عریانی و فحاشی کے خلاف جہاد

ہر فرد ملت کے نام جسے اسلام کا دعویٰ اور آخرت پر یقین ہے۔
ہم ملت کے ہر درد، بہی خواہ مسلمان اور دین پسند جماعتوں کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں سوشلزم، ظالمانہ سرمایہ داری، غیر اسلامی نظریات اور دیگر قباحتوں کے خالف اپنی سرگرمیاں مرکوز کر رہے ہیں وہاں ملک میں بڑھتی ہوئی عریانی، فحاشی، بے راہ روی، ننگے مناظر کی اعلانیہ نمائش اور شرمناک تشہیر و اشاعت کے خلاف بھی ایک متحدہ محاذ بنا کر اس کے قرار واقعی انسداد اور قلع قمع کے لئے میدان عمل میں نکل آئیں۔ موجودہ حیا سوزی اور بے حیائی کی ترویج و اشاعت دراصل سوشلزم، یہودیت اور عیسائیت کی ملی بھگت سے اسلام کے خلاف ایک سوچی سمجھی ہوئی سکیم اور ایک ذلیل سازش ہے جن کی بنیادی غرض و غایت یہ ہے کہ پہلے مسلمانوں کے دِلوں سے غیرت ملی، نسوانی حجاب او قومی حمیت اور شرم و حیاء کا خاتمہ کیا جائے۔ جب قوم ان امور کو برداشت کر لے اور اسلام کی تہذیبی و اخلاقی اقدار کھو بیٹھے تو پھر اس پر جو بھی چھاپ لگائی جائے گی کامیاب ہو گی۔ چنانچہ اس سکیم کے مطابق سکولوں کالجوں میں مخلوط تعلیم، زنانہ لباس میں بے حیائی اور ٹیڈی ازم، عریاں سینمائی تصاویر کی چوک بہ چوک نمائش، اخبارات میں فلمی رقاصائوں اور عصمت فروش
عورتوں، دلہا دلہن کے فوٹو، شارع عام پر جگہ جگہ ننگی او حیا سوز حرکات کی عکاس، بڑی بڑی تصاویر، رسائل و اخبارات میں عورتوں کی تشہیر، زنانہ سکولوں، کالجوں کی سرگرمیاں اور دیگر تقریبوں کی بے پردہ تصاویر، مختلف اشتہارات اور سائن بورڈوں اور کمپنیوں کے لیبلوں پر لازمی زنانہ مناظر کشی، اس کے علاوہ عام جنسی لٹریچر کی ترویج و اشاعت، گندے ناول، غیر ملکی مطبوعات ریڈیو پر عشقیہ فلمی گانے، ٹیلی ویژن پر انگریزی عریاں اور اخلاق سوز فلمیں۔ ان سب امور کی وجہ سے عوام و خواص کی دینی غیرت و حمیت دن بدن تباہ ہو رہی ہے اور نوجوان اور بالخصوص طلباء دین سے متنفر اور عیاشی کے دلدادہ ہو رہے ہیں۔ برائی کھل کر میدان میں آگئی ہے اور نیکی مسجدوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔
ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح برائی منظم اور علانیہ طور پر دین و ایمان پر حملہ آور ہونے کے لئے میدان میں ڈٹ گئی ہے بلکہ ہمارے گھروں کے اندر تک کسی نہ کسی رنگ میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارا بھی فرض ہے کہ نہ صرف اس کی مدافعت کریں بلکہ ان برائیوں کو بڑھ کر قلع قمع کر دیں۔ صرف مدافعانہ زندگی پر ستار ان رب ذوالمنن کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ہم جب تک تن من دھن سے اسلامی تہذیب و اخلاق کی بحالی، قرآنی تمدن کی ترویج اور پیغمبرانہ اقدار کی عملی نشر و اشاعت کے لئے منظم ہو کر میدانِ عمل میں نکل نہیں آت ہم ملت اسلامیہ کا تحفظ نہیں کر سکیں گے۔
یاد رکھیے! ہم سب خداوند قدوس کے ہاں اس برائی کے انسداد کے لئے جواب دہ ہیں جو پوشیدگی کی حدود کو توڑ کر عین چوراہے پر خم ٹھونک کر آگئی ہو۔ یہ مصیبت کے طوفان خدائے واحد القہار کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں۔ عذاب سے بچنے کی یہی ایک راہ ہے کہ اس کی مدافعت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں ورنہ
جو ڈوبی یہ کشتی تو ڈوبیں گے سارے
تباہی اور ہلاکت سے بچنے کے لئے قرآن کریم پکار پکار کر عبرت انگیز داستایں سنا رہا ہے۔ خود عہد حاضر کی بین الاقوامی صورتِ حال ہر مسلمان کی دعوت غور و فکر دے رہی ہے۔ قبلہ اول مفتوح ہو کر نظرِ آتش کر دیا گیا ہے۔ ممالک عربیہ قومیت پرستی کی زد میں آچکے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی عام نسل کشی کا عمل بسرعت جاری ہے۔ قبرص، کشمیر اور فلسطین کا مجبور و مقہور مسلمان جبر و تشدد کا تختہ مشق بن چکا ہے۔ یہودیت نے ممالک عربیہ کو نیپام بموں سے بھون ڈالا ہے۔ امریکی سازشوں نے اسلامیت کے کلی استیصال کی قسم کھا رکھی ہے۔ ہندوستان کی بے تحاشہ اسلحہ بندی اور خوفناک جنگی تیاریاں اور پاکستان کی سرحدات پر ایٹم بم کی آزمائشیں اور اس کی پاکستان سے مسلمہ عداوت ’’نوشتہ دیوار‘‘ ہے کود مملکت خداداد پاکستان جو دنیا میں سب سے بڑی اسلامی سلطنت اور آخری حصار اسلام سمجھا جاتا تھا۔ آج لا دینی ملک نظریات، اسلام کش اثرات کی زد میں آچکا ہے۔
اندریں حالات اگر ہم نے جلد از جلد اپنی دینی حمیت و غیرت کا تحفظ نہ کیا تو تاریخ گواہ ہے کہ فطرت نے کبھی بے غیرت اور بے حمیت قوموں کو سرفرازی تو کجا نام و نشاں تک باقی نہیں رکھا۔ زوالِ اُمت کی یہ داستانیں قرطبہ اور غرناطہ کے در و دیواروں، الحمرا کے محلوں، سپین اور اندلس کے مرغزاروں، بلغ بخارا اور سمر قند کی مسجدوں اور دار العلوموں سے پوچھ لو۔ پہلے غیرت چھینی گئی، پھر جذبہ جہاد سرد پڑ گیا، پھر اس کی پاداش میں جو ہوا سو ہوا۔
اگر ہم فی الواقع آخری قلعہ اسلام کے طور پر پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں تو ہم ہی میں س ایک جماعت کو وقف ہو کر ہر جگہ موجودہ عریانی، بے حیائی اور بے غیرتی کے خلاف صف آراء ہو جانا چاہئے۔
ہم تمام کلمہ گویان محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام دینی جماعتوں سے ناموش اسلام اور غیرت ملی کے نام پر نہایت دلسوزی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ برائے خدا اس کام کی اہمیت کا احساس کریں اور مؤثر و موزوں اقدام کے لئے آگے بڑھیں۔ ہماری اس نئی تنظیم سے تعاون اور اپنے اپنے ماحول میں ایسی تنظیمیں بنا کر کام شروع کر دیں۔ ہمیں خداوند قدوس کی ذات گرامی سے پورا یقین ہے کہ اگر ہمارے اندر خلوص، سچی تڑپ اور حقیقی جانسوزی ہوئی تو فحاشی کے اس سیلاب عظیم کے باوجود خدا ہمیں کامیاب کرے گا۔
ہم خداوند قدوس سے بصمیمِ قلب دعا کرتے ہیں کہ ہماری یہ سرگرمیاں قبول فرمائے اور نجاتِ اخروی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
ٍہمیں بجا طور پر اپنے ملک کے اکثر محترم اخبارات سے گلہ ہے کہ انہوں نے دعوائے اسلام کے باوجود گندے اور عریاں فلمی اشتہارات کی نشر و اشاعت کو قبول کر لیا ہے۔ جب ہم ان اخبارات کو سکولوں، کالجوں کے طلبائ، طالبات، مسجدوں اور پردہ دار عورتوں کے ہاتھوں میں دیکھتے ہیں تو ہمارا سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ ہم اُنہیں مخلصانہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ غور کریں کہ وہ قرآن کریم کی اس آیت کے مصداق تو نہیں۔
’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ فحاشی کی مسلمانوں میں نشر و اشاعت ہو، ان کے لئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔‘‘ (سورۃ النور)
افسوس ہے کہ بعض علمائے کرام نے بھی آنے والے کفر پسند سیلاب اور فحاشی و بدکرداری کی ہلاکت آفرینیوں کا احساس نہیں کیا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہمارے ارباب مسجد و منبر منظم و مؤثر طریق سے اس سیلاب کو روکیں وہ خدا کے ہاں پوچھے جائیں گے۔
ہم اپنے شاہیں بچوں یعنی طلباء کو بھی بتانا چاہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں مسلم بچوں نے بے مثال کردار ادا کئے ہیں۔ دشمن رسول ابو جہل کا قاتل ایک بچہ ہی تھا۔ ہندوستان میں پہلی یلغار سے فتوحات اسلامی کا دروازہ کھولنے والا بھی ایک سترہ سالہ ’’محمد بن قاسم‘‘ لڑکا ہی تھا۔
’عورتوں‘‘ میں سینما بینی دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ نیک پردہ دار عورتیں خدا کا نام لے کر اُٹھیں اور اپنے اپنے حلقوں اور زنانہ اجتماعوں میں ان بے راہ رو عورتوں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔

عبد الغفار اثر۔ ایم۔ اے

Advertisements
4 comments
  1. Nauman faisal said:

    You are right, jazakallah,

  2. shahid said:

    Excellent words

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: