اصحاب اخدود

قران سورۂ بروج میں فرماتا ہے :”موت اور عذاب ہو تشدد كرنے والوں پر ۔”
”وہى خندقیں جو اگ اور لكڑیوں سے پُر تھیں جن میں سے بڑے بڑے شعلے نكل رہے تھے ”۔
”جس وقت وہ اس اگ كى خندق كے پاس بیٹھے ہوئے تھے (سرد مہرى سے)
”اور جو كچھ وہ مومنین كے بارے میں انجام دے رہے تھے اسے دیكھ رہے تھے ۔”(سورۂ بروج آیت 4تا 7)
”اخدود”عظیم گڑھے او ر خندق كے معنى میں ہے اور یہاں بڑى بڑى خندقیں مراد ہیں جو اگ سے پر تھیں تاكہ تشدد كر نے والے اس میں مومنین كو پھینك كر جلائیں ۔
یہ واقعہ كس قوم سے متعلق ہے اور كس وقت معرض وجود میں ایا اور كیا یہ ایك خاص معین و مقرر واقعہ تھا ،یا دنیا كے مختلف علاقوں كے اسى قسم كے متعدد واقعات كى طرف اشارہ ہے ۔
مفسرین و مورخین كے درمیان اس موضوع پرا ختلاف ہے سب سے زیادہ مشہور یہ ہے كہ یہ واقعہ سر زمین یمن كے” قبیلہ حمیر” كے ”ذونواس” نامى بادشاہ كے دور كا ہے ۔
تفصیل اس كى یہ ہے كہ ذونواس ،جوحمیر نامى قبیلہ سے متعلق تھا یہودى ہوگیا اس كے ساتھ ہى اس كا پورا قبیلہ بھى یہودى ہو گیا ،اس نے اپنا نام یوسف ركھا ،ایك عرصہ تك یہى صورت حال رہى ،ایك وقت ایسا ایا كہ كسى نے اسے خبردى كہ سر زمین نجران (یمن كا شمالى حصہ )میں ابھى تك ایك گروہ نصرانى مذہب كاپر قائم ہے ذونواس كے ہم مسلك لوگوں نے اسے اس بات پر ابھارا كہ اہل نجران كو دین یہود كے قبول كرنے پر مجبور كرے ۔
وہ نجران كى طرف روانہ ہو گیا،وہاں پہنچ كر اس نے وہاں كے رہنے والوں كو اكٹھا كیا اور دین یہود ان كے سامنے پیش كیا اور ان سے اصرار كیا كہ وہ اس دین كو قبول كریں ،لیكن انھوں نے انكار كیا اور شہادت قبول كرنے پر تیار ہو گئے ،انھوں نے اپنے دین كو خیر باد نہ كہا ،ذونواس اورا سكے ساتھیوں نے ایك گروہ كر پكڑ كر اسے اگ میں زندہ جلا یا اور ایك گروہ كو تلوار كے گھاٹ اتارا ،اس طرح اگ میں جلنے والوں اور مقتولین كى تعداد بیس ہزار تك پہنچ گئی ۔
بعض مفسرین نے یہ بھى لكھا ہے كہ اس سلسلہ دار و گیر سے بچ كر نصارى بنى نجران كا ایك ادمى قیصر روم كے دربار میں جاپہنچا ،اس نے وہاں ذوانواس كى شك آیت كى اور اس سے مدد طلب كى ،قیصر روم نے كہا تمہارى سر زمین مجھ سے دور ہے ،میں بادشاہ حبشہ كو خط لكھتا ہوں جو عیسائی ہے اور تمہارا ہمسایہ ہے میں اس سے كہتا ہوں كہ وہ تمہارى مدد كرے ۔
پھر اس نے خط لكھا اور حبشہ كے بادشاہ سے نصارى نجران كے عیسائیوں كے خون كا انتقام لینے كى خواہش كى ،وہ نجرانى شخص بادشاہ حبشہ نجاشى كے پاس گیا ،نجاشى اس سے یہ تمام ماجرا سن كر بہت متاثر ہو ا اور سر زمین نجران میں شعلہ دین مسیح كے خاموش ہوجانے كا اسے بہت افسوس ہوا ،اس نے ذونواس سے شہیدوں كے خون كا بدلہ لینے كا مصمم ارادہ كر لیا ۔
اس مقصد كے پیش نظر حبشہ كى فوج یمن كى طرف روانہ ہوئی اور ایك گھمسان جنگ كے نتیجے میں اس نے ذونواس كو شكست فاش دى اور ان میں سے بہت سے افراد كو قتل كیا ،جلد ہى نجران كى حكومت نجاشى كے قبضہ میں اگئی اور نجران حبشہ كا ایك صوبہ بن گیا ۔
بعض مفسرین نے تحریر كیا ہے كہ اس خندق كاطول چالیس ذراع (ہاتھ)تھا اور اس كا عرض بارہ ذراع تھا ،( ایك ذراع تقریبا ادھا میٹر ہے اور بعض اوقات گز كے معنى میں استعمال ہو تا ہے جو تقریبا ایك میٹر ہے)
بعض مورخین نے لكھا ہے كہ سات گڑھے تھے جن میں سے ہر ایك كى وسعت اتنى ہى تھى جتنى اوپر بیان ہوئی ۔( مندرجہ بالا واقعہ تاریخ و تفسیر كى بہت سى كتابوں میں درج ہے ،منجملہ دیگر كتب كے عظیم مفسر طبرسى نے مجمع البیان میں ،ابو الفتاح رازى نے اپنى تفسیر میں ،فخر رازى نے اپنے تفسیر كبیر میں ،الوسى نے روح المعانى میں اور قرطبى نے اپنى تفسیر میں اسى طرح ہشام نے اپنى سیرت (جلد اول ص35) میں اور ایك دوسرى جماعت نے اپنى كتب میں اس واقعہ كو تحریر كیا ہے)
جو كچھ ہم نے تحریر كیا اس سے واضح ہوتا ہے كہ تشد دكرنے والے بے رحم افراد اخر كار عذاب الہى میں گرفتار ہوئے اور ان سے اس خون ناحق كا انتقام دنیا ہى میں لیاگیا اور عاقبت كاعذاب جہنم ابھى ان كے انتظار میں ہے ۔
انسانوں كوجلانے والى یہ بھٹیاں جو یہودیوں كے ہاتھ سے معرض وجود میں ائیں ،احتمال اس امر كا ہے كہ پورى انسانى تاریخ میں یہ پہلى ادم سوز بھٹیاں تھیں لیكن تعجب كى بات یہ ہے كہ اسى قسم كى قساوت اور بے رحمى كاخود یہودى بھى شكار ہوئے جیسا كہ ہم جانتے ہیں كہ ان میں سے بہت زیادہ لوگ” ہٹلر ”كے حكم سے ادم سوز بھٹیوں میں جلائے گئے اور اس جہان میں بھى عذاب حریق كا شكار ہو ئے ۔
علاوہ ازیں ” ذونواس یہودى ”جو اس منحوس اقدام كا بانى تھا ،وہ بھى بد اعمالى كے انجام سے نہ بچ سكا، جو كچھ اصحاب اخدود كے بارے میں درج كیا گیا ہے یہ مشہور و معروف نظریات كے مطابق ہے ۔( لیكن اس ضمن میں كچھ اور روایات بھى موجود ہیں جو یہ بتاتى ہیں كہ اصحاب اخدود صرف یمن میں ذونواس ہى كے زمانے میں نہیں تھے ۔ بعض مفسرین نے تو ان كے بارے میں دس قول نقل كئے ہیں)
ایك روایت حضرت امیر المو منین على ؓ سے منقول ہے ،آپ نے فرمایا ہے وہ ا ہل كتاب مجوسى تھے جو اپنى كتاب پر عمل كرتے تھے ،ان كے بادشاہوں میں سے ایك نے اپنى بہن سے مباشرت كى اورخو اہش ظاہر كى كہ بہن سے شادى كو جائز قرار دے ،لیكن لوگوں نے قبول نہیں كیا،بادشاہ نے ایسے بہت سے مومنین كو جنھوں نے یہ بات قبول نہیں كى تھى ،جلتى ہوئی اگ كى خندق میں ڈلوا دیا ۔”
یہ فارس كے اصحاب الاخدود كے بارے میں ہے ،شام كے اصحاب الاخدود كے بارے میں بھى علماء نے لكھا ہے كہ وہاں مومنین رہتے تھے اور” انتیا خوس” نے انھیں خندق میں جلوایا تھا۔
بعض مفسرین نے اس وقعہ كو بنى اسرائیل كے مشہور پیغمبر حضرت دانیال علیہ السلام كے اصحاب و انصار كے ساتھ مربوط سمجھا ہے جس كى طرف توریت كى كتاب دانیال میں اشارہ ہوا ہے اور ثعلبى نے بھى اخدود فارسى كو انہى پر منطبق كیا ہے ۔
كچھ بعید نہیں كہ اصحاب اخدود میں یہ سب كچھ اور ان جیسے دوسرے لوگ شامل ہوں اگر چہ اس كا مشہور معروف، مصداق سر زمین یمن كا ذونواس ہى ہے
بیٹیوں كو زندہ دفن كر دینا
بیٹیوں كا زندہ در گور كرنے كى داستان بڑى ہى دردناك ہے ،ان واقعات پر نظر پڑے تو حالت غیر ہوجاتى ہے ۔
ایك شخص پیغمبر اكرم ﷺ كى خدمت میں حاضر ہوا اس نے اسلام قبول كر لیا ،سچااسلام ۔   ایك روز وہ انحضرت ﷺ كى خدمت میں ایا اور سوال كیا :اگر میں نے كوئی بہت بڑا گناہ كیا ہو تو كیا میرى توبہ قبول ہو سكتى ہے ؟
اپ ﷺ نے فرمایا :خدا تو اب و رحیم ہے ۔
اس نے عرض كیا :یا رسول اللہ میرا گناہ بہت ہى بڑا ہے ۔
اپﷺ نے فرمایا :وائے ہو تجھ پر ،تیرا گناہ كتنا ہى بڑا كیوں نہ ہو خدا كى بخشش سےبڑا تو نہیں ؟
وہ كہنے لگا :اب جب كہ اپ یہ كہتے ہیں تو میں عرض كروں :زمانہ جاہلیت میں میں ایك دور دراز كے سفر پر گیا ہواتھا ان دنو ں میرى بیوى حاملہ تھى میں چار سال بعد گھر واپس لوٹا ،میرى بیوى نے میرا استقبال كیا میں گھر ایا تو مجھے ایك بچى نظر ائی میں نے پوچھا یہ كس كى لڑكى ہے ؟اس نے كہا :ایك ہمسایے كى لڑكى ہے ،میں نے سوچا گھنٹے بھر تك اپنے گھر چلى جائے گى لیكن مجھے بڑا تعجب ہوا كہ وہ نہ گئی ،مجھے علم نہ تھا كہ یہ میرى لڑكى ہے اور اس كی ماں حقیقت كو چھپا رہى ہے كہ كہیں یہ میرے ہاتھوں قتل نہ ہوجائے ۔
اس نے بات جارى ركھتے ہوئے كہا:اخر كار میں نے بیوى سے كہا :سچ بتاو یہ كس كى لڑكى ہے ؟
بیوى نے جواب دیا :جب تم سفر پر گئے تھے تو میں امید سے تھى بعد میں یہ بیٹى پیدا ہوئی ،یہ تمہارى ہى بیٹى ہے ۔
اس شخص نے مزید كہا :میں نے وہ رات بڑى پریشانى كے عالم میں گزارى كبھى انكھ لگ جاتى اور كبھى میں بیدار ہو جاتا ،صبح قریب تھى ،میں بستر سے نكلا ،لڑكى كے بستر كے پاس گیا وہ اپنى ماں كے پا س سو رہى تھی، میں نے اسے بستر سے نكالا ،اسے جگایا ،اس سے كہا :میرے ساتھ نخلستان كى طرف چلو۔
اس نے بات جارى ركھى :وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہى تھى یہاں تك كہ ہم نخلستان میں پہنچ گئے میں نے گڑھا كھودنا شروع كیا وہ میر ى مدد كررہى تھى میرے ساتھ مل كر مٹى باہر پھینكتى تھى گڑھا مكمل ہو گیا میں نے اسے بغل كے نیچے سے پكڑ كر اس گڑھے كے درمیان دے مارا ۔
اتنا سننا تھا كہ رسول اللہ ﷺ كى انكھیں بھرائیں ۔
اس نے مزید بتا یا :میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس كے كندھے پر ركھا تاكہ وہ باہر نہ نكل سكے دائیں ہاتھ سے میں اس پر مٹى ڈالنے لگا اس نے بہت ہاتھ پاو ں مارے ،بڑى مظلومانہ فریاد كى ;وہ كہتى تھى ابو جاناپ مجھ سے یہ سلوك كر رہے ہیں ؟
اس نے بتایا :میں اس پر مٹى ڈال رہا تھا كہ كچھ مٹى میرى داڑھى پر اپڑى بیٹى نے ہاتھ بڑھا یا اور میرے چہرے سے مٹى صاف كى لیكن میں اسى قساوت اور سنگدلى سے اس كے منہ پر مٹى ڈالتا رہا یہاں تك كہ اس كے نالہ و فریا كى اخرى اواز بہ خاك دم توڑ گئی ۔
رسول اللہ ﷺ نے داستان بڑے غم كے عالم میں سنى ،وہ بہت دكھى اور پریشان تھے اپنى انكھوں سے انسو صاف كرتے جارہے تھے ۔ اپﷺ نے فرمایا :اگر رحمت خدا كو اس كے غضب پر سبقت نہ ہوتى تو ضرورى تھا كہ جتنا جلدى ہوتا وہ تجھ سے انتقام لیتا ۔
میں نے اپنى بارہ بیٹیوں كو زندہ در گور كیا ہے”قیس بن عاصم”ا بن تمیم كے سرداروں میں سے تھا ،ظہور رسالت ماب كے بعد وہ اسلام لے ایا تھا اس كے حالات میں لكھا ہے كہ ایك روزوہ رسول اللہ ﷺ كى خدمت میں حاضر ہوا وہ چاہتا تھا كہ جو سنگین بوجھ وہ اپنے كندھوں پر اٹھا ئے پھرتا ہے اسے كچھ ہلكا كرے ،اس نے رسول اكرم ﷺ كى خدمت میں عرض كیا:
گزشتہ زمانے میں بعض باپ ایسے بھى تھے جنھوں نے جہالت كے باعث اپنى بے گناہ بیٹیوں كو زندہ در گور كر دیا تھا میرى بھى بارى بیٹیاں ہوئیں میں نے سب كے ساتھ یہ گھناو نا سلوك كیا لیكن جب میرے یہاں تیرہویں بیٹى ہوئی بیوى نے اسے مخفى طورپر جنم دیا اس نے یہ ظاہر كیا كہ نومولود مردہ پیدا ہوئی ہے ،لیكن اسے چھپ چھپا كر اپنے قبیلے والوں كے یہاں بھیج دیا اس وقت تو میں مطئمن ہو گیا لیكن بعد میں مجھے اس ماجراے كا علم ہوگیا میں نے اسے حاصل كیا اور اپنے ساتھ ایك جگہ لے گیا ۔
اس نے بہت اہ وزارى كى ،میرى منتیں كیں ،گریہ و بكا كى مگر میں نے پرواہ نہ كى اور اسے زندہ در گور كردیا ۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ واقعہ سنا تو بہت ناراحت ہوئے ،اپﷺ كى انكھوں سے انسو جارى تھے كہ آپ نے فرمایا :
جو كسى پر رحم نہیں كھاتا اس پر رحم نہیں كھایا جائے گا ۔
اس كے بعد اپﷺ نے قیس كى طرف رخ كیا اور یوں گویا ہوئے :  تمہیں سخت ترین دن درپیش ہے ۔
قیس نے عرض كیا:  میں كیاكروں كہ اس گناہ كا بوجھ میرے كندھے سے ہلكا ہو جائے ؟
پیغمبر اكرم ﷺ نے فرمایا:  تو نے جتنى بیٹیوں كو قتل كیا ہے اتنے غلام ازاد كر(كہ شاید تیرے گناہ كا بوجھ ہلكا ہو جائے ۔)
نیز مشہور شاعر فرزدق كے داد ا” صعصعہ بن ناجیة” كے حالات میں لكھا ہے كہ وہ حریت فكر ركھنے والا ایك شریف انسان تھا زمانہ جاہلیت میں وہ لوگوں كى بہت سے برى عادات كے خلاف جد وجہد كرتا تھا یہاں تك كہ اس نے 360/ لڑكیاں ان كے والدوں سے خرید كر انھیں موت سے نجات بخشی، ایك مرتبہ اس نے دیكھا كہ ایك باپ اپنے نومولود بیٹى كو قتل كر نے كا مصمم ارادہ كر چكا ہے ،اس بچى كى نجات كے لئے اس نے اپنى سوارى كا گھوڑا تك اور دو اونٹ اس كے باپ كو دے دیئے اور اس بچى كو نجات دلائی ۔
پیغمبر اكرم ﷺ نے فرمایا:تونے بہت ہى بڑ اكام انجام دیا ہے اور تیرى جزا اللہ كے یہاں محفوظ ہے ۔( فرزدق نے اپنے دادا كے اس كام پر فخر كرتے ہوئے كہا :
”اور وہ شخص ہمارے خاندان سے تھا جس نے بیٹیوں كى زندہ دفن كرنے كے خلاف قیام كیا ،اس نے لڑكیوں كو لے لیا اور انھیں زندگى عطا كى اور انھیں تہہ خاك دفن نہ ہو نے دیا ۔”)
Advertisements

تبصرے بند ہیں۔

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: