واقعۂِ کربلا کی اصل تاریخ-3

حضرت حسین ؓکا کوفیوں کو قاتل بتانا:

حقیقت میں یہ کوفی لا یوفی ہی باعث اور مجرم اس سانحے کے تھے اور خود حضرت حسین ؓنے ان ہی لوگوں کو قاتل بتا کر یہ بد دعا کی تھی:
 خداوند ! ان لوگوں کو آسمان کی بارش سے اور زمین کی برکتوں سے محروم کر دے اگر تو انہیں کچھ مہلت دے تو ان میں تفرقہ ڈال دے۔ ان کو فرقہ فرقہ کر کے متفرق کر دے اور فرمایا ولا ترض عنھم الولاۃ ابدا فاتھم و عونا الینصر ونافعدو اعلینا فقتلونا یعنی خداوند ان کے حاکموں کو ان سے کبھی راضی نہ ہونے دے انہوں نے ہی ہمیں بلایا ہماری نصرت و مدد کرنے کو اور یہی ہم پر حملہ کرنے کو دوڑ پڑے ہیں یہی ہم کو قتل کر رہے ہیں۔(طِبری جلد 2 صفحہ 259)
حضرت حسین ؓکے اعزہ نے جو کربلاء میں موجود تھے ان ہی کوفیوں کو قاتل بتایا ہے ان کی مشہور صاحبزادی سیّدہ سکینہ سب واقعات کی عینی شاہد تھیں وہ جب اپنے زوج ثانی مصعب بِن  الزبیر(یہ مصعب بِن  الزبیر سیّدہ سکینہ بِن ت الحسینؓ کے دوسرے شوہر تھے۔ ان کی ماں الرباب بِن ت انیف(بعض نے کرمان بِن ت انیف بتایا ہے)اور سیّدہ سکینہ کی ماں الرباب بِن ت امرو القیس دو حقیقی بھائیوں الحصین و جابر فرزندان کعب بِن  علیؓم کلبی کی اولاد ہونے سے چچیری بہنیں تھیں۔ مصعب اپنے بھائی حضرت عبداللہ بِن  الزبیر ؓکے نائب کی حیثیت سے خلیفہ عبد الملک اموی کے خلاف معرکے میں قتل ہوئے تھے یہ واقعہ، واقعہ کربلا کے دس برس بعد 70 ہِجری کا ہے۔ مصعب بڑے شجیع اپنے زمانے کے بڑے صاحب و جمال و حسینؓ تھے۔ ان کی زوجیت میں دو قرشیہ خواتین یعنی سیّدہ عائشہ بِن ت طلحہ جو حضرت ابوبکر الصدیق کی نواسی تھیں اور سیّدہ سکینہ بِن ت الحسینؓ تھیں۔ یہ دونوں اپنے زمانے میں حسنؓ و جمال و نسوانی صفات میں یگانہ تھیں۔کانتا من احسنؓ النساء من ذلک الزمان(البدائیہ و النھایہ جلد 8 صفحہ 319)سیّدہ سکینہ سے مصعب کے صلب سے ایک بیٹی تھیں سیّدہ عائشہ بِن ت طلحہ سے دو بیٹے عبداللہ و محمّد تھے۔ دیگر ازواج سے مصعب مذکور کے آٹھ بیٹے اور تھے)کے کوفہ میں قتل ہو جانے کے بعد مدینہ جانے لگیں ، کوفیوں کو اپنے والد کا قاتل بتاتے ہوئے فرمایا تھا:
اللہ تمھیں(اے کوفیو!)کسی قوم سے اچھا بدلہ نہ دلائے اور نہ بہتر خلافت تم پر مسلط کرے۔ تم لوگوں نے میرے والد کو، میرے دادا کو میرے بھائی کو میرے چچا کو اور میرے شوہر
کو قتل کیا ہے ۔
حضرت حسین ؓکو و اب آپ دیکھ رہے ہیں صاف لفظوں میں اہلِ کوفہ کو ہی اپنا اور اپنے عزیزوں کا قاتل بتا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں انہوں نے ہی ہمیں بلایا ہماری نصرت و مدد کرنے کو اب یہی ہم پر حملہ کرنے کو دوڑ پڑے ہیں۔ یہی ہم کو قتل کر رہے ہیں۔ پھر کس غمزدہ اور جلے دل سے کوفیوں کی تباہی و بربادی کے لئے منتقم حقیقی کی بارگاہ میں التجا کر رہے ہیں۔ خداوند ! ان لوگوں کو آسمان کی بارش اور زمین کی برکتوں سے محروم کر دے اور ان کے حاکموں کو ان سے کبھی راضی نہ ہونے دے۔ اس سے زیادہ اور کیا ثبوت چاہیے کوفیوں کے مجرم اور اموی حکام عراق کے بے گناہ ہونے کا۔ یہ کلمات حضرت حسین ؓکے مورخ طِبری نے حمید بِن  مسلم راوی کی سند سے نقل کئے ہیں۔ مسلم بِن  عقِیلؓ نے بھی کوفیوں کی ہی غدّاری کا شکوہ کیا ہے اور سیّدہ سکینہ نے تو ان کوفیوں کے منہ پر ہی انہیں قاتل بتایا ہے۔ اپنے دادا حضرت علیؓ کا، اپنے والد حضرت حسین ؓکا اور اپنے دوسرے عزیزوں کا اور اپنے شوہر مصعب بِن  الزبیر کا۔ ان کا یہ قول شِیع مورخ نے ہی تاریخ کوفہ نقل کیا ہے۔ ان حقائق کی موجودگی میں کوفی راویوں اور مصنفوں کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کر دکھانے اور مجرموں کو بے گناہ اور بے گناہوں کو مجرم ٹھہرانے کے لئے وضعی روایتوں کا ایک انبار لگا دیا اور بیسیوں کتابچے لکھ لکھ کر واقعات تاریخ کو مسخ کی سعی نا مشکور کی ہے۔ ان ہی شِیعہ و سبائی مصنفین میں یہ کوفی مصنف ہے جس کی کتاب مقتل الحسین
ؓکا اردو ترجمہ آپ کے مطالعہ میں ہے۔ کتاب شِیعہ یا پدیدارندگان فنون اسلام کے مولف نے ابو مخنف از وی مصنف مقتل الحسین ؓکو رئیس مورخین کوفہ از طبقہ شِیعہ بتایا ہے۔ مناسب ہے کہ مختصر تعارف اس مصنف کا قارئین سے کرا دیا جائے۔

ابو مخنف مصنف کتاب

نام:لوط     کنیت :ابو مخنف      مولد او مسکناً :کوفی   نسلاً و نسباً:ازدی غامدی سلسلہ نسب یوں ہے :
ابو مخنف لوط بِن  یحیٰ بِن  سعید بِن  مخنف بِن  سلیم بِن  الحارث بِن  عوف بِن  ثعلیہ بِن  غامد کوفے کے ممتاز بیت الازد سے تھا۔ جد اعلیٰ اس کے مخنف بِن  سلیم(علّامہ ابِن  عبدالبر نے الاستعیاب میں مخنف بِن  سلیم کا شمار زمرہ صحابہ میں کرتے ہوئے حضرت علیؓ کا ان کو والی اصبہان مقرر کرنے اور صفین میں ان کا شامی فوج کے ہاتھوں سے مقتول ہونے اور ان کی اولاد میں ابو مخنف صاحب اخبار ہونے کا ہی ذکر کیا ہے۔ زرکلی نے بھی کہا ہے کہ قدم لنصرۃ علیؓ حاملا رایۃ الازف۔ جنگ جمل میں نہیں جنگ صفین میں قتل ہوئے)جن کے نام سے اس کی کنیت ہے۔ حضرت علیؓ کے ایک ایسے معتبر و معتمد ساتھیوں میں تھے کہ انہیں اصبہان و ہمدان کا آپ نے والی مقرر کیا تھا۔ پھر آپ کی ہی طلبی پر مقام تعینات سے آ کر جنگ جمل و صفین دونوں خونریز لڑائیوں میں اپنے قبیلہ ازد کے علاوہ چار اور قبیلوں کے تیغ زنوں کو اپنی کمان میں لڑوایا تھا۔اب کے متعدد عزیز جنگ جمل میں مارے گئے اور یہ خود بھی جنگ صفین میں مقتول ہو گئے۔
واقعۂِ صفین کے شِیعہ مولف نے بعض ان وضعی روایتوں میں ان کا نام لیا ہے جن میں یہ مہمل بات کہی گئی ہے کہ حضرت حسین ؓ کے واقعہ سے کوئی چھبیس ستائیس برس پہلے جب حضرت علیؓ کا گزر مقامِ کربلاء ہو ہوا آپ نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اور ایک اور روایت میں اس مقام کی مٹی سونگھ کر ہی لوگوں کو بتا دیا تھا کس کس جگہ پر آ کر آلِ محمّد کے افراد ٹھہریں گے اور کہاں کہاں ان کے خون گریں گے۔ ان مخنف بِن  سلیم کا خالہ زاد بھائی اور ہم جد ان بلوائیوں کی جماعت میں شامل تھا جنھوں نے امیر المومنین حضرت عثمانؓ کے خلاف ہنگامہ برپا کر کے انہیں شہید کیا تھا وہ بھی جنگ صفین میں مارا گیا تھا۔
بعض مؤلفین نے ابو مخنف کے باپ یحییٰ کو بھی اصحاب امیر المومنین(علیؓ)میں شمار کیا ہے۔ غرضیکہ ابو مخنف کوفہ کے ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جس کے بزرگ اور سرپرست نہ صرف شِیعہ مسلک کے تھے بلکہ جنگ جمل اور صفین میں طالبان قصاص خونِ عثمانؓ کے خلاف نبرد آزمائی میں نمایاں حصہ لے چکے تھے۔ خصوصاً حضرت معاویہؓ و اہل شام کے خلاف لڑے تھے اور جدآلِ و قتآلِ میں مارے گئے تھے۔ ابو مخنف بچپن سے اپنے اجداد و اسلاف کی لڑائیوں کے ذکر و اذکار کوفہ کی اس مسموم فضا میں بڑے شوق سے سنا کرتا تھا۔
جہاں جارحانہ شِیعیت و سبائیت اس زمانے میں ایسی چھائی ہوئی تھی جسے قاضی نور اللہ شوستری نے ان الفاظ میں بتایا ہے
و بالجملہ تشِیع اہلِ  کوفہ حاجت باقامہ دلیل ندارد و سنی بوون کوفی الاصل محتاج بدلیل است و گرچہ ابو حنیفہ کوفی باشد(یہ قول غلو و تعصب پر مبِن ی ہے۔ کوفہ کے باشندوں کی اکثریت میں شِیعیت و سبائیت ضرور تھی مگر ان کے مسلک کے خلاف اور بھی تھے اگرچہ قلیل التعداد تھے۔ ان ہی بنو الازد میں عبداللہ بِن  عائذ صاحب شرف و منزلت تھے جو حضرت معاویہ کے ساتھ تھے۔ نیز سفیان بِن  اعوف ازدی نے خلافت معاویہ میں رومیوں کے خلاف بحری مہمات میں خدمات لائق انجام دیں تھیں۔ 53
ہِجری میں امیر البحر بسر بِن  ابیِ الطاۃ کے ساتھ تھے کہ وہیں انتقآلِ کیا۔(البدائیہ و النھائیہ جلد 8 صفحہ 58))
 سنہ ولادت تو ابو مخنف کا معلوم نہیں سآلِ وفات اس کا اکثر نے مات قبل سبعین و مائتہ لکھا ہے یعنی قبل 170 ہِجری فوت ہوا۔ بعض نے 157 ہِجری بتایا ہے۔ کوفے کے مشہور کذّاب سبائی راویوں سے اس نے بہت کچھ اخذ کیا ہے۔
خصوصاً محمّد بِن  سائب کلبی متوفی 146 ہِجری اور اس کے فرزند ابو منذر ہشام بِن  محمّد کلبی متوفی 204 ہِجری سے اوّل الذکر کا یہ قول میزان الاعتدآلِ و تہذیب التہذیب میں نقل ہے یعنی وہ کہا کرتا تھا:
 جب جبریل رسول اللہکے پاس وحی لاتے تھے اور آپ کسی حاجت ضروری کے لئے اٹھ جاتے تھے تو علی ؓ آپ کی جگہ بیٹھ جاتے اور جبریل باقی وحی علی ؓکو پیش کر دیتے ۔اسی طرح محمّد کلبی کے بارے میں تصریح ہے :
کلبی سبائی تھا اور کا شمار اس جماعت میں تھا ، جو کہتے ہیں علی ؓفوت نہیں ہوئے بلکہ وہ پھر اس دنیا میں لوٹیں گے اور اس کو پھر عدل سے بھر دیں گے جس طرح اب ظلم سے بھری ہے۔ یہ لوگ باد کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ امیر المومنین(علیؓ)اس میں ہیں(میزان الاعتدآلِ صفحہ 62)
محمّد بِن  سائب کلبی کا بیٹا ہشام بات کے قدم بقدم تھا۔ ائمہ اسماء الرجآلِ میں دار قطنی وغیرہ نے اس کو متروک بتایا ہے۔ اور ابِن  عساکر نے رافضی و غیر معتبر ابو مخنف نے اپنے دوست ہشام بِن  کلبی سے زیادہ اخذ کیا ہے۔ شیخ الاسلام ابِن  تیمیہ فرماتے ہیں :
ابو مخنف و ہشام بِن  محمّد بِن  سائب اور ان جیسے دوسرے لوگ ان میں سے ہیں جن کا جھوٹا ہونا اہل علم کے نزدیک مانا ہوا ہے۔ خود ابو مخنف کو علماء رجآلِ نے کذّاب و غیر معتبر و متروک بتایا ہے۔ اِمام بِن  عدی اس کے بارے میں فرماتے ہیں ابو مخنف بڑا کٹر یعنی جلا بھنا شِیعہ تھا۔شِیعوں ہی کی روایتیں بیان کرنے والا۔ علّامہ ذہبی نے میزان الاعتدآلِ میں ائمہ رجآلِ کے یہ اقوآلِ مزید نقل کرتے ہوئے ابو مخنف کے بارے میں لکھا ہے کہ:
یہ قابل اعتماد نہیں اسے ابو حاتم اور دوسرے حضرات نے متروک کہا ہے(مات قبل السبعین و مانۃ جلد 3 صفحہ 268)یعنی اس سے کوئی روایت نہ لی جائے اِمام دارقطنی نے کہا: وہ کمزور راوی ہے۔ اِمام یحییٰ بِن  معین(جو اجلہ ائمہ رجآلِ سے ہیں)فرماتے ہیں کہ یہ اعتماد کے لائق نہیں۔ علّامہ مزۃ کہتے ہیں وہ تو کوئی چیز ہی نہیں۔ قبل 70 ہِجری فوت ہوا اسی طرح صاحب کشف الاحوآلِ فی نقد الرجال(صفحہ 92)نے اور صاحب تذکرہ الموضوعات نے ابو مخنف کو کذّاب بتایا ہے۔ حتیٰ کہ سیوطی نے بھی کلبی اور ابو مخنف دونوں کے بارے میں لکھا ہے۔ لوط و کلبی کذابان(اللاء لی صفحہ 386)
ابو مخنف مشہور سبائی مورخ و نساب محمّد بِن  سائب کلبی کے بعد دیگر قدیم تاریخ نگاروں پر مقدم ہے۔ سیّد علی ؓاکبر برقعی قمی جنھوں نے سیّد حسنؓ صدر کی کتاب تاسیس الشِیعۃ الکرام لفنون الاسلام کی تلخیص یعنی فارسی کتاب شِیعہ پاپدیدارندگان فنون اسلام میں ابو مخنف کو رئیس مورخین کوفہ بتا کر لکھا ہے کہ:
ابو مخنف کو تاریخ نگاری و روایات اور فتوح عراق میں دوسروں پر برتری ہے۔ مدائنی(علی بِن  محمّد بِن  عبداللہ بِن  ابیِ سیف الحافظ بوالحسنؓ مدائنی۔ اصلاً بصری سکناً مدائنی بعد میں بغداد میں مسکن گزین ہوئے ولادت 135 ہِجری وفات 325 ہِجری تیس کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان میں کتاب خطب النّبی ، کتاب الرسائل النبی، کتاب عمال النّبی ، کتاب ابو بکر صدیق، اخبار العبّاسؓ عم النّبی و اخبار عبداللہ بِن  عبّاسؓ و اخبار الدولتہ العبّاسی ہ فضائل جعفر بِن  ابیِ طالب ، فضائل محمّد بِن  ابیِ حنیفہ وغیرہ شامل ہیں۔ مقتل الحسینؓ پر کوئی کتاب نہیں)کو تاریخ خراسان و ہند و فارس میں دوسروں پر برتری ہے اور قداوی تاریخ حجاز و سیرت میں دوسروں پر مقدم ہے۔ اور یہ تینوں فتوح الشام میں مساوی ہیں اور معلومات میں بھی برابر(صفحہ 129)
ابو مخنف کی تالیفات ابِن  الندیم نے نام بِن ام 47 گنوائی ہیں۔ جن میں صرف مقتل نام سے 9 کتابیں یا کتابچے اس کے ہیں۔ یعنی مقتلِ عثمان، مقتلِ علی، مقتل الحسنؓ السبط، مقتل الحسین، مقتل محمّد بِن  ابیِ بکر والاشتر و محمّد بِن  حنیفہ، مقتل حجر بِن  عدی، مقتل عبداللہ بِن  الزبیر، مقتل ضحاک بِن  قیس، مقتل سعید بِن  العاص، لیکن امیر المومنین فاروق اعظم کا مسجدِ نبوی میں نماز پڑھاتے وقت کوفے کے ایک مجوسی الاصل کے ہاتھ سے مقتول ہونا جو صدرِ اسلام کی تاریخ کا پہلا اندوہناک واقع ہے۔ اس پر ابو مخنف کا کوئی کتابچہ مقتل عمر کے نام سے نہ ہونا قابل لحاظ ہے۔ غرضیکہ مقتل کے نام سے کتابچے لکھنے کی پہل ابو مخنف نے ہی کی۔ اور یہی پہلا کوفی شِیعی مصنف ہے جس نے خلافتِ عبّاسی ہ کے قائم ہونے کے بعد ہی سے تاریخی واقعات پر جداگانہ کتابچے لکھے ، اس کی دیگر تالیفات میں الجمل و کتاب صفین، کتاب وفات معاویہؓ ولایتہ ابِن ہ یزید۔ کتاب المختار بِن  ابیِ عبید و کتاب سلیمان بِن  صرد وغیرہ کوئی بھی باقی نہیں لیکن ان کے مضامین کی نوعیت کا اندازہ بعض اقتباسات سے ہو سکتا ہے جو ابِن  جریر طِبری نے ان واقعات کے سلسلے میں آلِ ابو مخنف لکھ کر درج کئے ہیں نیز اس کی کتاب مقتل الحسین ؓ کے مضامین کا اندازہ طِبری کے رجحان طبع سے بھی کیا جا سکتا ہے ۔(محمّد بِن  عمر بِن  واقد مدنی الاصل سکنا بغداد ی ولادت 130 ہِجری وفات 307 ہِجری یہ بھی کوفی تیس کتابوں کے مصنف ہیں۔ تاریخ البعث مغاذی و تفیر القرآن کے مبحث پر لکھا ہے نیز سیراۃ ابیِ بکر و کتاب السفیقہ و بیعۃ بکر کے علاوہ مقتل الحسینؓ مولد الحسنؓ و الحسینؓ پر بھی کتابچے ہیں۔ شِیعہ مولف کتاب شِیعہ یا پدیدارندگان فنون اسلام نے اس کو مسلکاً شِیعہ بتایا ہے۔
ابو مخنف کی وفات 170 ہِجری کے بعد سے مقتل الحسینؓ نام سے متعدد شِیعہ مصنفین نے کتابچے لکھے یعنی نصر بِن  مزاہم نے متوفی 212 ہِجری ، مصنف وقعۃ صفین نے ابراہیم بِن  محمّد ثقفی کوفی متوفی 283 ہِجری نے ، ابو احمد جلودی شِیعی نے نیز الغلابیِ و الاشنائی نے۔ شِیعہ مصنفین کے علاوہ چوتھی صدی ہِجری سے بعض غیر شِیعہ مصنفین نے مقتل کی بجائے شہادت نامے لکھے اسفرانئی متوفی 418 ہِجری نے، نورالعین فی مشہد الحسینؓ ، کتاب وضعی روایتوں پر مبِن ی لکھ ڈالی۔ ان کے بعد تو ہر کس و ناکس نے شہادت حسینؓ پر قلم فرسائی کی۔مقتل ابو مخنف کی قدرے تاریخی حیثیت محض ابِن  جریر طِبری کی وجہ سے حاصل ہو گئی۔ جنھوں نے مقتل کی تصنیف کے ڈیڑھ سو سآلِ بعد اس کتاب کا مواد نوک پلک سنوار کر درج کر دیا اور کیوں نہ کرتے بظاہر شافعی المذہب بنے ہوئے تھے بلکہ اپنے آپ کو خود صاحب مذہب باور کراتے تھے اور اسی لئے اہلسنہ میں ہونے کا دعویٰ تھا مگر اہل تحقیق نے ان کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا۔ ابِن  خلکان نے صاف لکھ دیا ہے "ھو اِمام من ائمۃ الامامیۃ ” یعنی وہ(ابِن  جریر طبری)امامیّہ کے اماموں میں سے ایک اِمام ہیں۔ ہم عصرات ان سے اس وجہ سے ناراض تھے کہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے نہیں دیا، وہ اپنے گھر میں دفن ہوئے۔ غرٖضیکہ اسلامی تاریخ کے اس طرح مسخ کرنے میں کہ ابو مخنف وغیرہ کذابوں کی روایتوں سے اپنی کتاب کے صفحات بھر دئے ہیں۔ ابِن  جریر طِبری کا بڑا حصہ ہے۔)
کتاب مقتل الحسین ؓ کے مصنف اور راویوں کا حال معلوم کرنے کے بعد آپ کے لئے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ یہ جو کچھ بیان کریں گے وہ ہیچ محض ہو گا۔ پھر بھی چونکہ ان لوگوں کے بیانوں نے اسلامی حلقوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں۔ اور مفت میں خود ساختہ روایات شہرت پکڑ گئی ہیں اس لئے تنقیح ضروری ہے۔ تاکہ اہلِ فکر متنبہ ہوں اور جن باتوں کو شہرت دیدی گئی ہے ان کی اصل حقیقت سامنے آ جائے۔ اس بار میں ہمارے بزرگوں سے اس قسم کی جو روایتیں نقل کرنے میں غلطی ہوئی ہے اس کا نقشہ خود علّامہ ابِن  کثیر نے پیش کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس میں بعض باتیں محلِ نظر ہیں اور اگر ابِن  جریر طِبری وغیرہ
حفاظ و ائمہ نے ان کا ذکر نہ کیا ہوتا تو میں بھی وہ روایتیں نہ لیتا کیونکہ ان میں اکثر روایتیں ابو مخنف لوط بِن  یحیی کی بیان کردہ ہیں جو شِیعی ہے اور ائمہ کے نزدیک ضعیف الحدیث ہے۔ لیکن چونکہ وہ اخباری ہے اور حافظ اس کے پاس ایسی روایتیں ہیں جو دوسروں کے پاس نہیں اس لئے اکثر مصنفین اسی کی طرف لپکتے ہیں۔(البدائیہ و النھائیہ جلد 8 صفحہ 202)
بعض دوسروں نے بھی مقتل الحسین ؓ پر کتابچے لکھے ہیں مگر وہی وضعی روایتوں کا ابو مخنف کے علاوہ دوسروں کے پاس نہ ہونے کا قوی سبب یہ تھا کہ امّت مسلِمہ نے حادثۂِ کربلا کو محض ایک دلدوز حادثہ جانا اور سیاسی یا مِلّی زاویہ نگاہ سے اسے کوئی اہمیت نہ دی۔ چار برس تک امّت میں کامل سکون رہا اور کسی طرف سے بے چینی کا مظاہرہ نہیں ہوا۔ 64 ہِجری کے آخر میں حضرت عبداللہ بِن  الزبیر نے جب امیر یزید کے خلاف پراپیگنڈا شروع کروایا اور اہلِ مدینہ میں شورش بپا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس وقت بھی حادثۂِ کربلا کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ گویا ہم عصر امّت اچھی طرح جانتی تھی کہ اس سانحے کی ذِمّہ داری نہ امیر یزید پر ہے اور نہ ان کے کسی کارکن پر۔ بنو ہاشم اصل صورت حال سے واقف تھے اور اس کے لئے تیار نہیں ہوئے کہ بغیر صحیح بِن یاد کے یا غلط مفروضہ پر یا انتقاماً وہ امیر المومنین کے خلاف کسی تحریک میں شامل ہوں۔ وہ سب کے سب پوری استقامّت کے ساتھ اپنی بیعت پر قائم رہے۔ چنانچہ علّامہ ابِن  کثیر فرماتے ہیں:
 علی بِن  الحسین ؓنے لوگوں سے(یعنی باغیوں سے)علیحدگی اختیار کی اور اسی طرح عبداللہ ابِن  عمرؓ بِن  خطاب نے۔ ان دونوں نے یزید کی بیعت نہیں توڑی اور نہ ابِن  عمر کے گھرنے میں سے کسی
نے۔ اسی طرح یزید کی بیعت بنو عبدالمطلب میں سے بھی کسی نے نہیں توڑی۔(البدایہ و النھایہ جلد 8 صفحہ 218)
پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں :
 عبداللہ بِن  عمرؓ بِن  الخطاب اور اہلِ بیت نبوۃ بھی اجتماعی حیثیت سے ان میں ہیں جنھوں نے بیعت نہیں توڑی اور نہ یزید سے بیعت کے بعد(ان کی زندگی میں)کسی سے بیعت کی۔
جناب ابو جعفر محمّد فرماتے ہیں:
 ابو جعفر الباقر فرماتے ہیں کہ حرّہ کے دنوں میں نہ تو آلِ ابیِ طالب میں سے کسی نے خروج کیا اور نہ بنو عبدالمطلب میں سےیہ تھی اصل صورتحال اور ہم عصر امّت حادثۂِ کربلاء کو نہایت دلدوز اور حسرتناک سمجھنے کے باوجود ایک مختصر سانحہ جانتی تھی اور اس بارے میں ان کے پاس روایات کا کوئی پشتارہ نہ تھا۔ جب آخری عہدِ اموی میں دعوتِ عبّاسی ہ کو فروغ حاصل ہوا تو سبائیوں نے اسے اموی خلافت کے خلاف خروج قرار دے کر اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا۔ یوں اموی سادات کے خلاف عموماً اور امیر یزید کے خلاف خصوصاً روایتیں وضع کی گئیں۔ اور ابو مخنف جیسے لوگوں نے روایات کا جآلِ پھیلا دیا جس میں اچھے اچھے سمجھدار لوگ بھی گرفتار ہو گئے۔ مسعودی اور ابِن  جریر جیسے مورخوں نے یہ روایات اپنے یہاں داخل کر کے انہیں معتبر بِن ا دیا ورنہ ان وضعی روایات کی جو حقیقت وہ اس کتاب کے بالا ستعیاب مطالعہ سے واضح ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
Advertisements
1 comment
  1. syed said:

    اسلام علیکم

    محترمہ ارتقا صاحبہ

    آپ کے مضامین کا مجھے ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔۔بہت اچھے انداز میں اور موقع کی مناسبت سے آپ مضامین لکھتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسی سلسلے میں ۔۔میں آپ کو ایک عنوان دے رہا اگر اس عنوان پر ایک بہترین زندگی تبدیل کرنے والا۔۔قرآن و حدیث کے حوالے سے مضمون لکھے تو عین نوازش ہوگی۔۔۔۔

    مضمون کا مختصر احوال میں آپ کو دے رہا ہو۔۔آپ خود ہی اسے عنوان دی دیجئےیہ۔۔۔۔۔۔۔مسجد کا امیر،صدر کون بنے۔۔۔۔مقتدی اپنی رائے کسطرح دے۔۔۔مسجد کی کمیٹی کیسی ہو۔۔۔۔۔۔
    امام اور موذن کی ہونے والی غلطی کوکسطری سدھارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا پھر سر عام لوگوں کے سامنے ان غلطی بیان کرے۔۔۔۔۔۔۔ان تمام باتوں میں آپ ﷺ ۔۔صحابہ کرام۔۔۔۔اور تابعین کا کیا کردار رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب صحابہ ۔ابوبکر۔۔عمر۔۔عثمان۔۔علی۔۔۔۔رضوان اللہ اجمعین کے سامنے امامت پیش کی گئی تو ۔۔۔۔کیا انہوں نے اسے فورا قول کرلیا۔۔ان کا کیا کردار رہا۔۔۔
    کیا امامت اور صدر کوئی کھیل ہیں۔۔۔۔یا امیر اور صدر صرف ۔۔لوگوں سے اپنی جھوٹی شان حاصل کرنے کے لئے ہیں ۔۔۔

    ۔۔۔
    مجھے امید ہیں آپ مجھے مثبت جواب دونگے۔

    ؎والسلام علیکم

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: