ذکری فرقہ اور ان کے عقائدکا مختصر حال

ذکری فرقے کی بنیاد دسویں صدی ہجری میں بلوچستان کے علاقہ تربت میں رکھی گئی۔
ملا محمد اٹکی نے اس کی بنیاد رکھی جو ۹۷۷ھ میں پیدا ہوا اور ۱۰۲۹ھ میں وفات پاگیا۔
ملامحمد اٹکی نے پہلے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا پھر نبوت کا دعویٰ کیا آخر میں خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ کردیا۔
ذکری فرقے کا بانی ملا محمد اٹکی سید محمد جو نپوری کے مریدوں میں سے تھا اس کی وفات کے بعد اس نے ذکری فرقے کی بنیاد رکھی سید محمد جونپوری ۸۴۷ھ میں جونپور صوبہ اودھ میں پیدا ہوا اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اس کے پیروکاروں کو فرقہ مہدویہ کا نام دیا جاتا ہے۔
اس فرقے کے بہت سے کفریہ عقائد ہیں مثلا:
سید محمد جونپوری کو مہدی ماننا فرض ہے اس کا انکار کفر ہے۔
محمد جونپوری کے تمام ساتھی آنحضرتﷺکے علاوہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں ۔
احادیث نبویﷺ کی تصدیق محمد جونپوری سے ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔
سید محمد جونپوری نے افغانستان میں فراہ کے مقام پر وفات پائی جونپوری کے فرقہ سے ذکری فرقہ نکلا ہے ان دونوں فرقوں کے مابین بعض عقائد میں مماثلت پائی جاتی ہے اور بعض عقائد کا آپس میں فرق ہے مثلا :
مہدویہ کے نزدیک سید محمد جونپوری مہدی ہے اور ذکریہ کے نزدیک نبی آخر الزمان ہے۔
مہدویہ کے نزدیک سید محمد جونپوری فراہ میں وفات پاگیا اور ذکریہ کے نزدیک وہ نور ہے مرا نہیں ہے۔
مہدویہ کے نزدیک آنحضرتﷺ  خاتم الانبیاء ہیں اور ذکریہ کے نزدیک آپﷺ نبی ہیں خاتم الانبیاء نہیں۔
مہدویہ کے نزدیک قرآن کریم آپ ﷺ پر نازل ہوا اور آپ ﷺ کی بیان کردہ تعبیر معتبر ہے اور ذکریہ کے نزدیک قرآن سید محمد جونپوری پر نازل ہواہے حضور ﷺ درمیان میں واسطہ ہیں اس کی وہی تعبیر معتبر ہے جو سید محمد جونپوری سے بروایت ملا محمد اٹکی منقول ہے۔
مہدویہ کے نزدیک قرآن کریم میں مذکور لفظ محمد سے نبی کریمﷺمراد ہیں اور ذکریہ کے نزدیک اس سے مراد سید محمد جونپوری ہے۔
مہدویہ ارکان اسلام نماز روزہ حج اور زکوٰة وغیرہ کی فرضیت کے قائل ہیں اور ذکریہ ان تمام کو منسوخ مانتے ہیں۔
ذکریہ نے حج کے لئے کوہ مراد کو متعین کیا برکہور ایک درخت کو جو تربت سے مغرب کی جانب ہے مہبط الہام قرار دیا تربت سے جنوب کی جانب ایک میدان گل ڈن کو عرفات کا نام دیا تربت کی ایک کاریز کاریزہزئی کو زم زم کا نام دیا یہ کاریز اب خشک ہوچکی ہے جب کہ مہدویہ ان تمام اصطلاحات سے بے خبر ہیں۔
ذکری فرقہ کے وجود میں آنے کا سبب دراصل یہ بنا کہ سید محمد جونپوری کی وفات کے بعد اس کے مریدین تتر بتر ہوگئے بعض نے واپس ہندوستان کا رخ کیا اور بعض دیگر علاقوں میں بکھر گئے انہی مریدوں میں سے ایک ملا محمد اٹکی سرباز ایرانی بلوچستان کے علاقہ میں جانکلا ان علاقوں میں اس وقت ایران کے ایک فرقہ باطنیہ جو فرقہ اسماعیلیہ کی شاخ ہے آباد تھی یہ لوگ سید کہلاتے تھے ملامحمد اٹکی نے اس فرقہ کے پیشواؤں سے بات چیت کی مہدویہ اور باطنیہ عقائد کا آپس میں جب ملاپ ہوا تو اس کے نتیجے میں ایک تیسرے فرقہ ذکری نے جنم لیا ملامحمد اٹکی اپنے آپ کو مہدی آخر الزمان کا جانشین کہتا تھا‘اس فرقہ کا کلمہ ہے لاالہ الا اللہ نور پاک محمد مہدی رسول اللہ ۔
قرآن وسنت کے برخلاف عقائد واعمال پر اس فرقہ کی بنیاد ہے چنانچہ یہ فرقہ عقیدہ خَتمِ نبَّوت کا منکر ہے ان کے مذہب میں نماز روزہ حج اور زکوٰة جیسے ارکان اسلام منسوخ ہیں نماز کی جگہ مخصوص اوقات میں اپنا خود ساختہ ذکر کرتے ہیں اسی وجہ سے ذکری کہلاتے ہیں۔
ان کے علاقے میں مسلمانوں کو نمازی کہا جاتا ہے کہ یہ ذکر کرتے ہیں اور مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔
رمضان المبارک کے روزوں کی جگہ یہ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے روزے رکھتے ہیں۔
حج بیت اللہ کی جگہ ستائیس رمضان المبارک کو کوہ مراد تربت میں جمع ہوکر مخصوص قسم کے اعمال کرتے ہیں جس کو حج کا نام دیتے ہیں۔
زکوٰة کے بدلے اپنے مذہبی پیشواؤں کو آمدنی کا دسواں حصہ دیتے ہیں۔
ذکریوں کا عقیدہ ہے کہ ان کا پیشوا محمد مہدی نوری تھا عالم بالا واپس چلا گیا وہ کہتے ہیں نوری بود عالم بالا رفت ان کے عقیدہ کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عرش پر بیٹھا ہواہے حضور اکرم ﷺکو معراج اسی لئے کرایا گیا تھا کہ آپ ﷺ محمد مہدی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عرش پر بیٹھا ہوا سمجھ لیں کہ سردار انبیاء یہ ہے میں نہیں ہوں۔ (معاذاللہ)
ذکری مذہب چند مخصوص رسموں اور خرافات کا مجموعہ ہے ان کی ایک رسم چوگان کے نام سے مشہور ہے جس میں مردوزن اکٹھے ہوکر رقص کرتے ہیں ان کی ایک خاص عبادت سجدہ ہے
صبح صادق سے ذرا پہلے مردوزن یکجا ہوکر بآوار بلند چند کلمات خوش الحانی سے پڑھتے ہیں پھر بلا قیام ورکوع ایک لمبا سجدہ کرتے ہیں یہ اجتماعی سجدہ ہوتا ہے اس کے بعد دو انفرادی سجدے کرتے ہیں۔
ذکری فرقہ عقیدہ خَتمِ نبَّوت اور ارکان اسلام کے انکار توہین رسالت اور بہت سے کفریہ عقائد کی بناء پر اسماعیلیوں اور قادیانیوں کی طرح زندیق ومرتد ہے انہیں مسلمان سمجھنا یا ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کرنا جائز نہیں۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: