مساجد کی اہمیت-4

مساجد کی سیاسی اہمیت
سیاسی نقطہ نگاہ سے بھی مسجد کو ایک نمایاں اور منفرد حیثیت حاصل ہے۔ قرونِ اولیٰ میں مسلمان مساجد میں صرف نماز ہی کے لئے اکٹھے نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کے تمام اجتماعی، معاشرتی اورسیاسی مسائل کے حل کے لئے صلاح و مشورے اور فیصلے وغیرہ بھی مساجد ہی میں ہتے تھے۔ ہر نماز کے بعد مجلس شوریٰ منعقد ہوتی جس میں مختلف مسائل زیر بحث آتے اور ان کے فوری تدارک کے لئے تجاویز اور پروگرام مرتب کیے جاتے تھے۔ (گویا کہ یہ اس دور کی اسمبلی بھی تھی) اسی طرح باہر سے جو وفود اور سفراء وغیرہ آتے ان سے ملاقات و مذاکرات بھی مسجد ہی میں ہوتے اور اگر کہیں لشکر کشی کا ارادہ ہوتا تو اس کے لئے بھی تجاویز مسجد ہی میں پاس کی جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ مسجد نبوی میں تو لوگ فنونِ حرب کی مشق بھی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:
’’مسجد نبوی میں حبش کے لوگ گتکا کھیلتے اور میں حضور ﷺ کی اوٹ میں بیٹھ کر انہیں دیکھا کرتی تھی۔‘‘ (بخاری بمعناہ)
دورِ نبوی اور اس کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانہ میں مسجد کو عدالت کی حیثیت حاصل رہی۔ مقدمات یہیں فیصل ہوتے اور مجرموں کی سزائیں وغیرہ بھی یہیں تجویز ہوتی تھیں۔ حد البتہ مسجد سے باہر لگائی جاتی تھی۔
سیاسی لحاظ سے مسجد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیر المؤمنین کی خلافت کے لئے مسجد کی امامت کو دلیل پکڑا جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ جو آنحضرت ﷺ کے بعد پہلے خلیفہ ہیں، کی خلافت کے لئے مسلمانوں کے نزدیک ایک سند یہ بھی تھی کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی امامت کا شرف حاصل ہو چکا تھا اور رسول اکرم ﷺ نے اپنی عدم موجودگی یا بیماری کے ایام میں آپ ہی کو امام مقرر فرمایا تھا۔
غزوات میں آنحضور ﷺ کا معمول یہ تھا کہ اگر کہیں حملے کا ارادہ فرماتے تو رات بھر انتظار کرتے۔ صبح کو جہاں سے اذان کی آواز آتی، وہاں حملہ کرنے سے روک دیتے۔
چنانچہ ایک سفرِ جہاد میں آپ کے کانوں میں ایک طرف سے ’’اللہ اکبر‘‘ کی آواز آئی تو آپ نے فرمایا:
’’فطری شہادت ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ نے ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ‘‘ کی آواز سنی تو فرمایا، ’’آگ سے نجات ہو گی۔‘‘ (صحیح مسلم)
تمام مجاہدین کو بھی آپ ﷺ کا یہی حکم تھا:اذا رایتم مسجدا او سمعتم صوتا فلا تقتلوا احدا (ترمذی۔ ابو داؤد)
کہ اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو۔مندرجہ بالا توضیحات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مسجد کو دینی، تعلیمی،معاشرتی اور سماجی اہمیت کے علاوہ سیاسی لحاظ سے بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ دینِ اسلام کی بنیاد ہی مسجد پر رکھی گئی ہے۔ مسجد ہمارا دینی شعار ہے۔ اور کسی قوم کی زندگی اس کے شعار ہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر آج ہماری مسجدیں آباد اور پر رونق ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم غیرتِ اسلامی، اور حمیتِ دینی موجود ہے ورنہ۔ مفقود!
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: