جَنگی اخلاقیات؛احادیث ِنبویﷺکے آئینے میں-2

مثلہ کی ممانعت
دشمن کی لاشوں کو بے حرمت کرنے اور ان کے اعضا کی قطع و برید کرنے کو بھی اسلام نے سختی سے منع کیا ہے ۔عبد اللہ بن یزید﷜انصاری ؓروایت کرتے ہیں :
نهٰی النبی ﷺعن النهبٰی والمثلة نبی نے لوٹ مار اور مثلہ سے روکا ہے۔﴿صحیح بخاری:2342
نبی کریم فوجوں کو بھیجتے وقت جو ہدایات دیتے تھے، ان میں تا کید فرماتے:
لاتغدرو ا ولاتغلوا ولاتمثلوا آپ نے لوٹ مار اور مثلہ سے منع فرمایا ہے۔﴿مسند احمد:4؍461
بد عہدی نہ کرو غنیمت میں خیانت نہ کرو اور مثلہ نہ کرو ۔
قتلِ اسیرکی ممانعت
فتح مکہ کے موقع پر آپ جب شہر میں داخل ہونے لگے تو فوج میں اعلان کرادیا تھا :
لاتجهزن على جریح ولا یتبعن مدبرا ولا یقتلن اسیرا ومن اغلق بابه فهو آمن کسی مجروح پر حملہ نہ کیاجائے ۔کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے۔ کسی قیدی کوقتل نہ کیاجائےاورجو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ امان میں ہے﴿الرحیق المختوم،ص 434، سنن دار قطنی:3؍60
قتلِ سفیر کی ممانعت
سُفرا اور قاصدوں کے قتل کو بھی آپ نے منع فرمایا ہے۔ مسیلمہ کذاب کے قاصد جب اس کا گستاخانہ پیغام لے کر حاضر ہوئے تھے تو آپنے فرمایا:
لولا أن الر سل لا تقتل، لضربت أعناقكما اگر قاصدو ں کاقتل ممنوع نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا۔﴿سنن ابوداؤد:2761
اسی سے فقہا نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جب کوئی شخص اسلامی سرحد پر پہنچ کر بیان کرے کہ میں فلاں حکومت کا سفیر ہوں اور حاکم اسلام کے پاس پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں تو اس کو امن کے ساتھ داخلہ کی اجازت دی جائے، اس پر کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔ اس کے مال ومتاع، خدم وحشم حتیٰ کہ اسلحہ سے بھی تعرض نہ کیاجائے؛ اِلّا یہ کہ وہ اپنا سفیرہونا ثابت نہ کر سکے۔
بد عہدی کی ممانعت
غدر، نقض عہد اور معاہدوں پر دست درازی کرنے کی برائی میں بے شمار احادیث آئی ہیں جن کی بناپر یہ فعل اسلام میں بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے۔
عبداللہ بن عمرو
ؓ سے مروی ہے کہ آپنے فرمایا:
من قتل معاهدا لم یرح رائحة الجنة، وان ریحها ليوجد من مسیرة أربعین عامًا جو کو ئی کسی معاہد کو قتل کرے گا، اسے جنت کی بو تک نصیب نہ ہو گی حالانکہ اس کی بو چالیس برس کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔﴿صحیح بخاری:2995
بد نظمی اور انتشار کی ممانعت
اہلِ عرب کی عادت تھی کہ جب جَنگ کو نکلتے تو راستہ میں جوملتا ،اسے تنگ کرتے اور جب کسی جگہ اُترتے تو ساری منز ل پر پھیل جاتے تھے یہاں تک کہ راستوں پر چلنا مشکل ہو جاتا تھا۔ داعئ اسلام نے آکر اس کی بھی ممانعت کر دی۔ ایک مرتبہ جب آپ جہاد کے لیے تشریف لے جارہے تھے تو آپ کے پاس شکایت آئی کہ فوج میں عہد ِجاہلیت کی سی بد نظمی پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں نے راستہ کو تنگ کر رکھا ہے۔ اس پر آپ نے منادی کرائی:
من ضیق منزلا أوقطع طریقًا فلاجهاد له جو کوئی راستہ کوتنگ کرے گا یا راہ گیروں کولوٹے گا اس کا جہاد نہیں ہوگا۔ ﴿سنن ابوداؤد:2629
ایک دوسرے موقع پر فرمایا:
إن تفرقکم في هذه الشعاب والأودیة إنما ذٰلکم من الشیطان تمہارا اس طرح وادی میں منتشر ہوجانا ایک شیطانی فعل ہے۔﴿ایضاً: 2628
ابوثعلبہ خشنی ؓکا بیان ہے کہ اس کے بعد یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ جب اسلامی فوج کسی جگہ اُترتی تو اس کا گنجان پڑا ؤدیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اگر ایک چادر تان لی جائے تو سب کے سب نیچے آجائیں۔
شورو ہنگامہ کی ممانعت
عرب کی جَنگ میں اس قدر شورو ہنگامہ برپاہوتا تھا کہ اس کا نام ہی غوغا‘ پڑھ گیاتھا۔ اسلام لانے کے بعد بھی عربوں نے یہی طریقہ برتنا چاہا مگرداعی اسلام نے اس کی اجازت نہ دی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ﷜ ؓروایت کرتے ہیں :
‏ کنا مع رسول الله ﷺ وکنا إذا أشرفنا علىٰ واد هللنا وکبرنا، ارتفعت أصواتنا، فقال النبي ﷺ: اربعوا علىٰ أنفسکم، إنکم لا تدعون أصم ولا غائبًا، إنه معکم إنه سمیع قریب ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے، جب کسی وادی پر پہنچتے تھے تو زوروشور سے تکبیر اور تہلیل کے نعرے بلند کرتے تھے۔ اس پر آپ ﷺنے فرمایا: اے لوگوں وقار کے ساتھ چلو، تم جس کو پکار رہے ہو وہ نہ بہرہ ہے اور نہ غائب۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہے، سب کچھ سنتا ہے اور بہت قریب ہے﴿صحیح بخاری:2830
وحشیانہ افعال کے خلاف عام ہدایات
فوجوں کی روانگی کے وقت جَنگی برتاؤ کے متعلق ہدایات دینے کاطریقہ جس سے اُنیسویں صدی کے وسط تک مغربی دنیا نابلد تھی، ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے اُمی پیغمبر نے جاری کیاتھا۔ داعئ اسلام کا قاعدہ تھا کہ جب آپ کسی سردار کو جَنگ پر بھیجتے تو اسے اور اس کی فوج کو پہلے تقوٰی اور خوف خدا کی نصیحت کرتے، پھر فرماتے :
فاغزوا جميعا وفي سبیل الله، فقاتلوا من کفر بالله، ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تمثلوا ولا تقتلوا ولیدًاجاؤ سب اللہ کی راہ میں لڑو ، اُن لوگوں سے جواللہ سے کفر کرتے ہیں۔مگر جَنگ میں بد عہدی نہ کرو ، غنیمت میں خیانت نہ کرو ، مثلہ نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو﴿مستدرك حاكم:4؍582
خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب شام کی طرف فوجیں روانہ کیں تو ان کو دس ہدایات دی تھیں جن کو تمام مؤرخین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ وہ ہدایات یہ ہیں:
عورتیں، بچے اور بوڑھے قتل نہ کیے جائیں ۔مثلہ نہ کیا جائے ۔
راہبوں اور عابدوں کو نہ ستایا جائے اور نہ ان کے معابد مسمار کیے جائیں۔
کوئی پھل دار درخت نہ کاٹا جائے اور نہ کھیتیاں جلائی جائیں۔
آبادیاں ویران نہ کی جائیں ۔
جانوروں کو ہلاک نہ کیا جائے۔
بدعہدی سے ہر حال میں احتراز کیا جائے۔
جو لوگ اطاعت کریں،ان کی جان و مال کا وہی احترام کیا جائے جو مسلمانوں کی جان ومال کا ہے۔
اموالِ غنیمت میں خیانت نہ کی جائے۔
جَنگ میں پیٹھ نہ پھیری جائے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: