واقعۂِ کربلا کی اصل تاریخ-2

 
پچھلی قسط کے مطالعہ سے آپ نے دیکھ لیا کہ اس پنج سالہ مدّت میں جو 35 سے 41 ہِجری کے ابتدائی ایام تک کی ہے کیسے کیسے اندوہناک سانحات یکے بعد دیگرے واقع ہوتے رہے جو سب کے سب کوفی سبائیوں کی وسیسہ کاریوں اور سازشوں سے واقع پذیر ہوئے۔ قتلِ عثمان، قتلِ علی۔ جمل و صفین و نہروان کی خونریز خانہ جنگیوں اور نواسۂِ رسولﷺ حضرت حسنؓ کے جسم مبارک پر قاتلانہ حملے اس سب میں اسی مفسد گروہ کا ہاتھ تھا۔ علوی حکومت کے اس مختصر سے زمانے اختلال و انتشار کے منقضی ہونے پر 41 ہِجری کے ابتداء سے امیر المومنین حضرت معاویہؓ کا مثالی عہد حکومت نظم و ضبط کا، راحت و عدل و فوز فلاح عامہ کا شروع ہوا۔ امیر المومنین کے سوتیلے بھائی امیر زیاد ابنِ سفیان کے حسنؓ و انتظام سے ابتری دور ہوئی(7؎)۔ باشندگان عراق کی افتاد طبعیت کے اعتبار سے بقولیکہ درشتی و نرمی بہم دربہ است، جو فاصد کہ جراح و مرہم نہ است امیر موصوف کے نرم گرم طریقہ کار سے شرپسند و فتنہ انگیز عناصر کی تادیب ہو کر عامۃ الناس کو امن و امان، آزادی و خوشحالی کی فضا میں زندگی گزارنے کے مواقع بھی حاصل ہوئے۔ قبیلہ بنو کندہ کے بعض غالی شِیعوں کو جو بد گوئی خلیفۂِ وقت کے علاوہ علی ؓالاعلان کہتے تھے کہ خلافت کا حق آل علی ؓکو ہے۔ عبرتناک سزائیں دی گئیں۔
خفیہ پراپگینڈا البتہ ان کا جاری رہا۔ حضرت معاویہؓ نسباً حضرت علیؓ کے ابنِ العم بھی تھے اور ام الومنین ام حبیبہ بنت ابو سفیان(عہد رسالت کے عمال میں اکثریت بنی امیّہ کے افراد کی تو اس بنا پر توتھی کہ بہ نسبت دوسروں کے ان میں صلاحیتیں انتظامی امور کی انجام دہی کی زیادہ تھیں۔ رسول اللہﷺ نے حضرت ابوسفیان ؓ کو علاقہ نجران کا عامل مقرر فرمایا تھا۔ ان کے یہ چاروں بیٹے حضرت یزید بِن ابو سفیان ، حضرت معاویہ ؓ بِن ابو سفیان ، حضرت عتبہ بِن ابو سفیان اور حضرت زیادہ بِن ابو سفیان اٌنے اپنے وقت میں مختلف مناصب جلیلہ کے فرائض کامیابیِ اور نیک نامی سے انجام دیتے رہے ۔ امیر زیاد بِن ابو سفیان نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ ؓ کے زمانے میں ایران و عراق کے انتظامی معاملات کی ابتری کو جس حسنؓ و تدبر سے سلجھایا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ ان کے بیٹوں میں بھی نظم و نسق حکومت کی عمدہ صلاحیتیں تھیں۔ امیر عبید اللہ و امیر مسلم فرزندان امیر زیاد نے فتوحات اور نظم و نسق حکومت میں انجام دیں۔ امیر زیاد بِن ابو سفیان کے ایک پروتے زید بِن ابراہیم بِن عبید اللہ بِن امیر زیاد جو اسراء عصر امیر المومنین مامون الرشید عبّاسی کے زمرے کے پہلے شخص تھے جو ملک یمن میں با اختیار حکمران ہوئے ۔ عدن و صنعاء و حضر موت و نجران وغیرہ ان سب علاقوں پر ان کی حکومت تھی۔ خطبہ خلفائے عبّاسی کا پڑھا جاتا تھا اور سالانہ خراج بھی ارسال ہوتا تھا شہر زبید پایہ تخت تھا۔ عرصہ تک ان کی نسل میں وہاں حکومت رہی وہ بڑے شجاع عازم اور بڑے فہیم و دانشمند تھے ۔(الاعلام زر کلی جلد 2 صفحہ 183))کے رشتے سے حضرت فاطمہؓ کے ماموں اور حسنینؓ کے نانا بھی ہوتے تھے اور یہ دونوں بھائی خلافت قائم ہو جانے بعد ہی ان کے پاس دمشق جایا کرتے تھے۔ سربراہِ امّت امیر المومنین کے یہاں محض حاضری و ملاقات کی غرض سے ہی نہیں بلکہ رشتے و قرابت کے تعلقات سے بھی پانصد میل کا طویل سفر طے کر کے حضرت حسین ؓاپنے بھائی حضرت حسنؓ کی معیت میں دار الخلافہ دمشق پہنچتے۔ حضرت معاویہؓ جس شفقت و محبت سے ان عزیزوں کی مدارات کرتے علّامہ ابنِ کثیر سے سنیئے۔ فرماتے ہیں:
 خلافت جب(حضرت)معاویہؓ کی قائم ہو گئی تو حسین ؓاپنے بھائی حسنؓ کی معیت میں ان کے پاس(دمشق)جایا کرتے تھے۔ معاویہؓ ان دونوں کا بہت اکرام کرتے، مرحبا و خوش آمدید کہتے اور بڑے بیش بہا عطیے دیتے ایک ہی دن میں انہوں نے بیس لاکھ کی رقم ان دونوں کو عطا کی تھی۔
حضرت حسنؓ کی وفات خلافت معاویہؓ کے آٹھویں سال 49 ہِجری میں ہو گئی۔(حضرت حسنؓ نے بعارضہ تپ محرقہ چالیس دن بیمار رہ کر وفات پائی تھی۔ زہر خوانی کی روایت سبائیوں کی من گھڑت محض لغو ہے۔ زہر کھا کر چالیس دن تک کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا)اس وقت سے بھی حضرت حسین ؓنے دمشق کے سالانہ پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی اپنے بھائی کے سال رحلت 49 ہِجری میں بھی وہاں گئے اور فرزند معاویہؓ امیر یزید کے لشکر میں شامل ہو کر جہاد قسطنطنیہ میں شرکت کی۔ اس کے بعد سے فی کل عام ہر سال مدینہ سے دمشق پہنچتے رہے۔ حضرت معاویہؓ کی وفات سے قبل 59 ہِجری تک گیارہ سال مسلسل جاتے اور زر و جواہر کے بیش بہا تحائف سے شاد کام ہوتے رہے۔ علّامہ ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
جب وفاتِ حسنؓ کی ہو گئی جب بھی حسین ؓ ہر سال حضرت معاویہؓ کے پاس دمشق جایا کرتے تھے وہ انہیں عطیے دیتے ان کا اعزاز و اکرام کرتے وہ(حسینؓ)اس لشکر میں غازیوں میں شامل تھےجنھوں نے فرزند معاویہؓ یزید کے ساتھ قسطنطنیہ پر جہاد کیا تھا۔(البدائیہ و النھایۂ جلد 8 صفحہ 151)
قسطنطنیہ پر پہلا جہاد یہی جہاد تھا جو 49 ہِجری میں ہوا اور اس جہاد کے مجاہدین کی بشارت مغفرت کا ذکر صحیح بخاری کی حدیث میں آیا ہے۔ وقائع 49 ہِجری کے زیر عنوان علّامہ ابنِ کثیر تحریر کرتے ہیں۔ اور اس 49 ہِجری میں یزید بِن معاویہؓ نے رومی شہروں پر جہاد کیا حتیٰ کہ قسطنطنیہ پہنچے ان کے ساتھ اکابر صحابہ کی جماعت تھی اس میں ابنِ عمر و ؓابنِ عبّاسؓو ابنِ زبیر ؓو ابو ایوب انصاری ؓتھے۔ اور صحیح بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا میری امّت کا پہلا لشکر جو مدینہ قیصر(قسطنطنیہ)پر جہاد کرے اس کے لئے مغفرت ہے یہی وہ لشکر تھا جس نے سب سے اوّل جہاد(قسطنطنیہ)پر کیا تھا(البدائیہ و النہایہ جلد 8 صفحہ 151)
مدّت اس جہاد کی 6 ماہ بتائی گئی ہے۔ اپریل لغایت ستمبر(تاریخ گبن)اس تمام مدّت میں حضرت حسین ؓبھی سپہ سالار لشکر امیر یزید کے ساتھ محاذ جنگ پر موجود رہے۔ امیر یزید سے نیز حضرت معاویہؓ سے جو خال المومنین و کاتب وحی رب العالمین تھے۔
حضرت حسین ؓکے مزید رشتے یہ بھی تھے:
(1)ایک رشتے سے حضرت حسین ؓامیر یزید کی پھپیری بہن کے شوہر ہونے سے ان کے بہنوئی بھی تھے اور حضرت معاویہؓ کے بھاجن داماد، یہ بھانجی حضرت معاویہؓ کی سیّدہ آمنہ بِن سیّدہ میمونہ بنت حضرت ابو سفیانؓ حضرت حسین ؓکی زوجیت میں تھیں۔ علی ؓاکبر ان کے فرزند ان ہی کے بطن سے تھے۔
(2)دوسرے رشتے سے حضرت معاویہؓ کے لائق فرزند امیر یزید حضرت حسین ؓ کے بھتیج داماد تھے۔ حضرت حسین ؓکے تایا زاد بھائی اور بہنوئی و شوہر سیّدہ زینب حضرت عبداللہ بِن جعفرطیّارؓ کی دختر سیّدہ امِ محمّد امیر یزید کی زوجہ تھیں۔
(3)ایک تیسرا رشتہ یہ بھی تھا کہ حضرت معاویہؓ کی زوجہ محترمہ سیّدہ میسون والدہ یزید اور حضرت حسین ؓکی زوجہ محترمہ الرباب والدہ سکینہ بنو کلب کے دو سگے بھائیوں زہیر و علیم پسران عدی بِن جناب کلبی کی اولاد میں ہونے سے چچیری بہنیں تھیں اس لئے حضرت حسین ؓخالو تھے امیر یزید کے اور ساڑھو تھے حضرت معاویہؓ کے ان رشتوں کے علاوہ حضرت حسین ؓہاشمی گھرانے کے بعض ممتاز افراد دمشق میں مسکن گزیں تھے۔ رسول اللہﷺکے تایا الحارث بِن عبدالمطلب کے پروتے حضرت عبدالمطلب بِن رابیعہ بِن الحارث مذکور جو رسول اللہﷺکی چچیری بہن سیّدہ امِ الحکم بنت الزبیر بِن عبد المطلب کے فرزند ہونے سے آپ کے عزیز بھانجے تھے دمشق میں رہتے تھے اور امیر یزید کی صفات حسنؓہ کی وجہ سے انہوں نے ان کو اپنا وصی بنایا تھا۔ رسول اللہﷺکے یہ عزیز بھانجے حضرت عبدالمطلب آپ کی ایسی چچیری بہن کے فرزند تھے جن کے پدر بزرگوار جناب زبیر بِن عبدالمطلب نے جو عبد مناف ابو طالب کے سگے بڑے بھائی تھے رسول اللہﷺکی بچپن میں کفالت و پرورش کی تھی نہ عبد مناف ابوطالب نے جو محض غلط مشہور ہے۔ اپنے ان بھانجے کی شادی بھی رسول اللہﷺنے اپنے ایک اور چچیرے بھائی حضرت ابوسفیان بِن الحارث بِن عبدالمطلب کی دختر سے کرائی تھی ان ہی حضرت عبدالمطلب ہاشمی کے ساتھ ان کے نانا اور رسول اللہﷺکے کفیل تایا زبیر بِن عبدالمطلب کے پروتے عتیق بِن حضرت عبداللہ بِن زبیر بِن عبدالمطلب دمشق میں رہتے تھے۔غرضیکہ حضرت حسین ؓکا ہر سال(فی کل عام)دمشق جانا اور قبل وفات حضرت معاویہؓ 59 ہِجری تک دس گیارہ سال باربر جانا اور اس دارالخلافہ میں ہفتوں کیا مہینوں مقیم رہنا غیروں
و اجنبیوں میں نہیں اپنوں میں ہی ہوتا تھا اور ایسے عزیزوں و قرابت داروں میں ہوتا تھا جو کئی کئی رشتوں میں ان سے منسلک تھے۔ دمشق سال بسال جانے آنے اور عرصہ تک مقیم رہنے سے زیادہ قریب قیاس ہے کہ بعض دفعہ اپنی اہلیہ سیّدہ آمنہ کو ان کے ماموں حضرت معاویہؓ سے اور دوسری زوجہ سیّدہ الرباب والدہ سکینہ کو ان کی چچیری بہن سیّدہ میسون والدہ یزید سے ملنے ملانے کو ہمسفر رکھتے ہوں۔ اور اس بات اعتراف تو شِیعہ مصنفین خصوصاً ابنِ ابیِ الحدید شارح نہج البلاغۃ کو بھی ہے اور بالصراحت کہتا ہے کہ حضرت حسین ؓ کو امیر المومنین حضرت معاویہؓ مقررہ رقم وظیفہ کے علاوہ بڑے بڑے عطیات دیتے اور بے تحاشا دیتے حوائج و ضروریات ان کی پوری کرتے مقروض ہونے پر قرض بھی ادا کر دیتے جیسے ایک لاکھ روپیہ ادا کر کے حضرت حسین ؓکا قرضہ عین ابیِ نیزر کا ادا کرایا تھا۔(الاصابہ فی تمیز الصحابہ جلد 4 صفحہ 199)
اس امر واقعہ سے کسی کو مجال انکار نہیں کہ حضرت حسین ؓبیس برس سے امیر المومنین حضر ت معاویہؓ کی بیعت میں داخل تھے۔ ایک شِیعہ مورخ نے ہی شِیعانِ کوفہ کے اصرار خروج پر حضرت حسین
ؓکے جواب کے یہ الفاظ لکھیں ہیں۔ پس حسین ؓنے فرمایا ہم نے بیعت کر لی ہے معاہدہ کر لیا ہے۔ ہماری بیعت توڑنے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔(اخبار الطوالی صفحہ 224)بیعت خلافت کے علاوہ امیر یزید کے لشکر میں شامل ہو کر حضرت حسین ؓنے جہاد قسطنطنیہ میں شرکت بھی کی تھی ۔(
شِیعہ مورخ امیر علی نے ہسٹری آف سیرینز میں حضرت حسینؓ کے جہاد قسطنطنیہ کا ذکر تو کیا ہے مگر لشکر یزید کا نام تک نہیں لیا۔ درآنحالیکہ غیر مسلم مورخین خصوصاً ایڈورڈ گبن نے مشہور کتاب رومتہ الکبریٰ عروج و زوال میں قسطنطنیہ کے اس معرکے کا ذکر کرتے ہوئے امیر یزید کی
موجودگی حدیث بشارت مغفرت اور حضرت ایوب انصاری ؓکی وفات وغیرہ کا تذکرہ صراحت کے ساتھ کیا ہے ۔ مورخ امیر علی نے اموی سادات کے بارے میں عموماً حضرت معاویہ و امیر
یزید کے متعلق خصوصاً سفیہانہ انداز میں جو دریدہ دہنی کی ہے تاریخ نگاری کے اصول سے گری ہوئی ہے ۔ ایسی کتاب کا یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہونا نامناسب ہے)
جہاد اور
شرکت جاہد اِمام و خلیفۂِ وقت کے حکم و اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔ دیگر صحابہ و تابعین کی طرح جنھوں نے اللہ اور رسول کے نام پر حضرت معاویہؓ کی بیعت کی تھی۔
حضرت حسین ؓبھی حضرت معاویہؓ کو خلیفۂِ وقت امیر المومنین و اِمام مفترض اطاعت ہی جانتے تھے۔ اب دیکھئے ایک طرف تو یہ حالات و واقعات ہیں۔ حضرت معاویہؓ و حضرت حسین ؓکے باہمی مراسم انس و محبت روابط ملاطفت د ارتباط و مصادقت کے جو مختصراً بیان ہوئے ہیں اور دوسری طرف وضعی روایتوں میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت حسین ؓ
معاذ اللہ تقیہ پر عامل تھے۔ دل میں کچھ زباں پر کچھ۔ امیر المومنین معاویہؓ سے بیعت بھی کی تھی۔ سمع و طاعت و اتباع کا اقرار بھی تھا اور سبائی راویوں بالخصوص ابو مخنف کی کِذب بیانی کے مطابق بیعتِ معاویہؓ سے اس قدر کراہت و نفرت تھی جس کے اظہار میں ان کی ہی زبان سے یہ الفاظ کہلوائے گئے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے کوئی کاٹنے والا چھری سے میری ناک کاٹ رہا ہو یا نشتر سے میرا گوشت چیر رہا ہو،(مقتل ابو محنف)۔ اسی ضمن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیس برس تک وہ اپنے شِیعوں کو تاکید کرتے رہے کہ معاویہؓ کی زندگی تک کوئی علانیہ تحریک نہ اٹھاؤ گھروں میں چپ چاپ بیٹھے رہو۔ مشتبہ ہونے سے بھی بچتے رہو۔ معاویہؓ کی موت کے منتظر رہو اگر وہ مر گئے ہم بھی سوچیں گے تم بھی سوچنا۔
دیکھا آپ نے حضرت حسین ؓکے کردار کو اس طرح معاذ اللہ منافقت سے آلود کرنے سے بھی یہ لوگ باز نہیں رہے۔ خلافت و حکومت کا خواہش مند اور متمنی ہونا اور موروثی حق سمجھنا امر دیگر ہے۔ ان ہی کے بچپن کا واقعہ مشہور ہے جس کے راوی بھی وہ خود ہی ہیں۔ امیر المومنین حضرت فاروق ؓ اعظم مسجدِ نبویﷺ میں خطبہ دے رہے ہیں۔ حسین ؓان کے پاس پہنچ کر کہتے ہیں :
 میرے ابّاکے منبر پر سے اترئیے اپنے ابّاکے منبر پر جائیے(الاصابہ جلد 1 صفحہ 333)۔
بیٹے کے منہ سے یہ سنتے ہی حضرت علیؓ نے عرض کر دیا اے امیر المومنین ! یہ بات اس نے اپنے دل سے کہی ہے کسی نے کہلوائی نہیں۔ ابو مخنف نے بھی موروثی حق و خلافت کا ذکر ان سے موقع بموقع کروایا ہے۔ علّامہ ابنِ کثیر نے موروثی حقِ خلافت کا ذکر تو نہیں کیا قصۃ الحسین ؓ بِن علی ؓو سبب خروجہ باہلہ من مکۃ الی العراق فی طلب الامارۃ و کیفیۃ مقتلہ کے عنوان سے ان کے سفر عراق کا مقصد طلب امارت و خلافت ہی بتایا ہے اور لکھا ہے کہ کچھ دنوں تو حالت تذبذب کی رہی کبھی ارادہ کرتے اہلِ کوفہ کے پاس چلے جائیں کبھی ان سے دور ہی رہنا چاہتے تھے مرۃ یریدان یسیرھم الیھم ومرۃ یجمع الاقامۃ عنھم(البدایہ و النھایہ جلد 8 صفح 161)یہ تذبذب حسین ؓکو اپنے پدر بزرگوار کے حالات کے لحاظ سے ہونا قدرتی بات تھی اور اہلِ کوفہ کے دلوں میں دمشق کا دارالخلافہ بِن جانا اور مسلسل بیس برس تک رہنا خار کی طرح کھٹکتا تھا۔ حضرت حسین ؓکو حصول مقصد کا آلہ کار بنانے کے لئے خطوط و عرضداشتوں اور وفود کا تانتا باندھ دیا۔ حضرت حسین ؓکی بڑی پھوپھی امِ ہانیؓ کے فرزند جعد بِن ہبیرہ کو جو بہنوئی بھی تھے۔ حضرت علیؓ نے اپنے زمانہ میں گورنر کے عہدے پر فائز کر دیا تھا۔ بعد میں وہ کوفہ میں مسکن گزین ہو گئے تھے۔ بقول صاحب اخبار الطوال وہ حضرت حسین ؓکے سچے محِب و مخلص تھے۔ شِیعانِ کوفہ نے ان سے بھی تاکیدی خط حضرت حسین ؓکو آمد کوفہ کے بھجوائے۔ آخر میں لکھا تھا:
پس اگر تم کو اس امر(خلافت)کی طلب و خواہش ہے تو ہمارے پاس آ جاؤ ہم نے اپنی جانوں کو تمہارے ساتھ مرنے پر وقف کر رکھا ہے(اخبار الطوال صفحہ 221)
تعجب ہے ابو مخنف اور دوسرے مصنفین کے بیانات میں ان جعدہ بِن ہبیرہ کا نہ پھر کوئی ذکر آتا ہے نہ حضرت حسین ؓ کے یہ دوسرے بہنوئی اور تایا زاد بھائی مسلم بِن عقِیلؓ کوفہ جا کر ان سے ملتے یا ان کے یہاں مقیم ہوتے ہیں۔ غیروں سے ملتے اور غیروں کے پاس ٹھہرتے ہیں۔ کوفی لا یوفی اوّل تو جوش و خروش سے حضرت حسین ؓ کی خلافت کے لئے اپنی جانوں کی بازی لگا دینے کا حلف اٹھاتے ہیں فبا یعرہ علی ؓامرۃ الحسین ؓ و حلفو الہ لینصر نہ بانفسھم و اموالھم(البدائیہ و النھائیہ جلد 8 صفحہ 152)مگر عین موقعہ پر مسلم بِن عقِیلؓ کا ساتھ چھوڑ کر انہیں بھی قتل کرا دیتے ہیں۔ قتل ہونے سے پہلے مسلم بِن عقِیلؓ نے حضرت حسین ؓکو پیغام بھجوایا تھا اس میں بھی کوفیوں کو ہی اپنا قاتل بتایا تھا۔ اور کہا تھا:
 اہلِ کوفہ کے قریب مت آئیو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے چھٹکارا پانے کے لئے آپ کے والد(حضرت علیؓ)مر جانے یا قتل ہونے کی تمنا رکھتے تھے۔ ان کوفیوں نے آپ سے بھی جھوٹ بولا اور مجھ سے بھی۔ 
جاری ہے۔۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: