قانونِ توہینِ رسالت ﷺ پر علمی اعتراضات کے جوابات -2

حضور ﷺ کا معاف کرنا:
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’الصارم المسلول‘ میں واضح کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی میں گستاخوں کو معاف بھی کیا اور معاف نہیں بھی کیا۔ حضورﷺ اپنے گستاخ کو معاف کر دیں تو یہ ان کا حق ہے جس کو چاہیں معاف کر دیں لیکن ان کی زندگی کے بعد امت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ حضور ﷺ کے گستاخ کو معاف کر دیں اس پر امت کا اجماع ہے ۔اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دیگر علماءیہاں تک لکھتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کا حق امتیوں نے معاف کرنا شروع کر دیا تو یہ امت تباہ ہو جائے گی،
لہٰذا امت کے اکابر علماءکا اجماع اسی بات پر ہے کہ حضور ﷺ کے گستاخ کو معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ، وہ ہر صورت قتل ہی کیا جائے گا۔حضور ﷺ کے علاوہ کسی کے گستاخ کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔سزا تو دی جائے گی۔ قید ہو یا کوڑے مگر قتل صرف حضورﷺ کے گستاخ کو کیا جائے گا، جیسا کہ ابو داد اور نسائی میں ہے، حضرت ابوہریرہبیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک شخص پر سخت غضب ناک ہوئے۔ مجھ پر بھی یہ گراں گزرا ،میں نے عرض کی اے خلیفہ رسول ﷺ ! مجھے اجازت دیجیے اس کی گردن اڑا دوں ؟ میرے اس جملے پر ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور وہاں سے چلے گئے پھر مجھے بلوایا اور پوچھا تم نے تھوڑی دیر پہلے کیا کہا تھا ۔میں نے عرض کی کہ اس کی گردن اڑانے کی اجازت مانگی تھی۔ فرمایا گر اجازت دیتا تو کیا تم گردن اڑا دیتے ؟ اس نے کہا جی ضرور! اس پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ! حضور محمد کریم ﷺ کے بعد یہ کسی انسان کا مقام نہیں (کہ اس کی توہین ہو اور وہ قتل کیا جائے)
ثابت ہوا حضور ﷺ کے گستاخ کے علاوہ کوئی قتل نہ کیا جائے گا اور حضور ﷺ کے گستاخ کو جس پر گستاخی ثابت ہو جائے اسے چھوڑا نہ جائے گا ۔نہ اس کی توبہ قبول ہو گی نہ اسے امت کا کوئی فرد چھوڑنے کا حق رکھے گا۔چنانچہ علما کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ:
٭ گستاخ رسول ﷺ کی سزا قرآن سے صراحتاً ثابت ہے اور وہ سزاقتل ہے۔
٭گستاخ غیر مسلم ہو، وہ مسلمان بھی ہو جائے تو سزا برقرار رہے گی اور وہ سزا قتل ہے۔
٭حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں گستاخ کو قتل بھی کروایا ہے اور معاف بھی کیا ہے۔ یہ
حضور ﷺ کا حق تھا ۔ان کے بعد امت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حضور ﷺ کے گستاخ کو معاف کرے، لہٰذا اسے ہر صورت میں قتل ہی ہونا پڑے گا۔
Advertisements
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: