اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور-2

فکر و نظر کا بگاڑ:
انسانی زندگی چونکہ بنیادی طور پر نظریات پر استوار ہے، اس لئے نظریات و افکار میں بگاڑ انسان کی پوری سیرت و کردار کو متاثر کرتا ہے۔ جب ہم کسی معاشرے کا تجزیہ اس پہلو سے کرتے ہیں تو اس میں افراد کی نظریاتی و فکری کیفیتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
فکری بگاڑ میں سب سے پہلی زد انسان کی اپنی شخصیت پر پڑتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا کبھی تو وہ اپنے متعلق غلط فہمی کا شکار ہو کر ’’اناربکم الاعلٰی‘‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔ اور کبھی اپنے آپ کو مرتبۂ انسانیت سے بھی گرا کر، اپنی ہی جیسی مخلوق کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتا ہے (قرآن پاک نے انسان کی اس ذہنی کیفیت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔
’’اولئک کالانعام بل ھم اضل۔‘‘ ’’یعنی یہ لوگ انسان ہونے کے باوجود حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ جنہیں اپنی حیثیت کا احساس تک بھی نہیں)‘‘
انسان کی یہ روش اس کے غلط طرزِ فکر کا ہی نتیجہ ہے جس میں انکارِ خدا، شرک، انکارِ آخرت، خیر و شر کی تمیز سے انکار، بامقصد زندگی سے انکار اور انسان کی اصل حیثیت اور مرتبہ سے انکار سب شامل ہیں۔
فکر و نظر کے اس بگاڑ سے انسانی زندگی کے جملہ احوال متاثر ہوتے ہیں اور اس کا اثر معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر غالب ہوتا ہے۔
اب ہم مختصر طور پر فکر و نظر کے بگاڑ کی مندرجہ بالا صورتوں کا جائزہ لیں گے۔
انکارِ خدا:
ایک غلط طرزِ فکر کا حامل ذہن جب کائنات اور اپنی زندگی کے متعلق سوچتا ہے۔ تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ تخلیق کائنات کا کوئی مقصد نہیں اور نہ ہی کائنات کا کوئی خالق ہے اور اگر ہے تو بھی انسانی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس بیہودی و بے راہ ذہن کی نظر میں انسان کی حیثیت ایک جاندار مخلوق سے زیادہ نہیں جس کی پیدائش کسی خاص حادثہ کا نتیجہ ہے اور جس کا نظامِ یات بھی کسی حادثہ ہی کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گا۔اس کے خیال میں انسان کا کوئی مالک، مختار اور حاکم نہیں جس کے سامنے وہ جواب دہ ہے اور نہ ہی اس کی نظر میں انسایت کے لئے کوئی سرچشمہ ہدایت موجود ہے، لہٰذا قانون بنانا، اپنی قوتوں کا مصرف تجویز کر کے انہیں بروئے کار لانا اور اپنے لئے راہِ عمل متعین کرنا اس کا اپنا کام ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ایک انسان جب اس طرزِ فکر کو اپنا کر اپنی عملی زندگی میں قدم رکھے گا تو لا محالہ غلط طرزِ عمل اختیار کر گا اور یہ چیز لازمی طور پر ایک غلط معاشرہ کی تشکیل و تعمیر پر منتج ہو گی۔ نظریہ اکار خدا کا اگر ہم تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس کی وجہ سے انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ، اس کی اجتماعی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ انفرادی زندگی میں جب انسان خود ہی اپنے لئے راہِ عمل اختیار کرے گا، خود ہی قوانین مرتب کرے گا، خود ہی اصولِ زندگی وضع کرے گا۔ اور اپنی خواہشاتِ نفسانی اور مقتضائے جسمانی کا حل اپنے ہی ذہن سے تلاش کرے ا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ ایک خود غرض، مادہ پرست، ابن الوقت اور عملی طور پر بالکل ایک شتر بے مہار کی طرح ہو جائے گا کہ جو راہ چاہے اپنے لئے متعین کرے اور جو بھی طرزِ عمل چاہے اختیار کرے۔
چنانچہ جب ایسی انفرادی زندگی، اجتماعی طرزِ حیات کا رنگ اختیار کرے گی، تو نتیجہ یہ ہو گا کہ سیاست کی بنیاد انسانی حاکمیت پر ہو گی، تمام اصول و قوانین، خواہشات اور تجرباتی مصلحتوں کی بنا
پر وضع کئے جائیں گے۔ بااختیار و اقتدار وہی لوگ سمجھے جائیں گے، جو طاقتور اور چالاک ہوں گے۔ سوسائٹی کی راہ نمائی ان لگوں کے ہاتھ میں ہو گی جو مکار، جھوٹے، دا باز، سنگدل اور خبیث النفس ہوں گے۔ جن کی کتابِ آئین میں طاقت کا نام حق و صداقت اور کمزوری، محرومی اور بیچارگی کا نام باطل ہو گا۔ غرض معاشرت اور طرز تمدن کا پورا نظام نفس پرستی پر قائم ہو ا اور اجتماعیت چند آوارہ مزاج لوگوں کے لئے ایک منظم چراگاہ ہو گی۔
شرک:
انکارِ خدا کے بعد فکری بگاڑ کی دوسری وجہ شرک ہے۔ایسے لوگ یقیناً کم ہوں گے جو خالقِ عالم اور قادرِ مطلق کے وجود کے منکر ہوں گے لیکن ایسے لوگ بکثرت مل جائیں گے جو شرک کی بھول بھلیوں میں سرگردان ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو مبعوث فرما کر مشرکین کے خلاف حجت قائم فرما دی ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کچھ وجود، خدا کی صفات و اختیارات میں کسی نہ کسی طرح شریک ہیں، باوجودیکہ قرآن مجید نے شرک کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دیا ہے۔
شرک کے تصور کے زیرِ اثر انسان جو طرزِ عمل اختیار کرتا ہے۔ اس سے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ انسان کی پوری زندگی اوہام کی آماجگاہ بن جاتی ہے وہ اچھے اثرات کی موہوم امیدوار برے اثرات کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنی بہت سی قوتیں لا حاصل طریقے سے ضائع کر دیتا ہے۔ کبھی کسی قبر سے امید لگاتا ہے، کبھی بتوں پر بھروسہ کرتا ہے، کبھی کسی برے شگون سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور کبھی خیالی قلعے تعمیر کرتا ہے، غرضیکہ شرک انسان کو فطری طریقے سے ہٹا کر غیر فطری راستے پر لا ڈالتا ہے اور انسان کی زندگی میں پوجا پاٹ، نذر و نیاز اور دوسری غیر شرعی رسموں کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جس میں الجھ کر انسان کی سعی و عمل کا ایک حصہ بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چالاک لوگ مشرکانہ توہم پرستی کے جال میں لوگوں کو پھانس کر لوٹ کھسوٹ شروع کر دیتے ہیں، شرکیہ عقیدے کی بدولت عام انسانوں کی گردنوں پر شاہی خاندانوں، روحانی پیشواؤں اور مذہبی عہدہداروں کی خدائی کا جواء مسلط ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ تو علوم و فنون ہی ترقی پاتے ہیں اور نہ ہی درست فلسفہ، صالح ادب اور تمدن و سیاست کے لئے فضا ہموار ہوتی ہے۔ انسایت گمراہی اور دھوکے کا شکار ہو کر خود اپنے ہی خلاف جنگ کرنا شروع کر دیتی ہے، اور بالآخر انہی راہوں پر گامزن ہو جاتی ہے جن کا ذکر اکارِ خدا کے ضمن میں کیا گیا ہے۔
انکارِآخرت:
انکارِ آخرت بھی، انکارِ خدا اور شرک ہی کی ایک کڑی ہے۔آخرت اصل میں نام ہے اعمال و افعال کے اس نتیجے کا جو اس دنیا میں ہم کر رہے ہیں اور اگر جزا و سزا کا تصور سرے سے ذہن میں موجود ہی نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ نیکی صرف دنیاوی فوائد اور برائی صرف دنیاوی نقصانات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ان حالات میں انسان کی حالت دو حال سے خالی نہ ہو گی۔ حالات ناموافق ہوں گے۔ تو نیکو کاری کے نتائج ظاہر نہ ہونے پر اس کی قوتِ عمل سرد پڑ جائے گی اور وہ برائی کی طرف مائل ہو جائے گا اور سازگار حالات کی صورت میں انسان نفس پرست بن جائے گا۔ اور دنیاوی خواہشات و لذات حاصل کرنے کے لئے جائز و ناجائز ذرائع کا استعمال شروع کر دے گا۔ اور یہ دونوں صورتیں انسایت کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ تو رہا انفرادی زندگی کا ماملہ اور اگر کہیں پوری سوسائٹی کے افعال و اعمال کا دارومدار اسی اعتقاد پر ہو تو پورا معاشرہ خود غرضی اور نفسانیت کی لپیٹ میں آئے گا۔ اور ایسے معاشرہ کے انجام کا
تصور کرنا کچھ مشکل نہ ہو گا۔
بامقصدزندگی سے انکار:
جب تک انسان کے سامنے کوئی واضح لائحہ عمل اور نصیب العین نہ ہو گا۔ انسان کا کوئی عمل بھی تنظیم و انضباط سے ہمکنار نہ ہو سکے گا۔ اور اس کی زندگی صرف کھانے پینے اور خواہشات سےمتمتع ہونے سے عبارت ہو کر رہ جائے گی۔ اور یا پھر کوئی انتہا پسند یا کوئی سر پھرا انسان جو اپنے آپ کو پیدائشی مجرم تصور کرتا ہے، اس جرم کی سزا بھگتنے کے لئے خواہشات و لذّات سےبالکل ہی کنارہ کش ہو جائے گا۔ اور ایک با مقصد زندگی گزارنے کی بجائے بیابانوں اور ویرانوں کی خاک چھانتا نظر آئے گا۔ لیکن اسلام کا تصورِ حیات ان ہر دو صورتوں سےبیزار ہے۔ وہ تو انسان کو صحیح مقصدِ حیات سے ہمکنار کرنے کی خاطر ایک مبنی بر اعتدال و توازن راست پر چلنے کے لئے زور دیتا ہے۔ وہ انسان کو ایک ایسا اچھوتا نظامِ حیات بخشتا ہے جو انسانیت کے لئے ہر طرح سے اطمینان و تسکین کا حامل ہو۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں ایک مقام پر اپنے نیک بندوں کی پسندیدہ حالت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ:
قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین۔ یعنی میری نماز قربانی اور یات و ممات سب اللہ ہی کے لئے ہیں۔
وہیں ایک دوسرے مقام پر یہ بھی ارشادفرما دیا ہے کہ:
ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف فان اصابہ خیر ن اطمأنّ بہ وان اصابتہ فتنۃ ن انقلب علی وجھہ خسر الدنیا والاخرہ ذالک ھو الخسران المبین’’کچھ آدمی اللہ کی بندگی کنارے پر کرتے ہیں پھر اگر وہ بھلائی سے ہمکنار ہوئے تو اطمینان پاتے ہیں اور اگر کوئی آزمائش آپڑی تو منہ کے بل پلٹ گئے۔ یہ تو دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا ہے اور صریح نقصان۔‘‘
آپ انسان کی ان ہر دو حالتوں کو جائز لیجئے اور اس کے بین بین ایک راہِ اعتدال متعین کر لیجئے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کی نظر میں بامقصد زندگی کا شعور اور اعلیٰ اور ارفع معیارِ حیات کا تصور کیا ہے۔ اور پھر اس بات کا سمجھنا بھی کچھ مشکل نہ ہو گا کہ اس معیارِ حیات کے تصور سے منحرف ہونے والے افراد یا معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتے۔
خیر و شرکی تمیز سے انکار:
خیر کے معنی بھلائی کے ہیں اور شر اس کی ضد ہے، خیر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے لئے انفرادی یا اجتماعی افادیت کی حامل ہو۔ یہ افادیت مادی بھی ہو سکتی ہے اور روحانی بھی، دنیوی بھی اور اخروی بھی۔
اور شر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے لئے انفرادی یا اجتماعی رنگ میں ضرر رساں ہو، جس معاشرہ میں خیر و شر کی تمیز مٹ جائے (خیر اور شر کا معیار وحی الٰہی اور احکام قرآنی پر رکھا جائے گا) وہ ضلالت اور گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ افراد کی نظر میں نیکی نیکی اور بدی بدی نہیں رہتی اور لوگ صرف ظاہری منفعتوں کے زیر اثر کام کرتے ہیں۔ ایسی قوم اور ایسے معاشرے کا زوال یقینی اور حتمی ہو جاتا ہے۔
معاشرے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر اس میں ایسے لوگ بچ بھی جائیں۔ جو خیر و شر میں تمیز کر سکتے ہوں تو بھی شر کے غلبے، معاشی لوٹ کھسوٹ اور اخلاقی اقدار کو مٹتے دیکھ کر ہمت ہار بیٹھیں اور کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ ایسے حالات میں اصلاح کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں رہتی اور بالآخر معاشرہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ ہیں وہ محرکات اور وجوہات جو فکر و نظر میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسی کیفیت سے معاشرے کو بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان کا مقصدِ زیست تعمیری اور اخلاقی ہو۔ وہ خدا، آخرت اور بامقصد زندگی پر ایمان رکھے۔ اور شرک سے اپنا دامن ملوث نہ ہونے دے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: