سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم -4

سیّدنا علی بن ابی طالب
آپ سیّدہ فاطمہ بنت اسد کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ جمعۃ المبارک،13رجب المرجب 30عام الفیل،بعثت نبوی سے 12سال قبل،17مارچ599ء سیّدہ فاطمہ بنت اسد حکم الٰہی سے اپنے گھر سے نکلیں اور خانۂ کعبہ تشریف لائیں ۔غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی :
رَبِّانّیْ مُؤْمِنَۃُُ بِکْ وَ بِمَا جَائَ مِنْ عِنْد مِنْ رُسُل وَ کُتُب، اِنّیْ مُصَدّقَۃُ بِکَلاَمِ جَدّّیْ اِبْرَاہِیْم الْخَلِیْل وَ انہُ بنَیْ اَلْبَیْت الْعَتِیْق ،فَبِحَقّ الَّذِیْ
بنی ھٰذَاالْبَیْت وَ بِحَقّ الْمَوْلُود اَلَّذِیْ فِی بَطَنِیْ لمَا یسرت عَلی ولَادَتی
پروردگار !میں تجھ پر ،تیرے رسولوں پر اور تیرے صحیفوں پر ایمان رکھتی ہوں ،اپنے جد ابراہیم کے فرامین پر یقین رکھتی ہوں جنہوں نے خانۂ کعبہ کی تعمیر فرمائی،اس گھرکے معمار کے واسطے اور میرے آنے والے بچے کے واسطے جو مجھ سے گفتگو کرتا ہے اور میرا محافظ و مدد گار و ہمدردہے،میں تجھ سے التجا کرتی ہوں کہ میرے لئے یہ وقت آسان فرما ۔ میرا یہ بچہ تیرے جلال و عظمت کی نشانی ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ:
آپ کی ولادت کے وقت سیّدہ فاطمہ بنت اسد طواف کعبہ میں مصروف تھیں ۔ جب سیّدہ فاطمہ بنت اسد رکن یمانی کے سامنے پہنچیں تو دیوارکعبہ ،رکن یمانی کے مقام سے شق ہو گئی اور جب سیّدہ فاطمہ بنت اسد اندر تشریف لے گئیں تو دیوار برابر ہو گئی،دیوار در بنے کہ دنیا میں دھوم ہو ظا ہر کمال مادر باب علوم ہو۔
آپ تین دن کعبۃ اللہ میں قیام فرما رہیں اور حوران بہشت آپ کی خدمت پر ماموررہیں ۔حضرت حوا، حضرت مریم ، حضرت آسیہ اورام موسیٰ تشریف لائیں اور خدمات سرانجام دیں ۔فردوس بریں سے آپ کی خوراک بھیجی جاتی تھی۔ حضرت تشریف لائے اور فوراًسجدہ میں تشریف لے گئے ۔
حضور کے چچاحضرت عباس بن عبدالمطلب نے یہ سب دیکھا ۔آپ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ خانۂ کعبہ کے دروازے پر پہنچے اور اسے کھولنے کی کوشش کی کہ کچھ مستورات کو اندر بھیجا جا سکے مگر وہ اندر سے بند تھا ۔بسیار کوشش کے باوجود کھول نہ پائے۔قدرت کا عمل دخل دیکھ کر کوششیں ترک کر دیں ۔اس واقعہ کی خبر چند لمحوں میں پورے مکّہ میں پھیل گئی۔
سیّدنا حضرت علی ،بند آنکھوں اور سربسجود حالت میں تشریف لائے۔سیّدہ فاطمہ بنت اسد تین دن خانۂ کعبہ میں قیام فرما رہیں اور چوتھے دن رکن یمانی کے مقام سے دیوار پھر شق ہوئی اور مخدومہ طاہرہ صاحبزادے کو بانہوں میں لئے کعبۃ اللہ سے باہر تشریف لائیں ۔رسول اللہ نولود کے استقبال کو کھڑے تھے ۔حضرت نے آنکھیں کھولیں اور عالم فانی میں جس وجہ باقی کی اولیں زیارت فرمائی وہ اللہ کے رسول، محمدمصطفٰی کا مسکراتا چہرہ تھا۔تاریخ میں یہ اعزاز صرف تاجدار اولیاء کا ہے اور کوئی رسول،نبی یا ولی اس سے فیضیاب نہیں ہوا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور تمام مؤ رخین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ خانۂ کعبہ حضرت علی کی جائے پیدائش ہے ۔ خانوادۂ ابو طالب کو مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جب بھی کوئی خانۂ ابو طالب میں مبارکباد کو حاضر ہوتا تو دامن رسالت سے نومولود فرزند ابو طالب کو چمٹا دیکھتا ۔خانۂ کعبہ سے
دہلیز ابوطالب کا سفر سلطان ولایت نے دست رسالت پہ کیا ۔سیّدہ فاطمہ بنت اسد نے فرمایا:
علی ایک پرجوش اور حوصلہ مند نام ہے جو جاہ و تمکنت اور رفعت و سربلندی کا مظہر ہے ۔آپ سے پہلے کوئی اس نام سے موسوم نہیں ہو اتھا ۔ سیّدنا ابوطالب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے مولود کعبہ صاحبزادے کو دست مبارک میں بلند کرتے فرمایا:
سَمَّیْتُہُ بِِعَلیٍکَیْ ےَّقدُوْمُ لَہُ مِنَ الْعُلُوِّوَ فَخْرِالْعِزِّاَدْوَمَہُ
میں نے ان کا نام علی رکھا ہے تا کہ دائمی طور سے علو و بلندی اور فخر و شرف ان کے شامل حال رہے۔
اسی واقعہ کی طرف اشارہ فرماتے حضرت نے حضرت صعصعہ بن صوحان سے فرمایا:
مریم خانۂ خدا میں تھیں ،ولادت عیسیٰ کے وقت انہیں کہا گیا کہ یہ زچہ خانہ نہیں یہاں سے دور چلی جائیں ۔ میری آمد کے وقت میری والدہ اپنے گھر میں تھیں ،انہیں حکم دیا گیاکہ خانۂ کعبہ تشریف لائیں ۔
سیّدہ ام ہانی بنت ابی طالب
سرکار دوعالم ، شب معراج خانۂ کعبہ سے آپ کے گھر تشریف لائے اور وہاں سے مسجد اقصٰی کو تشریف لے گئے ۔آپ انتہائی شجاع و بہادر تھیں اور ایک دفعہ شیر خدا حیدر کرّار کی کلائی اس زور سے پکڑی کہ انہیں محسوس ہوا کہ آپ کی انگلیاں بدن کے اندر پیوست ہو گئی ہیں ۔ سفیر حسین ،حضرت مسلم بن عقیل کو آپ ہی نے پالا اور تربیت فرمائی ۔661ء میں انتقال فرمایا۔
جنازہ
626ء،سیّدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات کے موقع پر سیّد المرسلین انتہائی غمگین ہوئے ۔انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ جب حضور کو سیّدہ
فاطمہ بنت اسد کی وفات کی خبر ملی تو آپ
فوراًان کے گھر گئے ۔ آپ کے سامنے بیٹھے اور دعا فرمائی ۔اپنا پیراہن آپ کے کفن کو دیا اور فرمایا کہ میں آپ کو خلۂ بہشت پیش کر رہا ہوں ۔ جنت البقیع میں قبر تیار کی گئی تو حضور نے اس کا معائنہ فرمایا ۔آپ چند خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کی قبر مبارک کا حضور نے معائنہ فرمایا ۔اس میں لیٹ گئے ۔پھر اپنے دست مبارک سے آپ کو سپرد لحد فرمایا۔
مادر امیر المومنین کا جنازہ حضورنے اپنے دست رسالت سے اٹھایا اور تاقبر لانے تک جنازہ کے نیچے رہے ۔عرب کا دستور تھا جو شمالی افریقہ کے ممالک میں اب تک رائج ہے کہ میت کا وارث جنازہ کو کندھا دینے کے بجائے سامنے کے دو کندھا دینے والوں کے درمیان جنازہ کے نیچے رہتا ہے ۔
سرور کونین نے آپ کا جنازہ 70تکبیر کے ساتھ ادا کیا۔اصحاب کے دریافت کرنے پر فرمایا، ان پر فرشتوں کی 70صفوں نے نماز جنازہ ادا کی پس میں نے ہر صف کے لئے ایک تکبیر کہی۔
حضورنے آپ کا جنازہ قبر کے قریب رکھا۔قبر میں اترے اور لیٹ گئے ۔قبر مبارک کے اطراف ہاتھ پھیرا اور زارو قطار روتے باہر تشریف لائے ۔اپنے دست اقدس سے جسد مبارک اٹھایا اور قبر میں لٹا دیا۔پھر اپنا چہرہ مبارک آپ کے قریب کر کے تادیر سرگوشیاں فرماتے رہے اور کہا، آپ کے فرزند،آپ کے فرزند ۔پھر قبر سے باہر تشریف لائے اور مکمل قبر تیار فرمائی ۔قبر پر جھکے، لوگوں نے فرماتے سنا:
اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلَٰٰہَ اِلَا اللّٰہْ
، پروردگار میں انہیں آپ کے سپرد کرتا ہوں
پھر مڑے۔صحابہ کبار نے عرض کی، یارسول اللہ !آج ہم نے آپ کا وہ مشاہدہ کیا جو اس سے قبل آپ نے کہیں نہیں فرمایا تھا۔رسول اللہ نے فرمایا :
آج میں نے یادگار ابو طالب کو کھو دیا ہے۔یقینا وہ میرے ساتھ اس درجہ شفیق تھیں کہ جب کوئی عمدہ شے پاتیں تو بجائے خود استعمال کرنے یا اپنے بیٹوں کو دینے کے مجھے دیتی تھیں ۔ آپ ابو طالب کے بعد روئے زمین پر اللہ کی بہترین مخلوق تھیں ۔ خدا نے آپ کو فردوس علیٰ عطا فرمائی ہے اور 70ہزار ملائک آپ پر درود و سلام پڑھنے کے لئے مقرر فرمائے ہیں ۔
احادیث مبارکہ
حضور فرمایا کرتے تھے:
خدا آپ کی مقدس روح پہ برکت نازل فرمائے ۔آپ میرے لئے میری حقیقی ماں تھیں ۔آپ نے خود بھوکا رہ کر مجھے سیر کیا اور ا س میں ہمیشہ رضائے الٰہی آپ کے پیش نظر رہی حضورنے آپ کی قبر مبارک میں لیٹ کر فرمایا ، میں یتیم تھا ،انہوں نے مجھے اپنایا ۔وہ میرے لئے ابو طالب کے بعد شفیق ترین ہستی تھیں ۔ اے اللہ !موت و حیات تیرے اختیار میں ہے ۔صرف تو باقی رہے گا۔ میری ماں ، فاطمہ بنت اسدکی مغفرت فرما اور خلد بریں میں جگہ دے ،بے شک تو ہی ارحم الراحمین ہے ۔
میری پیاری ماں ! خدا آپ کو ابر رحمت کے سائے میں جگہ عنایت کرے ۔مجھے سیر کر کے آپ اکثر بھوکی رہیں ۔آپ نے خود محروم رہ کر مجھے عمدہ لباس پہنایا اور عمدہ کھانا کھلایا ۔ اللہ رب العزت یقینا آپ سے راضی ہے اور آپ کا عزم ہمیشہ رضائے الٰہی اور عقبیٰ کی کامرانی رہا ۔

انہوں نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھا مگر مجھے کھلانے کا یقین کیا ۔اپنے صاحبزادوں کو کنگھی نہ کی ،میرے سر میں تیل لگایا اور بال سنوارے ۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: