توبہ و استغفار-1

صرف ذاتِ الٰہی ہی وہ ذات ہے جو ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ اس کی ذات میں عیب جوئی کفر اور الحاد کے مترادف ہے۔ اس کی مخلوق خواہ نبی ہوں یا ولی، اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیاں ہوں یا اس کے پاکباز بندے سبھی اپنی ہفوات اور لغزشوں کے معترف ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے بندۂ مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ مومن سے گناہ سرزد نہیں ہوت، بلکہ فرمایا:
وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْآ اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ’’یعنی مومن جب کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔‘‘  (آل عمران)
ایک اور مقام پر مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ’’کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔‘‘  (آل عمران)
سورہ ذاریات میں فرمایا: وَبِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ
مزید برآں کتاب اللہ اور حدیثِ رسول پر غور کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ گناہ کا ارتکاب مشیتِ ایزدی کے عین موافق ہے۔
چنانچہ ایک حدیث شریف میں ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا:
وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَذَھَبَ اللہُ بِکُمْ وَلَجَآءَ بِقَوْمٍ یُّذْنِبُوْنَ فَیَسْتَغْفِرُوْنَ اللہَ َیَغْفِرُ لَھُمْ ’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں لے جائے گا اور ایسی قوم پیدا کرے گا جو گناہ  کریں گے۔ پھر اللہ رب العزت سے گناہ کی معافی کی التجا کریں گے و اللہ تعالیٰ انہیں معافی عنایت فرمائیں گے۔‘‘ (مسلم)
ان قرآنی آیات اور احادیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہوتا ہے کے مومن کی یہ صفت نہیں کہ صغائر و کبائر سے کلیۃً پاک ہو او اپنی تمام زندگی میں گناہ کی آلودگی سے محفوظ رہا ہو۔ بلکہ مومن اور کافر دونوں ہی گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔
البتہ ان میں امتیازی فرق یہ ہے کہ مومن سے گناہ ہو جاتا ہے، کرتا نہیں ہے۔ اس سے بھول اور سہو ہو جاتی ہے۔ عمداً اور ارادۃً ایسا نہیں کرتا۔ پھر اس بھول پر ساری عمر نادم او پشیمان رہتا ہے اور بار بار اپنے سابقہ گناہ کو یاد کر کے بارگاہِ ایزدی میں معافی کی درخواست کرتا ہے۔ ایک دفعہ گناہ کا مرتکب ہونے کے بعد پھر اس گناہ کے نزدیک آنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس کے برعکس کافر جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ بار بار کرتا ہے اور گناہ پر اصرار کرتا ہے۔ اپنے کئے پر نادم نہیں ہوتا۔ اور گناہ کو موجبِ فخر تصور کرتا ہے۔ عمداً ایسا کرتا ہے۔ گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اسے اپنے اس فعل قبیح پر ندامت یا خفت محسوس نہیں ہوتی۔ سب سے بڑھ کر گناہوں میں غرق ہونے کے باوجود اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں معافی کی درخواست پیش نہیں کرتا۔
استغفار کی اہمیت:
غلطی اور لغزش سرزد ہو جانے کے بعد بارگاہ ایزدی میں سربسجود ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور آئندہ کے لئے ایسے فعل بد سے توبہ کرنامومنوں کی ایک اعلیٰ صفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے امت محمدیہ کو اور ان کے رہبرِ اعظم حضرت محمد ﷺ کو بار بار اکید فرمائی ہے کہ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ’’اپنے اور مومن مرد او عورتوں کے گناہوں کی خاطر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیے۔‘‘  (محمد)
ایک اور مقام پر فرمایا:فَسَبِّحْ بِحَمْدِ َبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ ط اِنَّہ کَانَ تَوَّابًا’’اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کیجئے اور اس سے معافی مانگیے، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘(نصر)
سورہ مومن میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں:۔وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ َبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ اپنی لغزش کی معافی مانگیے اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد اور پاکی بیان کیجئے۔
علاوہ ازیں بیشتر مقامات پر استغفار کا ذِکر ہ۔ یہاں پر یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ کی تمام زندگی عہد طفولیت کی ہو یا ایام شباب کی، مکی ہو یا مدنی تمام کی تمام ہی بے عیب اور بے داغ گزری ہے۔ امت محمدیہ ﷺ کے تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ سرور کائنات کی حیاتِ مبارکہ سفید چادر کی طرح بے داغ تھی۔ اور معمولی سے معمولی دھبۂ عصیاں بھی کسی نے نہیں دیکھا۔
حتیٰ کہ مشرکینِ مکہ آپ کے سخت ترین دشمن ہونے کے باوجود آپ کی ذاتِ گرامی پر کوئی عیب نہیں لگا سکے۔ سوا اس کے کہ آپ کو ساحر یا کاہن کا خطاب دیں۔ آپ کی امانت، شجاعت، صداقت، صبر و استقلال اور زہد و عبادت وغیرہ اس قدر تھیں کہ آپ ﷺ کو پیکرِ صفاتِ حسنہ یا مجسمۂ اخلاقِ حسنہ کہا جائے تو پھر بھی صحیح معنوں میں آپ ﷺ کی ستودہ صفات کی تعریف کما حقہ ادا نہیں ہو گی۔ ہر قسم کے گناہ سے آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی مبرا و پاک تھی اور آپ ﷺ معصوم عن الخطا تھے۔ اس کے باوجود خلاقِ کائنات نے اپنے حبیب پاک ﷺ کو بار بار استغفار کی تلقین فرمائی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ دراصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا اسلوب بیان ار کابوں سے انوکھا اور نرالا ہے جب کسی حکم کی تاکید مقصود ہوتی ہے تو اس وقت امت کے علاوہ امت کے رہنما کو مخاطب کیا جاتا ہے اور زور دیا جاتا ہے۔ مقصود و مدعا یہ ہوتا ہے کہ یہ حکم اتنا اہم اور ضروری ہے کہ اس سے حضرت محمد ﷺ کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ پہلے اپنے لئے اور پھر دیگر مومن مردوں کے لئے اللہ رب العزت سے گناہوں کی معافی کے لئے التجا کیجئے۔ جب سید المرسلین کا یہ حال ہے تو ام مومنین جو شبانہ روز لغزشوں اور غلطیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے لئے استغفار کی کس قدر ضرورت ہو گی؟
Advertisements
4 comments
  1. استغفر اللہ العظیم، الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم و اتوب الیہ
    جزاک اللہ خیرا ۔ یاد دہانی کا شکریہ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: