مولانا عزیز زبیدیؒ-2

ان دنوں کیلانی خاندان کے چشم و چراغ جناب حکیم عبدالواحد چاندی کوٹی جو کہ اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور جماعت ِاسلامی سے بھی متاثر تھے، نے مولانا صاحب سے مسلکی وابستگی کی بنا پر  مشورہ کیا کہ کیوں نہ واربرٹن میں جماعت کا کام باضابطہ طور پر کیا جائے۔ ان کے مشورہ پر عمل درآمد کے لیے مولانازبیدی صاحب نے ۵۰-۱۹۴۹ء میں حکیم عبدالواحد صاحب کو جماعت کا امیربنا دیا۔
جماعت اسلامی کے تعارفی جلسے میں کوثر نیازی، منور حسن صدیقی، نعیم صدیقی جیسے رہنما شامل ہوئے۔ حکیم صاحب ایک دانا شخص تھے۔اُنہوں نے بڑے استقلال سے جماعت کو منظم کیا۔ جماعت کے مختلف مراحل ہیں ، حلقہ متّفقین کے امیر نذیر نارگ (جو بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور مولانا کے شاگرد تھے) کو بنا دیا گیا، اس وقت لاہور کے قیم میاں محمدطفیل ہوا کرتے تھے۔
مولانا اور ان کے رفقا نے باقاعدہ طور پرکام شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بیسیوں لوگ جماعت کے حلقہ میں شامل ہونے لگے، اس میں مولانا زبیدی صاحب کی شخصیت و علمیت کابڑا عمل دخل تھا۔لوگ ان سے اس قدر متاثر تھے کہ ان کی شخصیت ہردلعزیزی کامرقع بنی ہوئی تھی۔ جماعت کے عہدیداران زیادہ تر وہ طالب علم ہی ہوا کرتے تھے جن کی تربیت مولانانے سکول میں کی تھی اور وہ آپ کے سکول کے شاگرد ہوتے۔ چونکہ اس زمانے میں جماعت اسلامی پرپابندی عائد تھی اور حکومتِ وقت جماعت کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی جس کی وجہ سے مولاناجماعت کے باقاعدہ رکن تو تھے ہی، لیکن سرکاری قدغنوں کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ نے صاف طو رپرجماعت کا کوئی نمایاں عہدہ قبول نہیں کیا، حالانکہ جماعت کا ہرچھوٹا بڑا کام آپ کی مشاورت کے بغیر نہ کیا جاتا۔اسی طرح مولانا نے جمعیت طلبہ اسلام بھی قائم کی اور اس کا امیر پروفیسر نعیم صاحب (مولانا کے شاگر)کوبنایا جو ان دنوں ان سے سکول میں پڑھتے تھے۔بقول ان کے کہ:
’’ہم چند طلبہ کو ایک دن بلایا اور کہا کہ جمعیت طلبہ کی بنیاد رکھیں ، سو ہم نے جمعیت طلبہ کا کام شروع کردیا۔‘‘
مولانا صاحب کی جماعتی کاوشیں واربرٹن کے مضافات میں پھیلتی چلی گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے واربرٹن کے مختلف دیہاتوں سے بھی لوگ جماعت کے ہم نوا بننا شروع ہوگئے۔آپ جماعت کے روح رواں تھے۔مولانا مودودی سے اکثر ملاقاتیں رہتیں ،جماعت کی بہتری کے لیے تبادلۂ خیال کرتے، جماعت کی غلط پالیسی پربے دھڑک تنقید کرتے۔بقول آپ کے مجلس میں اکثر ان سے مباحثہ بھی کیا، کچھ عرصہ آپ کو کسی غلط فہمی کی وجہ سے جماعت کی رکنیت سے خارج کردیا گیا، لیکن دو سال بعدجماعت نے تحقیق کے بعد آپ کو بری الذمہ قرار دے کر دوبارہ جماعت کی رکنیت میں شریک کرلیا۔سکول سے ریٹائر ہونے تک رکنیت پر برقرار رہے۔
مولانا بطورِ ایک استاذ، ایک مربی!
مولانا واربرٹن میں بحیثیت استاذ تشریف لائے۔ اس وقت کا سکول واربرٹن شہر کے اندر راجہ سندر داس کا چوبارہ ہوا کرتا تھا۔ ایک دو سال وہاں آپ نے کلاسیں پڑھائیں ۔غالباً ۱۹۴۸ء میں سکول کے اَساتذہ اور بچوں نے حکومت سے سکول کی جگہ کا مطالبہ کرکے جلوس نکالا جس کے نتیجہ میں حکومت نے اُنہیں موجودہ ہائی سکول جو کہ قیام پاکستان سے پہلے واربرٹن نامی ایک انگریز کی کوٹھی ہواکرتی تھی (اسی انگریز کے نام پریہ شہر ’واربرٹن‘ کہلایا) کو ہائی سکول کے لیے مختص کردیا گیا اور تاحال اس میں ہی سکول کلاسیں جاری ہیں ۔
مولانانے سکول میں بھی اپنے مقام ومرتبہ کوبالکل واضح رکھا۔ اَساتذہ آپ سے بہت خوش تھے اور آپ کا بے حد احترام کرتے۔ آپ نے کبھی ہم عصر اَساتذہ کو شکایت کا موقعہ نہ دیابلکہ وہ اَساتذہ میں شریف النفس انسان کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ہائی سکول میں آپ کو عربی کا مضمون دیا گیا جو آپ ریٹائر ہونے تک پڑھاتے رہے۔ تاہم مختصر عرصہ کے لیے اُردو فارسی اُستاد کی عدم موجودگی میں اُردو اور فارسی کا پیریڈ بھی لیتے رہے۔
آپ کا اُسلوبِ تدریس آپ ہی کے شایانِ شان تھا، کبھی کسی لڑکے کو مارا پیٹا نہیں ، ہمیشہ لڑکوں سے شفقت سے پیش آتے۔ اگر کوئی طالب علم سبق یاد نہ کرتا تو پیار سے سمجھا دیتے۔ان کے سمجھانے کاانداز اس قدر پراثر ہوتا کہ لڑکے اپنی غلطی پر ندامت محسوس کرتے اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا عزم کرلیتے۔ شیخ ابوذرّ زکریا صاحب جو کہ ان سے عربی پڑھتے تھے، کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے بالوں کو ناشائستہ انداز میں کنگھی کرکے سکول چلا گیا، مولانا مجھے دیکھ کر کہنے لگے: ’’ویکھاں وڈھے وہابی دا پتر تے وڈا وہابی‘‘اس واقعہ کے بعد آج تک میں نے کبھی بڑے بال نہیں رکھے
اور نہ ہی سرننگا رکھا۔ مولانا ہمیشہ کلاس میں اپنے ساتھ ڈیڑھ فٹ کا کالے رنگ کا بیدرکھتے۔اکثر از راہِ مزاح ڈنڈا لہرا کر طالب علموں کومخاطب کرکے کہتے کہ بچو یہ دیکھ رہے ہو،کیاہے یہ ؟ میں اسے روزانہ پاؤ دودھ پلاتا ہوں ، سبق یاد کیا کرو ورنہ یہ تم پر برسے گا،لیکن مولانا نے سکول کی پوری زندگی میں کسی لڑکے کو اس ڈنڈے سے کبھی سزا نہ دی۔
ڈاکٹر عمرحیات (مولانا کے شاگرد) کہتے ہیں کہ مولانا وقت کے اتنے پابند تھے کہ پانچ منٹ پہلے ہی سکول میں آجاتے۔ سب اَساتذہ میں وہ ریگولر تھے۔اس وقت سکول کی اسمبلی میں دعا اور ترانہ نہیں کہا جاتا تھا۔مولانا پانچ دس منٹ کا درس دیتے اور لڑکے کلاسوں میں چلے جاتے۔ سکول میں دروس کا کام مولانا کے ذمہ تھا۔ طالب علموں کی تربیت میں کوئی کمی واقع نہ ہونے دیتے۔ شاگردوں میں صلاحیت بھر دینے کی دھن ہر وقت ان کے سر پر سوار رہتی۔بقول محمد زبیر کیلانی بن عبدالواحد کیلانی (مولانا کے شاگرد)کہ وہ اپنے شاگردوں پر عقابی نگاہ رکھتے تھے۔
آپ کے تربیت یافتہ اَفراد کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے جنہوں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا اور دنیا میں ایک مقام حاصل کیا۔بہرحال مولانا کی سکول کی حیثیت ایک اُصول پسند استاد اور کامیاب مربی کے طو رپر سب کے سامنے تھی۔
مولانا کی مسلکی خدمات
مولانا نے جہاں واربرٹن میں جماعت ِاسلامی قائم کی، وہاں مسلک ِاہلحدیث کے لیے بیش بہاخدمات سرانجام دیں ۔مولاناجماعت اسلامی کو مسلک ِاہلحدیث کی ترویج کاذریعہ سمجھتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ جماعت ِاسلامی میں رہتے ہوئے بھی مسلک کے بارے میں کبھی مفاہمت نہیں کی۔ آپ برملامسلک ِاہلحدیث کے داعی تھے اور حق بات کہنے سے ذرا بھی نہ جھجکتے۔ مولانامودودیؒ نے جب ’خلافت و ملوکیت‘ لکھی تو آپ نے ان سے سے صحابہؓ کے متعلق رویے سے اختلاف کیا اور مختلف مسائل میں ان کی مجلسوں میں دلائل کے ساتھ اختلاف کیا۔ مولانا علماے اہلحدیث کو ہی انبیا کا وارث سمجھتے تھے۔آپ کا مسلک کے ساتھ محبت کا ندازہ اس اَمر سے لگایاجاسکتا ہے کہ اپنا سارا علمی سرمایہ جو کتب کی شکل میں تھا، اہلحدیث اداروں کو وقف کرگئے۔جزا ہ اﷲ خیراً
واربرٹن میں اپنے گھر میں درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کررکھا تھا جس میں بیسیوں لوگ شریک ہوتے اور قرآن و حدیث کا نور لے کرلوٹتے۔آپ کاطرزِ وعظ اس قدر اچھا ہوتا کہ سننے والے کے لیے بات مانے بغیر چارہ نہ ہوتا۔آپ کے درس میں ہر روز ایک نیانکتہ ملتا۔ ان دروس سے کتنے ہی لوگوں نے توحید و سنت کی روشنی سے اپنے قلوب کو جلا بخشی اور کتنے ہی لوگ بدعات وخرافات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نجات پانے میں کامیاب ہوئے۔آپ کے دروس گاہے بگاہے واربرٹن کے بااثر گھرانوں میں بھی منعقد ہوتے رہتے، خاص طور پر چودھری منظوراور ان جیسی علاقے کی قد آورشخصیات مولانا کو اپنے اپنے گھروں میں درس کے لیے دعوت دیا کرتیں ۔آپ کا درس کیا ہوتا تھا، قرآن و حدیث کے پھولوں سے لدا ہوا گلدستہ پیش کردیتے جس کی خوشبو سے سامعین معطر ہوجاتے۔
ڈاکٹر عمر حیات(مولانا کے شاگرد) کہتے ہیں کہ وہ درس دیتے وقت قرآن و حدیث سے کبھی باہر بات نہ کرتے، درس دیتے توسامنے قرآن رکھ لیتے اور اَحادیث سے اس کی تفسیر کرتے جاتے۔قصوں کہانیوں سے ان کی تقریر مبرا ہوتی، ایسالگتا جیسے اُن کے منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں ۔ اپنے موقف پر اس قدر دلائل پیش کرتے کہ سننے والے کے لیے مجالِ انکارنہ ہوتا۔ آپ کااندازِ خطابت پرجوش نہیں ہوتا تھا بلکہ بہت دھیمی آواز اور شائستہ کلمات سے مزین تقریر کرتے۔ زیادہ تر بات ہاتھ کے اشاروں سے سمجھاتے اور یہ آپ کا خاص انداز تھا جس سے دور بیٹھے لوگوں کو بھی دیکھ کر سمجھ میں آجاتا کہ مولانا کیاکہنا چاہتے ہیں ۔ درس میں راگ و تصنع جیسی کوئی چیز نہ ہوتی۔ دلائل کو اس ترتیب سے پیش کرنا کہ سامعین کو بخوبی سمجھ آجائے بس آپ پر ختم تھا۔ درس کے بعد سوال وجواب کی نشست ہوتی جس میں آپ مسکرا کر سائل کو ایساجواب دیتے کہ وہ مطمئن ہوجاتا۔
اس کے علاوہ مولانااپنے گھر میں باقاعدہ قرآن کا ترجمہ بھی پڑھاتے جس میں کافی طالب علم شریک ہوتے۔ دوسری طرف آپ کی اہلیہ بچیوں کو گھر میں پڑھاتیں ۔ میاں بیوی کی ان کوششوں کے نتیجہ میں سینکڑوں لڑکے لڑکیوں نے قرآن کے مفہوم کوسمجھا اور اپنی اولادوں کوبھی یہی سبق دیا۔ ان دنوں واربرٹن میں کچھ خرافاتی مولویوں نے مسلک ِاہلحدیث کو طعنہ و تشنیع کا ہدف بنایا ہوا تھا۔ مولانا نے اپنے دروس اور تحریروں سے فرقِ ضالہ کا خوب ردّ کیا اورمسلک ِحق کے دفاع میں ہمیشہ برسرپیکار رہے۔جرائد میں آپ کے مضامین و مقالات بھی زیادہ تر اسی نوعیت کے ہوتے۔
مولانا کسی مسجد میں باقاعدہ خطابت نہیں کرتے تھے۔ ان کی گونا گوں مصروفیات: سکول کی تدریس، تصانیف کا وسیع سلسلہ اور مطالعہ کے لیے وقت، پھر مختلف جرائد کے لیے لکھنے کا کام اور دروس کاسلسلہ جاری رکھنا، یہ سب کام مولانا کی دن رات کی مشغولیت میں شامل تھے، لیکن آپ نے کچھ عرصہ مرکزی جامع مسجد اہلحدیث میں خطبہ جمعہ پڑھایا۔ اسی طرح مسجد فاران اہلحدیث میں بھی کچھ عرصہ خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے۔مولانا نے ان خدمات کے صلہ میں کبھی کسی سے ایک پائی بھی وصول نہیں کی بلکہ سکول کی تنخواہ جو کہ ۸۰ روپے ماہوار تھی، سے ہی گزارہ کرتے۔ اتنے خوددار تھے کہ کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔مولانامسلک ِ اہلحدیث کی ترویج کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے، اس کااندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹرعمرحیات(مولانا کے شاگرد) کہتے ہیں کہ کلاس میں مولانا زبیدی ہمیں نماز سکھلاتے تو اس کے لیے کسی لڑکے کو ڈیسک پرکھڑا کردیتے اور مجھے ابھی تک یاد ہے کہ اَنوربزاز(مرحوم) کو ڈیسک پرکھڑا کرکے کہتے کہ ان کو نماز سکھلاؤ اور وہ نماز باقاعدہ اہلحدیثوں والی نماز ہوتی۔ بہرحال مولانانے واربرٹن میں ۳۵ سال کے طویل عرصے میں مسلک ِاہلحدیث کے لیے اخلاص کے ساتھ کام کیا اور اس مشن میں اپنی ملازمت کو بھی آڑے نہ آنے دیا۔
مولانا ؛ ایک علم دوست انسان
مولانا ایک علم دوست انسان تھے، مطالعہ کے از حد شوقین تھے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتے یالکھتے رہتے۔علم حاصل کرنے کا شوق آخر تک اتنا رہا کہ منڈی واربرٹن میں غلہ منڈی والی مسجد کے خطیب مولانا نور محمد جو کہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے،سے قدوری پڑھنے جاتے۔ ان کی بے حد تکریم کرتے یہاں تک کہ جب وہ بیماری کی وجہ سے نڈھال ہوگئے تو ان کی منہ سے بہنے والی رال اپنے ہاتھ سے پونچھتے اور کہتے کہ ’’اہل علم کی قدر کرو۔‘‘مولانا کومطالعہ و تحقیق کا جنون کی حد تک شوق تھا اور اس شوق کو پورا کرنے کے لیے اپنے پاس ہزاروں کتابیں جمع کررکھی تھیں ۔یہ کتابیں وہ طالب ِعلمی کے زمانے سے اکٹھی کررہے تھے۔کتابوں کے خریدنے کا اس قدر شوق تھا کہ اپنی پاکٹ منی کو جمع کرکے کتاب خرید لیتے اور یہ کتابیں آپ کے گھر میں اس قدر جگہ گھیرے ہوئے تھیں کہ کوئی ایسی جگہ جہاں پر کچھ کتابیں ٹک سکتی تھیں ، آخر وہ ان کتابوں کی زد میں آجاتی۔ آپا جی(مولانا کی بیوی)آپ سے شکایت کرتیں کہ گھر کے برتن کہاں رکھے جائیں ۔پروفیسر نعیم (مولانا کے شاگرد) کہتے ہیں کہ ’’آپ نے ان کو اس بات پر قائل کرلیا تھا کہ ضرورت کے برتن کچن میں رہیں اور باقی سب برتن ہم بوریوں میں بند کردیتے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔‘‘
آپ ان کتابوں کے مطالعہ میں غرق رہتے، یہی وجہ ہے کہ آپ مختلف مکاتب ِفکر کی خوبیوں اور خامیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے۔اکثر یہی ہوتا ہے کہ لوگ علمی رعب و دبدبہ کے لیے اپنے پاس کتابوں کا ڈھیر تو لگا لیتے ہیں ، لیکن ان میں اکثر کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن کو اُنہوں نے چھوا تک نہیں ہوتا، لیکن راقم کو مولانا کی کتابیں جو وہ مختلف اداروں کووقف کرچکے تھے کو دیکھنے کا موقع ملا اور تقریباً ہر کتاب پر مولانا نے حاشیہ لگایا ہوا تھا جس کا مطلب ہے کہ مولانا نے یہ کتاب اچھی طرح پڑھ رکھی تھی۔بلا شبہ آپ علمی دنیا میں ادیب، عالم، محقق، مصنف اور  ایک عظیم سکالر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: