حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کی شخصیت دیگر مذاہب کی روشنی میں-1

سب سے پہلے خالق کائنات کی حمد و ثنا کہ جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم سے انسان کو عظیم الشان مرتبہ بخشا اور اسے اس کائنات میں ارادہ و اختیار اور تصرف کی قوتیں دے کر خلیفہ کی حیثیت دی۔کائنات کی ساری قوتوں کو انسان کے آگے سرتسلیم خم کرنے کا حکم دیا۔صرف شیطان نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسان کی اس حیثیت کو چیلنج کر دیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ انسان کو اللہ کا نافرمان بنا دے گا اور اللہ کے اس پروگرام میں رکاوٹ ڈالے گا۔چنانچہ اللہ نے انسان کو ہمیشہ شیطان کے حملوں سے بچنے اور اپنا مطیع و فرمانبردار رہنے کا حکم دیا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:
قُلْنَا اهْبِطُواْ مِنْهَا جَمِيعاً فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ ان پر کوئی خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے(2:38)
اللہ نے جہاں انسان کو عزت و تکریم کی مسند پر متمکن کیا ، وہیں کائنات میں اس کے مقام کے پیش نظر بہت سی ذمہ داریاں بھی عاید کر دیں ۔یہ مقام تقاضا کرتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے پروگرام کی تکمیل میں معاونت کرے اور اس حاکم اعلیٰ کے قانون کو نافذکرنے کے لیے ہمہ تن مصروف رہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمّد ﷺ تک ہر علاقے اور ہر زمانے میں ، انسانوں کی راہ نمائی کے لیے اپنے انبیاء بھیجے ۔ان عظیم المرتبت ہستیوں نے انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچایا اور انھیں شیطان کی پھیلائی ہوئی بدنظمیوں ، بدکرداریوں اور نافرمانیوں سے بچاکر اللہ کا مطیع وفرمانبردا ربنانے کی کوشش کی۔جب تک انسانیت عالم بلوغ تک نہیں پہنچی اللہ تعالیٰ ، اپنے انبیاء کے ذریعے سے ، ایک بچے کی مانند انگلی پکڑ پکڑ کر اس کی راہ نمائی کرتے رہے ۔جب دنیا ذہنی و مادی ترقی کے ایک خاص مقام پر پہنچ گئی تو اللہ نے حضرت محمّد ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا اور آسمانی ہدایت کی تکمیل کر کے انبیاء و رسل کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔اللہ نے ہر نبی کو نبی آخر الزمان کی حقیقت سے آگاہ کیا اور تمام آسمانی کتب میں واضح طور پر آپ ﷺ کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ان انبیاء نے اپنے مخاطبین کو حضور ﷺ کا زمانہ پانے کی صورت میں آپ پر ایمان لانے کی ہدایت دی۔
اسلام سے پہلے کے تمام مذاہب کی تعلیمات ، چونکہ ایک خاص دور، خاص علاقے اور خاص قوموں تک محدود ہوتی تھیں ،اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پرنازل کی جانے والی کتابوں اور صحائف کی حفاظت کا خصوصی اہتمام نہیں کیا۔ آخری ، مکمل اور ہمیشہ رہنے والے مذہب کے باعث اسلام کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ اللہ نے اس کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ دیگر مذاہب کی کتب میں وقت کے ساتھ ساتھ اور ان کے پیروکاروں کی خواہشات نفس کے باعث بے شمار تبدیلیاں ہوتی رہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے ذریعے بعض ایسی نشانیاں ان میں بھی باقی رہنے دیں جو حضرت محمّد ﷺ کی رسالت کے بارے میں تھیں ۔ چنانچہ ہم نے اس مقالے میں دیگرمذاہب کی مقدس کتب میں ملنے والی ان نشانیوں اور پیش گوئیوں کا ذکر کیا ہے ، جن کا تعلق نبی آخرالزمان سے جوڑ ا جا سکتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے ان مذاہب کے پیروکاروں کی تحریف سے محفوظ رکھی ہیں ۔ہم نے دور حاضر کے چار اہم مذاہب، یہودیت،نصرانیت، ہندوازم، سکھ مذہب اور بدھ مت کی کتب میں مذکوران مقامات کا جائزہ لیا ہے ، جن کا تعلق حضور ﷺ سے جوڑا جا سکتا ہے ۔
دعاءِ خلیل
اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان پیغمبر او ر اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی مثال آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے مختلف باتوں میں آزمایا اور انھوں نے تسلیم ورضا اور اطاعت و فرمانبرداری کے ہر امتحان میں کامیابی حاصل کی تو اللہ نے ان کو اپنا خلیل قرار دیا اور خلیل کے ہر عمل کی تقلید قیامت تک کے انسانوں پر فرض کر دی۔چنانچہ خلیل اللہ اور ذبیح اللہ نے کعبہ کی تعمیر کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس کی قبولیت کا عندیہ بھی اللہ تعالیٰ نے دے دیا۔ انھوں نے فرمایا:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُاے ہمارے رب ! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (ﷺ ) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے(2:219)
تورات میں حضرت محمّد ﷺ کا ذکر
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کا نام یہود ہے ۔ان کی مذہبی کتاب، جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے وہ تورات یا عہد نامہ قدیم ہے ۔ موجودہ عبرانی تورات 39 کتابوں پر مشتمل ہے ۔ ان میں سے 5 کتب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر مشتمل ہیں ۔ یہ پیدائش ، خروج ، احبار، گنتی اور استثنا ء ہیں ۔ باقی چونتیس کتب بھی مختلف انبیاء اور شخصیات سے منسوب ہیں ۔ تورات کا یونانی نسخہ مزید سات کتب کے اضافے کے ساتھ چھیالیس کتابوں پر مشتمل ہے ۔ تورات میں متعدد مقامات پر نہایت واضح الفاظ میں ایک آنے والے نبی کا ذکر موجود ہے:
میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور وہ انھیں وہ سب کچھ بتائے گا جس کا میں اسے حکم دوں گا۔اگر کوئی شخص میرا کلام جسے وہ میرے نام سے کہے گا، نہ سنے گا تو میں خود اس سے حساب لوں گا۔
عیسائی علما اس آیت کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیتے ہیں ۔ لیکن جب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے آپ کسی طرح بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند نہیں تھے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام عام انسانوں کی طرح پیدا ہوئے ۔انہوں نے شادی کی۔ان کی وفات عام طریقے سے ہوئی ۔ان کو کتاب اور شریعت دی گئی۔ہجرت کے مرحلے سے گزر کر ان کی قوم کو اقتدار حاصل ہوا ۔ انھوں نے عملی طور پر اللہ کے احکا م کو نافذ کیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالیں تو وہ اپنی پیدائش، عملی زندگی ، دعوت ، وفات وغیرہ کے لحاظ سے کسی طرح بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل نہیں تھے بلکہ ان سے مکمل طور پر مختلف تھے ۔صرف حضرت محمّد ﷺ ہی پیدایش، شادی، اولاد، وفات اورشریعت ، ہر طرح سے ان کے مماثل تھے ۔
یہود کو نبی کریم ﷺ سے حسد اور مسلمانوں کے دشمنی کی وجہ یہی چیز تھی۔ وہ اپنی کتابوں اور انبیاء بنی اسرائیل کی پیش گوئیوں کی روشنی میں ایک آنے والے نبی کے انتظار میں تھے ۔ ان کو اس حد تک نبی کی آمد اور آمد کے مقام کا اندازہ تھا کہ انھوں نے مدینہ کو اپنا مرکز بنا لیا تھا اور عربوں کو اکثر یہ بات جتاتے تھے کہ ہمار ا نبی آنے والا ہے اور ہم اس کے ساتھ مل کر عرب پر غلبہ حاصل کر لیں گے ۔وہ نبی ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کو اچھی طرح سے پہچانتے تھے ۔
قرآن مجید نے اس بات کو اس طرح سے بیان کیا ہے:
وَكَانُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِحالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزمان حضرت محمّد ﷺ اور ان پر اترنے والی کتاب قرآن کے وسیلے سے) کافروں پر فتح یابی (کی دعا) مانگتے تھے، سو جب ان کے پاس وہی نبی (حضرت محمّد ﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے ساتھ) تشریف لے آیا جسے وہ (پہلے ہی سے) پہچانتے تھے تو اسی کے منکر ہو گئے(2:89)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہودی اور عیسائی اپنی کتابوں میں بیان کردہ نشانیوں کی وجہ سے حضرت محمّد ﷺ کو پورے یقین کے ساتھ بطور نبی جانتے اور پہچانتے تھے ۔انھیں اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کیفیت کو نہایت بہتریں مثال کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔
ارشاد ہے:الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقاً مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَاور جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے وہ اس رسول (آخر الزماں حضرت محمّد ﷺ اور ان کی شان و عظمت) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ بلاشبہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور یقیناً انہی میں سے ایک طبقہ حق کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے(2:146)
عہد نامہ قدیم میں حضرت داؤد سے منسوب کتاب زبورکی ایک نص سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت محمّد ﷺ اللہ کے سچے نبی تھے ۔ کیونکہ اگر آپ سچے نبی نہ ہوتے تو اس تحریر کے مطابق آپ ﷺ بھی دوسرے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی طرح ناکامی سے دوچار ہوتے اور اللہ کی طرف سے سزا کے حق دار ٹھہرتے ۔
زبور میں لکھا ہے:
کیونکہ شریروں کی قوت توڑ دی جائے گی، لیکن خداوند راست بازوں کو سنبھالتا ہے ۔خداوند کامل لوگوں کے ایام کو جانتا ہے ، ان کی میراث ہمیشہ قائم رہے گی۔وہ آفت کے وقت مرجھائیں گے نہیں ، وہ قحط کے دنوں میں بھی آسودہ رہیں گے ۔لیکن شریر نیست و نابود ہوجائیں گے ۔خداوند کے دشمن کھیتوں کی شادابی کی مانند ہوں گے ، وہ دفعتا غائب ہو جائیں گے ، جیسے دھواں غائب ہو جاتا ہے ۔
کتاب استثنا میں ایک جگہ واضح طو رپر انبیاء کے آنے کے مقامات کا ذکرکرنے کے بعدکسی نبی کے کوہ فاران سے آنے کے بارے میں لکھا ہے ، جو کہ ہر لحاظ سے حضرت محمّد ﷺ پر پورا اترتا ہے۔
اس نے کہا خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر ظاہر ہوا: اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا۔وہ جنوب سے اپنی پہاڑ ی ڈھلانوں میں سے لاتعداد مقدسوں کے ساتھ آیا۔
سابقہ تمام مذاہب کی کتابوں میں تاریخ میں وقوع پزیر ہونے والے معمولی واقعات کی پیش گوئیاں بھی موجود ہیں اور وہ نہایت واضح الفاظ میں نام و مقامات کی تعیین کے ساتھ موجود ہیں ۔حضرت محمّد ﷺ کی بعثت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ۔ آپ ﷺ کی آمد نے تاریخ کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ کروڑ وں لوگوں نے آپ کے پیغام پر لبیک کہا اور دنیا کے بہت بڑ ے حصے پر آپ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی حکومت قائم ہوئی۔یہ کیسے ممکن ہے کہ اس عظیم الشان واقعے کا ذکر سابقہ انبیاء نے نہ کیا ہو۔صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کتب میں بیان کردہ ایسی پیش گوئیوں کو عمدا غائب کیا گیا ہے ۔
کتاب پیدایش میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں ہے: اور اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری دعا سنی۔میں یقینا اسے برکت دوں گا۔میں اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا۔اس سے بار ہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑ ی قوم بناؤں گا۔عربی زبان کے بعض پرانے تراجم میں ان الفاظ کا اضافہ بھی موجود ہےاور اسے برومند کروں گا اور ماد ماد کے ذریعے اسے بڑ ا بناؤں گا۔

قاضی عیاض نے مادماد کوعبرانی زبان میں نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام کے طورپر ذکر کیا ہے ۔

جاری ہے……

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: