سورۃ الفاتحہ (ترجمہ و تفسیر) حصہ چودھواں

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

دین: ( د ی ن )جزا اور اطاعت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ شریعت کے معنی میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا حقیقی سرپرست، روز جزا و سزا کا مالک اور صاحب اختیار ہے۔ وہ اپنی ملکیت میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے۔ مجرم کو بخش دینا یا اسے سزا دینا اس کے اختیار میں ہے۔ وہ روز جزا کا قاضی ہی نہیں بلکہ مالک و صاحب اختیار بھی ہے۔
یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا مالک ہے تو پھر صرف روز جزا سے اس مالکیت کی تخصیص کیوں کی گئی ؟
اس کا جواب یہ ہے :
اولاً : دنیا میں مجازی مالک بھی ہوتے ہیں جب کہ بروز قیامت کوئی مجازی مالک نہ ہو گا:یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ۔[ انفطار : 19]اس دن کسی کو کسی کے لیے کچھ (کرنے کا) اختیار نہیں ہو گا اور اس دن صرف اللہ کا حکم چلے گا۔
ثانیاً: دنیا میں تو اس مالک حقیقی کے منکر بھی موجود ہوتے ہیں ، لیکن روز جزا تو کوئیلِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ[المؤمن :16] کا جواب دینے والا نہ ہوگا۔
ثالثاً:دنیا میں اللہ کا صرف تکوینی حکم نافذ تھا،جب کہ تشریعی احکام کی نافرمانی بھی ہوتی تھی، لیکن بروز قیامت ا س کے تمام احکام نافذ ہوں گے، کوئی نافرمانی کی جرات نہیں کر سکے گا۔
رابعاً: دنیا میدان عمل اور دار الامتحان ہے، اس لیے بندے کو کچھ اختیارات دیے گئے ہیں ، لیکن قیامت،نتیجے اور جزائے عمل کا دن ہے،لہٰذا اس دن فقط اللہ کی حاکمیت ہو گی بندوں کو کوئی اختیار نہیں دیا جائے گا۔
روز جزا کا تصور انسانی زندگی پر گھرے اثرات مرتب کرتا ہے۔کیونکہ اس عقیدے سے دنیاوی زندگی کو قدر و قیمت ملتی ہے اور اس میں پیش آنے والی سختیوں کی توجیہ میسر آتی ہے۔ زندگی سکون و اطمینان اور صبر و استقامت سے گزرتی ہے اور انسان ناانصافیوں کو دیکھ کر مایوس نہیں ہوتا۔
بعض قاریوں نے ملک پڑھا ہے اور باقی سب نے مالک اور دونوں قراتیں صحیح اور متواتر ہیں اور سات قراتوں میں سے ہیں اور مالک نے لام کے زیر اور اس کے سکون کے ساتھ۔ اور ملیک اور ملکی بھی پڑھا گیا ہے پہلے کی دونوں قراتیں معانی کی رو ترجیح ہیں اور دونوں صحیح ہیں اور اچھی بھی۔ زمخشری نے ملک کو ترجیح دی ہے اس لئے کہ حرمین والوں کی یہ قرات ہے۔ اور قرآن
میں بھی آیت(
لمن الملک الیوم اور قولہ الحق ولہ الملک ہے۔ امام ابو حنیفہ سے بھی حکایت بیان کی  گئی ہے کہ انہوں نے ملک پڑھا اس بنا پر کہ فعل اور فاعل اور مفعول آتا ہے لیکن یہ شاذ اور بے حد غریب ہے۔ ابو بکر بن داؤد نے اس بارے میں ایک غریب روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺاور آپ کے تینوں خلفاء اور حضرت معاویہ اور ان کے لڑکے مالک پڑھتے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مروان نے ملک پڑھا۔ میں کہتا ہوں مروان کو اپنی اس قرات کی صحت کا علم تھا۔ راوی حدیث ابن شہاب کو علم نہ تھا واللہ اعلم۔ ابن مردویہ نے کئی سندوں سے بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺمالک پڑھتے تھے۔ مالک کا لفظ ملک سے ماخوذ ہے جیسے کہ قرآن میں ہے آیت(انا نحن نرث الارض) الخ یعنی زمین اور اس کے اوپر کی تمام مخلوق کے مالک ہم ہی ہیں اور ہماری ہی طرف سب لوٹا کر لائے جائیں گے۔ اور فرمایا آیت(قل اعوذ برب الناس ملک الناس) یعنی کہہ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب اور لوگوں کے مالک کی۔ اور ملک کا لفظ ملک سے ماخوذ ہے جیسے فرمایا آیت(لمن الملک الیوم) الخ یعنی آج ملک کس کا ہے صرف اللہ واحد غلبہ والے کا۔ اور فرمایا آیت(قولہ الحق الخ اسی کا فرمان ہے اور اسی کا سب ملک ہے۔ اور فرمایا آج ملک رحمن ہی کا ہے اور آج کا دن کافروں پر بہت سخت ہے۔ اس فرمان میں قیامت کے دن ساتھ ملکیت کی تخصیص کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس لئے کہ پہلے اپنا وصف رب العالمین ہونا بیان کر چکا ہے دنیا اور آخرت دونوں شامل ہیں۔ قیامت کے دن کے ساتھ اس کی
تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس دن تو کوئی ملکیت کا دعویدار بھی نہ ہو گا۔ بلکہ بغیر اس حقیقی مالک کی اجازت کے زبان تک نہ ہلا سکے گا۔ جیسے فرمایا جس دن روح القدس اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی کلام نہ کر سکے گا۔ یہاں تک کہ رحمن اسے اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا۔ دوسری جگہ ارشاد ہے سب آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوں گی اور گنگناہٹ کے سوا کچھ نہ سنائی دے گا اور فرمایا جب قیامت آئے گی اس دن بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت کے کوئی شخص نہ بول سکے گا۔ بعض ان میں سے بد بخت ہوں گے اور بعض سعادت مند۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس دن اس کی بادشاہت میں اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہو گا جیسے کہ دنیا میں مجازاً تھے۔ آیت(
یوم الدین)سے مراد مخلوق کے حساب کا یعنی قیامت کا دن ہے جس دن تمام بھلے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ہاں اگر رب کسی برائی سے درگزر کر لے یا اس کا اختیاری امر ہے۔ صحابہ تابعین اور سلف صالحین سے بھی یہی مروی ہے۔ بعض سعادت مند۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس دن اس کی بادشاہت میں اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہو گا جیسے کہ دنیا میں مجازاً تھے۔ آیت(یوم الدین) سے مراد مخلوق کے حساب کا یعنی قیامت کا ہے جس دن تمام بھلے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ہاں اگر رب کسی برائی سے درگزر کر لے یہ اس کا اختیاری امر ہے۔ صحابہ، تابعین اور سلف صالحین سے بھی یہی مروی ہے۔ بعض سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرنے پر قادر ہے۔ ابن جریر نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن بظاہر ان دونوں اقوال میں کوئی تضاد نہیں، ہر ایک قول کا قائل دوسرے کے قول کی تصدیق کرتا ہے ہاں پہلا قول مطلب پر زیادہ دلالت کرتا ہے۔ جیسے کہ فرمان ہے آیت(الملک یومئذ الخ اور دوسرا قول اس آیت کے مشابہ ہے جیسا کہ فرمایا آیت(ویوم یقول کن فیکون) یعنی جس دن کہے گا "ہو جا” بس اسی وقت "ہو جائے گا” واللہ اعلم۔ حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے فرمایا آیت(ھواللہ الذی لا الہ الا ھو الملک الخ صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ "رسول اللہ ﷺنے فرمایا بد ترین نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے حقیقی بادشاہ اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ ” ایک اور حدیث میں ہے کہ "اللہ تعالیٰ زمین کو قبضہ میں لے لے گا اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں کہاں گئے زمین کے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے۔ ”
قرآن عظیم میں ہے کس کی ہے آج بادشاہی؟ فقط اللہ اکیلے غلبہ والے کی اور کسی کو ملک کہہ دینا یہ صرف مجازاً ہے جیسے کہ قرآن میں طالتون کو ملک کہا گیا اور آیت(
وکان ورائھم  ملک) کا لفظ آیا۔ اور بخاری مسلم میں ملوک کا لفظ آیا ہے اور قرآن کی آیت میں آیت(اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا) یعنی تم میں انبیاء کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا، آیا ہے۔ دین کے معنی بدلے جزا اور حساب کے ہیں۔ جیسے قرآن پاک میں ہے اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ جان لیں گے اور جگہ ہے آیت(ائنا لمدینون) کیا ہم کو بدلہ دیا جائے گا؟ حدیث میں ہے "دانا وہ ہے جو اپنے نفس سے خود حساب لے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال کرے۔ ” جیسے کہ حضرت عمر فاروق اعظم کا قول ہے کہ تم خود اپنی جانوں سے حساب لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کو خود وزن کر لو اس سے پہلے کہ وہ ترازو میں رکھے جائیں اور اس بڑی پیشی کے لئے تیار ہو جاؤ جب تم اس اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے جس سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں جیسے خود رب عالم نے فرما دیا جس دن تم پیش کئے جاؤ گے کوئی چھپی ڈھکی بات چھپے گی نہیں۔”
1۔ قیامت کے دن مالکیت و حاکمیت صرف اللہ کی ہو گی۔
2۔ انسانی و اخلاقی اقدار کا تعلق روز جزا سے ہے۔
3۔ اللہ کے ہاں اخروی احتساب کا عقیدہ انسان کو دنیا میں خود احتسابی پر آمادہ کر تا ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: