مولانا عزیز زبیدیؒ-3

ظرافت ِطبع
سنجیدگی کی اَچھائیاں اپنی جگہ مگر اس کے ساتھ ساتھ
انسان کے اندر ظرافت کا مادہ ہونا ضروری ہے۔ مولانا جہاں سنجیدہ مزاج کے حامل تھے،
وہاں ان کی شخصیت میں ظرافت کا عنصر بھی موجود تھا اور بذلہ سنجی اکثر طور اس وقت
فرماتے جب دوست احباب کی مجلس میں ہوتے یا پھر اپنے شاگردوں کی اُکتاہٹ دور کرنے
کے لیے کوئی ایسا چٹکلہ سنا دیتے کہ شاگرد خوش ہوجاتا۔زبیر سپرا (مولانا کے
شاگرد)کہتے ہیں :
 ’’زبیدی صاحب میرے اُستاد
بھی تھے اور دوست بھی، مزاح ان کی رگ رگ میں بھرا ہوا تھا جب بھی سمجھتے کہ میں اُکتا
گیا ہوں ، کوئی ایسا بھڑکتا ہوالطیفہ سنا دیتے یا ایسی بات کہہ دیتے کہ میں نہ صرف
اس اُکتاہٹ سے باہر آجاتا بلکہ طبیعت میں ہلکا پن آجاتا۔‘‘
مولانا کلاس میں از راہِ مزاح اپنے ڈیڑھ فٹ کے ڈنڈے کو لہرا
کر کہتے: بچو! یہ دیکھو یہ میرا سانپ ہے اور میں اسے روزانہ پاؤ دودھ پلاتا ہوں جو
سبق یاد نہیں کرے گا پھر یہ اس کو پکڑے گا۔ آپ کے چٹکلوں میں بعض دفعہ علمی نکتے
بھی ہوتے جو آپ لوگوں کو عام فہم طور پر سمجھا جاتے۔ آپ اکثر گھر کے قریب عظیم
سیال (مرحوم) کی دکان پر کچھ وقت نکال کر بیٹھ جاتے۔ دوست احباب و معتقدین آپ کی
باتیں سننے کے لیے وہاں پہلے سے موجود ہوتے۔ عظیم سیال (مرحوم) کے بیٹے سلطان ٹیپو
جوکہ مولانا کے شاگرد رہے ہیں ، کہتے ہیں کہ
’’ ایک دفعہ حسب معمول مولانا میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس کچھ
اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے میں نے مولانا سے پوچھا کہ مولانا چائے پئیں گے؟ بولے:
کیوں نہیں ۔ میں نے ازراہِ تفنن کہا: مولانا! مشرک چائے پسند کریں یا مؤحد۔کہنے
لگے: بھئی موحد چائے پیوں گا۔مشرک چائے کو کون پوچھتا ہے؟ میں نے ان کے لیے چائے
منگوائی اور باقی ساتھیوں کے لیے چائے کے ساتھ برفی بھی منگوالی۔ مولانا کے آگے
صرف چائے کا کپ رکھ دیا گیاجبکہ ہم نے اپنے سامنے چائے کے ساتھ برفی بھی رکھ لی۔
مولانا نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے: واہ بھئی مجھے صرف چائے پلا رہے ہو اور خود
ساتھ برفی بھی اُڑاؤ گے۔میں نے کہا مولانامیں نے تو پہلے ہی آپ سے پوچھا تھا کہ آپ
مشرک چائے پئیں گے یاموحد تو آپ نے موحد چائے کا مطالبہ کیا، لہٰذا ہم نے تو مشرک
چائے پینی تھی، سو برفی بھی شریک کرلی۔ آپ کے مطالبہ کے مطابق آپ کواکیلی چائے دی
گئی ہے۔ مولانا برجستہ بولے: اچھا اچھا میں بھی کہوں کہ لوگ شرک کیوں کرتے ہیں ،
آج پتہ چلا شرک بہت لذیذ ہوتا ہے۔‘‘
اسی طرح مولانا عبدالغفور کیلانی صاحب مولانا کا ایک
واقعہ یوں ذکر کرتے ہیں کہ
’’اس وقت میں ادارہ’محدث‘ میں کتابت کرتا تھا اور مولانا صاحب
چونکہ محدث رسالہ میں لکھتے بھی تھے، لہٰذا ایک دن وہ وہیں تھے کہ حافظ عبدالرحمن
مدنی صاحب کے گھر سے کھانا آیا۔ مولانا نے کھانا شروع کیا تو چونک پڑے۔ دراصل
کھانے میں نمک زیادہ تھا۔ بولے: ارے بھئی! ان گھر والوں سے کہو کہ مجھے تو پہلے ہی
آپ کا نمک خوار ہونے کا اعتراف ہے مزید نمک کیوں کھلا رہے ہیں ۔‘‘
ایک دفعہ راقم کا مولانا کے پاس لاہور جانا ہوا۔ میرے
ساتھ جامعہ محمدیہ لوکوورکشاپ کے اُستاد محترم عطاء الرحمن تھے جو کہ مولانا کے
شاگرد تھے۔عطاء الرحمن نے مولانا کا حال پوچھا تو مولانا مسکرا دیئے اور یہ شعر
پڑھا  ؎
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
مولانا کی جب بھی رگِ ظرافت پھڑکتی تو ایسے علمی چٹکلے
چھوڑتے کہ پوری مجلس کشت زعفران بن جاتی، لیکن کبھی ظرافت میں بے اعتدالی نہیں برتی۔
مولانا کی لاہور منتقلی
مولانا جہاں واربرٹن میں ہردلعزیز تھے اور سینکڑوں لوگ
آپ کے مداح تھے، وہاں آپ کے حاسدین کی بھی کمی نہ تھی۔لہٰذا اس مردِ عفیف کے ساتھ
بھی وہی ہوا جو عام طور پر حاسدین کی طرف سے ہوتا ہے۔ آپ پر کسی عورت کے ساتھ
معاشقہ کا الزام لگایا گیااور اس پر اس قدر شور مچایا گیا کہ
الأمان والحفیظ
!!
لیکن اس مردِ عفیف نے اپنے ربّ سے ہی اپنی برا ت کا سوال
کیا۔ یہ پراپیگنڈہ اتنا شدیدتھا کہ جماعت کے لوگ بھی اس سازش میں آگئے اور آپ کو
جماعت کی رکنیت سے خارج کردیا گیا،لیکن بعد ازاں غلط فہمی دور ہوجانے کے بعد آپ کی
رکنیت بحال کردی گئی۔ اسی طرح کے حادثات نے آپ کو واربرٹن سے بددل کردیا۔ شاید یہی
وجہ تھی کہ آپ نے واربرٹن چھوڑنے کا ارادہ کرلیا۔ ویسے بھی آپ کے ریٹائر ہونے کا
وقت قریب تھا۔
آپ ۳۱؍دسمبر ۱۹۸۰ء کو سکول ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے اور تقریباً ۱۹۸۴ء
میں آپ لاہور کے علاقہ نیوکرول، شالامار میں جابسے۔ لاہور منتقل ہونے کے بعد آپ کی
دینی سرگرمیاں قائم رہیں اور وہاں بھی جزوی طور پر درس و وعظ کا سلسلہ چلتا رہا۔
۱۹۸۵ء
میں آپ کو مولانا محمود میرپوری(مرحوم) نے برمنگھم میں دعوت و اصلاح کے لیے
بلالیا۔ آپ وہاں دو سال رہے ، لیکن
۱۹۸۷ء میں گھریلو مسائل کی وجہ سے واپس لاہور آگئے۔ قریبی
جامع مسجد رحمانیہ اہلحدیث میں کچھ عرصہ خطبہ جمعہ بھی دیا اوراپنے آخری ایام تک
نیو کرول میں ہی رہے۔
تالیفات و تصنیفات
مولانا عزیز زبیدیؒ ایک قلم کار، صاحب ِعلم و فضل، اہل
دانش وبینش آدمی تھے۔ آپ کا قلم صفحۂ قرطاس پہ بے جھجھک چلتا اور آپ نے اپنے قلم
سے مسلک ِاہلحدیث کے افکار کا بھرپور دفاع کیا۔ فرقِ باطلہ اور بدعات وخرافات کے خلاف
آپ کا قلم ہر وقت تیار رہتا تھا۔ شاید ہی کوئی سلفی پرچہ ایسا ہو جو آپ کے قلمی
رشحات سے محروم رہ گیا ہو۔ آپ کی تصانیف میں سب سے بڑا آپ کارنامہ تعلیقاتِ زبیدیہ
ہے جو آپ نے عربی میں صحیح بخاری کے حاشیہ کے طور پرلکھی۔ اس کے علاوہ آ پ کی
چھوٹی بڑی تصانیف
۲۵ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہیں ، لیکن ان میں سے راقم کو صرف
چا رپانچ کتابیں مل سکیں ، ان کا مختصر تعارف درج ذیل ہے:
تعلیقات زبیدیہ
یہ بخاری شریف کا حاشیہ ہے اس کے پس منظر میں حافظ احمد
شاکر لکھتے ہیں :
’’ سب سے اہم علمی خدمت جو اللہ نے ان سے لی، وہ صحیح بخاری کی
تعلیقات کی خدمت ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ جدہ(سعودی عرب)کے ایک علم دوست بزرگ
محمود باحاذق نے فضیلۃ الشیخ مولانا ابوالاشبال احمد شاغف
کی تجویز و تحریک پر صحاحِ ستہ پر اہل حدیث تعلیقات
کا ایک منصوبہ بنایا جس کی ابتدا صحیح بخاری شریف سے کی گئی۔مذکورہ دونوں بزرگوں نے
مولانا محمدعطاء اللہ حنیف ؒ سے اس منصوبے کا ذکر کیا اور اس کی ذمہ داری بھی ان
کو سونپ دی،لیکن مولانابھوجیانی نے خود کام کرنے کی بجائے مرحوم مولانا زبیدی سے
مشاورت کے بعد انہی کا نام تجویز کیا۔ پروگرام یہ تھا کہ مولانا کے تکمیل حواشی کے
بعد مولانا بھوجیانی اپنی نگرانی میں اصحابِ علم سے اس پر نظرثانی کرواتے،لیکن
۱۹۸۲ء
میں مولانا پر فالج کا حملہ ہونے کے بعد وہ پروگرام دھرے کا دھرا رہ گیا۔ پھر
مولانااشبال اور مرحوم محمود باحاذق سے مشورہ کرکے نظرثانی کے لیے سارا مسودہ
جامعہ سلفیہ بنارس بھیج دیا کہ تعلیقات میں تدریسی مشکلات کا حل اور تجربہ ضروری
تھا۔ راقم الحروف کا کئی سال بعد جب
۱۹۹۲ء میں جامعہ سلفیہ بنارس جانا ہوا تو وہاں مشورہ ہوا کہ
مولانا زبیدی بطور تحشیہ نگار بعض دوسرے اصحابِ علم کے نام کی اجازت دیں تو تب یہ
کام جلد ہوجائے گا۔ راقم الحروف نے واپس آکر جب مولانا سے عرض کیا تو مولانا نے
بلا تامل تحریر لکھ دی جو جامعہ سلفیہ بنارس روانہ کردی گئی، لیکن افسوس کہ یہ
قیمتی چیز ابھی تک منصہ شہود پر نہیں آسکی۔ ‘‘                        (الاعتصام:
۳۰
مئی
۲۰۰۳ئ)
اصل میں یہ تعلیقات مولانا سہارنپوری حنفی کے مقابلہ میں
لکھی گئی تھی چونکہ مدارس میں داخل نصاب بخاری شریف اُنہیں کے حاشیہ سے پڑھائی
جاتی تھی جس میں مولانا سہارنپوری نے حنفی مسلک کو بھی جابجا ترجیح دی تھی۔ اشد
ضرورت تھی کہ اس کی جگہ بخاری شریف پر سلفی تعلیقات چڑھائی جائیں تاکہ اَحادیث ِ
بخاری کامستند مفہوم سمجھا جاسکے۔ یاد رہے کہ ان تعلیقات کے مخطوط کی فوٹو کاپی
ادارئہ محدث میں موجود ہے جو پانچ جلدوں پرمشتمل ہے۔مولانا نیتعلیقات کا کام
۱۹۸۴ء
میں ان الفاظ سے ختم کیا :
’’وقد فرغت من شوید ھذہ التعلیقات
علی الصحیح المعروف بالجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اﷲ
! وسننہ وأیامہ وتسطیرھا في رجب یوم الإثنین۱۳۰۳ھـ عند أذان الصبح حامدًا ومصلیًا و مسلمًا‘‘ ( ۲۵ رجب ۱۴۰۴ھ، ۲۲؍اپریل ۱۹۸۴ئ)
۱۹۸۴ء
میں اس تعلیق بخاری کی تقریب ِتکمیل منڈی واربرٹن کی غلہ منڈی میں ملت کمیشن شاپ
کے قریب منعقد ہوئی جس میں میاں فضل حق،مولانا عبدالرحمن کیلانی اور دوسرے اہل علم
شامل ہوئے۔ اس تقریب میں علما نے مولانا کی اس کاوش کو سراہااور اہلحدیث مسلک کے
لیے اسے مولانا کا عظیم کارنامہ گردانا۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی (مرحوم) نے اپنی
تقریر میں واربرٹن کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے واربرٹن والو! شاید تمہیں
اس فقیر کی قدر کا پتہ نہیں ، ہم اہل علم سے پوچھو کہ ان کی قدر و منزلت کیا ہے۔
خیرالبشر
یہ تقریباً۹۴ صفحات کا رسالہ ہے جو مولانا زبیدیؒ نے نبی اکرم 1 کے
بشر ہونے کے اثبات اور
نور من نور اﷲ ہونے کی تردید میں لکھا۔ مولانا اس کتابچہ کو لکھنے کی
وجہ خود ہی اس کتابچہ میں ذکر کرتے ہیں :
’’رسالہ ’ نورانی تقریر‘ عربی مدرسہ مظہر الاسلام منڈی واربرٹن ضلع
شیخوپورہ کے صدر مدرّس مولانا نور محمد صاحب نے تحریر فرمایا ہے۔ اس میں آپ نے یہ
ثابت کیا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نور تھے، بشر نہیں تھے۔ بظاہر جو کچھ
نظر آتا تھا، وہ آپ کا صرف بشری لباس تھا۔ مندرجہ ذیل سطور میں مولانا موصوف کے
اسی رسالہ کا ایک مختصر مگر حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے کوشش کی ہے
کہ مولانا موصوف کے اس اندازِ تخاطب سے پرہیز کیا جائے جو اسی رسالہ میں اُنہوں نے
اختیار کیا ہے، کیونکہ اس سے غرض حق کی نشاندہی ہے،مناظرہ نہیں ہے۔‘‘
مولانا مرحوم نے اسی جوابی کتابچہ میں قرآن و سنت کے
نصوص اور علماے احناف کے نظریات پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ نبی1 فی الحقیقت بشر ہی
تھے نہ کہ کوئی اور مخلوق۔
 التلویح بتوضیح التراویح
یہ پرچہ اصل میں مولانا کی ۲۵۰
صفحات پر مشتمل کتاب
القول البدیع فی مسئلۃ التراویحکا خلاصہ ہے، اس میں مولانا نے آٹھ تراویح کے مسنون ہونے
پر دلائل ذکر کئے ہیں اور اس کے علاوہ احناف کی عمل صحابہؓ سے پہلو تہی کی مثالیں اور
بیس تراویح والی روایات کا محدثانہ جائزہ لیا ہے۔
 شرح و ترجمہ سنن ترمذی
مولانا(مرحوم)نے مولانا محمود احمد میرپوریؒ کے کہنے پر
ترمذی کی شرح اور ترجمہ کا کام شروع کیا، لیکن یہ کام مولانا میرپوری کی وفات کی
وجہ سے درمیان میں ہی رہ گیا۔
E اسلام میں ضابطہ تجارت
یہ کتاب مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒکی تصنیف ہے جس کی
مولانا (مرحوم)نے تہذیب فرمائی۔
F دینی جرائد
مولانا نے سورۃ البقرۃ کی تفسیر بھی لکھی جو مختلف جرائد
میں چھپتی رہی۔
آپ نے مختلف جرائد میں سینکڑوں مضامین و مقالات لکھنے کے
ساتھ ساتھ کئی پرچوں کی ادارت بھی فرمائی۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
                        منڈی
واربرٹن سے شائع ہونے والا جریدہ ’المجاہد‘ جوکہ
۱۹۶۰ء
میں شروع ہوا، میں بیسیوں مضامین لکھے۔
                         مسلک ِ اہلحدیث کا فکری مجلہ ماہنامہ ’محدث‘
لاہور میں سب سے پہلے پرچے بابت شوال
۱۳۹۰ھ بمطابق دسمبر ۱۹۷۰ء میں ’مسلک
ِاہلحدیث کا ماضی اور حال‘ کے نام سے اِداریہ لکھا۔ ماہنامہ ’محدث‘میں آپ وقتاً
فوقتاً اداریہ لکھتے رہتے۔آپ کے اُن مضامین و مقالہ جات کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ
جاتی ہے جو ماہنامہ ’محدث‘ لاہور میں شائع ہوئی۔’السنۃ والحدیث‘ کے نام سے دروس کا
طویل سلسلہ شروع کیا جوصفر
۱۳۹۳ھ سے لے کر ذوالحجہ ۱۳۹۸ھ
تک رہا۔ کافی عرصہ قرآن کی تفسیر
التفسیر والتعبیرکے عنوان سے چھپتی رہی۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر
مولانا کے مضامین کی تعداد بھی بے شمار ہے۔
                        اسی
طرح مولانا کا سلسلۂ دروس: درسِ قرآن،
الکِـتاب و الحکمۃکے نام سے اور درسِ حدیث السنۃ والحدیث کے نام سے صراطِ مستقیم برمنگھم میں کئی سال جاری رہا۔
                         ہفت روزہ ’اہلحدیث‘ میں آپ ۱۸
؍مارچ
۱۹۸۸ء تا ۱۸؍جنوری ۱۹۹۱ء مدیر رہے اور اداریہ نویسی کرتے۔ اس کے علاوہ آپ کے
بے شمار مضامین اس پرچہ کی زینت بنے۔
                         ہفت روزہ’الاعتصام‘ میں مضامین کے علاوہ سورۃ
البقرۃ کی تفسیر کا سلسلہ شروع کیا جو کافی عرصہ تک شائع ہوتا رہا۔
                         ہفت روزہ ’تنظیم اہلحدیث‘ کی ادارت کا بھی
مولانا کو موقع ملا۔ان کے علاوہ ماہنامہ ’حرمین‘، ماہنامہ ’فاران‘، اور ماہنامہ ’
ترجمان القرآن‘ میں بھی آپ کے مضامین شائع ہوتے۔
مولانا کی ان خدمات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ اللہ
کی دین ہے، جسے چاہے عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو توفیق بخشی اور اپنے دین کا
کام لے لیا۔ ع
این سعادت بزورِ بازو
نیست
تانہ بخشد خداے بخشندہ
Normal
0false
false
falseEN-US
X-NONE
AR-SAMicrosoftInternetExplorer4

/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:”Table Normal”;
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-qformat:yes;
mso-style-parent:””;
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin:0in;
mso-para-margin-bottom:.0001pt;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:11.0pt;
font-family:”Calibri”,”sans-serif”;
mso-ascii-font-family:Calibri;
mso-ascii-theme-font:minor-latin;
mso-fareast-font-family:”Times New Roman”;
mso-fareast-theme-font:minor-fareast;
mso-hansi-font-family:Calibri;
mso-hansi-theme-font:minor-latin;
mso-bidi-font-family:Arial;
mso-bidi-theme-font:minor-bidi;}

علم و عرفان کے ماہِ کامل کا غروب
مولانا واربرٹن سے زخمی دل کے ساتھ لاہور منتقل ہوئے تھے
اور یہاں بھی مولانا کو ان جیسے معاملات کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ واربرٹن میں کاروباری
معاملات میں آپ ایک بھاری رقم کھو بیٹھے تھے۔ کسی کو بیٹا بنا کر ہزاروں روپے دیئے
کہ کاروبار کرے، لیکن اس نے مولانا کو رقم واپس نہ کی اور یہاں لاہور میں بھی
مولانا نے کسی کو
۷۰ ،۸۰ ہزار روپے کاروبار کے لیے دیئے اور وہ آدمی بھی مولانا
کو جل دے گیا۔
۱۹۹۰ء میں مولانا سر کے عارضہ میں مبتلا ہوگئے اور ساری جمع
پونجی اپنی بیماری پر لگا بیٹھے لیکن ع       مرض
بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی!
مولانا ذ ہنی طور پر لوگوں کے ستائے ہوئے تو پہلے ہی
تھے، بیماری نے آپ کو نچوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اکثر گھر پر رہتے، کسمپرسی کی زندگی
گزارنے پر مجبور ہوگئے، اِکا دُکا لوگ جو واربرٹن میں ان کے شاگرد رہے تھے،حق
شاگردی اَدا کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً مالی تعاون کرجاتے۔ اس کے علاوہ لاہور میں کچھ
مسلک اہلحدیث سے تعلق رکھنے والے احباب خیال کرلیتے اور پھر آخری تین چار سالوں میں
یہ سلسلہ بھی برائے نام رہ گیا تھا۔مولانا انتہائی لاغر ہوچکے تھے بیماری تھی کہ
تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مولانا کی بیماری عرصہ تین سال سے شدت اختیارکرچکی
تھی، ڈاکٹر مولانا کے علاج سے عاجز آچکے تھے اور آخر کار
۲۷؍
مئی
۲۰۰۳ء بروز منگل صبح ۳ بجے علم و عرفان
کے ماہ کامل کا غروب ہوگیا۔ 
إناﷲ وإنا إلیہ
راجعون
مولانا کو وہی کھدر کا کفن پہنایا گیاجو وہ آج سے ۴۰
سال پہلے اپنے لیے تجویز کرگئے تھے۔ نمازِ جنازہ مولانا عبدالرشید مجاہد آبادی نے
پڑھائی۔ جنازہ میں علماکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔راقم ادارہ ’محدث‘ کے ساتھیوں کے
ہمراہ ذرا لیٹ پہنچا،جنازہ ہوچکا تھا۔ چنانچہ دوبارہ جنازہ پڑھایا گیا جو
مولاناعبدالسلام فتح پوری نے پڑھایا۔ آپ کی میت کو قریبی قبرستان میں دفن کے لیے
لے جایا گیا۔ مولانا کے جسد ِخاکی کو قبر میں ڈالا جارہا تھا، لوگ ڈبڈباتی آنکھوں سے
مولانا کے جسد ِخاکی کو قبر میں اُترتا دیکھ رہے تھے۔ آخر کار قبر پر مٹی ڈال دی
گئی، مٹی کے نیچے میت چھپ چکی تھی، لوگ مٹی کی طرف حسرت وغم سے دیکھ رہے تھے گویا
قبر کی مٹی سے شکوہ کررہے ہوں اور کہہ رہے ہوں ۔ع
مقدور ہو تو
خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
تو نے وہ گنج
ہائے گراں مایہ کیا کیے
مولاناکی قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔محترم عبدالسلام بھٹوی
نے قبر پر رقت آمیز الفاظ سے دعا کروائی۔ دعا کے بعد لوگ مولانا کے غم میں نڈھال
قدموں سے واپس ہولیے۔ع
آسماں تیری
لحد پر شبنم فشانی کرے
سبزہ نورستہ
اس گھر کی نگہبانی کرے
واپسی پر میں سوچ رہا تھا کہ قحط الرجال کے اس زمانے میں
ان جیسے لوگوں کا موجود ہونا کسی قدر غنیمت ہے، لیکن یہ لوگ بھی آہستہ آہستہ دنیا
سے رخصت ہورہے ہیں ۔ع
جو بادہ کش
تھے پرانے وہ اُٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ
بقاے دوام لے ساقی
 مولانا عزیز زبیدیؒ جیسی
ہستیاں روز روز پیدا نہیں ہوتیں ۔ آج ہم علم وتربیت کے اُفق پر نظر دوڑاتے ہیں تو
مولانا جیسی شخصیت کہیں نظر نہیں آتی۔ امام ذہبیؒکے الفاظ اس موقع پر صادق آتے ہیں
کہ
’’أین العلم وأین أھلہ ما کدت أن
أرٰی العلم إلا في کتاب أو تحت تراب‘‘
یقینا مولانا کی وفات موت العالِم موت العالَم کے مصداق
تھی۔ مولانا صاحب علم وفضل اور اہل دانش وبینش تھے۔ آپ سراپا ہنگامہ، سراپا سعی
مسلسل، رواں دواں ، پیکر ِعلم و عمل، انجمن پسند اور اپنی ذات میں خود ایک انجمن
تھے۔
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: