چنداہم جھوٹے مذاہب

مشبہ
یہ وہ فرقہ ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کو مخلوق کے ساتھ صفات میں تشبیہ دیتا ہے اس فرقے کا بانی داود جواربی تھا یہ مذہب مذہب نصاریٰ کے برعکس ہے کہ وہ مخلوق یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خالق کے ساتھ ملاتے ہیں اور انہیں بھی الٰہ قرار دیتے ہیں اور یہ خالق کو مخلوق کے ساتھ ملاتے ہیں اس مذہب کے باطل اور گمراہ ہونے میں کیا شک ہوسکتاہے۔
جہمیہ
جہم بن صفوان سمرقندی کی طرف منسوب فرقے کا نام جہمیہ ہے اس فرقے کے عجیب وغریب عقائد ہیں یہ لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تمام صفات کی نفی کرتےہیں ان کا کہنا ہے کہ اللہ وجود مطلق کا نام ہے پھر اس کے لئے جسم بھی مانتے ہیں جنت اور جہنم کے فناہونے کے قائل ہیں ان کے نزدیک ایمان صرف معرفت کا نام ہے اور کفر فقط جہل کا نام ہے یہ اللہ تعالیٰ کے لئے جسم کے قائل ہیں ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کاکوئی فعل نہیں ہے اگر کسی کی طرف کوئی فعل منسوب ہوتا ہے تو وہ مجازاً ہے۔ جہم بن صفوان جعد بن درہم کا شاگرد تھا جعد وغیرہ کا مذہب یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ نہیں ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نہیں ہیں خالد بن عبد اللہ القسری نے واسط شہر میں عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کی موجودگی میں جعد کی قربانی کی اور اسے ذبح کردیا معتزلہ نے بھی کچھ عقائد ان سے لئے ہیں۔
مرجئہ
یہ فرقہ اعمال کی ضرورت کا قائل نہیں ارجاء کا معنی ہوتا ہے پیچھے کرنا یہ اعمال کی حیثیت کو بالکل پیچھے کر دیتے ہیں ان کے نزدیک ایمان صرف تصدیق کا نام ہے تصدیق قلبی حاصل ہو تو بس کافی ہے ان کا کہنا ہے کہ جیسے کفر کے ہوتے ہوئے کوئی نیکی مفید نہیں ایسے ہی ایمان یعنی تصدیق کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ مضر نہیں جس طرح ایک کافر عمر بھر حسنات کرتے رہنے سے ایک لمحہ کے لئے بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا جنت اس پر حرام ہے اسی طرح گناہوں میں غرق ہونے والا مومن ایک لمحہ کے لئے بھی جہنم میں نہیں جائے گا جہنم اس پر حرام ہے یہ مذہب بھی باطل اور سراسر گمراہی ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں مسلمانوں کو اعمال صالحہ کرنے کا اور اعمال سیئہ سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔
جبریہ
یہ فرقہ بھی جہم بن صفوان کی طرف منسوب ہے یہ فرقہ بندہ کو جمادات کی طرح مجبور محض مانتاہے ان کا عقیدہ ہے کہ بندہ کو اپنے افعال پر کوئی قدرت واختیار نہیں بلکہ اس کا ہر عمل محض اللہ تبارک وتعالیٰ کی تقدیر علم ارادے اور قدرت سے ہوتا ہے جس میں بندے کا اپنا کوئی دخل نہیں۔ یہ مذہب صریح البطلان ہے نقل وعقل اور مشاہدے کے خلاف ہے اگر انسان کے پاس کوئی اختیار نہیں اور یہ مجبور محض ہے تو پھر اس کے لئے جزاء وسزا کیوں ہے؟
قدریہ
یہ جبریہ کے برعکس نظریات کا حامل فرقہ ہے یہ انسان کو قادر مطلق مانتا ہے اور تقدیر کا منکر ہے احادیث میں قدریہ کو اس امت کا مجوس کہا گیا ہے مجوس دو خداؤں کے قائل ہیں اور یہ ہرایک کو قادر مطلق کہہ کر بے شمار خداؤں کے قائل ہیں یہ مذہب بھی باطل اور قرآن وحدیث کی صریح نصوص کے خلاف ہے قرآن وسنت اور عقل ومشاہدہ سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ انسان نہ تو مجبور محض ہے اور نہ ہی قادر مطلق ہے بلکہ کاسب ہے اور کسب کا اختیار اپنے اندر رکھتا ہے۔
کرامیہ
یہ فرقہ محمد بن کرام کی طرف منسوب ہے اس فرقے کا نام کرامیہ (بفتح الکاف وتشدید الراء) یا کرامیہ (بکسر الکاف مع تخفیف الراء) ہے۔ یہ شخص سجستان کا رہنے والا تھا صفات باری تعالیٰ کا منکر تھا ان کا عقیدہ ہے کہ ایمان صرف اقرار باللسان کا نام ہے لیکن محققین کی رائے کے مطابق ان کا یہ مذہب دنیوی احکام کے اعتبار سے ہے آخرت میں ایمان معتبر ہونے کے لئے ان کے ہاں بھی تصدیق ضروری ہے بہرحال مجموعی اعتبار سے یہ بھی غلط اور گمراہ فرقہ ہے ان کے مذہب
میں مسافر پر نماز فرض نہیں مسافر کے لئے قصر صلاة کی بجائے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ لینا کافی ہے۔
اہل تناسخ

تناسخ درحقیقت بعض قدیم اقوام اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے جو بعث بعد الموت کے منکر ہیں اور تناسخ کے قائل ہیں۔ تناسخ کا معنی ہے روحوں کی تبدیلی اور ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہونا اہل تناسخ آخرت کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ بندے کو اچھے اور برے اعمال کی جزاء وسزا دنیا ہی میں مل جاتی ہے وہ اس طرح کہ نیک لوگوں کی روح اعلیٰ تر جسم میں منتقل ہوکر عزت پاتی ہے اور برے لوگوں کی روح کمتر جسم میں منتقل ہو کر ذلیل وخوار ہوتی ہے یہی نیک وبدکی جزا وسزا ہے اہل تناسخ کے بہت سے فرقے ہیں بعض فرقے مدعئی اسلام بھی ہیں ان کا مقتدیٰ احمد بن حابط اور اس کا شاگرد احمد بن نانوس ہے ان کا ایک فرقہ دہریہ ہے جو دنیا
کے عدم فناء کا قائل ہے بعض فرقے روحوں کے دوسری اجناس میں انتقال کے بھی قائل ہیں کہ انسانی روح جانوروں میں بھی منتقل ہوجاتی ہے بعض اس کے قائل نہیں ہیں وہ صرف جنس میں انتقال روح کے قائل ہیں۔

Advertisements
4 comments
  1. ہندو تو بھارت کے باسی ہیں اور اب دنیا میں پھیل چکے ہیں ۔ باقی فرقے آجکل دنیا میں کہاں کہاں پائے جاتے ہیں ؟ اگر معلوم ہو جائے تو بڑی نوازش ہو گی

    • یہ فرقہ اب معدوم ہو چکے ہیں
      پر خوارج جیسے اب بھی رائج ہیں
      ہاں نام تبدیل کر چکے ہیں کہ تاریخ میں ان کا نام آچکا ہے

  2. Are these sects? Or religions?
    How many followers have each of these got, as you mentioned them as "important”?
    I am sorry but what is the point of this post, after all?

    • Ahmed Mansoor said:

      Generally nothing, no point just copied from some old books.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: