جَنگی اخلاقیات؛احادیث ِنبویﷺکے آئینے میں-1

اسلامی جہاد کے بارے میں ہدایاتِ نبویﷺ ملاحظہ کیجئے اور دیکھئے کہ انسانی حقوق کے مغربی محافظ بلندبانگ دعووں کے بعد خود اپنی ناجائزجَنگوں میں کن آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں۔
اسلام نے جَنگ کے ان تمام وحشیانہ حرکا ت کو روک دیاہے جو جاہلیت کی لڑائیوں میں کی جاتی تھیں، مثلاً
غیر اہل ِقتال کی حرمت:
اسلام نے محاربین کو دو طبقوں میں تقسیم کیا ہے: 1-اہلِ قتال اور2-غیراہل قتال

اہلِ قتال وہ ہیں جوجَنگ میں عملاًحصہ لیتے ہیں اور غیر اہلِ قتال وہ جو جَنگ میں حصہ نہیں لےسکتےمثلاًعورتیں،بچے،بیمار،زخمی،اندھے ،مقطوع الاعضا یعنی معذور،مجنون، سیاح،خانقاہ نشین، زاہد،معبدوں اور مند روں کے مجاور ،ایسے ہی دوسرے بے ضررلوگ ۔
اسلام نے طبقۂِ اول کے لوگوں کو جہاد کے دوران قتل کرنے کی اجازت دی ہے اور طبقۂِ دوم کے لوگوں کو قتل کرنے سے اسلام منع کرتا ہے۔ ایک مرتبہ میدانِ جَنگ میں رسول اللہ ﷺنے ایک عورت کی لاش پڑی دیکھی تو ناراض ہو کر فرمایا : ماکانت هذه تقاتلیہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی اور سالارِ فوج حضرت خالد ؓکو کہلا بھیجا:
لاتقتلن امرأة ولاعسیفا عورت اور اجیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔﴿سنن ابوداؤد:2669﴾
ایک دوسری روایت کے مطابق آپ ﷺنے عورتوں اور بچوں کے قتل کی عام ممانعت فرما دی:فنهٰي النبي عن قتل النساء والصبيانبی کریم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے روک دیا۔﴿صحیح بخاری:2852﴾
ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:لاتقتلوا شیخًا فانیًا ولاطفلا صغیرًا ولاامرأة ولاتغلوا وضموا غنائمکم وأصلحوا وأحسنوا إن الله یحب المحسنین کسی بوڑھے ضعیف ، چھوٹے بچے اورعورت کوقتل مت کرواور اموالِ غنیمت میں چوری نہ کرو۔ جَنگ میں جو کچھ ہاتھ میں آئے سب کوایک جگہ جمع کرو۔نیکی اور احسان کرو، اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے۔﴿سنن ابوداؤد:2614﴾
فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺنے پہلے سے ہدایت فرمادی کہ :کسی زخمی پر حملہ نہ کرنا، جو کوئی جان بچا کر بھاگے اس کا پیچھا نہ کرنا اور جو اپنا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے، اسے امان دینا ۔
عبد اللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ:آنحضرتﷺ جب کبھی فوج بھیجتے تھے تو ہدایت کردیتے تھے کہ معابد کے بے ضرر خادموں اور خانقاہ نشین زاہدوں کو قتل نہ کرنا: لاتقتلوا… أصحاب الصوامع﴿مسند احمد:4؍26﴾
خلاصہ یہ کہ وہ تمام لوگ جو لڑنے سے معذور ہیں، قتال سے مستثنیٰ ہیں بشرطیکہ وہ جَنگ میں حصہ نہ لیں۔لیکن اگر بیمار فوجوں کی رہنمائی کر رہا ہو، عورت جاسوسی کر رہی ہو، بچہ خفیہخبریں لارہا ہو یا مذہبی رہنما فوج کو جَنگ کا جوش وجذبہ دلارہا ہو،تو اس کا قتل جائز ہو گا۔
غفلت میں حملہ کرنے سے احتراز
عرب میں قاعدہ تھا کہ راتوں کواور خصوصاً رات کے آخری حصہ میں جب لوگ سو رہے ہوتے اچانک حملہ کر دیتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے اس عادت کو بند کر دیا: کان إذاجاء قومًا لم یغرحتی یصبح آپ جب کسی دشمن پر رات کے وقت پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوتی حملہ نہ کرتے۔ ﴿صحیح بخاری:2784﴾
آگ میں جلانے سے ممانعت
عرب اور غیر عرب شدتِ انتقام میں دشمن کو زندہ جلادیا کرتے تھے۔ حضورﷺ نے اس وحشیانہ حرکت کو بھی ممنوع قرار دیا۔ آپ ﷺنے فرمایا: لاینبغي أن یعذب بالنار إلا ربّ النار آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو ہی لائق ہے کہ وہ دے۔ ﴿سنن ابوداؤد:5268﴾
ایک مرتبہ حضرت علی﷜ ؓنے زنادقہ کو جلا یا تھا حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اُنہیں نبی کریم ﷺکا یہ حکم سنایا:لاتعذبوا بعذاب الله آگ اللہ کا عذا ب ہے۔اس سے بندوں کو عذاب نہ دو ﴿صحیح بخاری:6524﴾
ہاتھ باندھ کر قتل کرنے کی ممانعت
رسول اللہ ﷺ نے دشمن کو باندھ کر قتل کرنے اور تکلیف دے کر قتل کرنے سے منع کر دیا ۔عبید بن یعلی کا بیان ہے کہ ہم عبد الرحمن بن خالد ؓکے ساتھ جَنگ پر گئے تھے، ایک موقع پر ان کے پاس لشکر ِاعدا میں سے چار نوجوان پکڑے ہوئے آئے۔ اُنہوں نے حکم دیا کہ انھیں باندھ کر قتل کیا جائے۔اس کی اطلاع حضرت ابو ایوب انصاری ؓکو ہوئی تو اُنہوں نے کہا: سمعت رسول الله ﷺ ینهی عن قتل الصبر فو الذي نفسي بیده لوکانت الدجاجة ماصبرتها میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپﷺ نے باندھ کرقتل کرنے سے روکا ہے ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر مرغی بھی ہوتی تو میں اسے باندھ کر قتل نہ کرتا ﴿سنن ابوداؤد:2667﴾
عبدالرحمن ؓکو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اسکے کفارہ میں چار غلام آزاد کیے۔
لوٹ مار کی ممانعت
جَنگ ِخیبر میں صلح ہو جانے کے بعد جب اسلامی فوج کے نئے نوجوان بے قابوہو گئے اور اُنہوں نے غار ت گری شروع کردی تو آپ ﷺنے عبدالرحمن بن عوف ؓکو حکم
دیا :لشکر کو نماز کے لیے جمع کرو ۔جب لوگ جمع ہو گئے ، تو آپ ﷺنے خطبہ دیا اور فرمایا : تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں بلااجازت داخل ہو جاؤ ،ان کی عورتوں کو مارو پیٹو اور ان کے پھل کھا جاؤحالانکہ جو اُن پر واجب تھا،وہ تم کو دے چکے۔راستے میں لوگوں کے جانوروں کا دودھ بھی بلااجازت لینے کی ممانعت فرمادی۔
تباہ کاری کی ممانعت
فو ج کی پیش قدمی کے وقت فصلوں کو خراب کرنا، کھیتوں کو تبا ہ کرنا، بستیوں میں قتلِ عام،آتش زنی کرنا ،جَنگجوؤں کے گروہوں میں عام ہے۔ اسلام اسے فساد قرار دیتا ہے اور اس کی کلی ممانعت قرآن میں ہے:وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَجب وہ حاکم بنتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اورفصلوں اور نسلوں کو برباد کرے اور اللہ تعالی فسادکو پسندنہیں کرتا۔﴿البقرۃ:205
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: