شاہ احمد رضا خان بَریلوی-1

تعارف
 احمد رضا خان ؒ نسباً پٹھان تعلق فقۂِحنفی سے مشرباً قادری اور مولدا شمالی بھارت کے شہر بریلی کے ایک مشہور عالمِ دین تھے ۔ امام احمد رضا خانؒ کی وجہ شہرت میں اہم
آپکی حضور ﷺسے محبت، آپ ﷺکی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزارہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاویِٰ رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بَریلوی کہلاتے ہیں۔
دینی علوم کی تکمیل گھر پر اپنے والد مولوی نقی علی خان سے کی۔ 2 مرتبہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ درس و تدریس کے علاوہ مختلف علوم و فنون پر کئی کتابیں اور رسائل تصنیف و تالیف کیے۔ قرآن کا اردو ترجمعہ بھی کیا جو کنز الایمان کے نام سے مشہور ہے۔ علوم ریاضی و جفر میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شعر و شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ رسول اکرم ﷺکی شان میں بہت سی نعتیں اور سلام لکھے ہیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو میں 1ہزار کے قریب کتابیں تصنیف کیں۔ بعض جگہ ان کتابوں کی تعداد 1400ہے۔
ولادت:
 آپ کی ولادت باسعادت بریلی شریف (یو۔پی)کے محلّہ جسولی میں 10 شوال المکرّم 1272ھ، بروزِ ہفتہ بوقتِ ظہر مطابق 14 جون 1856ھ میں ہوئی۔
نام
 احمد رضا خانؒ کا نام محمّد رکھا گیا اور تاریخی نام “المختار“ 1676ھ(1852ء)لیکن جداامجد مولانا رضا علی خان ؒ نے “احمدرضا“ تجویز فرمایا۔ بعد میں احمد رضا خانؒ نے خود اسی اسم شریف کے ساتھ عبدالمصطفٰی کا اضافہ فرمایا۔
بچپن
مولانا نے چار برس کی ننھی عمر میں قرآن مجید ناظرہ کیا اور چھ سال کی عمر میں منبر پر مجمع کے سامنے میلاد شریف پڑھا۔
اردو فارسی اور عربی پڑھنے کے بعد مولانا نے اپنے والد ماجد رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان سے عربی زبان میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تیرہ برس دس مہینے اور چاردن کی عمر میں ایک عالم دین ہوگئے۔ 14 شعبان 1286ھ مطابق 19 نومبر 1869ء میں مولانا کو عالم دین کی سند دی گئی اور اسی دن والد نے مولانا کے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتویٰ نویسی کی خدمت انکے سپرد کی۔ جسے مولانا نے 1340ھ مطابق 1921ء اپنی وفات کے وقت تک جاری رکھا۔(حیاتِ اعلٰی ؒ ، ج1، ص 279، مکتبتہ المدینہ، باب المدینہ کراچی )
بچپن کی ایک حکایت :
جناب سید ایوب علی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ بچپن میں آپؒ کو گھر پر ایک مولوی صاحب قرآن مجید پڑھانے آیا کرتے تھے ایک روز کا ذکر ہے کہ مولوی صاحب کسی آیتِ کریمہ میں بار بار ایک لفظ آپ کو بتاتے تھے مگر آپ کی زبان مبارک سے نہیں نکلتا تھا۔ وہ “زبر“ بتاتے تھے۔ آپ “ زیر “ پڑھتے تھے یہ کیفیت آپ ؒ کے دادا
مولانا رضا علی خان صاحبؒ نے بھی دیکھی حضور کو اپنے پاس بلایا اور کلام پاک منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتب نے غلطی سے زیر کی جگہ زبر لکھ دیا تھا، یعنی جو اعلی
ٰحضرت ؒ کی زبان سے نکلتا تھا وہ صحیح تھا۔ آپ کے دادا نے پوچھا کہ بیٹے جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے تم اُسی طرح کیوں نہیں پڑھتے تھے۔ عرض کیا میں ارادہ کرتا تھا مگرزبان پر قابو نہ پاتا تھا۔اس قسم کے واقعات مولوی صاحب کو بارہا پیش آئے تو ایک مرتبہ تنہا ئی میں مولوی صاحب نے پوچھا:
 صاحبزادے ! سچ سچ بتا دو میں کسی سے کہوں گا نہیں تم انساں ہو یا جن‌؟ آپ نے فرمایا اللہ کاشکرہے میں انسان ہی ہوں، ہاں اللہ کا فضل و کرم شامل حال ہے۔
بسم اللہ خوانی
مولانا کی بسم اللہ خوانی کی رسم کے موقع پر ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ آپ کے استاد محترم مرزا غلام قادر بیگ بَریلوی نے حسب دستور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد الف ب ت ث ج وغیرہ حروف تہجی مولانا کو پڑھانا شروع کیا۔ استاد کے بتانے کے مطابق مولانا پڑھتے گئے جب لام الف کی نوبت آئی ۔ استادنے فرمایا کہو لام الیف تو مولانا خاموش ہوگئے اور لام الیف نہیں پڑھا ۔ استادنے دوبارہ کہا۔ میاں صاحبزادے کہو لام الیف مولانا نے کہا یہ دونو حرف تو میں پڑھ چکا ہوں ۔ الیف بھی پڑھا اور لام بھی پڑھ چکا ہوں۔ اب دوبارہ کیوں پڑھا یا جارہا ہے؟ محفل بسم اللہ خوانی میں اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان قدس سرہ کے دادا جان مولانا شاہ رضا علی خان موجود تھے فرمایا بیٹا استاد کا کہا مانو۔ جو کہتے ہیں پڑھو۔ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان قدس سرہ نے حکم کی تعمیل کر تے ہوئے لام الف پڑھا لیکن جد امجد کے چہرہ کی طرف مستفسرانہ نگاہ ڈالی۔ جد امجد مولانا شاہ رضا علی خان نے بھانپ لیا کہ گویا یہ ننھا بچہ کہہ رہا ہے کہ آج کے سبق میں تو حُرُف مفردہ کا بیان ہے پھر ان کے درمیان ایک مرکب لفظ کیسے آگیا۔ اگرچہ بچے کی ننھی عمر کے اعتبار سے لام کے ساتھ الف ملا نے کی وجہ بیان کرنا قبل از وقت بات تھی ، اس وقت بچہ کی عمر تو ضرور ننھی ہے مگر اس کا ادراک و شعور بفضلہ تعالیٰ ننھا نہیں اس لئے آپ نے مولانا سے فرمایا بیٹا شروع میں سب سے پہلا حرف جو تم نے پڑھا ہے وہ حقیقت میں ہمزہ ہے الف نہیں اور اب لام کے ساتھ جو حرف ملاکر تم پڑھ رہے ہو وہ الف ہے لیکن چونکہ الف ہمیشہ ساکن رہتا ہے اور تنہا ساکن حرف کو کسی طرح پڑھا نہیں جا سکتا اس لئے لام کے ساتھ الف کو ملا کر اس کا بھی تلفظ کر دیا گیا ۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر یہی مقصود تھا کہ الف کا تلفظ کرا یا جائے۔ تو اسے کسی بھی حرف کے ساتھ ملا سکتے تھے مسلاً ب یا جیم یا دال کے ساتھ بھی ملا کر الف کا تلفظ کریا جا سکتا تھا لیکن ان سارے حروف کو چھوڑ کر لام کے ساتھ الف ملا کر اس کی ادائیگی کرائی گئی۔ ایسا کیوں ہو؟ لام سے الف کا خاص رشتہ کیا ہے؟ مولانا کا یہ سوال سن کر جد امجد نے جوشِ محبت میں آپ کو گلے لگالیا اور دل سے دعائیں پھر
فرمایا بیٹا لام اور الف کے درمیان صورۃً اور سیرۃً بڑا گہرا تعلق ہے۔ لکھنے میں دونوں کی صورت اور شکل ایک دوسرے کی طرح ہے دیکھو لا اور سیرۃً یوں تعلق ہے کہ لام کا قلب یعنی مرکز الف ہے اور الف کا قلب یعنی مرکزلامہے یعنی ل ا م کے بیچ میں الف اور ا ل ف کے بیچ میں لام ہے گویا
من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
یعنی اے مرشد تجھ میں فنا ہو کر میں تو ہوا تو میں ہوا میں جسم بنا اور تو روح ہوا تاکہ کوئی شخص اس کے بعد یہ نہ کہے کہ میں اور ہوں تو اور ہے۔ ظاہری نگاہ میں تو حضرت جد امجد مولانا شاہ رضا علی خان قدس سرہ نے اس الف لام کے مرکب لا نے کی وجہ بیان فرمائی مگر باتوں ہی باتوں میں اسرار و حقائق، رموز و اشارات کے دریافت وادراک کی صلاحیت اعلیٰ حضرت کے قلب و دماغ میں بچپن ہی سے پیدا فرمادی جس کا اثر بعد میں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اعلیٰ حضرت اگر شریعت میں سیّد نا امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کے قدم بقدم ہیں تو طریقت میں سرکار غوث الاعظم کے نائب اکرم ہیں۔
Advertisements
18 comments
  1. ہمارے علمائے دین نے جہاں اسلام کی بہت زیادہ خدمت کی وہاں ان کے مریدوں نے ان کی محبت میں اسلام میں ایک اور فرقے کو جنم دے دیا۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ تازہ اضافہ مولانا طاہر القادری کا ہے۔

    • اب مریدین کہہ لیں یا بھٹکے ہوئے
      اس میں مرشد کا کیا قصور؟

      طاہر القادری کی کوئی بھی صحیح العقیدہ شخص حمایت نہیں کر سکتا

    • لکھنے والے نبیﷺ کی توہیں میں کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں وہ بھی قرآن کی غلط تفسیر پیش کر کے
      اس میں ایسی بڑی بات کونسی ہے

  2. میں نے رضا خان صاحب کے بہت کتابیں پڑھے ہیں اور آپ کے بارے میں بھی ۔ آج بھر ایک بار آپ کے بلاگ پر پڑھ کر اچھا لگا ،شکریہ

  3. بہت بہت شکریہ

    مگر میں نے اس سے قبل حضرت احمد رضا خان صاحب کے نام کے آگے ” شاہ ” نہیں دیکھا تھا۔

    جزاک اللہ

  4. ۔”بعد میں احمد رضا خانؒ نے خود اسی اسم شریف کے ساتھ عبدالمصطفٰی کا اضافہ فرمایا”۔
    عبد کے معنی بندہ کے ہیں چنانچہ مسلمان عبدالرحیم اور اسی طرح کئی نام اپناتے ہیں کیونکہ بندگی صرف اللہ کیلئے ہے ۔ کیا مصطفٰی بھی اللہ کا نام ہے ؟ اگر نہیں تو اس کے معنی کیا ہیں ؟

    • Obaid Raza said:

      عبد کے معنی صرف بندہ کے نہیں ہیں۔یہ لفظ عوبی کا ہے اور عربی میں اس سے مراد غلام، ماتحت، کے بھی ہیں، امام احمد رضا سے پہلے بھی اس نام کے "علماء” گزرے ہیں۔ اسی عبد سے عبید نکلا ہے جس سے مراد چھوٹا غلام ہے۔

  5. The Words "Raoof” and "Raheem” are found in The Holy Quran for Almighty Allah and also for Holy Prophet. Now, What idea about The Name “Abdul Raoof” and "Abdul Raheem”? May be It is also "Shirk” according to so-called Muslims.
    قرآن مجید میں "رؤف” اور "رحیم” کے الفاظ اللہ تعالیٰ اور رسول پاک دونوں کے لیے آئے ہیں۔ تو کیا نام نہاد مسلمانوں کے نزدیک یہ بھی "شرک” ٹھہرا کہ کسی کا نام عبدالرؤف یا عبدالرحیم ہو؟

    • رسول کیا عبدالرحیم تو کسی عام مسلمان کو بھی کہہ سکتے ہیں
      اس میں شرک کیا؟
      رحیم بھولے سے کہہ دیا تو معاف ہے لیکن جان بوچھ کر کہنا اور پھر اس پر ڈٹ جانا گناہ ہے
      اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہوا اس کے جیسا نام رکھنا شرک میں نہیں لیکن گناہ ہو سکتا ہے۔

  6. مجھ سے لفظ
    The Name “Abdul Raoof”
    غلطی سے hte Name “Abdul Raoof” لکھا جا چکا ہے۔
    ازراہ کرم درستگی فرما دیں

  7. ﴾ لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْه مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿128﴾

    • لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
      [9:128]
      دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے

  8. It is Ayah of Surah Al-Toubah, and Prophet is called "Raheem” here! Now, What’s Fatwa?

    • رحیم کیا مطلب رحم کرنے والا؟
      کیا کابھی کبھی ابو نہیں مارا کرتے تھے آپ کے آپ کو؟
      اور امی نے نہیں کہا کہ کچھ تو رحم کرو بچہ ہے؟
      کیا ابو رحیم نہ ہوئے؟
      ابو رحیم تو ہم بھی نبی اس سے کئی ہزار گنا رحیم
      قرآن خود کہتا ہے وہ تو رحمت العالمین ہیں
      صرف انسانون کے لئے نہیں عالمین کے لئے
      آپ سے کس نے کہہ دیا کہ رحیم کہنا شرک ہے؟
      رحیم صفت ہر انسان کی ہے

      آپ جو کہنا چاہ رہے ہیں وہ کچھ اور ہےمیں سمجھ رہی ہوں
      مین معبودیت اس اللہ کے ساتھ خاص صفات میں شریک کرنے کو شرک گردانتی ہوں
      کہ جیسے غیب کا علم صرف اللہ جانتا ہے
      اپنے پسندیدہ بندون کو جتنا چاہتا ہے دیتا ہے
      نبیﷺ کو بھی دیا
      کتنا دیا ہم نہیں جانتے لیکن مکمل اپنا علم دیا یہ ایمان میرا نہیں
      اور بس میں زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتی آپ کے پاس وقت ہے کیجئے میں جواب نہیں دوں گی

  9. آپ نے فرمایا
    "رحیم بھولے سے کہہ دیا تو معاف ہے لیکن جان بوچھ کر کہنا اور پھر اس پر ڈٹ جانا گناہ ہے”
    اس کے بعد آپ نے ابو کو رحیم کہہ بھی دیا
    اور
    آپ نے علم غیب کل نبی کریم کے واسطے نہیں تسلیم کیا
    حالانکہ قرآن میں آپ نے
    وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَّها
    پڑھا ہو گا
    وہاں کُل کا انکا آپ کو بھی نہیں
    یہاں نجانے کیوں
    جب اللہ نے فرمایا کہ قرآن میں ہر خشک اور تر کا ذکر ہے
    اور اللہ نے فرمایا
    وَعَلَّمَ لْقُرْآن
    جو نبی پاک کے لیے خاص ہے
    تو منکر ہونے کی وجہ کہیں نبی پاک سے بغض تو نہیں؟
    میرے پاس وقت ہے تو بات بھی ٹھوس ہے
    ڈھکوسلے نہیں مارتا پھرتا

    • Obaid Raza said:

      انھوں نے گناہ نہیں کہا،
      "۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جیسا نام رکھنا شرک میں نہیں لیکن گناہ ہو سکتا ہے۔
      اس جملے کا مطلب ہے کہ شرک تو ہو نہیں سکتا شاہد گناہ ہو۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: