حضرت خَدیجہؓ-1

 حضرت خَدیجہؓ حضورِ اقدس کی سب سے پہلی بیوی ہیں جو حضرت فاطمہؓ  کی والدہ اور حضرت حسن ؓوحسینؓ کی نانی تھیں ۔ اُن کے والد کا نام خویلد، دادا کا نام اَسد اور والدہ کا نام فاطمہ اور نانی کا نام زائدہ تھا،نسباً قریشیہ تھیں۔ چالیس سال کی عمر میں حضور سے شادی کی، اُس وقت جنابِ رسالت مآب کی عمر شریف پچیس سا ل تھی۔ ( استیعاب و اصابہ)
سیدِ عالم کے نکاح میں آنے سے پہلے یکے بعد دیگرے دو شوہروں سے نکاح کر چکی تھیں اور ہر ایک سے اَولاد بھی ہوئی تھی۔ ایک شوہر ابوہالہ اور دُوسرے عتیق بن عائز تھے۔ اِس میں سیرت نگاروں کا اِختلاف ہے کہ اِن دونوں میں اوّل کون تھے اور دوم کون؟ صاحبِ استیعاب اِس اختلاف کو نقل کرنے بعد ابوہالہ کو اوّل اور عتیق کو دوم قرار دینے کو ترجیح دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَالْقَوْلُ الْاَوَّلُ اَصَحُّ اِنْشَآءَ اللّٰہُ تَعَالیٰ(پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے اِنشاء اللہ تعالیٰ )۔
حرمِ نبوت میں کیونکر آئیں
جب حضرت خَدیجہؓ کے دونوں شوہر یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے تو اُن کی شرافت اور مالداری کی وجہ سے مکّہ کا ہر شریف اِس کا متمنی ہوا کہ حضرت خَدیجہؓ سے عقد کرے لیکن ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ حضرت خَدیجہؓ کو اَشرف الخلائق کے نکاحِ پُر فلاح میں آنا نصیب ہوا اور ام المؤمنینؓ کے مکرم لقب سے نوازیں گئیں ۔
سیّدِ عالم کی عمر شریف جب  پچیسویں برس کو پہنچی تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ میں مالدار آدمی نہیں ہوں جو میں تم کو مال دے کر تجارت کراؤں اور چونکہ یہ دِن سختی سے گزر رہے ہیں اِس لیے کسبِ معاش میں لگنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا تم ایسا کرو جس طرح تمہارے قوم کے دُوسرے لوگ خَدیجہ ؓکا مال شام لے جا کر بیچتے ہیں اور اِس میں نفع کماتے ہیں اِسی طرح تم بھی اُن کا مال شام لے جا کر فروخت کر کے نفع حاصل کرو۔
جب حضرت خَدیجہؓ کو اِس کی خبر لگی کہ محمّد بن عبد اللہ الامین کو اُن کے چچا میرا مال شام لے جا کر فروخت کرنے کو فرما رہے ہیں تو اُنہوں نے آنحضرت کی دیانت و اَمانت داری اور معاملہ کی راست بازی کی وجہ سے خود ہی آپ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال شام لے جائیں ۔ دُوسروں کو جو نفع دیتی ہوں آپ کو اُس سے دُگنا نفع دُوں گی۔ چنانچہ آپ نے منظور فرمایا۔اور اَسبابِ تجارت لے کر شام کو روانہ ہوئے۔ حضرت خَدیجہؓ نے اپنا ایک غلام بھی آپ کے ساتھ کر دیا تھا جس کا نام میسرہ تھا۔ آپ نے نہایت دانشمندی سے حضرت خَدیجہؓ کے مال کی تجارت کی جس کی وجہ سے اُن کو گزشتہ پچھلے سالوں کی بہ نسبت اِس سال بہت زیادہ نفع ہوا۔
راستہ میں میسرہ نے آپ کی بہت باتیں دیکھیں جو عام آدمیوں کی نہیں ہوتی ہیں جن کو عربی میں ” خَوَارِقُ الْعَادَةْ ” کہتے ہیں اور یہ بات بھی پیش آئی کہ جب آپ نے شام کے سفر میں ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا: تو وہاں ایک راہِب بھی موجود تھا۔ اُس نے میسرہ سے دریافت فرمایا: کہ یہ کون صاحب ہیں ؟ میسرہ نے کہا یہ مکّہ کے باشندہ ہیں اور قریشی نوجوان ہیں ۔ راہِب نے کہا یہ نبی ہوں گے جس کی وجہ یہ تھی کہ اُس راہِب نے آپ کے اندر نبی آخر الزّمان کی وہ علامتیں دیکھ لی تھیں جو پہلی کتابوں میں لکھی تھیں ۔
شام سے واپس ہو کر جب مکّہ میں داخل ہو رہے تھے تو دوپہر کا وقت تھا۔ اُس وقت حضرت خَدیجہؓ اپنے بالا خانے میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ اُن کی نظر آنحضرت پر پڑی تو دیکھا کہ دو فرشتے آپ پر سایہ کیے ہوئے ہیں اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے غلام میسرہ سے بھی (اِسی قسم کے ) عجیب عجیب حالات سنے اَور راہِب کا یہ کہنا بھی میسرہ نے سُنادیا کہ یہ نبی آخرالزماں ہوں گے۔ لہٰذا حضرت خَدیجہؓ نے خود ہی نکاح کا پیغام آپ کی خدمت میں بھیج دیا۔
یعلیٰ بن اُمیہ کی بہن نفیسہ نامیِ  پیغام لے کر گئیں ۔ چنانچہ آپ نے منظور فرمایا: اور آپ کے چچا حضرت حمزہؓ اور ابوطالب نے بھی بخوشی اِس کو پسند کیا۔ نکاح کیلیے حضرت حمزہؓ اور ابوطالب اور خاندان کے دیگر اکابر حضرت حضرت خَدیجہؓ کے مکان پر آئے اور نکاح ہوا۔ اُس وقت حضرت خَدیجہؓ کے والد زندہ نہ تھے وہ پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ ہاں اِس نکاح میں اُن کے چچا عمرو بن اَسد شریک تھے اور اِن کے علاوہ حضرتِ خَدیجہؓ نے اپنے خاندان کے دیگر اکابر کو بھی بلایا تھا۔ عمرو بن اَسد کے مشورہ سے ٥٠٠ درہم مہر مقرر ہوا اور حضرت خَدیجہؓ”اُمّ المؤمنین” کے مشرف خطاب سے ممتاز ہوئیں ۔ (الاصابہ و اُسد الغابہ)
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں مکّہ والوں کی عورتیں ایک خوشی کے موقع پر جمع ہوئیں ۔ اُن میں حضرت خَدیجہؓ بھی موجود تھیں ۔ اچانک وہیں ایک شخص ظاہر ہو گیا جس نے بلند آواز سے کہا کہ :
اے مکّہ کی عورتوں ! تمہارے شہر میں ایک نبی ہو گا جسے”احمد”کہیں گے تم میں سے جو عورت اُن سے نکاح کرسکے ضرور کر لے۔ یہ باتیں سن کر دُوسری عورتوں نے بھول بھلیّو ں میں ڈال دی اور حضرت خَدیجہؓ نے گرہ باندھ لی اور اِس پر عمل کر کے کامیاب ہو کر رہیں ۔ (الاصابہ)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: