اصحاب كہف-7

سامان خریدنے والے پر كیا گزری
آیئےدیكھتے ہیں كہ اس پر كیا گزرى جو غذا لینے كے لئے آیا ۔وہ شہر میں داخل ہوا تو اس كا منہ تعجب سے كھلے كا كھلا رہ گیا، شہر كى عمارتوں كى شكل و صورت تمام تبدیل ہوچكى تھی،سب چہرے ناشناس تھے،لباس نئے انداز كے تھے اور جہاں پہلے محل تھے وہاں ویرانے تھے۔ شاید تھوڑى دیر كے لئے اس نے سوچا ہوكہ ابھى میں نیند میں ہوں اور یہ جو كچھ دیكھ رہا ہوں سب خواب ہے۔اس نے اپنى آنكھوں كو ملا۔وہ سب چیزوں كو پھٹى پھٹى نگاہوں سے دیكھ رہا تھا۔ اس نے سوچا كہ یہ كیسى حقیقت ہے كہ جس پریقین نہیں كیا جاسكتا۔ اب وہ سوچنے لگا كہ وہ میں ایك یا آدھا دن سوئے ہیں تو پھر یہ اتنى تبدیلیاں اتنى مدت میں كیسے ممكن ہیں ؟
دوسرى طرف اس كا چہرہ مہرہ اور حالت لوگوں كے لئے بھى عجیب اور غیر مانوس تھی۔ اس كا لباس،اس كى گفتار اور اس كا چہرہ سب نیا معلوم ہوتا تھا شاید اسى وجہ سے كچھ لوگ اسكى طرف متوجہ ہوئے اور اس كے پیچھے چل پڑے۔ اس وقت لوگوں كا تعجب انتہاء كو پہنچ گیا جب اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تا كہ اس كھانے كى قیمت ادا كرے جو اس نے خریدا تھا،دكاندار كى نگاہ سكتے پر پڑى وہ تین سو سال سے زیادہ پرانے دور كا تھا اور شاید اس زمانے كے ظالم بادشاہ دقیانوس كا نام بھى اس پر كنندہ تھا۔ جب اس نے وضاحت چاہى تو خریدار نے جواب میں كہا:میرے ہاتھ میں تو یہ سكہ ابھى تازہ ہى آیا ہے۔ قرائن اور احوال سے لوگو ں كو آہستہ آہستہ یقین ہوگیا كہ یہ شخص تو انہى افراد میں سے ہے جن كا ذكر ہم نے تین سو سال پہلے كى تاریخ میں پڑھا ہے اور بہت سى محفلوں میں ہم نے جن كى پر اسرار داستان سنى ہے۔ خود اسے بھى احساس ہوا كہ وہ اور اس كے ساتھى گہرى اور طولانى نیند میں مستغرق رہے ہیں ۔ اس بات كى خبر جنگل كى آگ كى طرح سارے شہر میں آن كى آن میں پھیل گئی۔
مورخین لكھتے ہیں كہ اس زمانے میں ایك نیك اور خدا پرست بادشاہ حكومت كرتا تھا لیكن معاد جسمانى اور موت كے بعد مردوں كے جى اٹھنے كے مسئلہ پر یقین كرنا وہاں كے لوگوں كے لئے مشكل تھا۔ان میں سے ایك گروہ كو اس بات پر یقین نہیں آتا تھا كہ انسان مرنے كے بعد پھر جى اٹھے گا لیكن اصحاب كہف كى نیند كا واقعہ معاد جسمانى كے طرفداروں كے لئے ایك دندان شكن دلیل بن گیا۔
اسى لئے قرآن كہتا ہے: جیسے ہم نے انہیں سلادیا تھا اسى طرح انہیں اس گہرى اور طویل نیند سے بیدار كیا اور لوگوں كو ان كے حال كى طرف متوجہ كیا تا كہ وہ جان لیں كہ قیامت كے بارے میں خدا كا وعدہ حق ہے۔اور دنیا كے خاتمے اور قیام قیامت میں كوئی شك نہیں ۔( سورہ كہف آیت 21)
كیونكہ صدیوں پر محیط یہ لمبى نیند موت سے غیر مشابہ نہیں ہے اور ان كا بیدار ہونا قبروں سے اٹھنے كى مانند ہے بلكہ كہا جاسكتا ہے كہ یہ سونا اور جاگنا كئی حوالوں سے مرنے اور پھر جى اٹھنے سے عجیب تر ہے كیونكہ وہ صدیوں سوئے رہے لیكن ان كا بدن بوسیدہ نہ ہوا جبكہ انہوں نے كچھ كھایا نہ پیا،تو پھروہ اتنى لمبى مدت زندہ كس طرح رہے۔ كیا یہ اس بات كى دلیل نہیں كہ خدا ہرچیز اور ہر كام پر قادر ہے ۔ایسے منظر كى طرف نظر كى جائے تو موت كے بعد زندگى كا مسئلہ كوئی عجیب معلوم نہیں ہوتا بلكہ یقینى طور پر ممكن دكھائی دیتا ہے۔
اصحاب كہف كے واقعہ كا اختتام
جوشخص غذا لینے شہر میں آیا تھا اس نے یہ صورت دیكھى تو جلدى سے كى طرف پلٹا اور اپنے دوستوں كو سارا حال سنایا،وہ سب كے سب گہرے تعجب میں ڈوب گئے۔اب انہیں احساس ہوا كہ ان كے تمام بچے،بھائی اوردوست كوئی بھى باقى نہیں رہا اور ان كے احباب وانصار میں سے كوئی نہیں رہا۔ ایسے میں ان كو یہ زندگى بہت سخت اور ناگوار لگی۔لہذا انہوں نے اللہ سے دعا كى كہ اس جہان سے ہمارى آنكھیں بند ہوجائیں اور ہم جوار رحمت حق میں منتقل ہوجائیں ۔ ایسا ہى ہوا،اس دنیا سے انہوں نے آنكھیں بند كرلیں ۔ ان كے جسم میں پڑے تھے كہ لوگ ان كى تلا ش كو نكلے۔(سورہ كہف آیت 21)
اس مقام پر معاد جسمانى كے طرفداروں اور مخالفوں كے درمیان كشمكش شروع ہوگئی۔ مخالفین كى كوشش تھى كہ لوگ اصحاب كہف كے سونے اور جاگنے كے مسئلہ كو جلد بھول جائیں لہذا انہوں نے تجویز پیش كى كہ كا دروازہ بند كردیا جائے تاكہ وہ ہمیشہ كے لئے لوگوں كى نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں ۔( سورہ كہف آیت 21)
وہ لوگوں كو خاموش ہونے كے لئے كہتے تھے كہ ان كے بارے میں زیادہ باتیں نہ كرو،ان كى داستان اسرار آمیز ہے ان كا پروردگار ان كى كیفیت سے زیادہ آگاہ ہے ۔( سورہ كہف آیت 21)
لہذا ان كا قصہ ان تك رہنے دو اورانہیں ان كے حال پر چھوڑ دو۔ جبكہ حقیقى مومن كہ جنہیں اس واقعے كى خبر ہوئی اور جو اسے قیامت كے حقیقى مفہوم كے اثبات كے لئے ایك زندہ دلیل سمجھتے تھے،ان كى كوشش تھى كہ یہ واقعہ ہر گز فراموش نہ ہونے پائے۔ لہذا انہوں نے كہا: ہم ان كے مدفن كے پاس مسجد بناتے ہیں ۔(سورہ كہف آیت 21)
تا كہ لوگ انہیں اپنے دلوں سے ہر گز فراموش نہ كریں علاوہ ازیں ان كى ارواح پاك سےلوگ استمداد كریں ۔
قرآن میں ان چند اختلافات كى طرف اشارہ كیا گیا ہے،كہ جو اصحاب كہف كے بارے میں لوگوں میں پائے جاتے ہیں ،ان میں سے ایك ان كى تعداد كے بارے میں ہے۔ ارشاد ہوتاہے: بعض لوگ كہتے ہیں كہ وہ تین تھے اورچوتھا ان كا كتا تھا ۔ بعض كہتے ہیں كہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان كا كتا تھا۔ یہ سب بلادلیل باتیں ہیں اور اندھیرے میں تیر چلانے كے مترادف ہیں ۔ اور بعض كہتے ہیں كہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان كا كتّا تھا۔ كہہ دے:میرا رب ان كى تعداد بہتر جانتا ہے۔ صرف تھوڑے سے لوگ ان كى تعداد جانتے ہیں ۔( سورہ كہف آیت 22)
قرآن نے ان جملوں میں اگر چہ صراحت سے ان كى تعداد بیان نہیں كى لیكن آیت میں موجودبعض اشاروں سے سمجھا جاسكتا ہے كہ تیسرا قول صحیح اور مطابق حقیقت ہے كیونكہ پہلےاور دوسرے قول كے بعد (اندھیرے میں تیر مارنا) آیا ہے كہ جو ان اقوال كے لئے بے بنیادہونے كى طرف اشارہ ہے لیكن تیسرے قول كے بارے میں نہ صرف ایسى كوئی تعبیر نہیں بلكہ اس كے ساتھ ہى فرمایا گیا ہے:كہہ دے: میرا رب ان كى تعداد سے بہتر طور پر آگاہ ہے ۔اور یہ بھى فرمایا گیا ہے ان كى تعداد كو تھوڑے سے لوگ جانتے ہیں ۔یہ جملےبھى اس تیسرے قول كى صداقت پر دلالت
كرتے ہیں ۔ بہر حال آیت كے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: استدلالى اور منطقى گفتگو كے علاوہ ان كے بارے میں بحث نہ كر ۔( سورہ كہف آیت 22)
بہر حال اس گفتگو كا مفہوم یہ ہے كہ وحى خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے۔ تو ان كے ساتھ بات كر كیونكہ اس سلسلے میں محكم ترین دلیل یہى ہے۔ لہذا جو لوگ بغیر دلیل كے اصحاب كہف كى تعداد كے بارے میں بات كرتے ہیں ان سے اس بارے میں سوال نہ كر ۔(سورہ كہف آیت 22)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: