سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم -1

سیّدہ فاطمہ بنت اسدنے علمی و روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی۔آپ کے دادا سیّدنا ہاشم بن عبدمناف سردار قریش اور کعبۃ اللہ کے متولی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک با صلاحیت اور سخی انسان تھے۔انہوں نے اپنے ہی خاندان کی ایک باوقار خاتون سے عقد کیا جن سے ایک صاحبزادے اسد تشریف لائے جو سیّدہ فاطمہ بنت اسد کے والد تھے۔ قبائل عرب میں ہاشمی خاندان اپنی اخلاقی و روحانی اقدار اور انسان دوستی کی بلندیوں کے باعث منفرد احترام رکھتا تھا ۔وقاروعظمت ،سخاوت وصداقت،شجاعت وبسالت اور ان گنت خصائل بنی ہاشم کا وصف ہیں ۔
سیّدنا عبدالمطلب جو کہ انتہائی دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے ،آپ کی فطرت، ذہانت اور بے پناہ صلاحیتوں کا اندازہ کرتے  ہوئے آپ کو اپنے عالی قدر فرزند ارجمند سیّدنا ابو طالب کے لئے منتخب فرمایا۔آپ عرب کی عورتوں میں انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھی جاتی تھیں ۔آپ کے عقد کے موقع پرتمام قبائل عرب نے شرکت کی اور بارگاہ عبدالمطلب میں تہنیت پیش کی۔سیّدنا ابو طالب نے اپنا خطبہ ء نکاح ان الفاظ میں ارشاد فرمایا :
 سب تعریفیں پروردگار عالمین کے لئے ہیں جو عرش عظیم کا پروردگار ہے ،جو مقام ابراہیم ،مشعر الحرام اور حطیم کا پروردگار ہے۔ جس نے ہمیں سرداری، کعبہ کی دربانی اور خدمت، انتہائی بلند مقام دوستی ، اور اپنی حجت کی سرداری کے لئے منتخب فرمایا ۔جس نے ہمارے لئے مشاعر کو قائم کیا اور ہمیں تمام قبیلوں پر فضیلت عطا فرمائی اور اس نے ہمیں آل ابراہیم میں سے چن لیا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے قرار دیا ۔میں فاطمہ بنت اسد سے عقد کرتا ہوں ،حق مہر ادا کرتا ہوں اور معاملہ نافذ کرتا ہوں ،تم ان سے پوچھ لو اور گواہی دو ۔
جناب اسد نے فرمایا :ہم نے ان کی آپ سے شادی کی اور ہم آپ سے راضی ہوئے ۔ اس کے بعد تمام عرب کے وفود کی ضیافت کی گئی ۔حضرت فاطمہ بنت اسدنے جناب ابو طالب کے ہمراہ زندگی گزارنا شروع کی ۔آپ نے گھر کے معاملات اور تمام تر مسائل کی ذمہ داریوں کو صبر و صداقت ،خلوص ، پاکیزہ سوچ ،صاف دل ، انتہائی محبت اور پاکیزگی کے ساتھ پورا کیا ۔
آغوش مصطفٰی
آپ فرمایا کرتی تھیں ، جب حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوگیا تو حضرت ابو طالب آپ کو (سیّدنا محمد) اپنے ساتھ لے آئے ۔میں ان کی خدمت کیا کرتی اور وہ مجھے امّاں کہہ کر پکارا کرتے ۔ ہمارے گھر کے باغیچہ میں کھجوروں کے درخت تھے ۔تازہ کھجوروں کے پکنے کا موسم شروع ہوا ،حضرت محمد کے دوست بچے ہر روز ہمارے گھر میں آتے اور جو کھجوریں گرتیں وہ چن لیتے ۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ سے پہلے کسی بچے نے کوئی کھجور اٹھائی اور محمد نے اس سے چھینی ہو،جب کہ دوسرے بچے ایک دوسرے سے چھینتے رہتے ۔میں ہر روز محمد کے لئے دونوں ہاتھ بھر کے چن لیتی ۔اسی طرح میری کنیز بھی دونوں ہاتھ بھر کے رکھ لیتی ۔ایک دن میں اور میری کنیز بھول گئیں اور ہم کھجوریں نہ چن سکیں ۔
محمد سو رہے تھے ۔بچے داخل ہوئے اور جو بھی کھجوریں گری تھیں وہ چن کر چلے گئے ۔میں سو رہی اور محمد سے شرم و حیا کی وجہ سے اپنے چہرے کو ڈھانپ کر سو گئی۔محمد بیدار ہوئے اور باغ میں تشریف لے گئے ۔لیکن وہاں زمین پر کوئی کھجور نظر نہ آئی سو واپس لوٹ آئے ۔کنیز نے ان سے کہا ، ہم کھجوریں چننا بھول گئے تھے ،بچے آئے اور ساری کھجوریں جو گری ہوئی تھیں چن کر کھا گئے ۔محمد دوبارہ باغ میں گئے اور ایک کھجور کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا ، مجھے بھوک لگی ہے ۔
میں نے دیکھا کھجور نے اپنے شگوفوں کو جھکا دیا جن پر تازہ کھجوریں تھیں ۔محمد نے جی بھر کر کھا لیں ،پھر وہ شگوفے اپنی جگہ پر واپس چلے گئے ۔میں نے بہت تعجب کیا ۔ حضرت ابو طالب ہر روز گھر سے باہر چلے جایا کرتے تھے۔جب بھی واپس آتے تو دروازے پر دستک دیتے۔میں کنیز سے کہتی کہ وہ دروازہ کھولے۔ابو طالب نے دستک دی اور میں خود ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی دروازے پر گئی اور دروازہ کھولا اور جو کچھ دیکھا تھا بیان کر دیا ۔ابو طالب نے فرمایا :
 وہ یقینا نبی ہیں اوران کے وزیر تیس سال بعد آپ کے ہاں تشریف لائیں گے ۔
بشارتِ مرتضٰی
ایک روز آپ فواطم بنی ہاشم میں تشریف فرما تھیں اور گفتگو فرما رہی تھیں کہ رسول اللہ نور روشن کے ساتھ تشریف لائے ۔چند کاہن انہیں دیکھتے ان کے پیچھے وہاں پہنچ گئے اور ان فواطم بنی ہاشم سے آپ کے بارے میں پوچھا ۔انہوں نے بتایا ، یہ انتہائی عظمت و شرف اور بلند ترین فضل و کمال کے مالک حضرت محمدہیں ۔کاہن نے ان خواتین کو آپ کی عظمت اور بلند مرتبہ کے بارے میں بشارت دی کہ مستقبل قریب میں آپ مبعوث بہ نبوت ہوں گے اور بلند و بالا منزل و رتبہ کے مالک ہوں گے ۔تم عورتوں میں سے جو ان کی بچپن کی کفالت کا شرف حاصل کریں گی وہ  ایک ایسے فرزند کی کفالت کا بھی شرف حاصل کریں گی جو ان کے مدد گاروں اور ساتھیوں میں سے ایک ہو گا۔وہ ان کے رازوں کا امین اور ان کا ساتھی ہو گا ۔دوستی و اخوت اوت بھائی چارے کی بنا پر ان سے محبت کرے گا ۔

حضرت فاطمہ بنت اسد نے اس کاہن کو بتایا ، میں ان کے تایا کی زوجہ ہوں ۔وہ ان کے بارے میں ہر وقت فکر مند اور پر امید رہتے ہیں ۔ یہ میری کفالت میں ہیں ۔ اس نے کہا:عنقریب آپ ایک بہت بڑے عالم اور اپنے پروردگار کی اطاعت کرنے والے بیٹے کو جنم دیں گی ،جن کا نام تین حروف پر مشتمل ہو گا ۔وہ ان نبی کے تمام معاملات اور امور میں ولی ہوں گے اور ہر چھوٹے بڑے کام میں ان کی مدد کریں گے ۔وہ ان کے دشمنوں کے لئے تلوار ہوں گے اور دوستوں کے لئے دروازہ اور باب ہوں گے ۔وہ ان کے چہرہ مبارک سے پریشانیوں کو دور کریں گے ۔ظلمت و تاریکی کی گھٹاؤں کو دور کریں گے ۔ گہوارے ہی میں بہادری و حملہ ،رعب اور دبدبہ پیدا کرنے والے ہوں گے ۔لوگ ان کے خوف سے کانپیں گے ۔ان کے بہت زیادہ فضائل و مناقب اور بلند و بالا مقام و مرتبہ ہو گا ۔وہ ان کی اطاعت میں ہجرت کریں گے ۔اپنی جان سے بڑھ کر ان کی حفاظت کے لئے جہاد کریں گے ۔وہی ان کی وصیت کے مطابق انہیں ان کے کمرے میں دفن کریں گے ۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: