کشور ناہید

 

کشور ناہید ۱۹۴۰ میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ راج گھاٹ نرودا کے مینجر تھے۔کشور کے نانا فضل الرحمان وکالت کرتے تھے مگر لڑکیوں کی تعلیم کے قائل نہ تھے۔ کشور کی والدہ صرف قرآن ناظرہ اور بہشتی زیور پڑھ سکیں تھیں۔مگر انہوں نے اپنی اولاد کو تعلیم دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ کشور کے گھرانے میں عورتیں پردے کی پابند تھیں سات سال کی عمر میں کشور کو بھی برقع پہنا دیا گیا تھا۔
ایک قدامت پسند گھٹے ہوئے ماحول میں پرورش پانے والی کشور نے اپنی زندگی کے تمام فیصلے روایت سے ہٹ کر کئے۔ نویں جماعت سے انہوں نے اخبار میں لکھنا شروع کیا۔ میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔ پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا  وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران ۱۹۸۴ میں انتقال کر گئے۔
کشور ناہید نے پاکستان کے ادبی حلقوں میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ اُن کا اولین شعری مجموعہ لبِ گویا ۱۹۶۸ میں منظرِ عام پر آیا۔ اور اسے خوب پذیرائی بھی ملی کشور کے اولین مجموعے کو آدم جی ایوارڈ دیا گیا۔کشور نے اپنی شاعری میں ایسے نسوانی جذبات اور مسائل کا برملا اظہار کیا ہے جنہیں بیان کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ایک حقیقت پسند خاتون قرار دیتی ہیں جو حالات یا معاشرے کے جبر کا شکار بننے سے منکر رہی ہیں۔ وہ عورت کے ساتھ روا رکھی جانے والی معاشرتی ناانصافیوں کو لگی لپٹی رکھے بغیر تلخ و ترش سچے الفاظ میں بیان کر دیتی ہیں۔
ایسے میں اکثر ناقدین اُن کی شاعری کو سپاٹ، کھردری اور غنائیت سے محروم قرار دیتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں عورت کا وجود اس کا احساس اور اسی کی آواز گونجتی ہے۔
کشور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر کام کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی سال تک ادبی جریدے ماہِ نو کی ادارت کے فرائض بخوبی انجام دیتی رہی ہیں۔ آجکل وہ اسلام آباد میں سکونت پذیر ہیں۔
کشور ایک حساس دل کی ملک ہیں ملک کے سیاسی اور سماجی حالات پر اُن کی گہری نظر ہے۔ ایک عرصے سے وہ روزنامہ جنگ میں کالم لکھ رہی ہیں۔ کشور کے کلام کا انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ کشور نے خود بھی کئی کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے اس کے علاوہ بچوں کے لئے بھی لکھتی رہی ہیں۔ادبی خدمات کے صلے میں کشور ناہید کو حکومت نے ستارۂ امتیاز سے نوازا ہے۔
تصانیف:
باقی ماندہ خواب
عورت زبانِ خلق سے زبانِ حال تک
عورت خواب اور خاک کے درمیان
خواتین افسانہ نگار 1930 سے1990تک
زیتون
آ جاؤ افریقہ
بری عورت کی کتھا
بری عورت کے خطوط: نا زائیدہ بیٹی کے نام
سیاہ حاشیے میں گلابی رنگ
بے نام مسافت
لبِ گویا
خیالی شخص سے مقابلہ
میں پہلے جنم میں رات تھی
سوختہ سامانیء دل
کلیات دشتِ قیس میں لیلی
لیلی خالد
ورق ورق آئینہ
شناسائیاں رسوائیاں
وحشت اور بارود میں لپٹی
ہوئی شاعری(زیرِ طبع)
Advertisements
8 comments
  1. بی بی ۔ آپ کراچی میں بیٹھ کر راولپنڈی والوں کی سوانح لکھتی ہیں ۔ درست کہ کشور ناہید صاحبہ کے والدین آزاد خیال نہ تھے لیکن ایسی بھی کسی سختی کا چرچہ نہ ہوا ۔ البتہ یہ محترمہ آزاد خیال تھیں ۔ ان کی چھوٹی بہن ڈاکٹر ہیں جنہوں نے ہسپتال میں مردوں کے شانہ بشانہ ملازمت کی مگر اپنی اقدار نہ چھوڑیں ۔ ان کے بڑے بھائی (اللہ جنت نصیب کرے)۔ پہلے عام سے کردار کے تھے البتہ آزاد خیال نہ تھے لیکن سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد پکے مسلمان اور بہت خدمتگار آدمی بن گئے ۔ ان کی بھابھی سرکاری کالج میں اسلامیات کی پروفیسر رہیں ۔ میں کشور ناہید صاحبہ کو زیادہ نہیں جانتا لیکن ان کے خاندان کو اچھی طرح جانتا ہوں

    • چچا جان میں نے تو 1434 میں بیٹھ کر 1400 سال پہلے کے لوگوں کے بارے میں بھی لکھا تب کچھ نہ کہا جی آپ نے
      صرف 50 سال پہلے کی باتیں پکڑ لیں
      وہ کہتے ہیں نہ جی جتنے منہ اتنی باتیں
      سو جو میں نے ان ک بارے میں پڑھا اور سنا اسے جمع کر لیا تھا
      اب تصحیح کر دی آپ نے یہ اچھا کیا

      اور طبیعت کیسی ہے آپ کی ؟

  2. ایک بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ اس ملک پیارے ملک پاکستان میں نیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل جیسے عہدے متنازعہ اور ملکی ۔ قومی کلچر سے کسی طور بھی مطابقت نہ رکھنے والوں کو کیوں دئیے جاتے ہیں۔ جبکہ بقول آپکے وہ ایک سادہ ماسٹر بھی نہ کر چکا ہو؟۔ کیا اہلیت صرف معاشرتی اقدار سے بغاوت کو مانا جاتا ہے۔

    • اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام نہیں
      آپ کو دیگر اداروں کی فکر ہے؟

      مجھے اس پر حیرت ہے

      • آپکی بات بھی نہائت مناسب ہے ۔ لیکن جس قوم کے ادارے مناسب ۔ مضبوط اور اس قوم کی نمائندگی کرتے ہونگے ۔ وہ قوم اسی قدر مضبوط ہوگی۔ اداروں کی مضبوطی سے قوم کو ترقی کی سیڑھی پہ قدم جمانے کا آغاز کروایا جاسکتا ہے۔ اور بنیادی شعور ۔ دین داری و دیانتداری ۔ اور بہت کچھ سکھیا جاسکتا ہے۔
        قوموں کے ارقائی سفر میں ادارے ایک خاص اور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور یہ کئی دہائیوں پہ مستمل دور ہے

  3. بہت اچھا لگا ان محترمہ کےبارے میں جانکر شکریہ شیئر کرنے کے لئے ۔ا

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: