حضرت عمر فاروقؓ

دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی آئے جنہوں نے اپنی دانشمندی،عمل،جرات وبہادری اورلازوال قربانیوں سے ایسی تاریخ رقم کر گئے کہ قیامت تک ان کے کارنامے لکھے اورپڑھے جاتے رہیں،ان ہی میں سے ایک شخصیت جن کے بارے میں سیدالانبیاء حضرت محمد صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگرمیرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق ہوتے ۔آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود 22لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں،اس کے انداز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے ایک غیرمسلم یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ اگرعمرکو10 سال اور ملتے تو دنیا سے کفر کا بالکل نام ونشان تک نہ ملتا ۔
 حضرت عمر فاروقؓ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ہیں ۔ ان کے والد کا نام خطّاب تھا۔ وہ ۵۸۳ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ جب بڑے ہوئے تو ان کے والد نے انہیں اونٹ چرانے کے کام پر مامور کیا۔ جوانی میں پہلوانی، کشتی اور شہسواری کے فن میں مہارت حاصل کی اور لکھنا پڑھنا بھی سیکھا۔ ان کے معاش کا ذریعہ تجارت تھی۔
حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ دلچسپ ہے۔ وہ اسلام کے شدید دشمن تھے۔ اپنے خاندان کے ان لوگوں کو جنھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا خوب مارتے تھے۔ان کی سختیوں کے باوجود جب کوئی اسلام سے بد دل نہ ہوا تو(نعوذ باللہ) خود اسلام کے بانی حضرت محمّد  کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار لے کر آپ  کی تلاش میں نکل پڑے۔ راستے میں حضرت نعیمؓ سے ملاقات ہوئی۔ ان کے بگڑے تیور دیکھ کر نعیمؓ نے پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟بولے کہ محمّد   کا قصہ تمام کرنے۔نعیمؓ نے کہا کہ پہلے اپنے گھرکی خبر لیجئے۔ تمہاری بہن اور بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ حضرت عمرؓ  فوراً پلٹے اور بہن کے گھر آئے۔ اس وقت دونوں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ ان کی آہٹ سنتے ہی چپ ہو گئے اور قرآن کے اجزا چھپا دیے۔ حضرت عمرؓ نے بہن سے پوچھا کہ کیا پڑھ رہے تھے؟ بہن نے کہا:’’کچھ نہیں ‘‘۔ بولے کہ میں سن چکا ہوں ۔ تم دونوں مرتد ہو گئے ہو۔ یہ کہہ کر اپنے بہنوئی کو پیٹنے لگے ۔ جب بہن بچانے کو آئیں تو ان کو بھی پیٹا یہاں تک کہ دونوں کا جسم لہولہان ہو گیا۔ اس حالت میں بھی ان کی زبان سے یہی نکلا کہ اے عمر! یہ جان جا سکتی ہے لیکن اب اسلام دل سے نہیں نکل سکتا۔ ان الفاظ نے حضرت عمرؓ کے دل پر ایک خاص اثر کیا۔ انہوں نے بہن کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھا اور  کہا:’’ فاطمہؓ تم دونوں جو پڑھ رہے تھے اسے مجھے بھی دکھاؤ‘‘۔ فاطمہؓ نے قرآن کے وہ اجزا سامنے لا کر رکھ دیے۔ اس کو پڑھتے ہی ان کا پتھر کی طرح سخت دل موم کی طرح پگھل گیا۔ ان کی زبان پر بے اختیار کلمۂ شہادت جاری ہو گیا۔
حضرت عمرؓ اس تبدیلی کے بعد حضرت محمّد  کے آستانۂ مبارک پر پہنچے۔ آپ  نے ان کا دامن پکڑ کر فرمایا: اے عمر! کس ارادے سے آیا ہے؟ یہ سوال سنتے ہی ان کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ نہایت نرم لہجے میں کہا:’’ ایمان لانے کے لیے۔‘‘ حضرت محمّد  بے ساختہ اللہ اکبر پکار اٹھے۔ آپ کے ساتھ تمام صحابہؓ نے اس زورسے نعرہ مارا کہ مکہ کی فضا گونج اٹھی۔
حضرت عمرؓ نے جب اسلام قبول کیا اس وقت صرف چالیس آدمی ہی اسلام لائے تھے۔ وہ چھپ کر نماز پڑھتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انہوں نے اعلانیہ اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ مشرکین کی شدت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ کعبہ میں نماز ادا کی۔ اسی طرح جب دشمنوں کے ظلم وستم سے مجبور ہو کر حضرت محمّد  نے ہجرت کا حکم دیا تو حضرت عمرؓ نے اعلانیہ مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ یہ واقعہ ۶۲۳ء کا ہے۔
حضرت عمرؓ نے مدینہ میں بھی حضرت محمّد  کا ہر موقع پرساتھ دیا اور اسلام کی حفاظت کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دی۔ وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد خلیفہ ہوئے۔ مسندِ خلافت پر بیٹھتے ہی انہوں نے فرمایا:
’’اے خدا! میں سخت ہوں ، مجھ کو نرم کر۔ میں کمزور ہوں ، مجھ کو قوت دے۔‘‘
حضرت عمرؓ کا زمانہ اسلام کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس دور میں روم اور ایران کی عظیم الشان حکومتوں کا تختہ الٹ گیا اور دنیا کی یہ دونوں سب سے بڑی حکومتیں اسلامی حکومت میں شامل ہو گئیں ۔ اسی زمانے میں مصر پر بھی اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ اس طرح حضرت عمرؓ کی خلافت میں اسلامی حکومت پھیل کر بے انتہا وسیع ہو گئی تھی۔
حضرت عمرؓ  کی خلافت کی مدت دس برس، چھ مہینے ،چار دن ہے۔اس مدت میں انہوں نے اتنی بڑی حکومت کو چلانے کے لیے باقاعدہ نظام بھی قائم کیا۔ مقبوضہ ملکوں کو صوبوں میں تقسیم کر کے ہر صوبے کی نگرانی کے لیے ایک والی مقرر کیا۔ بیت المال، عدالت، آبپاشی، فوج اور  پولس کے محکمے قائم کئے۔ جیل خانے بنوائے۔ شہر آباد کرائے، نہریں کھدوائیں ، مہمان خانے تعمیر کروائے، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں ، مردم شماری کروائی، اسلامی تاریخ اورسنہ ہجری  کا تعین کیا اور جگہ جگہ مکاتب قائم کئے۔ ان کی حکومت میں اس قدر آزادی تھی کہ عام لوگ ان سے بے خوف گفتگو کرتے تھے۔
ایک مرتبہ انہوں نے منبر پر چڑھ کر کہا:’’اے لوگو!اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں تو تم کیا کرو گے؟‘‘ ایک شخص تلوار کھینچ کر وہیں کھڑا ہو گیا اور بولا کہ تمہارا سراڑادیں گے۔ حضرت عمرؓ نے آزمانے کے لیے ڈانٹ کر کہا:’’ کیا تو میری شان میں گستاخی کرتا ہے؟‘‘ اس نے کہا:’’ ہاں ہاں ‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہا:’’الحمد للہ ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھ کو  سیدھا کر دیں گے۔‘‘
ایک مرتبہ مصر کے والی حضرت عمرو ؓبن العاص کے بیٹے نے ایک قبطی کو بے وجہ مارا تو اسے سب کے سامنے اس قبطی کے ہاتھ سے سزا دلوائی اور  کہا کہ تم لوگوں نے آدمیوں کو کب سے غلام بنا لیا۔ ان کی ماؤں نے تو ان کو آزاد جنا تھا۔
حضرت عمرؓ راتوں کو گشت کر کے لوگوں کا حال معلوم کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مدینے سے تین میل دور پہنچے۔ دیکھا کہ ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور  دو تین بچے رو رہے ہیں ۔ پاس جا کے وجہ دریافت کی تو عورت نے کہا:’’ ان کو کئی وقتوں سے کھانا نہیں ملا ہے۔ انہیں بہلانے کے لیے ہانڈی میں پانی ڈال کر چڑھا دی ہے۔‘‘ حضرت عمرؓ تیزی سے مدینہ آئے۔
بیت المال سے کھانے کی چیزیں لیں اور  اپنے غلام اسلم سے کہا کہ اسے میری پیٹھ پر رکھ دو۔ اسلم نے کہا کہ میں لیے چلتا ہوں ۔ فرمایا کہ کیا قیامت میں تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟۔ وہ خود ہی سب سامان لے کر عورت کے پاس گئے۔ اس نے پکانے کا  انتظام کیا۔ حضرت عمرؓ نے خود چولہا پھونکا۔ کھانا تیار ہوا تو بچوں نے سیر ہو کر کھایا اور
اچھلنے کودنے لگے۔ حضرت عمرؓ یہ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔ عورت نے کہا کہ خدا تم کو جزائے خیر دے۔ سچ یہ ہے کہ امیرالمومنین ہونے کے قابل تم ہو،نہ کہ عمر۔
حضرت عمرؓ بیت المال کی نگرانی بھی دیانت داری سے کرتے تھے۔ ایک مرتبہ احنف بن قیس کچھ لوگوں کے ساتھ ان سے ملنے گئے۔ دیکھا کہ اِدھر اُدھر دیوانہ وار دوڑ رہے ہیں ۔ احنف کو دیکھ کر کہا:’’تم بھی میراساتھ دو۔ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ اس میں غریبوں کا حق ہے‘‘۔ ایک شخص نے کہا کہ امیرالمومنین آپ کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں ۔ کسی غلام کو حکم دیجئے وہ ڈھونڈ لائے گا۔ فرمایا کہ مجھ سے بڑھ کرکو ن غلام ہو سکتا ہے۔
ایک عظیم الشان حکومت کا خلیفہ ہونے کے باوجود حضرت عمرؓ کی زندگی بے انتہا سادہ تھی وہ معمولی سالباس پہنتے۔ بہت ہی سادہ غذا استعمال کرتے اورکسی بھی گوشے میں مٹی کے فرش پر لیٹ جاتے۔ وہ تقویٰ، پرہیزگاری، حق پرستی، راست گوئی اور عدل و انصاف کا پیکر تھے۔ اسلامی اخلاق کی مجسم تصویر تھے۔ مدینہ کے ایک پارسی غلام ملعون فیروز ابو لولو نے ان پر ۶۴۴ء میں صبح کی نماز کے وقت اچانک خنجر سے حملہ کیا اور متواتر چھ وار کیے۔ زخم اتنا کاری تھا کہ جانبر نہ ہو سکے۔ حضرت محمّد  کے پہلو میں ان کا  مزار ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: