عورتوں کے لئے سیاسی مناصب اور ملازمتیں-1

آج اکیسویں صدی میں پوری دنیا تو الک اسلام کے نام پر قائم ہونے والی سلطنت یعنیاسلامی جمہوریہ پاکستانمیں بھی اسمبلی کی ممبری اور وزارت سے لے کر مختلف محکموں میں ملازمت اور امارت تک وہ فائز ہیں اور ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے انسانی اخلاق اور کیریکٹر پر جو غلط اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث اور ائمہ دین کے ارشادات آپ کی خدمت میں پیش کریں تاکہ آپ اندازہ کر سکیں گے  کہ اسلام میں خواتین کے لئے خلوت سے جلوت میں آنے کے لئے کتنی اور کیسی گنجائش ہے اورسرکاری ملازمتوں میں حصہ لینے کے لئے ازروئے دین کس قدر اور کیسے حصہ لے سکتی ہیں؟
قرآن نے عورت کا دائرہ کار اور مقام گھر کی چار دیواری مقرر کی ہے:
وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ(اے بیبیو!) اپنے گھروں میں جمی بیٹھی رہو۔ (پ ۲۲۔ الاحزاب ع ۴)
اس سے معلوم ہوا کہ عورت پریٔ خانہ تو ہو سکتی ہے، شمعِ محفل نہیں۔ اقبال مرحوم نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے آغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہےوہ  قطرۂ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر!اس کے بعد بن سنور کر نکلنے سے منع فرمایا اور نماز، زکوٰۃ نیز اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تاکید کی،پھر فرمایا:
وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰي فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِاور تمہارے گھروں ميں خدا کی آیتیں اور دانائی کی جو باتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو یاد کیا کرو۔ (الاحزاب۔ ع ۴)  
قرآنِ حمید سے فرض اپنی اور خلقِ خدا کی اصلاح ہے۔ باہر بھی اور اندر بھی۔ مگر ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں صرف اپنی فکر چاہئے۔ گھر میں رہ کر جو ہو سکتا ہے کرو، باہر نکلنے کی ضرورت نہیں اور سرکاری ملازمتوں  کا دائرہ کار ’’گھر‘‘ نہیں ’’باہر‘‘ ہے۔ اس لئے یہ سیاسی گراؤنڈ زنانہ ٹیم کے لئے بالکل ناسازگار ہے۔
پردہ کی پابندی:
ہمیں حکم ہوتا ہے:
اِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّمَتَاعًا فَاسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍجب کوئی چیز تم ان (عورتوں) سے مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو۔  (الاحزاب)
ظاہر ہے جو سربراہِ مملکت ہو اس کے لئے یہ پابندی بے معنی شے ہے اور نہ یہ اس کے لئے ممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض یہ فرمائیں کہ ان آیات کا تعلق ازدواجِ مطہرات سے ہے تو عرض ہے کہ جہاں اتنی احتیاط خود ازواجِ  مطہرات جیسی مبارک ماؤں کے لئے ضروری ہے وہاں دوسری تیسری خواتین اور پاکستانی ماؤں کے لئے کتنی ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ مفسرین نے لکھا ہےکہ گو ان آیات میں  خطاب ازواجِ مطہرات کو کیا گیا ہے تاہم ان کا حکم عام ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
لان موردھا ان کان خاصا فیحق ازواج النبی ﷺ لکن الحکم عام لکل من المومنات
گو ان آیات کا نزول ازواج مطہرات کے بارے میں ہوا ہے تاہم حکم عام ہے اور اس میں تمام مسلمان عورتیں شامل ہیں۔
صحابہؓ کا تعامل:
تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ صحابہؓ اور صحابیاتؓ نے اس حکم کی سختی سے پابندی کی تھی۔
کان اصحاب ؓرسول اللہ ﷺیسدون الثقب والکوی فی الحیطان لئلا تطلع النساء علی الرجالیعنی حضور ﷺکے صحابہ ؓدیواروں کےجھروکوں اور سوراخوں کو بند کر دیا کرتےتھے تاکہ عورتیں مردوں کو نہ جھانکیں۔(مجالس الابرار)
حضور ﷺ کا ارشاد ہے:
 المرءۃ عورۃ فاذا اخرجت استشرفھا الشیطان عورت سراپا عریانی کا نام ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے۔  (ترمذی۔ ابن مسعود)
ظاہر ہے یہ امور ایک سربراہِ مملکت اور افسری کے فرائض اور پوزیشن کے لحاظ سے بالکل بے جواز ہیں۔ ملک کا فرمانروا اور افسر چھپ کرنہیں بیٹھ سکتا اور نہ ہی اسی طرح کارِ حکومت کی تکمیل ممکن ہوتی ہے۔
ذمہ دار:
فرمایا: اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَي النِّسَآءِمرد عورتوں کے ذمہ دار اور نگران ہیں۔ (النساء)
تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ:
قد ورد انھن ناقصات عقل ودین والرجال بعکسھن کما لا یخفٰی کیونکہ مردوں کے برعکس عورتیں عقل اور دین میں ناقص ہیں۔
تابعدار:
اس کے بعد فرمایا:
فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌپھر جو  عورتیں نیک ہیں وہ تابعدار ہیں (النساء، ع ۶)
تابعدار، ذمہ دار اور نگران نہیں ہوتا۔
تادیب:
وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَنُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّاور تمہیں جن کی بد خوئی کا ڈر ہے ان کو سمجھاؤ اور ان کے بسترے الگ کردو اور ان کو مارو۔  (النساء۔ ع ۶)
تادیب، نگران کا کام ہوتا ہے، محکوم کا نہیں۔
اطاعت:
فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَاتَبْغُوْا عَلَيْھِنَّ سَبِيْلًااب اگر وه تمہاری اطاعت کر لیں تو تم ان پر الزام کی راہ مت تلاش کرو۔  (النساء۔ ع۶)
اطاعت شعاری، نگران اور رہنما کا شیوہ نہیں ہوتا،رعایا کا ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ جنس فطری طور پر تابعدار بنائی گئی ہے۔ رہنما، نگران اور حاکم نہیں بنائی گئی ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ چند لمحےبحیثیت نگران بسر کرنے کے بعد مرتے دم تک پچھتاتی رہیں بلکہ یہاں تک کہہ ڈالا کہ مجھے حضور کے روضۂ پاک میں نہ دفن کیجیئو کیونکہ مجھ سے ایک جرم ہو گیا ہے یعی یہی میدانِ سیاست میں نکلنے کا۔
Advertisements
2 comments
  1. اتنی اہم معلومات فراہم کرنے کا شکریہ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: