اصحاب كہف-4

سورہ كہف میں چھ نشانیاں اور خصوصیات بیان كى گئی ہیں :
1۔ كا دہانہ شمال كى طرف ہے اور چونكہ زمین كے شمالى نصف كرہ میں واقع تھى لہذا سورج كى روشنى مستقیم اس میں نہیں پڑتى تھی۔جیسا كہ قرآن كہتا ہے:
اگر تو وقت طلوع سورج كو دیكھتا تو وہ كى دائیں جانب جھك كے گزرتا ہے اور غروب كے وقت بائیں جانب۔(سورہ كہف آیت 17)كا دہانہ شمال كى طرف ہونے كى وجہ سے اس میں اچھى ہوائیں آتى تھیں كیونكہ یہ ہوائیں عموماً شمال كى جانب سے چلتى ہیں ۔ لہذا تازہ ہوا آسانى سے میں داخل ہوجاتى اور ایك تازگى قائم ركھتی۔
2۔ وہ كى ایك وسیع جگہ میں تھے ۔( سورہ كہف آیت 17)
 یہ اس طرف اشارہ ہے كہ وہ كے دہانے پر موجود نہ تھے كیونكہ وہ تو عموماً تنگ ہوتا ہے۔ وہ كے وسطى حصے میں تھے تا كہ دیكھنے والوں كى نظروں سے بھى اوجھل رہیں اور سورج كى براہ راست چمك سے بھی۔
3۔ ان كى نیند عام نیند كى سى نہ تھی۔ اگر تو انہیں دیكھتا تو خیال كرتا كہ وہ بیدار ہیں حالانكہ وہ گہرى نیند میں سوئے ہوئے تھے ۔( سورہ كہف آیت 18)
یہ بات ظاہر كرتى ہے كہ ان كى آنكھیں بالكل ایك بیدار شخص كى طرح پورى طرح كھلى تھیں ۔ یہ استثنائی حالت شاید اس بناء پر تھى كہ موذى جانور قریب نہ آئیں كیونكہ وہ بیدار آدمى سے ڈرتے ہیں ۔یا اس كى وجہ یہ تھى كہ ماحول رعب انگیز رہے تا كہ كوئی انسان ان كے پاس جانے كى جرا ت نہ كرے اور یہ صورت حال ان كے لئے ایك سپر كا كام دے۔
4۔ اس بناء پر كہ سالہا سال سوئے رہنے كى وجہ سے ان كے جسم بوسیدہ نہ ہوجائیں  ۔ہم انہیں دائی بائیں كروٹیں بدلواتے رہتے تھے۔( سورہ كہف آیت 18)
تا كہ ان كے بدن كا خون ایك ہى جگہ نہ ٹھہر جائے اور طویل عرصہ تك ایك طرف ٹھہرنے كى وجہ سے ان كے اعصاب خراب نہ ہوجائیں ۔
5۔ اس دوران میں ان كا كتا كہ جو ان كے ہمراہ تھا كے دہانے پر اپنے اگلے پائوں پھیلائے ہوئے تھا اور پہرہ دے رہا تھا ۔( سورہ كہف آیت 18)
اس سے پہلے ابھى تك قرآنى آیات میں اصحاب كہف كے كتے كے بارے میں كوئی بات نہیں ہوئی تھى لیكن قرآن واقعات كے دوران بعض اوقات ایسى باتیں كرجاتا ہے كہ جن سے دوسرے مسائل بھى واضح ہوجاتے ہیں ۔اسى طرح یہاں اصحاب كہف كے كتے كا ذكر آیا ہے،یہاں سے ظاہر ہوا كہ ان كے ہمراہ ایك كتابھى تھا جو ان كے ساتھ ساتھ رہتا تھا اور ان كى حفاظت كرتا تھا۔
یہ كہ یہ كتا ان كے ساتھ كہاں سے شامل ہوا تھا،كیا ان كا شكارى كتا تھا یا اس چرواہے كا كتاتھا كہ جس سے ان كى راستے میں ملاقات ہوئی تھى اور جب چرواہے نے انہیں پہچان لیا تھا تو اس نے اپنے جانور آبادى كى طرف روانہ كردیئے تھے اور خود ان پاكباز لوگوں كے ساتھ ہولیاتھا كیونكہ وہ ایك حق تلاش اور دیدار الہى كا طالب انسان تھا۔اس وقت كتا ان سے جدا نہ ہوا اور ان كے ساتھ ہولیا۔
كیا اس بات كا یہ مفہوم نہیں ہے كہ تمام عاشقان حق اس تك رسائی كے لئے اس كے راستے میں قدم ركھ سكتے ہیں اور كوئے یار كے دروازے كسى كے لئے بند نہیں ہیں ۔ظالم بادشاہ كے تائب ہونے والے وزیروں سے لے كر چرواہے تك بلكہ اس كے كتے تك كے لئے بارگاہ الہى كے دروازے كھلے ہیں ۔
كیا ایسا نہیں ہے؟، قرآن كہتا ہے :
 زمین و آسمان كے تمام ذرے،سارے درخت اور سب چلنے پھرنے والے ذكر الہى میں مگن ہیں ،سب كے سر میں اس كے عشق كا سودا سمایا ہے اور سب كے دلوں میں اس كى محبت جلوہ گر ہے ۔( بنى اسرائیل 44)
6۔ غار میں اصحاب كہف كا منظر ایسا رعب دار تھا كہ اگر تو انہیں جھانك كے دیكھ لیتا تو بھاگ كھڑا ہوتا اور تیرا وجود سرتا پاخوفزدہ ہوجاتا ۔( سورہ كہف آیت 18)
 یہ ایك ہى موقع نہیں كہ خدامتعال نے رعب اور خوف كو اپنے باایمان بندوں كے لئے ڈھال بنایاتھا۔ بلكہ دوسرى جگہ بھى اس طرح كا خطاب ہوا ہے۔  ہم جلد ہى كافروں كے دلوں پر رعب ڈال دیں گے۔ (سورہ ال عمران آیت 151)
دعائے ندبہ اور پیغمبر اسلام ﷺ كے بارے میں منقول ہے: خداونداپھر تونے اپنے پیغمبر كى مدد اس طرح كى كہ اس كے دشمنوں كے دلوں میں رعب ڈال دیا ۔
لیكن یہ رعب كہ جو اصحاب كہف كو دیكھنے والے كو سرتاپا لرزا دیتا،ان كى جسمانى حالت كے باعث تھا یا یہ كہ پراسرار روحانى طاقت تھى كہ جو اس سلسلے میں كام كررہى تھی۔اس سلسلے میں آیات قرآنى میں كوئی وضاحت نہیں ہے ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: