پردہ

ام المومنین ام سلمہ ؓسے روایت ہے کہ وہ اور میمونہ ؓآنحضور کی خدمت میں موجود تھیں اسی وقت ابن ام مکتوم ؓپہنچ گئے۔ آپ نے فرمایا ان سے پردہ کر لو! میں نے کہا یہ نابینا نہیں ہیں؟ یہ تو ہمیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔ آپ نے فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ہو؟ (ترمذی بحوالہ ابو داؤد جلد ۳ ص ۲۸۳)
یایہا النبی قل لا زواجل وبنتک ونساء المومنین یدنین علیہن من جلابیبہن ذلک ادنی ان یعرفن فلا ےؤذین وکان اللہ غفورا رحیما اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور تمام مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیجئے کہ وہ اپنے چہروں اور اپنی چادروں کے گھونگھٹ کر لیا کریں جس سے پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے(الاحزاب:۵۹)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام سے باہر نکلیں تو چادر اوڑھتی ہیں اسے سر پر جھکا کر منہ ڈھانپ لیا کریں صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ (تفسیر ابن کثر جلد ۴ ص ۲۷۸)
اور محمد بن سیر ین ؒ کے سوال پر حضرت عبیدہ سلمانی ؒ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتایا کہ یہ مطلب ہے اس آیت کاحضرت ام سلمہ ؓسے
روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔تو انصار کی عورتیں اس طرح نکلتی تھیں جیسے ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہیں۔ یعنی دو سیاہ کپڑے سروں پر ڈالتی تھیں۔ (ابو داؤد جلد
۳ ص ۲۷۹)
اور ام سلمہ ؓہی سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں۔ جب مردوں کا قافلہ ہمارے پاس سے گزرتا تو ہم عورتیں اپنے چہروں کے اوپر کپڑے ڈال لیا کرتی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ احرام کی حالت میں بے نقاب ہوتے
مگر جب مرد ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم گھونگھٹ سے اپنے چہروں کو چھپا لیا کرتی تھیں۔ جب وہ چلے جاتے تو ہم پھر اپنے چہروں کو کھول لیا کرتی تھیں
۰ (ابو داؤد، جلد ۲ ص ۵۰)
حضرت ام خلاد ؓاپنے شہید لڑکے کی خبر دریافت کرنے کے لئے رسول اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ اس حال میں کہ ان کے چہر ے پر نقاب پڑی ہوئی تھی۔ صحابہ کرام ؓنے کہا کہ ایسی مصیبت میں بھی چہرے پر نقاب ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا مجھ پر لڑکے کی مصیبت پڑی ہے میری شرم وحیا پر تو
کوئی مصیبت نہیں پڑی (ابو داؤد، کتاب الجہاد)
آپ نے فرمایا محرمہ عورت احرام کی حالت میں چہرے پر نقاب اور ہاتھوں میں دستانے نہ پہنے۔ (ابو داؤد)
اور فرمایا! عورت کا احرام اس کے چہرے اور مرد کا احرام اس کے سر میں ہے۔ (دار قطنی)
ان دونوں روایتوں سے پتہ چلا کہ حالت احرام میں عورت کا چہرہ کھلا رہنا چاہئے۔ عورت کی بے نقابی مخصوص یا احرام ہونے سے صاف واضح ہے کہ وہ غیر احرام کی حالت میں محل نقاب ضرور ہے ورنہ تخصیص شرعی کا ابطال لازم آئے گا جو کسی صورت بھی درست نہیں۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: