واقعۂِ کربلا کی اصل تاریخ-4

کتاب کے قلمی اور مطبوعہ نسخے

ابو مخنف متوفی 157 ہِجری یا 170 ہِجری کا زمانہ بارہ سو برس کا اس قدر قدیم زمانہ ہے کہ اس کی کسی تصنیف کا کوئی قلمی نسخہ نہیں پایا جاتا البتہ کوئی ڈیڑھ سو برس بعد اس کی وفات کے ابِن  جریر طِبری متوفی 310 ہِجری نے اس کے تاریخی کتابچوں کی روایتوں اور مقتل ابیِ مخنف کا کل مواد قآلِ ابو مخنف کی تکرار سے اپنی تاریخ میں درج کر دیا ہے۔ اب یہ نقل شدہ مواد ہی گویا قدیم ترین نسخہ مقتل ابو مخنف کا سمجھا جا سکتا ہے جو حادثۂِ کربلا کے تقریباً سو برس بعد محض سماعی روایتوں سے مرتب ہوا۔ زمانہ حال کے شِیعہ مصنف "مجاہدِ اعظم "نے داستانِ کربلاء کی وضعی روایتوں کے ذکر میں مقتل ابو مخنف کے نسخوں کا مختلف البیان ہونے کا بھی اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
 صد ہا باتیں طبع زاد و تراشی گئیں۔ واقعات کی تدوین عرصہ دراز کے ہوئی رفتہ رفتہ اختلافات کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ سچ کو جھوٹ سے، جھوٹ سے سچ کو علیحدہ کرنا مشکل ہو گیا۔ ابو مخنف لوط بِن  یحیی ازدمی کربلاء میں خود موجود نہ تھے اس لئے یہ سب واقعات انہوں نے بھی سمعی لکھے ہیں لہذا مقتل ابو مخنف پر بھی پورا وثوق نہیں پھر لطف یہ کہ مقتل ابو مخنف کہ چار نسخے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف البیان ہیں اور ان سے صاف پایا جاتا ہے کہ خود ابو مخنف واقعات کے جامع نہیں بلکہ کسی اور شخص نے ان کے بیان کردہ سماعی واقعات کو قلمبند کر دیا ہے۔ مختصر یہ
کہ شہادتِ اِمام حسین ؓسے متعلق تمام واقعات ابتدا سے انتہا تک اس قدر اختلافات سے پر ہیں کہ اگر ان کو فرداً فرداً بیان کیا جائے تو کئی ضخیم دفتر فراہم ہو جائیں۔
اکثر واقعات مثلاً اہلِ بیت پر تین شبانہ روز پانی کا بند رہنا، مخالف فوج کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا۔ شمر کا سینہ مطہر پر بیٹھ کر سر جدا کرنا، آپ کی لاش مقدسہ سے کپڑوں تک کا اتار لینا، نعش مطہر کا لکد کوب سم اسپان کیا جانا، سر اوقات اہلِ بیت کی غارت گری، نبی زادیوں کی چادر تک چھین لینا وغیرہ وغیرہ نہایت مشہور اور زبان زد خاص و عام ہیں حالانکہ ان میں سے بعض سرے سے غلط، بعض مشکوک، بعض ضعیف، بعض مبالغہ آمیز اور بعض من گھڑت ہیں(صفحہ 178)
ملاحظہ فرمایا آپ نے ،خود ایک شِیعہ مورخ ہی جنھوں نے سالہا سآلِ کے مطالعہ اور تحقیق سے اپنی کتاب مجاہدِ اعظم تالیف کی ہے۔ حادثۂِ کربلا کی مشہور روایتوں کو جو زبان زد خاص و عام ہیں کس وضاحت سے سرے سے غلط، مشکوک و مبالغہ آمیز و من گھڑت کہتے ہیں اور اسی کے ساتھ مقتل ابیِ مخنف کے قلمی و مطبوعہ نسخوں کو مختلف البیان بتاتے ہیں چنانچہ مطبوعہ نسخہ کے سرسری مطالعے ہی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بہت کچھ تصرف اس میں کیا گیا ہے بعض ایسی روایتوں کو جن کی ساختگی کتب بلدان و جغرافیہ کے ٹھوس حقائق سے عیاں ہو جاتی ہے ترک و حذف کر کے مزید واہی روایتوں کا الحاق کر دیا ہے۔ مگر اتنی بات تو سب کے نزدیک مسلّم ہے کہ حضرت حسین ؓمدینہ سے مکّہ آ کر پھر کبھی لوٹ کر مدینہ نہیں گئے۔ مکّہ ہی میں چار مہینے قیام کر کے یہیں سے سفر عراق پر روانہ ہوئے تھے۔ مطبوعہ نسخہ میں تاریخ روانگی کا اخفا کر کے یہ کیسی غلط بات کہی گئی ہے کہ مسلم بِن  عقِیلؓ و ہانی بِن  عروہ جب کوفہ میں قتل ہو گئے اور ان کی خبریں حضرت حسین ؓکو ملنا بند ہو گئیں تو آپ کو سخت قلق ہوا۔ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر آپ مدینہ چلے گئے اور مرقد رسول سے چپٹ کر شِدّت سے روئے کہ اچانک غنودگی طاری ہو گئی تو آپؓ نے اپنے نانا رسول اللہکو یہ فرماتے سنا:
فوراً  فوراً، جلدی جلدی بھاگ کر ہمارے پاس آ جاؤ ہم تمہاری آمد کے مشتاق ہیں۔ اس مکذوبہ روایت کے ڈرامائی و دیو مالائی انداز بیان سے قطع نظر صرف مسلم وہانی کی گرفتاری اور ان کے قتل ہونے نیز حسینی قافلے کی تاریخ روانگی کو پیش نظر رکھا جائے تو اس واہی روایت کا صاف بطلان ہو جاتا ہے۔ مسلم و ہانی کی گرفتاری اور سزائے قتل کی تاریخ ابو مخنف نے 9 ذی الحجہ 60 ہِجری بیان کی ہے اور حضرت حسین ؓکے مکّہ سے عراق چلے جانے کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور واقعہ بھی بیان کر دیا ہے جس سے ان کی عراق روانگی کی صحیح تاریخ 10 ذی الحجہ معین ہو جاتی ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے۔ حسین ؓجب(سفر عراق پر)روانہ ہوئے اور مقام تنقیم تک پہنچے تو ایک قافلہ ملا جو یمن سے آ رہا تھا اور جس کو بجیر یسار حمیری نے یزید بِن  معاویہؓ کے پاس بھیجا تھا وہ ان کا عاملِ یمن میں تھا۔ قافلے کے پاس درس(خوشبوئیں)اور حلے(پوشاکیں)تھیں جو یزید کے پاس بھیجی جا رہی تھیں۔ حضرت حسین ؓنے قافلے کو ماخوذ کر لیا اور وہ چیزیں لے لیں پھر اونٹ والوں سے کہا کسی پر جبر نہیں جو ہمارے ساتھ عراق چلے اسے کرایہ دیا جائے گا(الی آخر ی طِبری جلد 2 صفحہ 218)

صوبہ یمن کا سرکاری قافلہ جسے مندرجہ بالا روایت کے اعتبار سے حضرت حسین ؓنے مقام تنقیم پر ماخوذ کر لیا تھا 10 ذی الحجہ کو وہاں پہنچا تھا اس سے پہلے نہیں کیونکہ صوبہ یمن کے سالتمام کے محاصل و اشیاء و خراج دارالخلافہ دمشق کے بیت المسلِمین میں داخل کرنے کے لئے اہل قافلہ اس پروگرام سے چلتے تھے کہ ایام حج میں مکّہ پہنچ جائیں جہاں ارکان حج ادا کریں پھر 10 ذی الحجہ
کو براہِ مدینہ دمشق پہنچ کر خلیفۂِ وقت کو محاصل و اشیاء و خراج ادا کر دیں ۔ مقام تنقیم مکّہ سے راہ مدینہ کا پہلا مقام ہے جو مکّہ سے شمال مغرب کی جانب ہے اور کوفہ و عراق کا راستہ اس کے مخالف طرف مکّہ سے بجانب شمال مشرق ہے۔ یہ دونوں راستے ایک دوسرے کے مخالف سمت واقع ہیں۔ پس اگر حضرت حسین ؓ نے روانگی سفر عراق کے وقت سرکاری قافلے کو مقام تنقیم پر ماخوذ کیا جیسا ابو مخنف نے اور اسکی تقلید میں سب مورخین نے صراحتاً بیان کیا ہے تو ظاہر ہے کہ مقام تنقیم عراقی راستے میں تو آتا نہ تھا۔ لہذا سفر شروع کرنے سے پہلے حضرت حسین ؓ عراقی راستے کے مخالف سمت چند میل طے کر کے تنقیم پہنچے جہاں سے یمنی قافلہ براہِ مدینہ دمشق جاتے ہوئے گزر رہا تھا اس لئے با آسانی ماخوذ کر لیا۔ متاع قافلہ و شتران بار برداری کے ساتھ واپس لوٹ کر سفر عراق پر روانہ ہوئے۔ سرکاری قافلے کی ماخوذی سے ہی حضرت حسین ؓکی روانگی عراق کی صحیح تاریخ 10 ذی الحجہ 60 ہِجری متعین ہو جاتی ہے۔ اور ابو مخنف کا یہ قول کہ آپ حج سے ایک دن پہلے 8 ذی الحجہ کو روانہ ہوئے غلط ثابت ہوتا ہے۔

کتب جغرافیہ کے نقشہ جات کے علاوہ دیا ہوا خاکےسے مقام تنقیم کا محلِ وقوع اور عراق و مدینہ و یمن کے راستوں کی سمتیں بھی معلوم ہوں گی۔
نجف کے مطبوعہ نسخے میں تاریخ روانگی قافلہ حسینی کے اخفاء کے ساتھ سرکاری قافلے کی ماخوذی کا یہ سارا واقعہ ہی ترک و حذف کر دیا گیا ہے۔ در آنحالیکہ شِیعہ مورخین نے بھی اپنی تالیف میں اسے صراحتاً بیان کیا ہے۔ ناسخ التواریخ جیسی مبسوط کتاب میں جو ایک سابق شاہ ایران کی سرپرستی میں مرتب ہوئی تھی یہ سب واقعہ اس تاویل سے درج ہے کہ حضرت حسین ؓسے امور مسلمین کا انتظام و انصرام منجانب اللہ مخصوص تھا۔ پوری عبادت شِیعہ مورخ کی یہ ہے:
 جب حسین ؓ مکّہ سے باہر(سفر پر نکلے)اور چند میل کی مسافت طے کی تنقیم کی منزل پر پہنچے ایک قافلہ نظر آیا جو یمنی چادروں کی ایک تعداد کچھ درس(خوشبوئیں)اور دیگر نفیس اشیاء لے کر جا رہا تھا اور یہ سب سامان جبیر بِن  یسار حمیری نے جو یمن کا عامل تھا یزید کے پاس ارسآلِ کیا تھا، حسین ؓنے ان اموآلِ کو ماخوذ کر لیا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی جانب سے امور مسلمانان کا انتظام و انصرام ان سے مخصوص تھا۔(تاریخ التواریخ جلد 6 کتاب دوم صفحہ 309)
(اس بات کو ایک اور شیعہ مولف مصباح الظلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ خلیفہ منجانب الناس اور خلیفہ منجانب اللہ کی کھلی مثآلِ یزید اور جناب اِمام حسینؓ ہیں۔ بلاشبہ دونوں ایک دوسرے کے ہمعصر خلیفہ تھے مگر ایک کو خلافت منجانب الناس اور دوسرے کو منجانب اللہ حاصل تھی۔ یزید شروط خلافت کے ساتھ خلیفہ قرار پایا تھا اسی لئے اس کی خلافت منجانب الناس تھی جناب اِمام حسینؓ رسول اللہ کے خلیفہ عصمت کی بِن ا پر تھے اس لئے آپ کی خلافت منجانب اللہ تھی(صفحہ 223۔ مطبوعہ اسٹیٹ پریس رامپور)خلیفہ بربِن ائے انتخاب و خلیفہ منصوص میں اللہ کی یہ تشریح جو شیعہ مولف نے کی ہے تفضیلیوں اور مساجد کے ان ائمہ کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے جو متفق علیہ منتجلہ خلیفہ امیر یزید کے صحیح الامارۃ ہونے میں غالی رافضیوں کے پراپگینڈے سے متامل ہوتے ہیں)
یہ واقعہ جو ابھی بیان ہوا ہے 60 ہِجری کا ہے جو مکّہ میں پیش آیا اس سے سات سآلِ قبل امیر المومنین حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت کے ایک ایسے ہی واقعہ کو ابِن  ابیِ الحدید شارح نہج البلاغۃ نے یوں بیان کیا ہے:
(صوبہ)یمن سے مال(خراج کا حضرت)معاویہؓ(خلیفۂِ وقت)کے پاس جا رہا تھا۔ جب(قافلہ)مدینہ سے گزرا، حسین ؓبِن  علی ؓ نے اس پر قبضہ کر لیا اور اپنے گھر والوں اور اپنے موالیوں میں تقسیم کر دیا(شرح نہج البلاغۃ جلد 2 صفحہ 281 طبع ایران)
اسی واقع کو دوسرے شِیعہ مورخ نے اپنی تالیف ناسخ التواریخ میں بتعین سآلِ ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
 53 ہجری۔ نیز اسی سآلِ صوبہ یمن کا کچھ خراج(خلیفۂِ وقت حضرت)معاویہؓ کے پاس(اہل قافلہ)لئے جا رہے تھے۔ جب یہ لوگ(اثنائے راہ)مدینہ پہنچے حسین ؓبِن  علی ؓنے حکم دیا کہ ان اموآلِ و اشیاء کو ماخوذ کر لیا جائے پھر ان اموآلِ و چیزوں کو اپنے گھر والوں اور دوستوں کو عطا کر دیاحضرت معاویہؓ نے عفو و علم و کرم سے کام لیا اور ان کو لکھا یہ مال خراج کا تم نہ لیتے اور میرے پاس آنے دیتے جو حصہ تمہارا نکلتا وہ تمھیں ملتا۔ والی اور حاکم کا ہی حق ہے کہ اموآلِ خراج وصول کرے اور تقسیم کرے۔ آئندہ ایسا مت کرنا۔ قدیم ترین مصنف مصعب زبیری(153-236 ہجری)نے حضرت حسین ؓ اور حضرت ابِن  زبیر کی بے ضابطگی بیان کی ہے جس سے ظاہر ہوتا  ہے کہ یہ حضرات جو بعد میں طلاب خلافت ہوئے حضرت معاویہؓ کے ہی زمانہ سے حکومت کے خلاف حریفانہ روش رکھتے تھے۔ابو مخنف نے عہد خلافت معاویہؓ کے ان واقعات کا اخفاء کیا ہے۔

تاریخ آغاز سفر و تعداد منازل سفر

کہتے ہیں دروغ کو فروغ دوامی حاصل نہیں ہوتا۔ سچ بالا آخر جھوٹ پر ایسے ہی غالب آ جاتا ہے جیسے روشنی تاریکی پر۔ داستانِ کربلاء کے شِیعہ راوی اور مقتلِ حسین ؓکے اولین مصنف ابو مخنف کی وضعی روایتوں کا تحقیق و ریسرچ میں اب یہی حال ہو رہا ہے۔ اکاذیب اور دوغ بافیاں اس کی، تاریخی و جغرافیائی حقائق کی روشنی میں کھلتی جاتی ہیں۔ مثلاً حضرت حسین ؓکے آغاز سفر کی صحیح تاریخ 10 ذوالحجہ 60 ہِجری یعنی ایامِ تشریق کا پہلا دن ہے اور یہ تاریخ جیسا کہ تفصیلاً بیان ہوا ہے مقام تنقیم پر یمنی سرکاری قافلے کی ماخوذی سے ثابت و محقق ہے کیونکہ سرکاری قافلہ اس مقام سے بعد حج گزرتا ہوا دمشق جا رہا تھا۔ ابو مخنف نے اس کے برخلاف حج سے ایک دن قبل کی 8 ذی الحجہ یومِ ترویہ تاریخ روانگی بتائی ہے اور اس کی تصدیق حضرت حسین ؓ سے منسوبہ ایک مکتوب کے آخری فقرے سے کرانے کی جسارت کی ہے جو کہا جاتا ہے کہ موصوف نے دورانِ سفر اہلیانِ کوفہ کو اپنی آمد کی اطلاع میں ارسآلِ کیا تھا۔ لیکن بفخوائے دروغ گورا حافظہ نہ باشد اس فقرہ کی مندرجہ تاریخ نہ دن سے مطابق ہوتی ہے نا دن تاریخ سے۔ فقرہ یہ ہے:
 میں آپ لوگوں کے پاس مکّہ سے 8 ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ منگل کے دن یومِ ترویہ کو روانہ ہوا ہوں(طِبری جلد 2 صفحہ 223)۔اب دیکھئے 60 ہِجری کے ماہِ ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ از روئے تحقیق منگل کا دن ہی نہ تھا(ملاحظہ ہو تقویم تاریخی شائع کردہ مرکزی ادارہ تحقیقات اسلامی صفحہ 15)یہ دن تو اتوار یک شنبہ تھا۔ کون صحیح العقل یہ باور کر سکتا ہے کہ حضرت حسین ؓ کے قلم سے غلط دن لکھا گیا ہو۔ آپ سے زیادہ کون واقف تھا کہ آپ کس دن روانہ ہوئے تھے۔ 60 ہِجری کے ماہِ ذی الحجہ کے عشرہ میں منگل کا دن یا تو تیسری تاریخ کو تھا یا پھر دسویں تاریخ کو۔ تیسری ذی الحجہ کو آپ کی روانگی کی کوئی روایت موجود نہیں آٹھویں کو منگل کا دن نہ تھا تو لا محالہ ماننا پڑتا ہے کہ مندرجہ بالا فقرے کے مطابق جب یوم روانگی منگل تھا تو حسینی قافلہ بتاریخ 10 ذی الحجہ یوم یومِ الثلاثہ(بروز منگل)مکّہ سے روانہ ہوا۔ روانگی قافلہ کی یہ تاریخ ہر دو اعتبار سے صحیح ہے یعنی مکتوب حسینی کے مذکورہ فقرے کے اندراج یومِ الثلاثہ سے اور مقام تنقیم پر قافلے کی ماخوذی کےواقعہ سے بھی محقق ہے۔ اس طرح نہ صرف ابو مخنف کی کِذب بیانی عیاں ہو جاتی ہے بلکہ تاریخ اور روانگی تعداد منازل سے وضعی داستان کی حقیقت بھی منکشف ہو جاتی ہے۔ مکّہ سے کربلا تک کی  مسافت کتب بلدان و جغرافیہ اور قدیم و جدید نقشہ جات سے آٹھ سو عربی میل اور تقریباً نو سو پچاس انگریزی میل ہے۔ اس قدر مسافت بعیدہ کے طے کرنے کے لئے تیس منزلیں اس طریق الاعظم کی ہیں جن کے نام اور درمیانی فاصلے مستند کتب بلدان و جغرافیہ میں تفصیلاً درج ہیں۔ مقتل ابو مخنف کی مختلف نسخوں میں ان منازل کی تعداد چھ سے دس گیارہ تک بتائی گئی ہے۔ بیس چوبیس منزلوں کا اخفا کر کے اور سفر کا آغاز دو دن پہلے ظاہر کر نے کا مقصد محض یہ تھا کہ حسینی قافلے کو 10 محرم 61 ہِجری سے چند روز قبل کربلا کے پڑاؤ تک پہنچا دیا جائے اور اس سرسبز و شاداب مقام کو جہاں چار چشمے پانی کے موجود ہوں صحرائے آب و گیاہ بتا کر منع آب و طرح طرح کے وحشیانہ مظالم کی من گھڑت داستانوں کے بیان کرنے کا موقع مل سکے۔ مگر اس عیارانہ کید کی قلعی آغاز سفر کی صحیح تاریخ کے تعین اور تعداد منازل سفر کے انکشاف سے پوری طرح کھل گئی۔ اس تحقیق و ریسرچ سے روز روشن کی طرح ہویدا ہو گیا کہ حسینی قافلہ 10 ذی الحجہ 60 ہِجری کو مکّہ سے روانہ ہو کر آٹھ سو عربی میل کی مسافت بعیدہ تیس منزلوں کی تیس ہی دن میں طے کر کے 10 محرم 61 ہِجری کو وارد کربلا ہوا تھا، اس سے پہلے نہ پہنچا تھا نہ پہنچ سکتا تھا۔ یہ ہے ایک ٹھوس و ناقابل تردید حقیقت ثابتہ جس سے ابو مخنف کی من گھڑت روایتوں اور سماعی قصوں سے مرتبہ طویل رزمیہ داستان کا تار پود بکھر کر اس اندوہناک حادثہ کی اصل صورت منکشف ہو جاتی ہے۔ مذکورہ بالا تیس منازل کی جدول مع تصریحات بطور ضمیمہ شامل کتاب ہے۔ منازل اب بھی موقع پر موجود ہیں ۔ تقلید جامد اور روایت پرستی عام وبا نے ہمارے معتقدین کو ابو مخنف وغیرہ کی وضعی و مکذوبہ روایتوں کی تنقید کی جانب متوجہ نہ ہونے دیا انہوں نے اسے غیر معتبر و کذّاب و شِیعی محترق جلا بھنا کٹر شِیعہ ہی کہنے پر اکتفا کیا۔ تحقیق و تنقید کی کسوٹی پر مرتبہ داستان رکھ کر انکشاف حقیقت کر لیا جاتا تو صدرِ اسلام کے تاریخی حالات و کوائف جس کے بیان کرنے میں اسی راوی کا بیشتر حصہ ہے اس درجہ مسخ صورت میں پیش نہ ہوتے جو صدیوں سے فرقہ ورانہ عناد و انشقاق کا موجب ہیں۔ انقلاب حکومت کی مساعی اور سیاسی اقدامات کو غلط رنگ دے کر حق و باطل کی معرکہ آرائی کا نام دیا جا رہا ہے۔ درآنحالیکہ ابو مخنف نے خود حضرت حسین ؓ کی تقریروں اور تحریروں میں
مزعومہ غصب شدہ حقِ خلافت کے مسئلہ پر بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ شیخ الاسلام ابِن  تیمیہ نے رسالہ راس الحسین ؓ میں یہ فرماتے ہوئے کہ شرافت و فضیلت اور اصلاح و تقویٰ وراثت کی چیزیں نہیں ہیں۔ یہ چیزیں ہر شخص کو اس کے علم و ایمان و عمل واستقامّت کے مطابق ملتی ہیں مگر کچھ بِن ی ہاشم اپنے زعم باطل کی وجہ سے غرور نفس میں پڑ گئے کہ صرف نسبی تعلق جو رسول اللہ
سے ہے ان کی شفاعت کے لئے کافی ہے اور فقط نسب ہی ان کو سب باتوں سے مستغنی کر دے گا لکھا ہے۔ مگر دیکھو رسول اللہبِن ی ہاشم اور اپنی صاحبزادی ، حسین ؓکی ماں سے فرماتے تھے:
اے عبّاسؓ محمّد کے چچا، اے صفیہ محمّد کی پھوپھی اور اے فاطمہؓ محمّد کی بیٹی، عمل کرو عمل۔ اللہ کے سامنے میں کچھ تمہارے کام نہیں آ سکتا۔ اللہ اپنے رسول کو بہتر سے بہتر جزا دے اس نصیحت پر جو انہوں نے اپنی امّت اور اپنے اہل خاندان دونوں کو عطا فرمائی گمان غالب یہی ہے کہ یہ نسب پر بھروسہ اور سیادت و شرافت کا غرور ہی تھا جس کو ان ہاشمیوں نے موروثی قرار دے لیا تھا اور یہ سب سے بڑا سبب تھا(حضرت)حسین ؓکے مصیبت میں پڑنے کا۔
حضرت حسنؓ کی دوراندیشی اور حکیمانہ سوجھ بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے شیخ الاسلام موصوف مزید لکھتے ہیں کہ :
عراقیوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے انہوں نے مسلمانوں کو فتنوں سے بچا لیا، باہمی خونریزی نہ ہونے دی۔ اس کے برخلاف حضرت حسین ؓ پر نسبی غرہ اور شِیعوں کا فریب غالب آ گیا تھا اور عمِلّی زندگی سے ناواقفیت و نا تجربہ کاری بھی تھی(راس الحسین) مصری مورخ الخضری اپنی مشہور تالیف محاضرات تاریخ الاسلامیّہ(جلد 1 صفحہ 320)پر لکھتے ہیں کہ :
حسین ؓنے اپنے خروج میں بڑی شدید غلطی کا ارتکاب کیا جس سے امّت میں تفرقہ اور اختلاف کا ایسا وبآلِ پڑا کہ الفت اور محبت کے ستون آج تک متزلزل ہیں۔ اس حادثہ کو اکثر  مورخین نے اس انداز سے پیش کیا ہے جس سے ان کا مقصد لوگوں کے دلوں میں بغض کی آگ بھڑکا نہ ہے۔ واقعہ تو صرف اتنا ہی تھا کہ ایک شخص(یعنی حضرت حسینؓ)حکومت کی طلب میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسکے حصول کے لئے جن اسباب و اعوان کی ضرورت ہوتی ہے وہ فراہم نہیں کر سکتا اور بغیر امر مطلوبہ حاصل کئے قتل ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے اس کے والد(حضرت علیؓ)بھی قتل ہو گئے تھے۔ لکھنے والوں کے قلم روکے نہیں جا سکتے ، انہوں نے حسین ؓکے قتل کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے جس سے عداوت کی آگ بڑھتی گئی۔ مگر یہ سب لوگ اب اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں وہی ان کے لئے کافی محاسبہ لے گا لیکن اس واقعہ سے تاریخ ایک عبرت دلاتی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص بڑے کاموں کا ارادہ کرے تو مناسب تیاری سے پہلے ان کی جانب بڑھنا ٹھیک نہیں اور جب تک وہ اتنی قوت نہ حاصل کر لے کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے یا کم از کم اس کے قریب ہی ہو سکے تو اسے تلوار اٹھانا نہ چاہیے نیز اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے اسباب حقیقی طور پر موجود ہوں جو امّت کے لئے اصلاح طلب ہوں یعنی بین طور سے ناقابل برداشت ظلم ہو رہا ہو اور لوگوں پر اتنی تنگی ہو کہ وہ درماندہ ہوں مگر حسین ؓ نے یزید کی مخالفت اس حال میں کی تھی کہ امّت نے ان کی بیعت کر لی تھی اور حسین ؓکی مخالفت کے وقت امیر یزید کی جانب سے کسی طرح کے ظلم و ستم کا اظہار بھی نہیں ہو ا تھا۔
اس کتاب کے غالی مولف نے جس جس طرح حقائق کو مسخ کر کے یہ من گھڑت رزمیہ کہانی پیش کی ہے لائق مترجم نے حواشی و تعلیقات میں تار پود اس کا بکھیر کر انکشاف اصل حالات کا جویائے حقیقت کے لئے عموماً اور نوجوان نسل کے لئے خصوصاً بین طور سے کر دیا ہے۔
محمود احمد عبّاسی
10 ستمبر 1971
جاری ہے۔۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: