پروین شاکر

https://i2.wp.com/urduwaqt.com/wp-content/uploads/2009/12/dec-27-1.JPG
پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔
جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔
شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ آپ کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت ہی لوگوں کو ہوتی ہے۔انگلش لٹریچر اور زبانی دانی میں گریجوایشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۳ سے ۱۹۸۲ تک عبداللہ کالج برائے خواتین میں تدریس کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ اور 1986ء میں  سٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے
لگیں۔1990میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔ جن سے ان کی علیحدگی ہو گئی۔ ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ اس کے باوجود پروین شاکر نے شاعری کا قابل قدرسرمایہ چھوڑا ہے۔ جسے کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔
پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہے جو درد کائنات بن جاتا ہے اسی لیے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔۔ حالانکہ وہ یہ بھی اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کشور ناہید، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں ، لیکن ان کے یہاں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی ہم عصر دوسری شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی۔ اُن کی شاعری میں قوسِِ قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں۔ اُن کے پہلے مجموعے خوشبو میں ایک نوجوان دوشیزہ کے کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار ہے اور اس وقت پروین شاکر اسی منزل میں تھیں۔ زندگی کے سنگلاخ راستوں کا احساس تو بعد میں ہوا جس کا اظہار ان کی بعد کی شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ماں کے جذبات شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔
ان کے شعری مجموعے
خوشبو (1976ء)،
صد برگ (1980ء)،
خود کلامی (1990ء)،
انکار (1990ء)
اور
ماہ تمام (1994ء)
کفِ آئینہ ہیں
Advertisements
6 comments
  1. Ikramul Haque said:

    Good job

  2. یہ مجھے یہ پڑھ کر آج معلوم ہوا کہ پروین نے ہارورڈ بھی اٹینڈ کی تھی۔

  3. میں نے ان کی شکل تو کبھی نہیں دیکھی اور تصویر بھی آج ہی دیکھی ہے لیکن نام سے کچھ یاد پڑتا ہے کہ یہ وہ محترمہ ہیں جو اسلام آباد میں ٹریفک کے حادثہ میں ہلاک ہوئی تھیں اور ایک سڑک ان کے نام سے منسوب کر دیی گئی تھی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میں اپنی کار میں جا رہا تھا کہ حادثہ زدہ ایک کار دیکھی معلوم ہوا کہ ایک عورت کار چلا رہی تھی جسے چند منٹ قبل ہسپتال لے جایا گیا ہے ۔ کار کی حالت اور صورتِ حال بتا رہی تھی کہ تیز رفتاری کے باعث حادثہ ہوا ۔ دوسرے دن اخبار میں پڑھا تو نام معلوم ہوا ۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: