واقعۂِ کربلا کی اصل تاریخ-1

تقدمہ و تعارف  ترجمہ و تشریح و تعلیقات :محمود احمد عبّاسی اورپروفیسر حکیم علی عبّاسی
مولف کتاب "خلافت معاویہ ؓو یزید”
مولف کتاب "حضرت معاویہ ؓکی سیاسی زندگی”
ناشر مکتبہ محمود 1/24 بی ایریا لیاقت آباد۔ کراچی
سن طباعت       1972
مقدمہ
عراق کے ایک شِیعہ عالم سیّد حسین بن احمد الحسینی النجفی نے جو مورخ براقی کے لقب سے مشہور ہیں اور شِیعہ علمی حلقوں میں محقق و مورخ سمجھے جاتے ہیں اپنی تالیف تاریخ کوفہ میں اہلیانِ کوفہ کے نفسیاتی تجزیہ میں یہ کہہ کر(ھذہ نفسیۃ القوم منذالعھدالعلوی)یہ ہے اس قوم اہلِ کوفہ کی نفسیات شروع زمانہ حضرت علیؓ سے لکھا ہے کہ ان لوگوں کو آپس میں پھوٹ ڈالنے، منافقت کی تخم ریزی کرنے، گلی کوچہ میں فتنہ و فساد کے جراثیم چھپا رکھنے، سچائی سے انحراف، اہل حق پر حملے اور(المیل الی الجورو لا صاختہ داھیہ ضلال)ظلم کی طرف میلان اور گمراہی کے عذاب کی طرف بلاوے کے سوا اور کچھ ان میں نہیں دیکھا گیا۔ شِیعہ مورخوں کے اس قول کی صداقت کا بین ثبوت تو عثمانی خلافت کے مخالفانہ پروپگینڈے کے علاوہ خود حضرت علیؓ اور ان کے صاحبزادوں حضرات حسنینؓ ہی کے واقعات سے مل جاتا ہے۔ کتب تاریخ کے علاوہ نہج البلاغہ اور دیگر کتب شِیعہ میں  حضرت علیؓ خطبات اور تقریروں کے وہ فقرے درج ہیں جن میں موصوف نے ان لوگوں کی کیسی کچھ مذمت کی ہے جو آپ کی موالات اور طرف داری کے بڑے دعوے دار تھے۔ نافرمان، بے وفا، حیلہ ساز، بزدل، بد عہد بتایا اور فرمایا(قاتلکم اللہ لقدملتم قلبی فیحا و شحنتم صدر ی غیضا اللہ تم لوگوں کو ہلاک کرے تم نے میرے دل کو غم کی پیپ سے بھر دیا اور میرے سینے کو غصے سے)ان ہی لوگوں کی خصلت، حکم عدولی اور وفائی سے بد دل ہو کر تو وہ یہ آرزو بھی کیا کرتے تھے۔
 واللہ ان معاویۃ صارفنی بکم صرف الدینار قاخذمنی عشراً منکم واعطائی رجلا منھم قسم بخدا، کاش معاویہؓ مجھ سے تمہارا تبادلہ کر لیں۔ جس طرح اشرفیہ روپیہ سے بدلی جاتی ہیں ، مجھ سے وہ دس آدمی تم میں سے لے لیں اور اپنا ایک ہی آدمی مجھے دے دیں۔(نہج البلاغہ قسم اوّل ص 354)
(یہ کتاب ادارۂ المکتبۃ المرتضویہ کے اہتمام سے بمقام نجف(عراق)کے شِیعہ پریس المطبعۃ الحیدریہ میں 1347 ہِجری میں طبع ہو کر شائع ہوئی تھی مصنف کا نام و سلسلہ نسب کچھ یوں ہے:سیّد حسین ؓابنِ احمد اسمعیل بِن زینی الحسینی النجفی ولادت 1261 ہِجری وفات 1332 ہجری)
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ بھی اسی سلسلے میں لکھتے ہیں:
وعلی ؓکان عاجزا من قھر الظلم
ۃ من العسکرین ولم تکن اعوانہ یوافقونہ علی ؓمایا مربہ واعوان معاویۃ یوا فقونہ اور علی ؓاپنے فوجی ظالموں کے قہر سے عاجز تھے ان کے مدد گار و انصار احکام ان کی موافقت نہیں کرتے تھے(برخلاف ان کے)معاویہؓ کے مدد گار و انصار کی موافقت کرتے تھے۔(منہاج السنۃ جلد 2 ص 302)
تمر دو سرکشی کا تو ان لوگوں کی خود حضرت علیؓ ہی نے بار بار شکوہ کیا ہے۔ ایک موقع پر فرمایا تھا: منیت بمن لا یطیع اذا امرت ولا یجیب اذا دعوت میں ایسے لوگوں میں مبتلا کر دیا گیا ہوں جو نہ کہنا مانتے ہیں اور نہ پکار کا جواب دیتے ہیں ۔(نہج البلاغۃ)
(1)اس عہد کے سب ہی والیان کوفہ کے خلاف ان لوگوں نے شکایتوں کی بھرمار کر کے بار بار تبدیل کرایا تھا۔
(2)نیک دل خلیفہ اور رسول اللہﷺکے دوہرے داماد امیر المومنین حضرت عثمانؓ کے نظم حکومت پر من گھڑت الزامات عائد کر کے ہنگامہ برپا کرنے اور اس کے نتیجے میں انہیں ظلم و شقاوت سے قتل کرنے میں یہ کوفی، مصری، سبائیوں کے شریک کار تھے۔
یہ نافرمان و سرکش جو حضرت علیؓ کے نام نہاد مددگار و انصار تھے اکثر بیشتر سپاہی پیشہ تھے اوران عرب قبائل کے مقاتل(نبرد آزما)تھے جو حضرت علیؓ کے برسراقتدار آنے سے کوئی سترہ اٹھارہ برس قبل بحکم امیر المومنین حضرت عمر ؓفاروق اعظم عراق میں دو نئے شہر کوفہ و بصرہ(شہر کوفہ 17 ہِجری میں حسب الحکم امیر المومنین ؓ حضرت عمر ؓ فاروق اعظم قدیم ایرانی شہر مدائن کی جگہ بسایا گیا تھا۔ مالک الاشتر کا قبیلہ نخع نیز قبیلہ ہمدان و کند ہ وازرو بنو اسد وغیرہ شمالی عرب قبائل جن کی عددی قوت چالیس ہزار بتائی گئی ہے آباد کئے گئے اس سے قبل حضرت خالد ؓ بِن ولید سیف اللہ نے عرب قبیلوں کو اس نوح میں آباد کرنے کے لئے موزوں مقام منتخب کرنے کی غرض سے اس علاقے کا سروے کیا تھا۔ کربلاء کے پڑاؤ پر چند روزہ قیام کیا۔ وہاں کی زمین نرم اور مرطوب ہونے کی وجہ سے مکھیوں کی بہتات تھی۔ دریائے فرات سے بھی کوئی بیس میل دور تھا اس کی بجائے کوفہ کی زمین ریتلی و کنکریلی بھی تھی اور دریا بھی نزدیک تھا۔ وہ اراضی بمقابلے کربلا کے عرب آبادی کے لئے زیادہ موزوں قرار دی گئی۔ 14 ہِجری میں بصرہ بدری صحابیِ حضرت عتبہ ؓ بِن غزوان نے امیر المومنین ؓ موصوف کے حکم سے اس مقام پر بسایا تھا جہاں قدیم بندرگاہ ابلہ تھا اور اس طرف سے غنیم کے حملے کا خطرہ بھی تھا۔یہاں یمنی عرب آباد کئے گئے تھے وجہ تسمیہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اہل فارس اس مقام کو بس راہ اس لئے کہا کرتے تھے کہ یہاں سے متعدد راہیں نکلا کرتی تھیں۔فارسی کا بس راہ معرب ہو کر بصرہ ہو گیا۔ واللہ اعلم)بساتے وقت دفاعی مقصد سے باہتمام امیر سعد بِن ابیِ وقاص ؓفاتح ایران جدا جدا محلوں میں آباد کئے گئے تھے۔ اکثریت ان کی طبعاً ہنگامہ پرور تھی کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ثالث ؓکےعہد میں ابنِ سبا کوفے آیا تھا اور یہاں کے شر پسند عناصر میں داخلی انتشاربھڑکانے کی تخم ریزی بھی کر گیا تھا ،
چنانچہ :
(3)کوفی لیڈرمالک الاشتر اور اس کے باغی ساتھی قاتلین حضرت عثمانؓ نے حضرت علیؓ کو منصب خلافت پر فائز کرنے میں جو کردار ادا کیا صفحات تاریخ پر ثبت ہے۔ اسی بنا پر یہ زعم ان لوگوں کو برابر رہا کہ ہمارے ہی زور سے تو حضرت علیؓ برسراقتدار آئے ہیں ، ہمارا کہنا انہیں بہرحال کرنا ہو گا۔ مالک الاشتر نے تو اسی وقت جب حضرت علیؓ اپنے بعض عزیزوں کو حکومت کے مناصب جلیلہ پر فائز کر رہے تھے صاف کہہ دیا ارے ہم ان بڑے میاں(حضرت عثمانؓ)کو کل قتل کیوں کیا جب آج یہ بھی(حضرت علیؓ)وہی کچھ کر رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نے کہتے ہیں اسے جھڑکنے کی بجائے اس کی استمالت قلب کی باتیں کیں۔ کوفیوں کا مطمح نظر سیاست وقت پر مسلط و اثرانداز ہونا تھا۔
بقول مورخ ویلہاوزن اہلِ کوفہ کی بھاری اکثریت کی وابستگی حضرت علیؓ سے اس بنا پر تھی کہ اپنے صوبہ عراق کی سیاسی آزادی کا ان کو پشتی بان جانتے تھے۔ اور ان اہلیانِ کوفہ کی اکثریت وہ تھی جسے افکار جاہلیت کی تطہیر کے صحیح اسلامی کردار کے موثر مواقع اس وقت تک نہ ملے تھے۔ جاہلی تمدن کی خو بو ان میں باقی تھی۔ ان کی تلون مزاجی و بے وفائی سے کوفی لا یوفی مثل مشہور ہوئی۔
(مورخ ویلہاؤزن کے اپنے الفاظ انگریزی ترجمے کے یہ ہیں:
The overwhelming majority of The Kufaites addressed to Ali as the champion of the political independence of Iraq(P. 117))
(4)قصاص خون عثما ن ؓ عملاً مخالفت اسی سبائی گرہ کے اثرات سے ہوئی جو قتلِ عثمانؓ کے ملزم بھی  تھے اور سیاست وقت پر قابو یافتہ بھی۔
(5)جنگ جمل بھی اسی گروہ نے شب خون مار کر چھیڑ دی تھی، ابنِ سبا بذات خود موقع پر موجود تھا۔
(6)مالک الاشتر اور اس کے بلوائی ساتھی سیاسی اغراض سے حضرت علیؓ کو بصرہ سے مدینہ واپس چلے جانے کے بجائے کوفہ لے آئے۔ مدینہ کی سیاسی اسلامی مرکزیت مستقر خلافت تبدیل ہو جانے پر بری طرح متاثر ہوئی۔
(7)قصاص خونِ عثمانؓ ہی کے نزاعی مسئلہ سے صفین کی آتش جنگ مشتعل ہوئی جس کے نتیجہ میں سبائیانِ کوفہ بری طرح ناکام رہے انہیں پھر کبھی اہل شام سے مقابلے کی ہمت نہ ہو سکی۔ انہی لوگوں کی دسیسہ کاریوں کی تحقیق کے نتیجے میں منصب خلافت سے حضرت علیؓ کی معزولی کا فیصلہ متفقہ ثالثی کو کرنا پڑا۔
(8)کوفی شِیعوں اور سبائیوں کی منافقت اور بزدلی کی وجہ سے حضرت علیؓ کو اپنی پوزیشن سنبھالنا دشوار ہوتا گیا۔ اپنے لوگوں کو طرح طرح سے بار بار سمجھاتے اور عمِلّی اقدام پر ابھارتے ہے آخر میں ان بزدلوں کو اس طرح مخاطب کرتے ہوئے کہا:
 یا اشیاہ الرجال ولا رجال ویاطفام الاحلام و عقول ریات الرجال اے زنان بصورت مرداں اور اے بزدل کمینو اور زنانہ عقل والو۔
حضرت علیؓ نے فرمایا تھا تم ہی میرے رسوا کرنے والے ہو، تمہاری وجہ سے قریش والے کہنے لگے ہیں ابو طالب کا بیٹا بہادر تو ہے مگر سیاست حرب سے نابلد محض ہے۔ ایک مشہور روایت میں ہے کہ اپنے گروہ کی غلط کاریوں سے جن مخالف حالات کا سامنا کرنا انہیں فیصلہ ثالثی سے قبل ہی احساس ہو گیا تھا کہ اب وہ حکمران نہ رہ سکیں گے۔ مشہور روایت یہ ہے :
عن الحارث قال لماع رجع علی ؓمن صفین علم انہ لا یملک ابدافتکلم اشیاء کان لایتکلم بھا و حدث با حدیث کان لا یتحدث بھا فقال
فیما یقول ایھا الناس لا تکز ہوا امار
ۃ معاویہؓ فواللہ لو قد فقد تموہ لقد وایم الروس تنزوا عن کو ایلھا کا لحنظل الحارث سے روایت ہے انہوں نے کہا صفین سے لوٹتے وقت ، حضرت علیؓ نے جان لیا تھا کہ اب وہ کبھی حکمران نہ رہیں گے تو ایسے کلمات انہوں نے کہے جو پہلے کبھی نہ کہے تھے اور ایسی باتیں کہیں جو پہلے کبھی نہ کہیں منجملہ ان باتوں کے انہوں نے فرمایا لوگو ! معاویہؓ کی امارت(خلافت)سے تم کراہیت مت کرنا ان کو بھی اگر تم کہہ بیٹھے تو تم دیکھو گے کہ مونڈھوں پر سے سر کٹ کٹ کر اس طرح گریں گے جیسے حنظل کے پھل۔(ازالۃ الخفاج۔ جلد 2۔ صفحہ 283(
(9)جنگ صفین ہی کے نتائج بد کے سلسلے میں حضرت علیؓ کے شِیعوں کی ایک بڑی ی جماعت ان سے جدا ہو کر خوارج کہلائی ان کی مخالفانہ حرکات سے حضرت علیؓ نے جنگ نہروان میں ان کا قلع قمع کر دیا تھا اسی جماعت کے ایک فرد عبدالرحمن بِن ملجم(عبدالرحمن بِن ملجم المراوی نے ابتداء بدری صحابیِ حضرت معاذ بِن جبل سے جو علمائے صحابہ میں ممتاز درجہ رکھتے تھے علم حاصل کیا تھا۔ وہ شِیعان علیؓ میں سے تھا اور جنگ  صفین میں ان ہی کی جانب سے نبرد آزما ہوا تھا۔ پہلے فتح مصر میں بھی حصہ لے چکا تھا۔ امیر المومنین حضرت عمر ؓ فاروق اعظم کے حکم سے جامع مسجد کے قرب میں تعلیم قرآن کے لئے اس کی سکونت کا انتظام مصر میں کیا گیا تھا۔ فکان من القراء و اہل الففتہ والعبادۃ(الاعلام قاموس التراجم زر کلی جلد 4 صفحہ 114)کہتے ہیں کہ بعد میں وہ خارجی جماعت میں شامل ہو گیا اور اپنے کسی عزیز کے انتقام میں حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ کر کے شہید کر دیا۔ عبداللہ بِن نجیتہ بِن عبید تمیمی نے اسی وقت تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا تھا۔فضریتہ بالسیف حتی قتل غضہا یعلی ؓ(جمہرۃ الانساب ابنِ حزم صفحہ 89)یہ روایت زیادہ قرین صحت ہے بہ نسبت مشہور روایت کے جس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت حسین ؓ نے اپنے پدر بزرگوار کے قاتل کا ایک ایک عضو کاٹ کر ہلاک کیا تھا)نے اپنے بعض اعزہ کے انتقام میں حضرت علیؓ پر مہلک حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔
(10)حضرت علیؓ کی وفات ہونے پرسبائیانِ کوفہ نے حضرت حسنؓ سے بیعت کی ، باپ کے بعد بیٹے کے برسراقتدار آنے کی یہ پہلی مثال تھی۔(تاریخ
طِبری میں صرف ان تین شرطوں کا بیان ہے۔(1)بیت المال کوفہ میں پچاس لاکھ کی جو رقم موجود ہے وہ حسنؓ لے لیں۔(2)ایران کے ایک علاقے واراب جرو کا خراج انہیں ملا کرے(3)ان کے سامنے حضرت علیؓ کی برائی نہ کی جائے۔ اس کے علاوہ کوئی اور شرط نہ تھی۔ حضرت حسنؓ و حسینؓ کو سالانہ رقم وظیفے کی پہلے سے ہی ملا کرتی تھی۔ شِیعہ کتب میں جو یہ کِذب بیانی ہے جس میں مسٹر جسٹس امیر علیؓ بھی شامل ہیں کہ حضرت معاویہ کے بعد خلافت حضرت حسینؓ کو ملنے کی شرط بھی محض لغو ہے۔ جن حالات دہشت زدگی میں حضرت نے صلح کی تھی ایسی کسی شرط کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا)
سیاسی فضا سازگار نہ پا کر حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کرنا چاہی ،(حضرت علیؓ 35 ہِجری میں بعد قتلِ عثمانؓ برسر اقتدار آئے۔ دوسرے ہی سال 36 ہِجری میں جنگ جمل میں خونریزی ہوئی۔ پھر ایک سال بعد 37 ہِجری میں جنگ صفین کے ایک ہی سال بعد 38 ہِجری میں جنگ نہروان ہوئی۔ رمضان 40 ہِجری میں وہ خود مقتول ہو گئے)سبائیوں نے نواسۂِ رسولﷺ کو بھی نہ بخشا ، حضرت حسین ؓکے پروتے اور شِیعوں کے پانچویں اِمام سے اس کی کیفیت سنئے ۔ ایک شِیعہ مجتہد اپنے اِمام کا ارشاد لکھتے ہیں۔
 پس باپسر ش اِمام حسنؓ بیعت کردند وبعد از بیعت با او عذر و مکر کردند و خواستند کہ او را بد دشمن دہند اہلِ عراق بر روئے اویستا ددند خنجر بہ پہلویش زوند خیمہ اش راغارت کردند حتی کہ خلخالہائے کنیز ان آنحضرت را از پابہائے ایشاں بیرون آور وند آنحضرت رامضطر گردید تا آنکہ با معاویہؓ صلح کردو خو نہائے خودود اہلبیت اوبسیار امذک بووند پھر لوگوں نے ان کے(حضرت علیؓ کے)فرزند اِمام حسنؓ سے بیعت کی اور بعد بیعت ان سے بد عہدی و مکر کیا اور چاہا کہ ان کو دشمن کے حوالے کر دیں۔ اہلِ عراق ان کے سامنے کھڑے ہو گئے،ان کے پہلو میں خنجر مارا، ان کا خیمہ لوٹ لیا۔ یہاں تک کہ ان کی لونڈیوں کے پاؤں سے خلخال اتار لیں اور آپ کو پریشان کر دیا تا آنکہ معاویہؓ سے صلح کر لی اور اپنی اور اپنے اہلبیت کی جانوں کی حفاظت کر لی۔ اہلبیت ان کے بہت تھوڑے تھے۔(جلاء العیون ملاباقر مجلسی)
اب خود حضرت حسنؓ کی زبانی سنیئے کہ شِیعانِ کوفہ نے حضرت حسین ؓکے بر اور بزرگ کی بیعت کر لینے کے بعد یہی ان سے غداری کی۔ قاتلانہ حملہ کر کے مجروح کیا مال و اسباب ان کا لوٹ لیا۔ اہل تشِیع کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی کی روایت میں حضرت حسنؓ کے یہ کلمات راوی نے بیان کئے ہیں:
 عن زیدین وھب الجھنی قال لما طعن الحسنؓ بِن علی ؓبا المدائن اتیتہ۔۔۔۔الحی منا والمیت زین بِن وہاب جہنی سے روایات ہے وہ کہتے ہیں جب حسنؓ بِن علی ؓ کو مدائن میں خنجر مارا گیا تو میں ان کے پاس گیا ۔ اس وقت ان کو(زخم کی وجہ سے)بہت تکلیف تھی میں نے کہا اے فرزند رسولﷺ آپ کی کیا رائے ہے لوگ بہت متحیر ہو رہے ہیں ۔(احتجاج طبرسی۔ مطبوعہ ایران صفحہ 148)
انہوں نے کہا قسم بخدا میں معاویہؓ کو اپنے لئے ان لوگوں سے بہتر سمجھتا ہوں جو اپنے کو میرا شِیعہ کہتے ہیں۔ ان شِیعوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا۔ میرا اسباب لوٹ لیا، میرا مال لے لیا۔ واللہ میں معاویہؓ سے کوئی معاہدہ کر لوں جس سے میری جان اور میرے متعلقین کی حفاظت ہو جائے یہ بہتر ہے اس سے کہ شِیعہ مجھے قتل کر دیں اور میرے اہلِ بیت ضائع ہو جائیں۔ واللہ میں معاویہؓ سے لڑتا تو میرے شِیعہ ہی مجھے گردن سے پکڑ کر مجھے ان کے حوالے کر دیتے۔ واللہ عزت کے ساتھ معاویہؓ سے صلح کرنا اس سے بہتر ہے کہ مجھے گرفتار کر کے قتل کریں۔ یہ احسان ان کا(معاویہؓ کا)بنی ہاشم پر قیامت تک رہے گا اور معاویہؓ برابر اس احساس کا اظہار ہمارے زندہ اور مردے پر کرتے رہیں گے مورخ طِبری نے الزہری کی روایت سے بتایا ہے کہ کوفی شِیعوں کے حملے سے حضرت حسنؓ کے دل میں ان لوگوں سے بغض و نفرت اور دہشت زیادہ ہو گئی تھی۔(جلد 2 صفحہ 93)۔ حضرت معاویہؓ سے صلح کرنی چاہی اور بچند شرائط انہیں سمع و اطاعت کا یقین دلایا۔ کہا گیا کہ حضرت حسین ؓنے اپنے بھائی سے یہ کہہ کر اختلاف کیا تھا۔ میں آپ کو واسطہ دیتا ہوں کہ آپ معاویہؓ کی با ت کی تصدیق اور علی ؓکی بات کی تکذیب نہ کریں اس پر حسنؓ نے ان سے کہا کہ تم چپ رہو میں اس باب میں تم سے زیادہ جانتا ہوں(طِبری جلد 2 صفحہ 94)
مصری مورخ طہٰ حسین نے تو اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: حسین ؓبن علی ؓنے اپنے بھائی کی رائے سے اتفاق نہیں کیا اور ان کے میلان صلح کو نہیں مانا۔ بلکہ اپنے بھائی کو میدان جنگ میں نکلنے پر زور دیا لیکن ان کے بھائی نے انہیں منع کیا اور ڈرایا دھمکایا کہ اگر تم نے میری اطاعت نہ کی تمھیں بیڑیاں پہنا دی جائیں گی۔(کتاب علی ؓو نبوہ صفحہ 203)
حضرت حسین ؓنے کاروائی صلح میں بجبر و اکراہ شرکت کی ہو یا بمصحلت تکمیل صلح پر تو تمام امّت نے باستثنائے جماعت سبایۂ و گروہ شاتم صحابہ اطمینان کا سانس لیا تھا۔ حضرت معاویہؓ کے بیعت و اطاعت میں لوگوں کے بخوش دلی داخل ہونے سے اس سال کا نام عام الجماعتہ رکھا گیا یعنی جماعت مسلمین کے اتحاد کا سال۔
 پھر سب لوگ(حضرت)معاویہؓ کی اطاعت میں داخل ہو گئے معاویہؓ کوفے آئے اور تمام لوگوں نے ان سے بیعت کر لی(طِبری جلد 2 صفحہ 92)
حضرت حسنؓ نے اس موقع پر عراقی کوفیوں لا یوفیوں کو مخاطب کر کے ان سے چھٹکارا پانے کو یوں بیان کیا تھا :
 اے اہلِ عراق ! تم لوگوں سے میں نے جو اپنی جان چھڑائی ہے اس کے یہ تین سبب ہیں(1)تم نے میرے والد کو قتل کیا(2)مجھ پر تم نے برچھی کا وار کیا(3)میرا مال تم نے لوٹ لیا۔(طِبری جلد 2 صفحہ 192)
 جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Advertisements
2 comments
  1. Asad Qureshi said:

    Well, i didn’t know that Ibne Saba was involved in all that disputes among Muslims in the time of Caliphate. Now it’s pretty clear that Jews never been straight and they always caused troubles and wars and they even killed Muslim leaders in the past and they are doing this now as well. Jazakallah for this topic will be waiting for the next episode.

  2. باجی تحریم،
    یہ محمود عباسی اور حکیم علی عباسی اہلسنت کے رافضی ہیں۔ اور انکی بیان کی ہوئی تاریخ نہایت مضحکہ خیز اور دروغ گوئی پر مبنی ہے۔
    یہ حضرات یزید کی ایسی مدح سرائی کرتے ہیں کہ پڑھتے ہوئے ہنسی آجاتی ہے۔ اچھا ہوتا کہ آپ ان حضرات کے حوالے سے مضمون نا لکھتیں۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: