ماہ محرم اور عاشورۂ محرم

عشرۂ محرم(محرم کے ابتدائی دس دن) میں شیعہ حضرات جس طرح مجالس عزا اور محافل ماتم برپا کرتے ہیں، ظاہر بات ہے کہ یہ سب اختراعی چیزیں ہیں اورشریعت اسلامیہ کے مزاج سے قطعاً مخالف۔اسلام نےتو نوحہ و ماتم کے اس انداز کو جاہلیت  سے تعبیر کیا ہے اور اس کام کو باعث لعنت بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا بتلایا ہے۔
بدقسمتی سے اہل سنت میں سے ایک بدعت نواز حلقہ اگرچہ نوحہ و ماتم کا شیعی انداز تو اختیار نہیں کرتا لیکن ان دس دنوں میں بہت سی ایسی باتیں اختیار کرتا ہےجن سے رفض و تشیع کی ہمنوائی اور ان کے مذہب باطل کا فروغ ہوتا ہے۔ مثلاً:
شیعوں کی طرح سانحۂ کربلاکو مبالغے اور رنگ آمیزی سے بیان کرنا
حضرت حسینؓ اور یزید کی بحث کے ضمن میں جلیل القدر صحابہ کرامؓ (معاویہ اور مغیرہ بن شعبہؓ وغیرہ)
کو ہدف طعن و ملامت بنانے میں بھی تامل نہ کرنا۔

دس محرم کو تعزیے نکالنا،
انہین قابل تعظیم پرستش سمجھنا، ان سے منتیں مانگنا، حلیم پکانا، پانی کی سبیلیں لگانا اپنے بچوں کو ہرے رنگ کے کپڑے پہنا کر انہیں حسین
کا فقیر بنانا۔
دس محرم کو تعزیوں اور ماتم
کے جلوسوں میں ذوق و شوق سے شرکت کرنا اور کھیل کود
(گٹکے اور پٹہ بازی) سے ان محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا، وغیرہ
ماہ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس مہینے میں شادیاں نہ کرنا۔
ذوالجناح (گھوڑے) کے جلوس میں ثواب کا کام سمجھ کر شرکت کرنا۔
اور اسی انداز کی کئی چیزیں ہیں۔ حالانکہ یہ سب چیزیں بدعت ہین جن سے نبی ٔ اکرم کے فرمان کے مطابق اجتناب ضروری ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے: (فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ)  مسلمانو!تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اوراسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچا کررکھنا، اس لیے کہ دین میں نیاکام (چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔  (مسند احمد:۱۲۶/۴۔۱۲۷ وسنن ابی داؤد، السنۃ، ح:۴۶۰۷ وابن ماجہ، اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین، ح: ۴۲ وجامع الترمذی، العلم، ح: ۲۶۷۶)
یہ بات ہر کہ و مہ پر واضح ہے کہ یہ سب چیزیں صدیوں بعد کی پیداوار ہیں، بنا بریں ان کے بدعات ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور نبی نے ہر بدعت کو گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مذکورہ خود ساختہ رسومات کی شناعت وقباحت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
محرم میں مسنون عمل:
محرم میں مسنون عمل صرف روزے ہیں۔ حدیث مین رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے۔(أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ) رمضان کے بعد ، سب سے افضل روزے ، اللہ کے مہینے ، محرم کے ہیں۔  (صحیح مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم، ح: ۱۱۶۳)
۱۰ محرم کے روزے کی فضلیت:
بالخصوص دس محرم کے روزے کی حدیث میں یہ فضیلت آئی ہے کہ یہ ایک سال گزشتہ کا کفارہ ہے۔(صحیح مسلم، باب استحباب صیام ثلاثہ ایام۔۔۔حدیث: ۱۱۶۲)
اس روز آنحضر ت بھی خصوصی روز ہ رکھتے تھے(ترغیب) پھر نبیکے علم میں یہ بات آئی کہ یہودی بھی اس امر کی خوشی میں کہ دس محرم کے دن حضرت موسیٰ کو فرعون سے نجات ملی تھی ، روزہ رکھتے ہیں تو نبی نے فرمایا کہ عاشورہ (دس محرم) کا روزہ تو ضرور رکھو لیکن یہودیوں کی مخالفت بھی بایں طور کرو کہ اس کے بعد یا اس سے قبل ایک روزہ اور ساتھ ملا لیا کرو۔ ۹، ۱۰ محرم یا ۱۰، ۱۱ محرم کا روزہ رکھا کرو۔صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا (مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ، ح: ۲۱۵۴ و مجمع الزوائد: ۴۳۴/۳، مطبوعۃ دارالفکر، ۱۴۱۴ھ/۱۹۹۴ء)
ایک اور حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ نے عاشورے کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا، تو صحابہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ دن تو ایسا ہے جس کی تعظیم یہود و نصاریٰ بھی کرتے ہیں ، اس پر رسول اللہ نے فرمایا:(لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ) اگرمیں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا۔ (صحیح مسلم، الصیام، باب ای یوم یصام فی عاشوراء، ح؛ ۱۱۳۴)
لیکن اگلا محرم آنے سے قبل ہی آپ اللہ کو پیارے ہوگئے،ﷺ۔
ایک ضروری وضاحت:
بعض علماء کہتے ہیں کہ  میں نویں محرم کا روزہ رکھوں گا  کا مطلب ہے کہ صرف محرم کی ۹ تاریخ کا روزہ رکھوں گا یعنی دس محرم کا روزہ نہیں، بلکہ اس کی جگہ ۹ محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اب صرف ۹ محرم کا روزہ رکھنا مسنون عمل ہے۔ ۱۰ محرم کا روزہ رکھنا بھی صحیح نہیں اور ۱۰ محرم کے ساتھ ۹ محرم کا روزہ ملا کر رکھنا بھی سنت نہیں ۔ بلکہ اب سنت صرف ۹ محرم کا ایک روزہ ہے۔ لیکن یہ رائے صحیح نہیں۔ نبی کے فرمان کا مطلب ہے کہ میں ۱۰ محرم کے ساتھ ۹ محرم کا روزہ بھی رکھوں گا، اسی لیے ہم نے ترجمے میں ۔۔بھی۔۔ کا اضافہ کیا ہے، کیونکہ ۱۰ محرم کا روزہ تو آپ نے حضرت موسیٰ کے نجات پانے کی خوشی میں رکھا تھا، اس اعتبار سے ۱۰ محرم کے روزے کی مسنونیت تو مسلم ہے، لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لیے آپ نے اس کے ساتھ ۹ محرم کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا جس پر عمل کرنے کا موقع آپ کونہیں ملا۔ بعض دیگر روایات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے ، اسی لیے صاحب مرعاۃ مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری امام
ابن قیم
اور حافظ ابن حجر نے اسی مفہوم کو زیادہ صحیح اور راجح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح، ۲۷۰/۳، طبع قدیم)
Advertisements
2 comments
  1. roghani said:

    مسئلہ یہ نہیں کہ روزہ نو کا رکھنا ہے یا دس محرم کا۔ مسئلہ یہ ہے کہ روزہ رکھ کر کیا کرنا ہے اور اس کے بعد سارا سال کیا کرنا ہے؟

  2. Fozia Aslam said:

    You are from yazeed, when he maried his mother . That’s why you are so against Amam Alahaslam and followers.
    Aap per Allah ke lanat ho.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: