اپنے مکان پرپہنچے ایک ضعیف بڑھیا ملی جس کے پاؤں رہ گئے تھے۔ وہ نابینا ہو گئی تھی وہ آپ کے گھر کی باندی تھی اور اس نے آپ کو دیکھا تھا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ عُزیر کا مکان ہے اس نےکہا ہاں، اور عُزیر کہاں،انہیں مفقود ہوئے سو برس گزر گئے یہ کہہ کر خوب روئی آپ نے فرمایا میں عُزیر ہوں اس نے کہا سبحان اللّٰہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا، اللّٰہ تعالیٰ نے مجھےسوبرس مردہ رکھا پھر زندہ کیا اس نے کہا حضرت عُزیر مستجاب الدعوات تھے جو دعا کرتے قبول ہوتی آپ دعا کیجئے میں بینا ہو جاؤں تاکہ میں اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھوں آپ نے دعا فرمائی وہ بینا ہوئی آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اٹھ خدا کے حکم سے یہ فرماتے ہی اس کے مارے ہوئے پاؤں درست ہو گئے۔ اس نے آپ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ بے شک حضرت  عُزیر ہیں وہ آپ کو بنی اسرائیل کے محلہ میں لے گئی وہاں ایک مجلس میں آپ کے فرزند تھے جن کی عمر ایک سو اٹھارہ سال کی ہو چکی تھی اور آپ کے پوتے بھی تھے جو بوڑھے ہو چکے تھےبوڑھیا نے مجلس میں پکارا کہ یہ حضرت عُزیر تشریف لے آئے اہلِ مجلس نے اس کو جھٹلایا اس نے کہا مجھے دیکھو آپ کی دعا سے میری یہ حالت ہو گئی لوگ اٹھے اور آپکے پاس آئےآپکےفرزندنےکہاکہ میرے والد صاحب کے شانوں کے درمیان سیاہ بالوں کا ایک ہلال تھا جسم مبارک کھول کر دکھایا گیا تو وہ موجود تھا اس زمانہ میں توریت کا کوئی نسخہ نہ رہا تھا کوئی اس کا جاننے والا موجود نہ تھا۔ آپ نے تمام توریت حفظ پڑھ دی ایک شخص نے کہا کہ مجھے اپنے والد سے معلوم ہوا کہ بُختِ نصر کی ستم انگیزیوں کے بعد گرفتاری کے زمانہ میں میرے دادا نے توریت ایک جگہ دفن  کر دی تھی اسکاپتہ مجھے معلوم ہے اس پتہ پر جستجو کر کے توریت کا وہ مدفون نسخہ نکالا گیا اور حضرت عُزیر علیہ السلام نے اپنی یاد سے جو توریت لکھائی تھی اس سے مقابلہ کیا گیا تو ایک  حرف کا فرق نہ تھا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: