واقعۂِ کربلا کی اصل تاریخ-5

گزشتہ سے پیوستہ

عرض مترجم

رب اعوذ بک من ھمذات الشیٰطین و اعوذبک رب ان یحضرون
حضرت عم محترم مولانا سیّد محمود احمد عبّاسی مدظلہم العالیٰ نے زیر نظر کتاب ترجمہ و تنقیح کے لئے جب میرے سپرد کی میں نے اسے دو مرتبہ پڑھا حیران ہوا ترجمہ ایسی کتاب کا کیسے کروں۔ ایمان و اسلام کہتا تھا یہ معصیت ہو گی اور اتنی سخت کہ بڑے سے بڑا عمِلّی گناہ اس کے سامنے ہیچ ہو گا۔ کیونکہ اس میں سرور کائنات اور انبیاء و رسل علیہم الصلوت وا تسلیمات کی بھی بے حرمتی کی گئی اور صحابہ کرامؓ و خلفاء اسلام کی جناب میں کسی گستاخی سے گریز نہیں کیا گیا۔
پھر ہاشمیت کہتی تھی کہ اپنے آباء کرام کی بے حرمتی پر مبِن ی داستان کی اشاعت کر کے کس منہ سے اپنے کو ان کی اولاد کہہ سکوں گا۔ اس لئے کہ ہر صحیح النسب ہاشمی اموی بھی تو ہے دونوں گھرانوں میں عہد جاہلیت سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ مصاہرت چلی آ رہی ہے بلکہ جتنے عربی الاصل مسلمان ہیں وہ سب مہاجرین و انصار کی ہی تو اولاد ہیں۔ اس طرح دین کے ساتھ ساتھ ان کا خون بھی انہیں مجبور کرتا ہے کہ سب اسلاف کے ساتھ محبت رکھیں اور ان کی جناب میں با ادب رہیں۔
غرض یہ ہے کہ اسی شش و پنج میں کئی دن گزر گئے۔ بالآخر کھلا کہ ترجمہ کرنا چاہیے اور تعلیقات کے ذریعے اصل حقائق سامنے لانا چاہئیں تاکہ اہلِ اسلام پر مِلّت اسلامیّہ اور دعوت محمّدیہ کے اندرونی دشمنوں کے مکائد آشکارا ہوں۔ گویا ترجمہ اس اطمینان پر کیا ہے کہ بہر حال توفیق الٰہی سے ان خرافات کی تنقیح بھی تو میرے ہی ہاتھ سے ہو گی۔ کتاب کا حال یہ ہے کہ جو ہستیاں تاریخی حیثیت سے محترم ہیں اور ہم عصر امّت ان کو عقیدت و محبت سے دیکھتی تھی، ان پر اس کتاب کے مصنف نے ان پر صریح جھوٹ بولے ہیں۔ ان کے اسماء گرامی پر جگہ جگہ بہتان بِن ایا ہے اور کہیں کہیں کھل کر لعنت کے الفاظ لکھ دئے ہیں بلکہ ان میں حرامی اور حرام زادہ تک کہنے سے بھی باک نہیں کیا۔
صاف معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کو مسخ اور واقعات کو غلط اور لغو انداز میں تحریر کرنے سے مصنف کا مقصود یہی ہی یہ ہے کہ امّت مسلِمہ ان فسانوں میں گم ہو کر اپنی حالت سے مایوس ہو جائے اور اخلاف کے دل میں اسلاف سے کوئی تعلق قائم نہ رہے۔ بالآخر میں نے عم بزرگوار کے حکم کی تعمیل میں اپنے اوپر جبر کر کے اس کا ترجمہ خوب سوچ کر اسی انداز میں کیا ہے جو ابو مخنف کا کوئی شاگرد اختیار کرتا ہے تاکہ فکر اندازہ لگا سکیں کہ مِلّت اسلامیّہ کے یہ اندرونی دشمن کس کس طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔
در اصل اس کتاب میں وہی ذہنیت کارفرما ہے جو شکست خوردہ قوموں کی ہوتی ہے جو اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہوں پر اپنا مقام پیدا نہ کر سکی ہوں۔ یا کسی درجہ میں کامیاب ہو بھی گئی ہوں تو درخشانی دوسروں کی روداد کو نصیب ہوئی ہو۔یونانی اور ہندوانی اساطیر میں مغلوب و محکوم ہونے کے بعد اپنے گزرے سورماؤں کے محیر العقول واقعات اور ان کے کامیاب مخالفوں پر سب و شتم کلمات محض اپنے جذبات کی تسکین کے لئے عام ہیں۔ فردوسی کے شاہنامہ میں اسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ رستم کی مافوق الفطرت قوت پر فخر و غرور اور ظاہری مادی پر طنز کا سبب بھی یہی ہے کہ ان مردان حق نے درفش کے پرخچے اڑا دئے اور تختِ کیانی کو قِصّہ پارینہ بِنادیا۔ اسی جذبے کے تحت جمل و صفین کے واقعات اور حادثۂِ کربلا کو بھی اساطیری رنگ دے دیا گیا ہے۔
عرض یہ ہے کہ زیر نظر داستان غیر مربوط اور متضاد بیانات پر مشتمل خرافات کا مجموعہ ہے۔ مگر مصنفِ کتاب نے ایک ایک تفصیل اس طرح سے دی ہے کہ جیسے یہ سب کچھ اس کی آنکھوں دیکھا حال ہو۔ حالانکہ نہ اس نے یہ زمانہ پایا اور نہ اس کے راویوں نے۔ اور نہ ہی ان لوگوں کو ان حضرات کی محفلوں میں کبھی بار ملا جو خود معرکہ کربلا میں موجود تھے اور ہر بات کے عینی شاہد ہونے کے سبب انہوں نے اپنے وہ موقف اختیار کئے تھے جو سبائی تصورات کے عیاناً خلاف ہیں۔ جیسا کہ تعلیقات سے ناظرین کرام پر عیاں ہو جائے گا البتہ ابتداء میں ان چند امور پر توجہ کی ضرورت ہے جس سے اس شخص کی ذہنیت پر مزید روشنی پڑے گی۔ اور یہ بھی معلوم ہو گا کہ عہد بعہد کیا کیا گلکاریاں کی گئیں ہیں۔
(1)پہلی غور طلب بات ہے کہ حضرت عقِیلؓ بِن  ابیِ طالب حضرت علیؓ کے سگے بڑے بھائی صفین میں حضرت معاویہؓ کے ساتھ ہونے کے سبب سبائیوں میں مبغوض تھے اور انہیں جاہلیت کا پیرو کہا جاتا تھا جیسا کہ طِبری نے کتاب الاحتجاج میں حضرت علیؓ کی طرف سے یہ قول منسوب کیا ہے:
 میرے اہلِ بیت کے وہ لوگ جاتے رہے جو اللہ کے دین کی حمایت میں میرے دست و بازو تھے۔ اب میں صرف ان دو حقیر آدمیوں میں گھرا ہوا ہوں جو جاہلیت کے زمانے کے قریب ہیں(یعنی عقِیلؓ و عبّاسؓ)یہ قول اپنے بیس برس بڑے بھائی اور اپنے عم بزرگوار کے متعلق کیا حضرت علیؓ کی زبان سے نکلنے ممکن تھے ؟ خصوصاً اس لئے کہ حضرت عبّاسؓ تو اس وقت دنیا میں تھے ہی نہیں۔ اور ان کے فرزند سب کے سب حضرت علیؓ کے ساتھ رہے۔ اور ان کی حکومت کے کارکن تھے۔ رہے حضرت عقِیلؓ تو بیشک وہ اور ان کے سب فرزند حضرت معاویہؓ کے ساتھ تھے۔ اسی لئے ان میں سے کوئی صاحب عہد مرتضوی میں کسی عہدے پر فائز نظر نہیں آتے۔ مسلم بِن عقِیلؓ نے چونکہ حضرت حسین ؓکا ساتھ دیا تھا اس لئے حضرت عقِیلؓ کے دن بھی پھر گئے۔ اب ان کا شمار اہلِ بیت اور آلِ محمّد میں ہونے لگا۔ نام کے ساتھ علیہ السلام کا اضافہ ہوا اور اس قابل ہو گئے کہ اپنے دوسرے بزرگوں کے ساتھ حضرت حسین ؓان کے نام کی بھی دہائی دیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس افسانے میں مسلم کے ان دو خورد سآلِ بچوں کا کوئی ذکر نہیں جنھیں ان کے ساتھ کوفہ جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مسلم کے مقتول ہونے کے بعد ان یتیموں پر جو گزری اس کے بڑے طویل اور دلگداز مرثیے کہے گئے ہیں۔ گویا ابو مخنف کے وقت تک ان دو عقیلی بچوں کا کوئی تصور تک نہ تھا یہ ایجاد بعد کی ہے اور یہ مضامین غیب سے کسی اور وقت مرثیہ خوانوں پر القاء ہوئے ہیں۔
(2)دوسری بات یہ ہے کہ اس پورے افسانے میں کہیں ان ابو بکر و عثمانؓ کا نام نہیں جو حضرت حسین ؓکے بھائی اور حضرت علیؓ کے فرزند تھے۔ کربلاء میں مقتول ہونے کے باوجود غالباً اپنے ناموں کی وجہ سے وہ اس قابل نہ رہے کہ ان کی طرف بھی کوئی اشارہ ہوتا۔ کیونکہ اس طرح ان ناموں کی وہ عظمت کھل جاتی جو حضرت علیؓ کے دل میں تھی۔ ان کے وہ جذبات محبت و عقیدت واضح ہو جاتے جن کی نمود آپ کے فرزندوں کے اسماء گرامی میں ہے۔ یعنی جس دلی تعلق اور گہری مودت کے سبب حضرت علیؓ نے اپنے ایک فرزند کا نام محمّد رکھا اور ایک کا اپنے عم بزرگوار کے نام پر عبّاس ، اسی جذبے کے تحت ایک فرزند کا نام ابو بکر رکھا، ایک کا عمر اور ایک کا عثمان۔
(3)راوی نے حضرت حسین ؓکو سمجھانے والوں میں ان کے ایک بھائی حضرت محمّد بِن  علی ؓ بِن  ابیِ طالب کا تو ذکر کیا ہے، اگرچہ انداز غلط ہے جیسا کہ اپنی جگہ تعلیقے سے ظاہر ہو گا، مگر اس نے ان کے دوسرے بھائی حضرت عمر ؓبِن علی ؓ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ وہ بھی ان میں سے ہیں جنھوں نے اس اقدام سے حضرت حسین ؓکو روکا تھا اور جب حضرت حسین ؓنے اصرار کر کے اپنے ساتھ لے جانا چاہا تو قوت کے ساتھ انکار کر دیا۔ غالباً ان عمر بِن  علی ؓ کا ذکر بھی ان کے نام کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔
سبائیہ نے حضرت محمّد بِن  علی ؓبِن  ابیِ طالب کو ابِن  الحنفیہ کہنا شروع کیا اور اس کثرت سے کہ دوسرے لوگ بھی ان لوگوں کا مقصد سمجھے بغیر یہی کہنے لگے۔ چونکہ حضرت محمّد مذکور اپنے تمام بھائیوں علم و فضل کے اعتبار سے امتیازی شان رکھتے تھے اور علماء و فقہا میں ان کا مقام تھا، اس لئے ان کی حیثیت کم کر کے دکھانے کی سبیل ان لوگوں کو یہی نظر آئی کہ انہیں(ابِن  الحنفیہ)کہنا شروع کر دیں اور تاثر دیں کہ حضرت فاطمہؓ کے فرزندوں کے مقابلے میں وہ کم حیثیت ہیں۔ حالانکہ شرعاً و عرفاً بیٹے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے اور اس کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا کہ وہ بیوی سے ہے یا ام الولد سے۔ اپنے باپ کے ورثے میں سب فرزند برابر ہوتے ہیں۔ اور یہ محض علم و تقویٰ ہے جو کسی کو کسی پر فضیلت دے دے۔
عرب اس بارے میں بڑا ذکی الحس ہوتا ہے اور ہمیشہ اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف کرتا ہے نہ کہ ماں کی طرف۔ چنانچہ کہنے والا کہتا ہے ہمارے بیٹے وہ ہیں جو ہمارے بیٹوں کی اولاد ہوں،رہیں ہماری بیٹیاں تو ان کے بیٹے دوسرے لوگوں کی اولاد ہوتے ہیں(عربی شعر)یہ لوگ جو حضرت محمّد بِن  علی ؓکو ابِن  الحنفیہ کہتے ہیں۔ یہ اس وقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ کہنے والا حضرت علی(زین العابدین)کو بھی علی بِن  السندھیہ کہہ سکتا ہے۔ اور اگر کہے تو ابِن  الحنفیہ کہنے والوں کو خفا ہونے کا کوئی جواز نہیں ہو گا۔ خصوصاً اس لئے کہ ان علی(زین العابدین)کی والدہ ساری عمر ام الولد
رہیں۔ لیکن جناب محمّد بِن  علی ؓکی والدہ ماجدہ چونکہ عربی النسل تھیں اس لئے حضرت فاروق ؓ کے حکم سے حضرت علیؓ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا تھا۔ تمام عربی النسل خواتین جو جنگ میں گرفتار ہوئی تھیں وہ سب آزاد کر دی گئی تھیں اور سب اپنے اپنے مالکوں کے نکاح میں آ گئی تھیں۔ در اصل فاطمیت کا تصور اہل عجم کا پیدا کردہ ہے اور سب سے پہلے مجوس الاصل عبیدی لوگ
تھے جنھوں نے اپنے آپ کو بزور شمشیر فاطمیہ کہلوایا۔ ورنہ صحیح النسب علوی لوگ اپنی نسبت حضرت علیؓ سے ہی کرتے تھے بلکہ عبد مناف ابو طالب سے نسبت کی بِن اء پر ان سب کی اولاد کو طالبی کہا جاتا تھا۔ عبیدیوں نے جہاں اپنا مجہول نسب چھپانے کے لئے فاطمیت کا دعویٰ کیا وہاں ہدم اسلام اور تخریب دین کے لئے اپنی ملحدانہ اور کافرانہ حکومت کو بھی خلافت کا نام دے دیا۔ چنانچہ یہ بنے ہوئے فاطمی ہی ہیں جنھیں اموی سادات سے سخت عداوت ہے۔ اگر یہ لوگ واقعی فاطمی ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ جنھیں وہ علویوں سے جداگانہ اور غیر لوگ سمجھتے ہیں وہ دراصل خود ان کے اپنے آباء کرام ہیں کیونکہ دونوں خاندانوں میں تواتر کے ساتھ رشتے ہوتے شروع سے چلے آ رہے ہیں۔
اسی  فاطمیت کے خود ساختہ تصور کو فروغ دینے کے لئے نص قرآنی اور علم الانساب کی مسلم الثبوت شہادتوں کو پس پشت ڈال کر بلکہ حجواً و استکباراً یہ خیال پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے کہ حضرت فاطمہؓ رسول اللہکی اکلوتی بیٹی تھیں۔ اور بھول جاتے ہیں کہ نص قرآنی کا انکار کفر ہے۔ اللہ رب العزت نے صاف فر ما دیا ہے:
یا ایھا النّبی قل الا زواجک و بِن اتک و نساء المومنین(اے نبی کہہ دو اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلم خواتین سے)
(4)حضرت حسین ؓکی اولاد میں ابو مخنف نے علی الاکبر اور علی الاصغر(زین العابدین)نیز سیّدہ سکینہ کا تو عجب جاہلانہ اور سفہیانہ انداز میں ذکر کیا ہے اور ایک موہوم شیر خوار بچے کا بھی۔ لیکن سکینہ کی بڑی بہن سیّدہ فاطمہؓ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ وہ اپنے شوہر حسن المثنیٰ بِن  الحسنؓ بِن  علی ؓبِن  ابیِ طالب کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں۔لیکن نہ تو حسن المثنیٰ کا کوئی کارنامہ دکھایا گیا ہے اور نہ کوئی رجز ان کے نام سے وضع کیا گیا ہے۔ غالباً وجہ یہ ہے کہ وہ کربلا سے زندہ واپس آئے اور ساری زندگی سبائیہ سے بیزار رہے۔ امیر یزید سے بیعت کی اور اموی خلافت کے ایسے موید تھے کہ
حضرت ابِن  الزبیر تک سے بیعت نہیں کی۔ حالانکہ امیر یزید وفات پا چکے تھے۔ شام جانے والے نا م نہاد قیدیوں میں وہ شامل تھے۔ لیکن ان کا موقف چونکہ سبائیوں کو پسند نہ تھا اس لئے اس کتاب میں وہ مجاہد کی حیثیت سے بار نہ پا سکے کیونکہ تمام ہاشمیوں کی طرح ان کا بھی یہی طریقہ رہا کہ ہر طرح اموی خلافت کے استحکام میں مدد دیں۔ اور اس کے خلاف جو بھی تحریک اٹھے اس
سے بے تعلق رہیں اور مِلّت کو وحدت قائم رکھنے کی تلقین کریں۔ انہوں نے اپنی زینب کا نکاح اموی خاندان میں امیر المومنین ولید اوّل سے کر دیا تھا۔
حضرت حسین ؓکے سگے بھتیجے اور داماد کا یہ موقف چونکہ ابو مخنف جیسے لوگوں کے تصورات کو باطل کرتا ہے اس لئے ان کا ذکر کیوں ہوتا۔ دوسرے انہیں اِمامّت سے بھی محروم کر دیا گیا جو آلِ حسین ؓکے بعض افراد سے مخصوص کی گئی ہے۔ داماد کے ساتھ بیٹی بھی محض اس لئے قابل نہیں رہیں کہ وہ اپنے خاوند کے موقف پر تھیں پھر انہوں نے سبائیوں کے نزدیک غضب یہ کیا کہ اپنے شوہر حسن المثنیٰ کی وفات کے بعد اپنا نکاح ثانی اموی خاندان میں کر لیا۔ اور جناب عبداللہ بِن  امیر المومنین عثمانؓ کی زوجیت میں آ گئیں۔ جن سے حضرت حسین ؓکے اموی نواسے محمّد اور قاسم پیدا ہوئے اور ایک نواسی رقیہ۔ اسی لئے مناسب یہی سمجھا گیا کہ حضرت حسین ؓکی اس بیٹی اور داماد کا کچھ ذکر نہ ہو۔
فاطمہ بِن ت الحسین ؓکی والدہ ماجدہ سیّدہ امِ اسحٰق بِن ت سیّدنا طلحہ ؓتھیں۔ وہی طلحہ ؓجو رسول اللہکے ہم زلف ہیں عشرہ مبشرہ میں ہیں اور جنھوں نے امیر المومنین حضرت علیؓ کی بیعت نہیں
کی۔ اور جنگ جمل میں ان کے خلاف کھڑے ہوئے اور کسی سبائی کے تیر سے بعد اختتام جنگ جام شہادت نوش کیا۔ انہی حضرت طلحہؓکی بیٹی سے اوّل حضرت حسنؓ نے نکاح کیا اور 49 ہِجری میں ان کی وفات کے بعد حضرت حسین ؓنے اپنی ان بھاوج سے نکاح کر لیا جن سے فاطمہ بِن ت الحسین ؓپیدا ہوئیں۔ یہ انتساب بھی ابو مخنف کو اجازت نہیں دیتا کہ فاطمہ بِن ت الحسین ؓکا ذکر کیا جائے جو ان ہی حضرت طلحہؓ کی نواسی تھیں جن پر سبائیہ و روافض حلقوں میں لعنت کی جاتی ہے۔
حسن المثنیٰ کے دوسرے بھائی جناب زید کا بھی اس کتاب میں کوئی ذکر نہیں حالانکہ وہ حادثۂِ کربلا میں زخمی ہوئے، سرکاری اہتمام سے ان کا علاج کیا گیا۔ شام جانے والے قیدیوں میں وہ بھی شامل تھے لیکن ان کا موقف چونکہ سبائیہ کو پسند نہ تھا اس لئے یہ کتاب ان کے ذکر سے بھی خالی ہے۔ ان کا بھی موقف وہی رہا جو دوسرے بنو ہاشم کا تھا۔ انہوں نے اپنی صاحبزادی سیّدہ نفیسہ کا نکاح بھی اموی خاندان میں امیر المومنین ولید اوّل سے کر دیا تھا اس طرح دونوں چچا زاد بہنیں ایک ہی اموی خلیفہ کی زوجیت میں تھیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

 
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: