رسول اللہﷺ کے ذرائع معاش

نبی کریم ﷺ اُمت کے جمیع طبقات کے لئے اُسوئہ حسنہ اور نمونہ ہیں۔ آپ کے معاشی معمولات میں مسلمانوں کے لئے بیش قیمت رہنمائی موجود ہے۔ بعض اوقات ہم لوگ منقول حقائق کی جستجو کی بجائے ایک مثالی تصور اپنے ذہن میں قائم کرکے اس کے مطابق دلائل کی تلاش شروع کردیتے ہیں۔ جبکہ یہ امر ظاہرہے کہ نبی کریمﷺ نے منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے قبل معاشی سرگرمیاں اختیار کیں، بکریاں چرائیں اور تجارتی سفر بھی کئے، لیکن نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ ﷺ کی کسی معاشی سرگرمی کا ذکر کتب ِسیرت میں نہیں ملتا۔
زیر نظر مضمون میں آپﷺ کے ذر ائع آمدن کی جستجو میں بہت سی تفصیلات یکجا کردی ہیں، لیکن پھر بھی دورِ نبوت میں آپ کی معاشی سرگرمی کا سراغ لگانے سے قاصر رہا ہے۔ اس نظریہ سے اگلا مسئلہ میراث نبویﷺ پر فائز حقیقی علماے کرام کے ذریعہ معاش کاپیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی عالم نے دینی خدمات کے ساتھ اپنے ذریعہ آمدنی کو جداگانہ رکھنے کی کوشش کی ہے ، تو اس عالم کی عزیمت قابل قدر امر ہے، لیکن درحقیقت شریعت اسلامیہ کا یہ تقاضا نہیں ہے بلکہ اُمت مسلمہ پر جہاں علماے ربانی کا احترام فرض ہے وہاں ان کو معاشی ضروریات سے بالاتر کردینا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے، کیونکہ کوئی عالم دین شرعی رہنمائی کرتے ہوئے ذاتی کی بجائے اجتماعی خدمت کررہا ہوتا ہے، جس کا صلہ تو اللہ ہی آخر کار اسے دیں گے، البتہ عامتہ الناس یا مسلم حکومت کو اس کی ضروریاتِ زندگی کا انتظام از خود کرنا چاہئے،یہی اُمت مسلمہ کی صدہاسالہ روایت رہی ہے، اَئمہ اسلاف کے معاشی معمولات اسی کی نشاندہی کرتے ہیں اور جن علما کے بعض پیشے کتب تاریخ میں ملتے ہیں، وہ یاتوشاذونادر اور عزیمت کی قبیل سے ہیں یا قبل از دینی خدمات ان کے معاشی معمولات کا تذکرہ ہے۔ البتہ یہ بحث تفصیلی مضمون کی
متقاضی ہے۔
نبی کریمﷺ کی ذاتِ گرامی مسلما نوں کے لیے مکمل نمو نہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی ذات میں وہ تمام صفات جمع تھیںجو کسی بھی گوشۂ زندگی میں مطلوب ہو سکتی ہیں۔آپ کی عبادات واَخلاق،آپ کی جنگیں،آپ کی مسا عیٔ امن،آپ کی انفرادی اور اجتما عی زندگی مسلمانوں کے لیے مکمل نمو نہ ہے۔ جہاں آپﷺ نے مسلما نوں کے لییدیگر معاملات میں ایک مکمل رہنما ئی دی اور عملی تصویر پیش کی،وہیں آپ نے انسانیت کے لیے معا شی نظام کا ایک بہترین پہلو متعارف کروایاجس میں اِنفرادی اور اِجتما عی معاش کے حصول کے خطوط واضح کیے۔
آپﷺ کی بعثت اس زمانے میں ہوئی کہ جب جا ہلیت کی طبقاتی تقسیم نے معاشی جدوجہد کو بے حد متاثرکیا ہوا تھا۔لوٹ کھسوٹ اور بدنظمی،معاشی زندگی کی خصوصیت بن گئی تھی۔سرمایہ دار طبقہ نے عوام پرسود جیسی لعنت مسلط کر رکھی تھی جس سے غریب کا خون نچڑ رہا تھا۔ معاشرتی برائیاں شراب اورجوئے نے معا شی جد وجہد کو مفلوج کر دیا تھا۔ ذرائع آمدنی پر مخصوص لوگوں کا قبضہ تھا۔ طریقِ صرف میں کسی اَخلا قی اُصول کا لحا ظ نہ رکھا جا تا تھا۔ افرادِ معاشرہ کی ساری جدوجہد خود غرضی اور سنگ دلی پر مبنی تھی۔مفاد پرستی کے اِس دور میں رحمتہ للعالمین کا حصولِ معاش کے لیے کردار بہت مختلف اور منفرد تھا۔
معا شی زندگی جدید اصطلاح کے مطابق ’’اُس جدوجہد کا نام ہے جو اِنسا نی احتیاجات کی تسکین کے لیے دولت کما نے اور اُسے خرچ کرنے سے متعلق ہے۔‘‘ اِس کا ئنات میں آنے والے ہر انسان کو اپنی سانسیں بحال رکھنے کے لیے کم ازکم کسی بھی ظاہری معاشی اَسباب کا سہارا لینا پڑا ہے ۔ اللہ کے رسولﷺ جنہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانیت کے لیے رہبرِ کامل بنا کر بھیجا تھا، آپ نے بھی خود اپنے ہا تھوں سے رزقِ حلال کما کر انسانیت کویہ سبق دیا کہ کوئی انسان چا ہے کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو، اُسے اپنے معاش کے لییخود کفیل ہوناچاہیے، نہ کہ دوسرے لوگوں پر بو جھ بننا چا ہیے۔ حا لا نکہ نبی اور آپ کے دیگر رفقا کے لیے یہ وقت بہت کٹھن تھا،کیو نکہ ایک طرف مشرکینِ مکہ نے معاشرتی مقاطعہ کر رکھا تھا، دوسری طرف نوبت جسمانی اذیتوں تک پہنچ چکی تھی۔ان حالات میں کسی قسم کی تجارت، کاروباریا معاشی جدوجہد کا جا ری رکھنا ممکن نظر نہیں آتا۔ پھرایک ہمہ وقتی کارکن کے لییجب کہ وہ ایک گروہ کو ساتھ لے کرچل رہا ہو ،معاشی جدوجہد کو برقرار رکھنا اور بھی مشکل ہو جا تا ہے۔ ابتدائی دور کی مصروفیات میں لو گوں کا آپﷺ سے معاشی تعاون کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن آپ نے نہ صرف خود اپنی معاشی حالت بہتر کی بلکہ ہمیشہ اپنے اَصحاب کو بھی یہی سبق دیا کہ وہ حلال اور باعزت روزگار اختیار کریں، کیو نکہ اِس کی اللہ تعا لیٰ کے ہا ں بہت قدرو منزلت ہے۔
آپﷺ نے فرمایا :
ما أکل أحد طعامًا قطُّ خیر من أن یأکل من عمل یدہ وإن نبي اﷲ داؤد علیہ السلام کان یأکل من عمل یدہ(صحیح بخاری: ۲۰۷۲)’’کوئی بندہ ایسا کھانا نہیں کھاتا جو اپنے ہاتھ کی کما ئی سے بہتر ہو، اور حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہا تھ کی کما ئی سے کھا تے تھے۔‘ ‘
آپﷺ کا ذریعہ معا ش کیا تھا؟اس مو ضو ع سے ہمارے مؤرخین اور سیرت نگاروں نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ سیرۃالنبیﷺ پر لکھی جا نے والی کتب کا ذخیرہ کھنگال لیں، آپ کو اس عنوان پر مستقل بحث نہ ملے گئی ۔غالباً اس کی وجہ آپﷺ سے اِ ن کی عقیدت کا وہ درجہ ہے جہا ںوہ آپﷺ کو ذریعۂ معا ش کی ضرورت ہی سے بالاتر تصور کرتے ہیں، حالا نکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔
آپﷺ نے حلال اور باعزت ذریعۂ معاش اختیا ر کرکے اپنی اُمت کو یہ تعلیم دی کہ وہ حلا ل اور باعزت ذریعۂ معا ش اپنا کر ہی اپنی اورزیر کفالت اَفراد کی معا شی ضروریا ت کوپو را کیا جائے۔منصب ِ نبوت پر سرفراز ہو نے سے قبل گلہ با نی اور کچھ عرصہ بعد تک آپ نے تجا رت کو ذریعۂ معا ش بنا یا ۔ اس سلسلہ میں آپ نے متعدد تجا رتی اَسفار بھی فرما ئے ۔
جب اُمّ المومنین خدیجہ الکبریٰ ؓ آپﷺ کے عقد میں آئیں تو اُن کی تمام تردولت اور تجارت بھی آپ کے پا س آئی اور یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمﷺ کے معاشی تفکرات کو کم کر دیا اورآپ دل جمعی کے ساتھ دعوت میں مگن رہے۔کتب ِسیرۃ میں کہیں نہیں ملتا کہ آپ کبھی کسی پر بوجھ بن کر رہے ہوں بلکہ آپ ہمیشہ سے خود کفیل رہے ہیں۔
بعض سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعدآپ کی معاشی زندگی بہتر ہو ئی اور اِس سے قبل آپ کے پا س کچھ مال ودولت نہ تھا تو یہ خیال غلط ہے، کیونکہ نزولِ وحی کے مو قع پر حضرت خدیجہؓ آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرما تی ہیں:
إنک لتصل الرحم وتحمل الکل،وتکسب المعدوم وتقري الضیف وتعین علی نوائب الحق(صحیح بخاری:۴)’’آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کابوجھ اُٹھا تے ہیںاورجن کے پاس کچھ نہیں ہو تا،کما کردیتے ہیں،اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور آپ حق داروں کے ساتھ مشکلات میں مدد کرتے ہیں۔ ‘‘
حضرت خدیجہؓ کی اِس تسلی سے پتہ چلتا ہے کہ آپ حضرت خدیجہؓ سے شادی سے پہلے بھی صاحب ِروزگار تھے اور اپنے مال سے دوسروں کی مدد کیا کرتے تھے۔ البتہ حضرت خدیجہؓ ہی کے مال ودولت نے آپ کی بہت ساری معاشی پریشانیوں کو کم کیا،اور اِس نعمت کا اظہا ر اللہ تعالیٰ نے یوں فرما یا
:
{وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأغْنٰی} (الضحی:۸)’’اور ہم نے آپ کو تنگ دست پا یا توآپ کو غنی کر دیاـ۔‘‘
بہرحال آپﷺ کی زندگی کے تمام اَدوار کو مد نظر رکھتے ہوئے آپﷺ کے مندرجہ ذیل ذرائع آمدن سامنے آتے ہیںجن کو اِس مضمون میں اَحسن انداز میں پیش کرنے کی کو شش کی گئی ہے:
والدین کی وراثت سے حصہ
رسول اللہﷺ کو اپنے والد عبداللہ بن عبدالمطلب کی طرف سے وراثت میں کوئی جائیداد یا مال و دولت نہیں ملا، سوائے ایک مکان کے جو آپ کے چچا زاد عقیل کے قبضہ میں تھا اور فتح مکہ کے مو قع پر جب رسول اللہﷺ مکہ میں تشریف لا ئے توآپ سے پو چھا گیاکہ آپ کہاں رہا ئش فرما ئیں گے توآپﷺ نے فرما یا :’’میں عقیل کے مکان میں رہنا چا ہتا ہوں،عقیل سے پو چھو کیاوہ ہمیں اِجازت دیتا ہے۔ ‘‘(نیل الأوطار:۱؍۲۱)
لیکن آپ نے پھر اُمّ ہا نی ؓ کے گھر سکونت فرما ئی۔(صحیح بخاری:۴۲۹۲) اِس متاعِ قلیل کے علاوہ کتب ِ اَحادیث وسیرت میں آپﷺ کو ملنے والے ورثے کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔
گلہ با نی
اللہ تعالیٰ کی اپنے انبیا ومرسلین کے لئے عجب حکمت رہی ہے کہ تقریباً تما م انبیاے کرام علیہم السلام سے بکریا ں چروائیں۔ اس کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ بکریاں چرا نے والے میں چند ایسی خصو صیا ت پیدا ہو جاتی ہیں جو عا م انسا نوں میں نہیں ہوتیں۔ بکر یو ں کا چرواہا جفاکش، نرم دل اور بر د با ر ہو تا ہے ۔ بکر ی فطرتاً تیز اور طبعاً نہا یت کمزور ہو تی ہے۔اگر ڈھیلا چھوڑ دیا جا ئے تو کہیں سے کہیں نکل جا ئے اور غصہ میں آکر لا ٹھی مار یں تو جوڑ بند ٹو ٹ جا تے ہیں۔ لہٰذا اِس کے چرواہے کو بڑی سمجھ داری، ہو شیاری اور بردباری سے کام لینا پڑتا ہے۔ ہدا یت سے خا لی انسا ن، بکری سے کہیں زیا دہ آوارہ اور ناصح کی نصیحت سے دور بھا گنے والا ہو تا ہے۔نبی کریمﷺ کو ایسے انسا نوں کو راہِ را ست پر لا نے کے لیے بکریوں کو سنبھالنے کی مانند کام کرنا پڑا۔ آپﷺ جب دس بارہ برس کے ہو ئے تو بکریاں چرا نا شروع کیں۔یہ اِنسا نیت کی گلہ با نی کا دیبا چہ تھا ۔حضرت عبید بن عمیرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرما یا :
ما من نبيٍ إلا وقد رعی الغنم قیل وأنت یا رسول اﷲ؟ قال:وأنا،أنا رعیتھا لأھل مکۃ بقراریط(الطبقات الکبرٰی:۱؍۱۲۲)
’’کوئی نبی ایسے مبعوث نہیں ہوئے جنہوں نے بکریا ں نہ چرا ئی ہوں۔دریا فت کیا گیا: یارسول اللہ! آپ نے بھی؟ فرمایا:ہا ں میں نے بھی اہل مکہ کی بکریاں چندقراریط(قیراط) پر چرائیں تھیں۔‘‘
مندرجہ بالاحوالہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مویشی جانوروں کے چروانے کا پیشہ بھی آپ ﷺ نے اپنائے رکھا جو کہ عرب معاشرے میں ایک قابل ذکر پیشہ تھا۔
تجا رت
جب آپﷺ جوان ہوئے توآپ نے تجا رت کو معاش کاذریعہ بنایا۔ اِس پیشہ کے انتخاب کی وجوہ میں سے نما یا ں وجہ یہ تھی کہ آپ کے خا ندان بنو ہا شم اور قریشِ مکہ تجا رت کے پیشہ سے منسلک تھے جس کاذکر قرآن مجید سورۃ القریش میں موجود ہے:
{ لِایْلٰفِ قُرَیْشٍé اِلٰفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِé فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِé الَّذِیْ اَطْعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَھُمْ مِّـنْ خَوْفٍ} (سورۃ القریش)
’’قریش کو اُلفت دلا نے کے واسطے، اُلفت گرمی اور سردی کے قافلوں کے لیے،پس اُنہیں چاہیے کہ اِس گھر کے ربّ کی عبادت کریںجس نے اُنہیں بھوک میں بھی کھلا یااور اُنہیں خوف سے نجات عطا فرما ئیـ۔ ‘‘
آپ کے آباؤ اَجداد تجارت ہی کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ آپ کے والد ما جد حضرت عبد اللہ تجا رت ہی کی غرض سے شام تشریف لے گئے اور واپسی پر مدینہ منورہ میںقیام فرما یا اور وہیںانتقال کر گئے۔ آپ کے والد کے برادران بھی تجا رت ہی سے منسلک تھے۔(الطبقات الکبریٰ:۱؍۱۲۹) اوراس کی دوسری وجہ مکہ مکر مہ کی زمین کا سنگلاخ اوربے آب وگیا ہ ہوناہے۔ ایسی زمین کے باشندے تجارت یا صنعت کے علا وہ اور کو نسا پیشہ اختیار کر سکتے ہیں؟ یقینا زراعت اور کھیتی باڑی کے مواقع ہی کم تھے اور مکہ میں صنعت وحرفت کا رواج اور سہولیات بھی نہیں تھیں۔
اس کی ایک تیسری وجہ شاید یہ حکمت ِالٰہیہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس ربِ حکیم نے اپنے نبی کریمﷺ سے بکریاں چرواکر آپ میںبردباری ،ہو شیا ری اور سمجھ دا ری کی صفا ت پیدا کر نا تھیں، اسی ذاتِ کریم نے انہی صفاتِ عا لیہ کی تکمیل تجارتی تجربات کے ذریعے کرا ئی ۔ تجارت انسا ن میں انتظامی صلا حیتیں پیدا کر تی ہے۔تجا رتی اَسفا ر کے دورا ن خطرات سے بچاؤ اور دفاع کی ترا کیب، خرید و فروخت میں معاملہ فہمی، با ت چیت کا ڈھنگ، اپنی با ت دلائل سے منوانے کا سلیقہ ، مختلف علا قوںاور مما لک کی سیاحت اور اُن کے احوال واَخبا ر کا علم ، لو گو ں کی طبا ئع کا اندا زہ ایسی بے شمار خو بیاں ہیںجو انسا ن میں تجا رت کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں۔نبی کریمﷺ نے یہ تما م صفا ت اپنے اندر بدرجہ اَتم پیدا کر لی تھیں۔
آپﷺ نے اپنے چچا ابو طا لب کے ساتھ رہ کراور ان کے سا تھ بعض تجا رتی سفر کر کے تجا رتی معا ملا ت کا تجربہ حا صل کر لیا تھا۔ آپ کے تجا رتی اَخلا ق کا ہر شخص گرویدہ تھا۔ تجا رتی کاروبا ر میں جو صفت سب سے زیادہ گاہکوں کی تو جہ کسی تا جر کی طرف مبذول کرا تی ہے، وہ صدق و اما نت ہے ۔آپﷺ توگو یا ان صفا ت کے مو جد تھے۔ امین کے لقب سے آپ دشمنوں میں بھی شہرت پا چکے تھے۔لوگ اپنا سا ما نِ تجارت آپ کے سپرد کر نے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ (ایضاً:۱؍۱۳۰)
آپﷺ کے تجا رتی اَسفا ر
رسول اللہﷺ کے ذرائع آمد نی میں سب سے بڑا ذریعہ تجا رت تھا۔ تجا رت کے سلسلہ میں آپ نے کئی ایک اَسفا ر کیے۔ جن کا تذکرہ تفصیل سے ملتا ہے اِن میں سے کچھ شام، بحرین ، یمن اور چین کی طرف ہیں۔ اِ ن اسفار میں آپ کو کا فی نفع حا صل ہوا ہوگا۔
٭ ابو طا لب کے ساتھ سفرِتجارت: رسول اللہﷺ نے اپنے چچا ابو طا لب اور زبیر کے ساتھ بھی سفر تجا ر ت کیے تھے۔جب آپ کی عمر ۱۲سال تھی تو آپ نے پہلی مرتبہ شام کی طرف اپنے چچا کے سا تھ سفر فرمایا۔اگرچہ اس سفر میں آپ بطورِ تا جر تو شا مل نہ تھے، لیکن آپ نے تجارت کے طور طریقے اور لین دین کے حوالے سے کافی معلو ما ت حا صل کیںاور جب آپ ۲۵سال کے ہوئے تو آپ نے دوسری مرتبہ شام کا سفر کیا ۔البتہ اِس مرتبہ آپ ایک تا جر کی حیثیت سے اس سفر میں شا مل تھے اور اس میں آپ کو کا فی منا فع حاصل ہوا۔(الطبقات:۱؍۱۱۹)
٭مالِ خدیجہ طاہرہ ؓ سے تجارت:شام کا دوسراسفر آپ نے حضرت خدیجہؓ کا سا مان لے کر کیا۔ یہ مضا ربت سے زیا دہ اِجا رہ کی صورت تھی،کیو نکہ حضر ت خدیجہ ؓ نے آپ کو متعین اُجرت دی تھی۔ اِسی بار آپ شام کی منڈی بصریٰ تشریف لے گے۔ چو نکہ حضرت خدیجہ ؓ کا کاروانِ تجا رت پو رے مکہ کے کا روان سے بڑا ہو تا تھا، لہٰذا اُس کی آمدنی بھی کا فی مقدار میں ہو ئی جو کہ آپ کی پیشہ وارانہ مہارت کی دلیل ہے۔
رسول اللہﷺ نے اِس سفرِ تجارت کو اپنایا توآپ کو اس کے بدلہ میں ایک اونٹ اُجرت میں ملا۔حضرت جا بر ؓ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرما یا : ’’ میں نے خدیجہ سے دو سفروں کا معا وضہ ایک اونٹنی لیا تھا ۔‘‘(سیرۃ النبی از ابن کثیر:۱؍۱۸۱)آپﷺ حضرت خدیجہؓ کا سا ما نِ تجا رت لے کرجرش(یمن) دوبار تشریف لے گئے۔ دونوں مرتبہ مناسب منافع کے ساتھ واپس لوٹے۔ (الطبقات الکبرٰی:۱؍۱۳۰)
اوریوں آپ کے دیگر تجارتی اَسفا ر میں منا فع کا اندازہ بطریق اَحسن لگا یا جا سکتا ہے ۔
٭ بحرین کا سفر:آپﷺ تجا رت کی غرض سے بحرین بھی تشریف لے گئے۔جب وفد عبد القیس کے لوگ اسلام لا نے کی غرض سے مدینہ منو رہ آئے توآپ نے اُ ن سے ان کے ملک کے با رے میں تفصیل سے سوال پو چھے، تو وہ کہنے لگے:یارسول اللہ آپ ہما رے ملک کے بارے میں بہت زیا دہ معلوما ت رکھتے ہیں؟ توآپ نے فرما یا:میں کا فی عرصہ تمہارے ملک میں رہ چکا ہوں۔ آپﷺ نکاح کے بعدحضرت خدیجہؓ کا سامانِ تجا رت لے کرمشرقی علاقہ میں بھی گئے۔غا لباً اس لیے کہ آپ بحرین جا کر ’دبا‘ کے بین الاقوامی تجا رتی میلہ میں شرکت کر سکیں اور زیادہ نفع کما سکیں ۔
ڈاکٹرحمید اللہ ؒکے بقول آپﷺ تجا رت کی غرض سے شام اور یمن کے علاوہ بیت المقدس، فلسطین اور چین سے بھی گزرے ہیں۔ (خطباتِ بہاولپور:ص۲۰۶)
تجارتِ رسولﷺ کے ضمن میں پیش کی گئی معلوما ت سے بخوبی اندازہ ہو جا تا ہے کہ رسولِ امینﷺ نے اپنی زندگی میں تجارت کے عمل سے وابستہ رہے جو اُس وقت کی دنیا میں ایک پُروقار پیشہ تھا۔جس سے صادق وامین نبی نے منا سب مال بھی کما یا اور اچھا نام بھی۔
قریشی صحابہ کی طرف سے اِعانت و کفا لت
نبوت کے بعد ابتدائی اَدوار میں متمو ل صحا بہ کرا م رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپﷺ کی کفالت کی سعادت نصیب ہو ئی۔ ان خو ش بخت اَفراد میں حضرت ابو بکر صدیقؓ، سعدؓ بن معاذ اور عما ر بن حزم ؓ کے نام قابلِ ذکرہیں۔یہ خو ش نصیب حضرات روزانہ آپﷺ کی خدمت میں دودھ یا کھا نے کی کوئی چیز پیش کرتے تھے۔ حضرت سعد بن عبا دہؓ آپ کے ننھیا لی رشتہ دار تھے۔ وہ آپ کے ہا ں کبھی سالن کبھی دودھ اور کبھی روٹی کبھی گو شت اور کبھی کبھارکو ئی میٹھی چیز باقا عدگی سے اِرسال کرتے تھے جسے آپﷺ قبو ل فرما لیتے تھے ۔ آپ صدقہ نہیں، البتہ ہدیہ قبول فرما لیتے تھے۔ یوں اللہ تعا لیٰ کی طرف سے یہ ایک ذریعہ روزی تھااور جو اِس سے زائد ہو جا تا، وہ آپ ؐاپنے صحا بہ کرام اور اصحابِ صفہ رضوان اللہ اجمعین میں تقسیم کر دیتے ۔ (الطبقات الکبرٰی،ص۱۱۶)
حضرت ابو بکرؓ نے آپﷺ کی بہت مالی مدد فرما ئی جس کو آپ نے متعدد باریوں بیان فرما یا :
إن اﷲ بعثني إلیکم فقلتم: کذبت،وقال أبوبکر: صدق، وواساني بنفسہ ومالہ فھل أنتم تارکوا لي صاحبي؟ مرتین… (صحیح بخاری:۳۶۶۱)’’اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہا ری طرف مبعوث فرمایا تو تم نے کہا: آپ جھوٹ بولتے ہو اور ابوبکرصدیقؓ نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے،اور اُنہوں نے اپنی جان ومال کے ساتھ میری مدد کی، کیاتم مجھ سے میرے دوست کو چھڑوانا چاہتے ہو؟ ایسا دو مرتبہ فرمایا۔‘‘
اور مزید فرما یا :
ما نفعني مالُ أحدٍ قط ما نفعني مال أبي بکر(سنن ترمذی:۳۶۶۱)’’ مجھے اتنا کسی کے مال نے فا ئدہ نہیں دیا جتنا ابو بکرؓ کے ما ل نے دیا ہے۔ ‘‘
اَنصارکی طرف سے اِعانت
انصارِ مدینہ نے بھی مکی صحا بہ کی طرح دل و جان سے رسول اللہﷺ کی بھرپور خدمت کی۔ ہجرت کے بعد سب سے پہلی میز بانی حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے حصہ میں آئی۔ آپﷺ نے جتنا عرصہ بھی اُن کے ہا ں قیام فرمایا، آپ کی ضروریات پورا کرنے کا شرف اُنہی کے نصیب میں آیا۔
بنو فزارہ کے ایک آدمی نے آپﷺ کی خدمت میں ایک اونٹنی پیش کی تو آپﷺ نے اُسے قبول کیااور اُسے تحفے میں کچھ دے دیا تو وہ شخص نا راض ہو گیا۔ آپﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ’’ آج کے بعد میںقریش، انصار اور دوس قبیلہ کے علاوہ کسی سے کوئی تحفہ نہیں لوں گا۔‘‘ (الادب المفرد،ص۱۸)
انصار پیشہ کے لحا ظ سے زراعت سے منسلک تھے۔ وہ اپنے کھیتوں(کھجو روں کے باغات) میں سے کسی ایک درخت کو نشان لگا کر آپﷺ کے لیے وقف کردیتے تھے جس کا پھل آپﷺ تک پہنچ جا تا۔ (خطباتِ بہاولپور،ص۱۸)
کبھی کبھا ر تو مہینہ بھر آپ کے گھر میں چولہا نہ چلتا تھا۔ آپ صرف پا نی اور کھجو ر تنا ول فرما تے تھے اور اِس طرح گزارا ہو جاتا(صحیح مسلم:۲۹۷۲) اور اللہ تعا لیٰ کا شکر بجا لاتے۔بعض انصارجو آپ ہمسائے تھے، وہ آپ کی خدمت میں دودھ پیش کیا کرتے تھے۔ لہٰذا قناعت شعار نبیﷺ کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے یہ بھی ایک منا سب ذریعہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ہی سبب بنا یا تھا۔
مالِ غنیمت
چونکہ جہا د فی سبیل ا للہ کا ایک ثمرہ ما لِ غنیمت بھی ہو تاہے۔ اگرچہ پہلی اُمتوں کے لیے مالِ غنیمت حلال نہیںتھا،لیکن اُمت ِ محمدیہ پر اللہ تعا لیٰ کی خاص عنا یت ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے ان کے لئے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا : وأُحلَّتْ لي الغنائم (صحیح بخاری:۳۱۲۲)’’اور میرے لیے غنیمتوں کو حلال کر دیا گیا ہے۔ ‘‘
مالِ غنیمت میںسے رسول اللہﷺ کا حصہ اللہ تعا لیٰ کی طرف سے مقرر تھا جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے :{ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأنَّ ﷲِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِیْ الْقُرْبٰی} (الانفال:۴۱)
’’جان لو کہ جو کچھ تمھیں ما لِ غنیمت سے ملے تو اللہ اور اُس کے رسول کا اُس میں سے پانچواں حصہ ہے۔ ‘‘
مالِ غنیمت میں سے آپﷺ کوپانچواں حصہ بطور ِ مالِ خمس ملتا تھا جو بیت المال کا حصہ ہو تا تھا مگر اس سے آپﷺ کی ضرو ریا ت بھی پوری کی جا تیں تھیں۔
رسول اللہ کے لیے تین وصایا تھے: بنو نظیر،خیبراور باغِ فدک۔(صحیح بخاری: ۴۰۳۳، ۴۲۴۰) اِس میں بنو نظیر کامال آپﷺ کی ذاتی ضروریات، اہل خانہ کا خرچ،مہمانوں کی ضیا فت، اور مجاہدین کے ہتھیاروں اور سواریوں پر خرچ ہو تا تھا اور فدک کی پیداوار محتاج مسافروں اور مساکین وغربا کے لیے مختص تھی اورخیبر کی پیداوار تین حصوں میں تقسیم تھی:دو عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اور ایک حصہ آپﷺ کے اہل وعیال پر خرچ ہو تا تھااور خیبر کی زمین رسولﷺ نے اہل خیبر کو نصف پیداوار لینے کے معاہدہ پر دے رکھی تھی۔
یہ جا ئیداد اور زمین رسول اللہﷺ کی زندگی میں اُن کی آمدن کا حصہ ہی تھی جو بعد میں وصیت کے مطا بق تقسیم نہیں ہو ئی تھی بلکہ بیت المال میں ہی شامل ہو گئی اور اہل بیت کا گذراَوقات بیت المال کے وظیفہ سے ہی ہوتا رہا۔
مالِ فے
مالِ فے ایسے مال کو کہتے ہیںجو دشمن سے لڑائی کئے بغیر حا صل ہو جا ئے اوریہ رسول اللہﷺ کے لیے ہی خا ص تھا۔ اور آپ کو اختیار بھی تھا کہ اس میں سے جس کوچاہیں دیں۔ باغِ فدک جو کہ بنو نضیر کی جلا وطنی کے وقت آپﷺ کو اللہ نے عطا کیاتھا، بطورِ مالِ فئے رسول اللہﷺ کے پاس تھا۔ آپ اس میں سے کچھ حصہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے تھے اور کچھ حصہ غربا اورمساکین میں تقسیم کر دیتے تھے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
بیت المال سے مقرر شدہ حصہ
بیت الما ل میں سے بھی رسول اللہﷺ کا حصہ مقرر تھا اور اِس سے آپ کے اہل و عیا ل پر خرچ کیا جا تا تھا۔آپﷺ نے خیبر کی زمین نصف پیداوار پر مزارعت کے لیے دے رکھی تھی۔(صحیح بخاری:۴۲۴۰،۴۲۴۷)ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی کفالت کا انتظا م یہ تھا کہ بنو نظیر کے نخلستا ن جو آپ کو مال غنیمت میں آپ کے حصہ کے طور پر ملے تھے ،کی پیداوار میں سے اِن قَانتات (صبر کر نے والیوں)کا حصہ مقرر کیا تھا جسے فروخت کرکے ان کی سال بھر کی گذران کا سامان کیا جاتا تھا۔ جب خیبرفتح ہوا تو تمام ازواجِ مطہراتؓکے لیے فی کس ۸۰ وسق کھجو ر اور ۲۰ وسق جَو سالانہ مقرر ہوا تھا۔ یہ طریقۂ کفا لت حضرت ابو بکرؓ کے دورِ خلا فت میں بھی چلتارہا۔ جب حضرت عمرؓ کا زمانۂ خلافت آیا تو بعض ازواجِ مطہرات جن میں حضرت عا ئشہ ؓ بھی شامل تھیں، نے پیدا وار کی بجا ئے زمین لے لی تھی۔
یہودی مخیریقکی جا ئیداد کاتحفہ
مخیریققبیلہ بنو قینقاع کایہودی تھا،امیر ترین آدمی تھا۔ آنحضرتﷺ سے اس کی انتہائی عقیدت تھی۔ اس کے سا ت با غ تھے۔ وہ آپﷺ کی معیت میں غزوئہ اُحد میں شریک ہو ا اُس نے غزوہ میں شرکت کے وقت وصیت فرما ئی تھی کہ اگروہ فوت ہو جائے تو اُس کے با غا ت آپﷺ کی ملکیت ہوںگے ۔ وہ اس غزوہ میں قتل ہو گیا اور اس کے باغا ت کی سا ری آمدنی آپﷺ کے لیے تھی۔ آپﷺ نے ان باغات کو اپنے قبضہ میں رکھا، پھر وقف کر دئیے۔عثمان بن و ثا بؓ سے مروی ہے کہ وہ سا ت با غ یہ تھے:
الأعواف الصافیۃ (الصانقۃ) الدلال المثیب برقۃ حسنی مشربہ اور
اُمّ إبراہیمؓ (یہ نا م اس لیے تھا کہ آپﷺ کے بیٹے حضرت ابرا ہیمؓ کی والدہ ماریہ قبطیہؓ اس با غ میں قیام فرما تھیں)
بعد میں آپﷺ نے وہ با غا ت وقف کر دئیے اور ان کی آمدنی غربا اور مساکین پر خرچ ہو تی تھی۔ (الطبقات الکبرٰی:۱؍۵۰۱)
غیر ملکی با دشا ہوں کے تحائف
جب رسول اللہﷺ نے نجاشی کی طرف اسلام قبول کرنے کے لیے خط لکھا تو اُس نے آپﷺ کے قاصد کا بہت احترام کیا اور قاصد کو رسول اللہﷺ کے لیے کا فی تحفے تحائف دیئے جن میں قیمتی کپڑے بھی شامل تھے اور اُمّ حبیبہ بنت ِابو سفیان کانکاح آپﷺ سے کروایا اور ۴۰۰ دینار حق مہر دیا۔ (تجلیاتِ نبوت:۱؍۲۳۴)
شاہِ مقوقس نے آپﷺ کی خدمت کے لیے ۱۰۰دینار، دو لونڈیاں،مشہور قباطی کپڑوں کے ۲۰جوڑے ، بنہاکا شہد،خوشبو، شیشے کا پیا لہ اور سواری کے لیے ’دلدل‘ نامی بہترین خچر بھیجا۔ (سیرۃ النبی:۳؍۵۱۴)
خیبر فتح ہو ا تو آپﷺ کو تحفے میں ایک بکری دی گئی تھی۔(بخاری:۴۲۴۹)
نبیﷺ صدقہ قبول نہیں کرتے تھے، ہدیہ اور تحفہ بخوشی قبول فرماتے تھے اور اکثر اَوقات تحفہ بھیجنے والے کو اُس سے بہتر تحفہ دیا کرتے تھے۔ مجمو عی طور پر آپ کی آمدن میں ایک مناسب حصہ تحائف کا شامل تھا جس میں مسلمانوں کے تحائف کے علاوہ مدینہ کے غیر مسلموں کی طرف سے ہدایا کے ساتھ ساتھ غیر ملکی حکمرا نوں کے تحائف بھی شامل تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ حا لا ت کی سا ری نزاکتوں اور معا شی اُتار چڑھاؤ کے با وجود آپﷺ نے اپنے دامن کو داغدار ہو نے سے بچا یا اور کبھی کسی کے سامنے دست دراز نہیں کیا ، لیکن ہمارے ہاں اکثر سیرت نگا روں اور واعظین نے سیرتِ نبویﷺ کے تذکرے میں سرورِ دو عالمﷺ کی یتیمی اور غریبی کو اس اندا ز میں پیش کیا ہے کہ خو فنا ک قلا ش شخص کی تصویر سا منے آتی ہے ۔اور آج کا طا لب علم جب مو جودہ دور اور معا شرے کے یتیم، مفلس اور قلا ش شخص کا تصور سا منے لاتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ گو یا کو ئی مظلوم زمانہ، پھٹے پرانے کپڑوں والا اور کمزور جسم وجان والا شخص سا منے آتا ہے۔ حا لانکہ سرورِدو عالمﷺ کا معا ملہ اس سے یکسر مختلف تھا ،آپ نے دولت کی فروانی کے باوجو د بھی غربت اور سا دگی کو پسند کیا اور عاجزی اور انکساری کو اوڑھنا بچھو نا بنا یا ۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دولت آپ ﷺ کے پا س آتی نہیں، دولت تو آپ ﷺ پرنچھاور ہوتی نظر آتی ہے کہ تجا رت کے زما نہ میں لوگ اپنا مال دھڑا دھڑ آپ کے قدموں پر نچھاور کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑا تجارتی منا فع آپ کو حاصل ہوتا نظر آتا ہے، لیکن آپﷺ نے اپنی سارا مال فلاحِ انسا نیت اور خدمتِ دین کے لیے وقف کردیا۔
بحیثیت ِمجمو عی آپﷺ کی زند گی کا معاشی پہلو فقرو فا قہ کی زینت سے ہی خو شنما نظر آتا ہے اورکرتے بھی کیا؟آپﷺ کو تو قاسم بناکر بھیجا گیا تھا اورقاسم بھی ایساکر یم کہ اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھا اور سارے کا سارا فقراء اور محتاجوںکو با نٹ دیا۔سادہ لباس میں ملبوس، حالانکہ قیمتی لباس بھی زیب تن کر سکتے تھے مگر سا دہ لبا س کے بھی کئی کئی جوڑے نہیں ہوا کر تے تھے بلکہلا یُطوٰی لہ ثوب کبھی آپ کا کوئی کپڑاتہ کر کے نہ رکھا گیا تھا۔
گھر میںاکثر فا قہ رہتاتھا۔ رات کے وقت تواکثر اوقات سارا گھرانہ نبو ی بھوک اوڑھ کرسوتا۔رسو ل کریمﷺ کے کاشانۂ مبارک میں کئی راتیںمتواتر ایسی گزر جاتیںکہ آپﷺ اور آپ کے گھر والو ں کوکھانا نصیب نہ ہوتا۔مسلسل دو دو مہینے تک آگ کو یہ سعادت حا صل نہ ہو ئی کہ وہ آپﷺ کے گھر میں جلے۔ (صحیح مسلم:۲۹۷۲)
سرورِ دوعالم کی تجا رتی زندگی سے یہ با ت اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ آپﷺ کے زما نہ میں ناجائزذرائع آمد ن کے بے شمار مواقع میسر تھے۔یعنی عربوں میں شراب فروشی،جوا کی کمائی، قافلوں کی لوٹ کھسوٹ کی کما ئی، سود کی منا فع خوری، سٹہ بازی جیسے قبیح ذرائع معاش فخروغرور کی نحوست کے ساتھ موجود تھے،لیکن خلقِ عظیم کے ما لک شخص محمد رسول اللہ ؐنے ہر طرح کے ناجائز طریقوں سے اپنے دامن کو محفوظ رکھا اور کسب ِ حلا ل کو اختیا ر کیا۔ قرآنِ مجید زندگی کے اس پہلو کو اس انداز میں پیش کرتا ہے:
{ لَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِہِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ}(یونس:۱۶) ’’میں اس سے قبل بھی تمہارے ساتھ ایک عرصہ گذار چکا ہوں، کیا تم عقل نہیں رکھتیـ۔‘‘
رسول کریمﷺ کی سیرت مطہرہ کے چند نقوش
رسولِ کریمﷺ کی معا شی زندگی کے با ب سے چند نقوش خلا صہ کے طور پر پیش خد مت ہیں جو اُمت کی رہنما ئی میں زرّیں اُصول کا درجہ رکھتے ہیں :
مسلما ن کو انتھک محنتی اورجفا کش ہو ناچاہیے نہ کہ سست اور کا ہل،کیو نکہ رسول ﷺ نے ہمیشہ سستی سے پنا ہ ما نگی ہے۔(صحیح بخاری:۶۳۶۹)
اس عا رضی جہانِ ر نگ وبو میں ہر انسان کو زندگی کے سا نس جینے کے لیے اپنی مدد آپ کے اُصول کے تحت کوئی نہ کوئی پیشہ وروزگار اختیار کرنا چا ہیے، تاکہ دوسروں کے سا منے دست دراز کرنے کی بجا ئے کمزوروں کی دستگیری کی جائے ۔
ہر انسان کو اپنی حیثیت،استعداد اور وسائل کو بھرپور بروئے کار لا ناچا ہیے تاکہ انسانی معاشرہ سے کم ہمتی کا خاتمہ ہو، جواں جذبے پروان چڑھیں اور اجتما عی استعدادِ کار میں اضافہ ہو۔{وَاَنْ لَّیْسَ لِلأِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی}(النجم:۳۹)’’ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اُس نے کو شش کی۔ ‘‘ لہٰذامجموعی محنت زیادہ ہوگی توثمرات بھی بے پناہ ہوںگے اور غربت وافلا س کی جگہ ترقی و خوشحا لی کا دور دورہ ہو گا۔
فرزندانِ اسلام کو ذریعۂ معاش اختیا ر کرتے ہو ئے جاہلی معا شی تقسیم کو آڑ نہیں بناناچاہیے یعنی پیشوں کی اونچ نیچ میں نہیں پڑنا چاہئے بلکہ اُسوئہ رسول کو معیار سمجھنا چا ہیے (کہیں غلہ بانی ہے اور کہیں تجا رت کی نگرانی) پیشوں کی طبقاتی تقسیم ہر دور میں جاہلی معاشروں کی شناخت و امتیاز رہی ہے، جیسا کہ مشرکین مکہ بھی کہتے تھے:
{قَالُوْا اَنُؤمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الاَرْذَلُوْنَé قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَé إنْ حِسَابُھُمْ اِلَّا عَلٰی رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَé وَمَا اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤمِنِیْنَ}(الشعرائ:۱۱۱۔۱۱۴)’’کافروں نے کہا :کیا ہم ایمان لا ئیں تجھ پر اور تیری پیروی کی ہے رذیل لوگوں نے۔آپﷺ نے فرما یا : میں کیا جا نوں کہ ان کا پیشہ کیا ہے، اِس کا حساب تو میرے رب پر ہے اگر تم سمجھو، اور میں ایما ن والوں کو نکا ل دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘
یہی معا شی طبقاتی تقسیم ہندو معا شرے میں عروج پر ہے جب کہ اسلام میں تو الکاسب حبیبُ اﷲ کی تعلیم و تربیت دی گئی ہے۔ لہٰذا فا رغ رہ کر وقت اور صلا حیتوں کو ضا ئع کرنے کی بجائے کسی بھی صورت میدانِ عمل میں اُترنا چا ہیے۔
انسان ذاتی مفا د کے سا تھ ساتھ اجتما عی مفا د کو بھی مدنظر رکھے اور دوسرے لو گوں کو بھی زیادہ سے زیا دہ فائدہ پہنچانے کی سعی کرے تا کہ انسانی معاشرے میں ہمدردی، غمگساری اورباہمی تعاون کی رِیت بتدریج ترقی پائے:{وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبَرِّ وَالتَّقْوی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی ٰالاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ}(المائدۃ:۲)’’اور نیکی اورپرہیزگا ری کے لیے تعاون کرو، زیادتی اور سرکشی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘
مال کی فروانی کے با وجود بھی ذاتی ضروریات پر انتہائی مناسب خرچ کرنا چا ہیے۔ اور ضرورت سے زائد اَموال کو مفاداتِ عامہ ، فلاحِ انسا نیت، اور فی سبیل اللہ کی مَدمیں خرچ کر نا چا ہیے: {یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ}(البقرۃ:۲۱۹) ’’ آپ سے سول کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو کہہ دیجیے کہ زائد اموالـ۔ ‘‘
رزقِ حلال کما نا بہت بڑی نیکی ہے اور اِس نیکی کو اسلام کی معا شی ہدایات کے مطا بق بجا لا ناچاہیے۔اپنی تجا رتی اور دفتری زندگی کو صدق واما نت اور عہدو وَفاجیسے اَوصافِ حمیدہ سے مزین کرنا چا ہیے۔
حلال و حرام کا مسئلہ ہمیشہ مد نظر رکھنا چا ہیے،کیو نکہ یہ اسلا می معیشت میں ایک سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اپنا پیٹ پالنے کے لیے کسی دوسرے کا نوالہ چھیننے کی کوئی تدبیرو عمل ہماری معا شی جدوجہد کا حصہ نہیں ہو ناچاہیے۔
ساری معا شی جدوجہد برو ئے کارلا کر بھی توکل خالق ومالک پر کرنا چا ہیے،کیو نکہ{ اِنَّ اﷲَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُوْا الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنِ }(الذاریات:۵۸)’’ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔‘‘
{ وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا عَلَی اﷲِ رِزْقُہَا}(ہود:۶) ’’زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔‘‘
اور{ وَفِیْ السَّمَاء رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ}(الذاریات:۲۲)’’اور تمھاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے۔‘‘
Advertisements
2 comments
  1. Mahboob said:

    JazaqAllah

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: