حصول طہارت کے لئے جائز اشیاء:

حصول طہارت کے لئے جائز اشیاء:

 طہارت حاصل كرنے كا اصل ذريعہ پانى ہے، كيونكہ كتاب و سنت ميں طہارت كے وصف كے ساتھ پانى كو ہى مختص كيا گيا ہے جيسا كہ قرآن ميں ہے:
  وَأنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُوْرًا  (الفرقان 48) اور ہم نے آسمان سے پاك كرنے والا پانى اُتارا ہے۔
 اور حديث ميں ہے كہ :الماء طهور لايُنجِّسه شيئ پانى پاك كرنے والا ہے، اسے كوئى چيز ناپاك نہيں كرتى۔(ابوداود 67)
 يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ پانى سے اس وقت طہارت حاصل كى جاسكتى ہے، جب اس ميں كوئى پليد چيز نہ ملى ہو، جيسا كہ ايك روايت ميں ہے كہ :
پانى پاك ہے، الاكہ اس كى بو، ذائقہ اور رنگ پليد چيز گرنے سے بدل جائے۔ (بيہقى 1/29، دارقطنى 1/28)
 اگر پانى كسى پاك چيز كے ملنے كى وجہ سے متغير ہوچكا ہو تو وہ اگرچہ خود تو پاك ہى رہتا ہے ليكن پاك كرنے والے وصف سے عارى ہوجاتا ہے، كيونكہ شريعت نے ہميں جس پانى سے طہارت حاصل كرنے كا حكم ديا ہے، وہ صرف ماءِ مطلق ہى ہے۔ اگر پانى ميسرنہ ہو تو پاك زمين سے طہارت حاصل كى جاسكتى ہے جس ميں مٹى، ريت اور پتهر وغيرہ سب اشيا شامل ہيں۔ارشادِ بارى تعالىٰ ہے:  فَلَمْتَجِدُوْا مَاءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا  تمہيں پانى ميسر نہ ہو تو پاك مٹى سے تيمم كرلو۔ (النساء 43)
 حديث ِنبوى ہے كہ :جُعلت لي الأرض مسجدًا وطهورًا ميرے لئے زمين كو مسجد اور پاك كرنے والى بنايا گيا ہے۔ (بخارى 335)
 ايك اور حديث ميں ہے كہ :پاك مٹى مسلمان كے لئے وضو ہے، چاہے دس سال اسے پانى نہ ملے، جب پانى حاصل ہوجائے تو اپنے جسم كو اس سے صاف كرے۔ (ابوداود 332)
زمين 2طرح سے پاك ہوتى ہے:
نمبر1 يہ كہ ا س پر پانى بہا ديا جائے جيسا كہ ايك ديہاتى نے مسجد كے ايك كونے ميں پيشاب كرديا تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر پانى كا 1ڈول بہانے كا حكم ديا۔ (بخارى 221)
 نمبر 2 يہ كہ سورج يا ہوا كى وجہ سے زمين خشك ہوجائے حتىٰ كہ نجاست كا اثر بهى زائل ہوجائے تو وہ پاك ہوجاتى ہے، كيونكہ اس پر وہ وصف ہى باقى نہيں رہا جس و جہ سے اس كے نجس ہونے كا حكم لگايا گيا تها۔
اگر كنوئيں ميں نجاست گر جائے اور اس كے اوصافِ ثلاثہ ميں سے كوئى وصف تبديل ہوجائے تو اسے پاك كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ اس سے اتنا پانى نكال ليا جائے جس سے تغير ختم ہوجائے اور پانى اپنى اصل حالت پر واپس آجائے۔ يہ ياد رہے كہ اصل مقصود پانى ميں واقع تغير كا زائل كرنا ہے، وہ كم پانى نكالنے سے ہو يا زيادہ نكالنے سے يا بغير نكالنے كے ہى۔ كنوئيں كا پانى كم يا
زيادہ ہونے ميں بهى كوئى فرق نہيں۔
ايسى اشيا جن ميں مسام (يعنى سوراخ و اجزا وغيرہ) نہ ہوں، مثلاً شيشہ، چهرى، تلوار، ناخن، ہڈى اور روغنى برتن وغيرہ ، وہ اس قدر (زمين يا كسى اور چيز پر) رگڑنے سے پاك ہوجاتى ہيں كہ جس سے نجاست كا اثر زائل ہوجائے۔
واضح رہے كہ جن اشيا كو پاك كرنے كا كوئى خاص طريقہ شريعت سے ہميں ملتا ہے اُنہيں اسى طرح پاك كيا جائے گا، مثلاً جوتى پر لگى نجاست كے متعلق حديث ميں ہے كہ اِسے زمين پر رگڑ كر پاك كيا جائے۔ (ابوادود 65)
Advertisements
3 comments
  1. Ahmed Mansoor said:

    Totally useless information. Every one knows how to wash. What you are trying to prove? Most of your blogs are boring, backward and useless.

    • احمد منصور صاحب
      آپ کو جب میرا بلاگ پسند ہی نہیں اور بورنگ لگتا ہے تو یہاں تشریف ہی کیوں لاتے ہیں؟
      اپنے آپ پر احسان کیجئے
      اور میرے بلاگ پر آنے سے گریز کیجئے
      شکریہ

      • Ahmed Mansoor said:

        Typical Molvi thinking, people who are non Muslim they use water to clean up. I still don’t understand what is point of your blog? People are using water to clean even before Islam for millions of years.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: