توبہ و استغفار-2

استغفارِ حضرت آدمؑ:انبیاء سابقین کی سوانح عمریوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیے اور دیکھئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پروردگار کے آستانہ پر جھک کر اپنی غلطیں کا اقرار کیا اور اپنی لغزشوں کی معافی مانگی۔ سب سے پہلے ابو الانبیاء حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زندگی کے ایک باب پر نگاہ ڈالیے اور دیکھیے کہ شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانے میں شیطانِ لعین کے بہکانے پر کتنی عجلت سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآنِ عزیز میں ان کے اس فعل کو عصیاں سے تعبیر کیا ہے۔
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:عَصٰیٓ اٰدَمُ رَبَّہ فَغَوٰی ’’حضرت آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بھول گئے۔‘‘ (طٰہٰ)
اس غلطی کی پاداش میں انہیں لباس جنت سے محروم ہونا پڑا بلکہ جنت سے دیس نکالا مل گیا اور کرۂ ارض کی طرف دھکیلے گئے۔ زمین پر آکر ایک عرصۂ طویل اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آہ و زاری کرتے ہوئے اپنی لغزش کی معافی ان الفاظ میں مانگتے رہے۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا، وَاِنْ لَّمْ تَغْفِر لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے (شجر ممنوعہ کا پھل کھا کر گناہ کیا ہے اور) اپنی جان پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں معافی نہ دی اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے۔‘‘
چنانچہ اللہ تعالیٰ کو ان کی تضرع اور عاجزی سے دعا کرنا اور معافی مانگنا پسند آئی اور ان کی توبہ قبول فرما کر اپنی برگزیدہ اور پسندیدہ ہستیوں میں شامل کر لیا۔
استغفارِ حضرت نوحؑ:جب طوفانِ نوح آتا ہے تو حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں اور اپنے بیٹے کنعان سے کہتے ہیں:
’’بیٹا! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جائو۔‘‘ لیکن ان کا بیٹا کشتی میں سوار ہونے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ:
’’میں کسی پہاڑ کے دامن میں پناہ لے لوں گا۔‘‘ چنانچہ جب طوفانی امواج کی لپیٹ میں آتا ہے تو حضرت نوح علیہ السلام پدرانہ شفقت سے مغلوب ہو کر بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ ’’الٰہی! میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ برحق ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ درخواست ناگوار گزرتی ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کو ڈانٹ آتی ہے کہ ’’اے نوح! یہ تیرے اہل میں شامل نہیں ہے کیونکہ اس کے اعمال صالح نہیں ہیں۔ تم میرے سامنے ایسی درخواست مت کرو کسی کو غلط اور ناجائز سفارش کرنا جاہلوں کا کام ہے۔‘‘ حضرت نوح علیہ السلام اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کرتے ہیں اور ندامت میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی غلطی کی معذرت ان الفاظ میں کرتے ہیں:
رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہ عِلْمٌ وَّاِلَّا تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْ اَکُنْ مِّنْ الْخٰسِرِیْنَ’’اے باری تعالیٰ میں تیرے ساتھ پناہ مانگتا ہوں ایسا سوال کرنے سے جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھے معافی نہ دی اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔‘‘ (سورہ ہود)
استغفارِ حضرت ہودؑ:حضرت ہود کی قوم شرک و بت پرستی میں مبتلا تھی۔ ہر قسم کے صنعائر و کبائر ان کی فطرت بن چکی تھی۔ حضرت ہود علیہ السلام قوم کی یہ زبوں حالی دیکھ کر انہیں نصیحت فرماتے ہیں:
یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ ط’’اے میری قوم! اپنے پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ کے لئے توبہ کرو۔‘‘ (سورہ ھود)
استغفارِ حضرت صالحؑ:حضرت صالح علیہ السلام سب سے پہلےاپنی قوم کو دعوتِ توحید دیتے ہیں، پھر جب ان کی قوم شرک اور فسق و فجوز سے بازنہیں آتی تو انہیں ہدایت فرماتے ہیں:
فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ’’اپنے رب سے بخشش مانگو پھر اس کی طرف توبہ تائب ہو جاؤ، بیشک میرا پروردگار نزدیک ہے دعائیں قبول فرماتا ہے۔‘‘ (سورہ ھود)
انہوں نے توبہ و استغفار کرنے کے بجائے اس اونٹنی کو جو پہاڑسے بطورِ معجزہ نکلی تھی اور ایک تالاب کا پانی وہ پیتی تھی اور دوسرے روز قومِ
صالح کے مویشی پیتے تھے مار ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح کو تسلی دی کہ تین روزتک انہیں متاعِ زندگی سے بہرہ مند ہو لینے دیجئے۔ پھر ہمارا عذاب آئے گا۔ چنانچہ ایک ہولناک چیخ سے تمام قومِ ثمود کا قلع قمع ہو گیا۔ یہ ہلاکت اور تباہی انکارِاستغفار کے باعث ہوئی۔ اگر یہ لوگ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور گناہوں سے توبہ تائب ہو جاتے تو عذابِ الٰہی ٹل جاتا اور انہیں معافی مل جاتی۔
استغفارِ حضرت ابراہیمؑ:سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃوالسلام کی شان بہت بلند اور ارفع ہے۔ ہمہ وقت یادِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔ اگر تعمیر بیت اللہ کا حکم ملا تو اپنے فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیل کو ساتھ لے کر تعمیرِ کعبہ میں مصروف ہو گئے۔ اگر اکلوتے بیٹے کی قربانی کا حکم ملا تو اس کی عمیل میں معمولی تاخیر بھی نہیں کی۔ اگر انہیں رضاے الٰہی کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینی پڑی تو اس سے سرِمو انحراف نہیں کیا بلکہ توحید الٰہی کی خاطر نمرودی چخہ میں بصد شوق مردانہ وار کود گئے۔ انہوں نے استغفار ان الفاظ میں کی ہے:
رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَومَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ’’اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے والدین اور تمام مومنوں کی بخشش فرمائیے جس دن قیامت قائم ہو گی۔‘‘
بلکہ اپنے والد کے لئے مخصوص دعا مانگنے کا وعدہ فرمایا:
لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ’’کہ میں تیرے لئے بخشش کی دعا مانگوں گا۔‘‘
استغفارِ حضرت داؤد:حضرت داؤد علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں۔ پھر کسی اور عورت سے ازدواجی رشتہ قائم کرنے کا خیال آیا۔ اللہ
تعالیٰ کو ان کا یہ خیال اور ارادہ ناگوار گزرا۔ اس کا امتحان لینے اور اس غلطی کا احساس دلانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے انسانی شکل و شباہت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجے۔ انہوں نے اپنا کیس حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ ایک نے کہا:
’’میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اور ساتھی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں۔یہ میری ایک دنبی بھی میرے پاس نہیں رہنے دیتا بلکہ اس کا مطالبہ کرتا ہے کہ یہ مجھے دو۔‘‘
حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:’’اس نے تجھ سے دنبی کا سوال کر کے بہت برا کیا ہے یہ تو ظالمانہ کام ہے۔‘‘
پھر اپنا ولی ارادہ یاد آتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے میری غلطی پر متنبہ کیا ہے چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام بارگاہِ ایزدی
میں سربسجود ہو کر اپنی غلطی کی معافی مانگتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی ہو جاتی ہے۔
استغفارِ حضرت سلیمان:ایک دفعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس دریائی نسل کے عمدہ گھوڑے لائے گئے۔ آپ ان کی دیکھ بھال میں اس قدر مصروف رہے کہ نمازِ عصر پڑھنا بھول گئے۔ جب سورج غروب ہو گیا تو نماز یاد آئی۔ اب کیا تھا انہوں نے گھوڑوں کو جن کی دیکھ بھال میں نمازِ عصر یاد نہ رہی اور فوت ہوگئی، اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی:
رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ’’اے میرے پروردگار! مجھے معافی دیجئے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کیجئے جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو۔‘‘ (سورہ ص)
استغفارِ حضرت موسیٰ:ایک قبطی اور ایک اسرائیلی کسی بات سے آپس میں جھگڑتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اسرائیلی کی حمایت کرتے ہوئے قبطی کو ایک مکہ مارتے ہیں جس سے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ فوراً اپنی کوتاہی اور غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرتے ہیں:
رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَغَفَرَلَہ’’اے میرے پروردگار! (قبطی کا مار کر) میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ مجھے معافی دیجئے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اسے معافی عنایت فرمائی۔ (سورہ قصص)
استغفارِ حضرت یونس:
حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ آخر قوم کی سرکشی اور طغیانی کو دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں اور اذنِ الٰہی کے بغیر شہر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور قوم کے لئے عذاب کی دعا کرتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم عذاب کی خبر سن کر خوفزدہ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ تمام مل کر بارگاہِ الٰہی میں توبہ تائب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرماتے ہیں اور عذابِ الٰہی ان سے ٹل جاتا ہے۔
جیسا کہ فرمایا:کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنَا ھُمْ اِلٰی حِیْنٍ۔ (یونس)
ادھر حضرت یونس علیہ السلام اپنی غلطی کی بدولت لقمۂ حوت بن جاتے ہیں اور اس کے پیٹ میں اللہ رب العزت کی بارگاہِ عالی میں ان کے ساتھ معافی مانگتے ہیں۔
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق ہیں، تو پاک ہے۔ بیشک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔ (سورہ انبیاء)چالیس روز تک انہیں الفاظ سے اپنے مالک حقیقی سے معافی مانگتے رہے پھر کہیں جا کر انہیں معافی ہوئی۔
استغفارِ سید المرسلینﷺ:آنحضرت ﷺ کی ذاتِ گرامی وہ ہستی ہے جس کے متعلق امت محمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ معصوم عن الخطا ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ اطاعت اور عبادتِ الٰہی میں گزارا۔ گناہ کرنا تو کجا آپ ﷺ کے دل و دماغ میں گناہ کا کبھی تصور بھی پیدا نہیں ہوا۔ با ایں ہمہ آنحضرت ﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
یایھا الناس توبوا الی اللہ فانی اتوب الیہ فی الیوم مائۃ مرۃلوگو! اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ رب العزت سے دعا کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ (بخاری)
آپ ﷺ مندرجہ ذیل استغفار کثرت سے پڑھا کرتے تھے:
اَسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ میں اللہ سے بخشش کی دعا کرتا ہوں، وہ اللہ جس کے بغیر کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہاللہ جو ہمیشہ زندہ اور قائم ہے اور میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ (ابو داؤد)
غرضیکہ تمام انبیاء علیہم السلام حتیٰ کہ حضرت محمد ﷺ نے توبہ و استغفار کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایا ہوا تھا اور ہر وقت ان کی زبانِ مبارک
سے استغفار کے کلمات ہی سنائی دیتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ استغفار اللہ تعالیٰ کی رضا کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انسان خواہ گناہوں میں ڈوبا ہوا ہو جب بارگاہِ ایزدی میں سر جھکا کر رب رب کے الفاظ سے اپنے خالقِ حقیقی سے معافی مانگتا ہے تو اس کی رحمت کا بحرِ بیکراں جوش میں آکر اس کے گناہوں کے تمام خس و خاشاک کو بہا کر لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے بے حد خوش ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ:’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو ایک بے آب و گیاہ چٹیل میدان میں اترتا ہے۔ اس کے پاس سواری ہوتی ہے جس پر اس کا خورد و نوش کا سامان بندھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ وہاں چند منٹ سستانے کی غرض سے لیٹ جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی بمعہ سامان خورد و نوش غائب ہے۔ اس کی تلاش میں جنگل کا کونہ کونہ چھانتا ہے لیکن کہیں سے سراغ نہیں ملتا۔ حتیٰ کہ گرمی و تشنگی سے مغلوب ہو کر اسی جگہ پر واپس آجاتا ہے جہاں پہلے لیٹا ہوا تھا۔ وہاں پر مرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے اور اپنا بازو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتا ہے تاکہ وہ موت کے ذریعے اس مصیبت اور پریشانی سے نجات پائے۔ تھوڑی دیر کے بعد بیدار ہوتا ہے۔ کیا دیکھتا ہے اس کی اونٹنی بمعہ سامان خورد و نوش اس کے سر پر کھڑی ہے۔
یہ ماجرہ دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ فرحت و انبساط کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ اس کے دماغی توازن درست نہیں رہتا۔ خوشی میں آکر کہتا ہے۔
اللھم انت عبدی وانا ربّک یا الٰہی! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہے۔ (مسلم)
Advertisements
3 comments
  1. Muhammad saleem said:

    Subhan alha…

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: