اصحاب كہف-6

اصحاب كہف كى نیند
قرآن میں موجودہ قرائن سے اجمالاً معلوم ہوتا ہے كہ اصحاب كہف كى نیند بہت لمبى تھی۔یہ بات ہر شخص كى حس جستجو كو ابھارتى ہے۔ ہر شخص جاننا چاہتا ہے كہ وہ كتنے برس سوئے رہے۔قرآن اس داستان كے متعلق تردد كو ختم كرتے ہوئے آخر میں اس سوال كا جوا ب دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ اپنى میں تین سو سے نو برس زیادہ سوتے رہے ۔( سورہ كہف آیت 25)
اس لحاظ سے وہ كل تین سو نو سال میں سوئے رہے۔ بعض لوگوں كا خیال ہے كہ تین سو نو سال كہنے كى بجائے یہ جو كہا300/سال ،نوسال اس سے زیادہ،یہ شمسى اور قمرى سالوں كے فرق كى طرف اشارہ ہے كیونكہ شمسى حساب سے وہ تین سو سال رہے جو قمرى حساب سے تین سو نو سال ہوئے اور یہ تعبیر كاا یك لطیف پہلو ہے كہ ایك جزوى تعبیر كے ذریعے عبارت میں ایك اور وضاحت طلب حقیقت بیان كردى جائے۔ اس كے بعد اس بارے میں لوگوں كے اختلاف آراء كو ختم كرنے كے لئے فرمایا گیا ہے: كہہ دیجئے:خدا ان كے قیام كى مدت كو بہتر جانتا ہے۔ كیونكہ آسمانو ں اور زمین كے غیب كے احوال اس كے سامنے ہیں ۔( سورہ كہف آیت 26)اور وہ ہر كسى كى نسبت انہیں زیادہ جانتا ہے۔اور جو كل كائنات ہستى سے باخبر ہے كیونكر ممكن ہے كہ وہ اصحاب كہف كے میں قیام كى مدت سے آگاہ نہ ہو۔
غار كہاں ہے؟
یہ كہ اصحاب كہف كس علاقے میں رہتے تھے اور یہ غار كہاں تھی؟اس سلسلے میں علماء اور مفسرین كے درمیان بہت اختلاف ہے،البتہ اس واقعے كے مقام كو صحیح طور پر جاننے كا اصل داستان،اس كے تربیتى پہلوئوں اور تاریخى اہمیت پر كوئی خاص اثر نہیں پڑتا، یہ كوئی واحد واقعہ نہیں كہ جس كى اصل داستان تو ہمیں معلوم ہے لیكن اس كى زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں ، لیكن مسلم ہے كہ اس واقعے كا مقام جاننے سے اس كى خصوصیات كو مزید سمجھنے كے لئے مفید ہوسكتا ہے۔بہر حال اس سلسلے میں جو احتمالات ذكر كیے گئے اور جو اقوال نظرسے گزرے ہیں ان میں سے دو زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں ۔
پہلا یہ كہ یہ واقعہ شہر افسوس میں ہوا اور یہ اس شہر كے قریب واقع تھی۔تركى میں اب بھى اس شہر كے كھنڈرات ازمیر كے قریب نظر آتے ہیں ۔ وہاں قریب ایك قصبہ ہے جس كا نام ایاصولوك ہے اس كے پاس ایك پہاڑ ہے ینایرداغ ۔ اب بھى اس میں ایك نظر آتى ہے جو افسوس شہر سے كوئی زیادہ فاصلہ پر نہیں ہے،یہ ایك وسیع ہے،كہتے ہیں اس میں سینكڑوں قبروں كے آثار نظر آتے ہیں ، بہت سے لوگوں كا خیال ہے كہ اصحاب كہف كى یہى ہے۔
جیساكہ جاننے والوں نے بیان كیا ہے كہ اس كا شمال مشرق كى جانب ہے۔اس وجہ سے بعض بزرگ مفسرین نے اس بارے میں شك كیا ہے كہ یہ وہى غارہے، حالانكہ اس كى یہى كیفیت اس كے اصلى ہونے كى مو ید ہے كیونكہ طلوع كے وقت سورج كا دائیں طرف اور غروب كے وقت بائیں طرف ہونے كا مفہوم یہ ہے كہ كا دہانہ شمال یا كچھ شمال مشرق كى جانب ہو۔ اس وقت وہاں كسى مسجد یا عبادت خانہ كا نہ ہونابھى ا سكے وہى ہونے كى نفى نہیں كرتا كیونكہ تقریباًسترہ صدیاں گزرنے كے بعد ممكن ہے اس كے آثار مٹ گئے ہوں ۔
دوسرا قول یہ ہے كہ یہ وہ ہے كہ جو اردن كے دارالحكومت عمان میں واقع ہے۔یہ رجیب نامى ایك بستى كے قریب ہے اس كے اوپر گرجے كے آثار نظر آتے ہیں ۔بعض قرائن كے مطابق ان كا تعلق پانچویں صدى عیسوى سے ہے ۔جب اس علاقے پر مسلمانو ں كا غلبہ ہوا تو اسے مسجد میں تبدیل كرلیا گیا تھا اور وہاں محراب بنائی گئی تھى اور اذان كى جگہ كا اضافہ كیا گیا تھا۔یہ دونوں اس وقت موجود ہیں ۔
اصحاب كہف كا واقعہ دیگر تواریخ میں
یہ بات مسلم ہے كہ اصحاب كہف كا واقعہ كسى گزشتہ آسمانى كتاب میں نہیں تھا(چاہے وہ اصلى ہو یا موجودہ تحریف شدہ)اور نہ اسے كتابوں میں ہونا ہى چاہیئےھا كیونكہ تاریخ كے مطابق یہ واقعہ ظہور مسیح علیہ السلام كے صدیوں بعد كا ہے۔ یہ واقعہ دكیوس كے دور كا ہے،جسے عرب دقیانوس كہتے ہیں ۔ اس كے زمانے میں عیسائیوں پر سخت ظلم ہوتا تھا۔
یورپى مو رخین كے مطابق یہ واقعہ49 تا 152عیسوى كے درمیان كا ہے۔ان مو رخین كے خیال میں اصحاب كہف كى نیند كى مدت 157سال ہے۔یورپى مو رخین انہیں افسوس كے 7 سونے والے كہتے ہیں ۔ جبكہ ہمارے ہاں انہیں اصحاب كہف كہا جاتا ہے۔اب دیكھتے ہیں كہ افسوس شہر كہاں ہے؟سب سے پہلے كن علماء نے ان سونے والوں كے بارے میں كتاب لكھى اور وہ كس صدى كے تھے؟ افسوس یا اُفسُس ایشیائے كوچك كا ایك شہر تھا (موجودہ تركى جو قدیم مشرقى روم كا ایك حصہ تھا)یہ دریائے كاستر كے پاس ازمیر شہر كے تقریباًچالیس میل جنوب مشرق میں واقع تھا۔یہ الونی بادشاہ كا پایہ تخت شمار ہوتا تھا۔
افسوس اپنے مشہور بت خانے اور طامیس كى وجہ سے بھى عالمى شہرت ركھتا تھا۔یہ دنیا كے سات عجائبات میں سے تھا۔ كہتے ہیں كہ اصحاب كہف كى داستان پہلى مرتبہ پانچویں صدى عیسوى میں ایك عیسائی عالم نے لكھی۔اس كا نام اك تھا۔وہ شام كے ایك گرجے كا متولى تھا۔ اس نے سریانى زبان كے ایك رسالے میں اس كے بارے میں لكھا تھا۔اس كے بعد ایك اور شخص نے اس كاانگریزى زبان میں ترجمہ كیا۔اس كا نام گوگویوس تھا ترجمے كا نام اس نے جلال شہداء كا ہم معنى ركھا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ ظہور اسلام سے ایك دوصدیاں پہلے یہ واقعہ عیسائیوں میں مشہور تھا اور گرجوں كى مجالس میں اس كا تذكرہ ہوتا تھا۔البتہ جیسا كہ اشارہ كیا گیا ہے،اسلامى مصادر میں اس كى جو تفصیلات آئی ہیں وہ مذكورہ عیسائیوں كے بیانات سے كچھ مختلف ہیں ۔جیسے ان كے سونے كى مدت كیونكہ قرآن نے صراحت كے ساتھ یہ مدت 309سال بیان كى ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: