حَجامَہ احادیث کی روشنی میں

حجامہ لگوانے کی فضیلت
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث #648         حدیث مرفوع       مکررات 3
 محمّد بن عبدالرحیم، سریج بن یونس، ابوالحارث، مروان بن شجاع، سالم افطس، سعید بن جبیر، حضرت ابن ؓ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت نے فرمایا کہ شفا تین چیزوں میں ہے پچھنے لگوانا، شہد پینا یا آگ سے داغ لگوانا، اور اپنی امت کو داغ لگوانے سے منع کرتا ہوں۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث #471        حدیث مرفوع       مکررات 1
 ابو توبہ، ربیع بن نافع، سعید بن عبدالرحمن، سہیل، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ جس شخص نے تاریخوں سترہ، انیس یا اکیس  میں پچھنے لگوائے تو اس کے لیے ہر بیماری سے شفا ہے۔
صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث #1545        حدیث مرفوع       مکررات 17 متفق علیہ10
 یحیی بن ایوب، قتیبہ، علی بن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ نے پچھنے لگوائے ۔ ابوطیبہ نے آپ کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے اس کا خراج کم کرنے کے لیے سفارش کی اور فرمایا تمہاری دواؤں میں سے بہترین دواء پچھنے لگوانا ہے جن سے تم دوا کرتے یا یہ تمہاری بہترین دواؤں جیسا ہے۔
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث #360         حدیث مرفوع       مکررات 5
 حبارہ بن مغلس، کثیر بن سلیم، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا شب معراج میں جس جماعت کے پاس سے بھی میں گزرا اس نے یہی کہا اے محمّد! اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم فرمائیے ۔
مسند احمد:جلد دوم:حدیث #1405       حدیث مرفوع
 حضرت ابن ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا وہ بہترین دن جس میں تم سینگی لگوا سکتے ہو، سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے اور فرمایا کہ شب معراج میرا ملائکہ کے جس گروہ پر بھی ذکر ہوا ، اس نے مجھ سے یہی کہا کہ اے محمّد سینگی لگوانے کو اپنے اوپر لازم کر لیجئے۔
رسول اللہ کا حجامہ لگوانا
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث #665         حدیث مرفوع       مکررات 38 متفق علیہ17
 محمّد بن بشار، ابن عدی، ہشام، عکرمہ، ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبی نے درد سر کے وجہ سے حالت احرام میں پچھنے لگوائے، اس وقت آپ اس پانی کے پاس تھے، جس کو لحی جمل کہا جاتا ہے، اور محمّد بن سوار نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام نے انہوں نے عکرمہ سے، کہ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے آدھے سرکے درد کے وجہ سے حالت احرام میں پچھنے لگوائے۔
جامع ترمذی:جلد اول:حدیث #2145        حدیث مرفوع       مکررات 17
 عبدالقدوس بن محمّد، عمرو بن عاصم، ہمام جریر بن حازم، قتادہ، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ سر کے دونوں جانب کی رگوں اور شانوں کے درمیان پچھنے لگایا کرتے تھے اور یہ عمل سترہ، انیس یا اکیس تاریخ کو کیا کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس اور معقل بن یسار ؓ سے بھی احادیث منقول ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
سنن نسائی:جلد دوم:حدیث #761        حدیث مرفوع       مکررات 3
 اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، قتادة، انس، ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم نے اپنے پاؤں میں موچ آنے کی وجہ سے اس پر پچھنے لگوائے حالانکہ آپ اس وقت حالت احرام میں تھے۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث #469       حدیث مرفوع       مکررات 2
 عبدالرحمن بن ابراہیم، کثیر بن عبید، ولید بن ابن ثوبان، ابی کبشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم اپنی مانگ میں پچھنے لگواتے تھے اور اپنے کندھوں کے درمیان لگواتے تھے اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے ان خونوں کو نکلوایا تو اسے کسی بیماری کے لیے دوا نہ کرنا نقصان نہیں پہنچائے گا۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث #1110         حدیث مرفوع       مکررات 5
 سلیمان بن داؤد مہری، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا پھر اسے رسول اللہ کو ہدیہ کردیا۔ نبی نے بکری کی دست کا گوشت لیا اور اس میں سے کھایا اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا پس اچانک رسول اللہ نے ان سے فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو کھانے سے روک لو۔ اور رسول اللہ نے یہودیہ کو بلایا پھر اس سے کہا کہ کیا تو نے اس بکری میں زہر ملایا تھا اس نے کہا کہ آپ کو کس نے بتایا آپ نے فرمایا کہ مجھے میرے ہاتھ میں دست نے بتلایا۔ اس نے کہا کہ جی ہاں لیکن میں نے اس سے آپ  کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا وہ کہنے لگی کہ میں نے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر آپ نبی نہیں ہیں تو ہم اس سے راحت حاصل کریں گے تو رسول اللہ نے اسے معاف کردیا اور اسے سزا نہیں دی اور اس بکری کے کھانے کے بعد آپ کے بعض صحابہ انتقال کر گئے اور رسول اللہ نے اس بکری کے کھانے کی وجہ سے پچنے لگوائے اور آپ کو ابوہند نے سینگ اور چھری کے ذریعہ سے پچنے لگائے اور ابوہند بنی بیاضہ کا آزاد کردہ غلام تھا جوانصار کا ایک قبیلہ ہے۔
سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث #1242        حدیث مرفوع       مکررات 38
 بکر بن خلف، ابوبشر ، محمّد بن ابی ضیف، ابن خثیم، ابی زبیر، جابر سے روایت ہے کہ نبی نے بحالت احرام پچھنے لگوائے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو ہڈی سرکنے کی وجہ سے عارض ہوا۔
مسند احمد:جلد ششم:حدیث #166        حدیث مرفوع     
 حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ نبی نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈیاں یا کمر میں موچ آ جانے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔
مسند احمد:جلد نہم:حدیث #311        حدیث مرفوع     
  حضرت سمرہ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی علیہ السلام نے حجام کو بلایا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آ گیا، اس نے نبی علیہ السلام کے سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا، اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آ گیا، جس کا تعلق بنوجذیمہ کے ساتھ تھا، نبی علیہ السلام کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اسے سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا، اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اسے "حجم” کہتے ہیں، اس نے پوچھا کہ "حجم” کیا چیز ہوتی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ، جس سے لوگ علاج کرتے ہیں۔
تندرستی میں حجامہ لگوانے کی فضیلت
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث #663        حدیث مرفوع       مکررات 6 متفق علیہ6
 سعید بن تلید، ابن وہب، عمرو وغیرہ، بکیر، عاصم بن عمربن قتادہ، جابر بن عبداللہؓ منقع کی عیادت کو گئے تو کہا کہ میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا، جب تک کہ تم پچھنے لگوالو، اس لئے کہ میں نے آپ سے سنا کہ اس میں شفا ہے۔
جامع ترمذی:جلد اول:حدیث #2147         حدیث مرفوع       مکررات 3
 عبد بن حمید، نضر بن شمیل، عباد بن منصور، حضرت عکرمہؓ فرماتے ہیں کہ ابن عباس کے پاس تین غلام تھے جو پچھنے لگاتے تھے۔ ان میں سے دو تو اجرت پر کام کیا کرتے اور ایک ان کی اور ان کے گھر والوں کی حجامت کیا کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رسول اللہ کا یہ قول نقل کرتے تھے کہ فرمایا حجامت کرنے والا غلام کتنا بہترین ہے۔ خون کو لے جاتا ہے۔ پیٹھ کو ہلکا کر دیتا ہے اور نظر کو صاف کر دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا جب رسول اللہ معراج کو تشریف لے گئے تو فرشتوں کے جس گروہ سے بھی آپ کا گزر ہوا۔ انہوں نے یہی کہا کہ حجامت ضرور کیا کریں۔ فرمایا پچھنے لگانے کے لیے بہترین دن سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہیں۔
یہ بھی فرمایا کہ بہترین علاج سعوط، لدود، حجامت اور مشی ہے۔ نبی اکرم
کے منہ میں حضرت عباس اور بعض صحابہ نے دوا ڈالی تو آپ نے فرمایا کہ ہر موجود شخص کے منہ میں (بطور قصاص) دوا ڈالی  جائے۔ پس آپ چچا عباس کے علاوہ سب حاضرین کے منہ میں دوائی ڈالی گئی۔ نضر کہتے ہیں کہ لدود، وجود کو کہتے ہیں یعنی منہ کی جانب سے دوائی پلانا۔ اس باب میں حضرت عائشہ سے بھی روایت ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث #467        حدیث مرفوع       مکررات 3
 موسی بن اسماعیل، حماد، محمّد بن عمرو، ابی سلمہ، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو ان میں سے اگر کسی میں خیر ہے تو وہ پچھنے لگانا ہے۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث #468        حدیث مرفوع       مکررات 3
 محمّد بن وزیر، یحیی، عبدالرحمن بن ابی موال، اپنے مولا سے اور وہ اپنی دادی حضرت سلمی جو حضور اکرم کی خادمہ تھیں سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمی ؓ نے فرمایا کہ حضور اکرم کے پاس کوئی بھی اپنے سر میں درد کی شکایت نہ کرتا الا یہ کہ حضور اکرم اسے یہی فرماتے کہ پچھنے لگواؤ اور دونوں ٹانگوں میں درد کی شکایت نہ لاتا مگر یہ کہ اسے فرماتے کہ مہندی لگاؤ۔
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث #359        حدیث مرفوع       مکررات 3
 ابوبشربکر بن خلف، عبدالاعلی، عباد بن منصور، عکرمہ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اچھا ہے وہ بندہ جو پچھنے لگاتا ہے۔ خون نکال دیتا ہے۔ کمر ہلکی کر دیتا ہے اور بینائی کو جلاء بخشتا ہے ۔
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث #368       حدیث مرفوع       مکررات 2
 سوید بن سعید، عثمان بن مطر، حسن بن ابی جعفر، محمّد بن حجادہ، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا اے نافع ! میرے خون میں جوش ہوگیا ہے اسلئے کوئی پچھنے لگانے والا تلاش کرو۔ اگر ہوسکے تو نرم خو آدمی لانا۔ عمر رسیدہ بوڑھایا کم سن بچہ نہ لانا اسلئے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا نہار منہ پچھنے لگوانا بہتر ہے اور اس میں شفاء ہے برکت ہے۔ یہ عقل بڑھاتا ہے حافظہ تیز کرتا ہے۔ اللہ برکت دے جمعرات کو پچھنے لگوایا کرو اور بدھ، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز قصدا پچھنے مت لگوایا کرو (اتفاقاً ایسا ہو جائے تو حرج نہیں) اور پیر اور منگل کو پچھنے لگوایا کرو۔ اسلئے کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو بیماری سے شفاءعطا فرمائی اور بدھ کے روز وہ بیمار ہوئے تھے اور جذام اور برص ظاہر ہو توبدھ کے دن یا بدھ کی رات کو ظاہر ہوتا ہے ۔
مسند احمد:جلد پنجم:حدیث #1662         حدیث مرفوع
 حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی نے حالت احرام میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر درد کی وجہ سے سینگی لگوائی۔
حجامہ لگوانے کی جگہ
صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث #392        حدیث مرفوع       مکررات 38 متفق علیہ 17
 ابوبکر بن ابی شیبہ، معلی بن منصور، سلیمان بن بلال، علقمہ بن ابی علقمہ، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابن بحینہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی نے احرام کی حالت میں مکہ کے راستے میں اپنے سر مبارک کے درمیانی حصہ میں پچھنے لگوائے۔
سنن نسائی:جلد دوم:حدیث #761        حدیث مرفوع       مکررات 3
 اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، قتادة، انس، ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم نے اپنے پاؤں میں موچ آنے کی وجہ سے اس پر پچھنے لگوائے حالانکہ آپ اس وقت حالت احرام میں تھے۔
سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث #74       حدیث مرفوع       مکررات 3
 احمد بن حنبل، عبدالرزاق، معمر، قتادہ، حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے درد کی بنا پر پشت قدم پر حالت احرام میں پچھنے لگوائے
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث #474        حدیث مرفوع       مکررات 2
 مسلم بن ابراہیم، ہشام، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے تکلیف کی وجہ سے سے اپنے کولھے میں پچھنے لگوائے۔
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث #363       حدیث مرفوع       مکررات 5
 سوید بن سعید، علی بن مہر، سعداسکاف، اصبغ بن نباتہ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کے پاس آئے اور آپ سے گردن کی رگوں اور مونڈھوں کے درمیان پچھنے لگانے کا کہا۔
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث #366        حدیث مرفوع       مکررات 2
 محمّد بن طریف، وکیع، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اپنے گھوڑے سے کھجور کے ایک ٹنڈ پر گرے تو آپ کے پاؤں مبارک میں موچ آگئی۔ وکیع فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ نبی نے پچھنے لگوائے صرف درد کیوجہ سے ۔
Advertisements
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: