قربانی کے جانور کی تقسیم

قربانی کے گوشت کی تقسیم کا حکم

فرمان الہیٰ ہے:   وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِی أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ  ( معلوم دنوں میں جو چوپائے ہم نے دئیے ہیں ان پر اللہ کا نام ذکر کریں اور خود بھی کھاؤ اور تنگ دست و سوالی کو بھی کھلاؤ۔(الحج:28)
مزید فرمایا: فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ خود بھی کھاؤ  اور مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کو بھی دو۔ (الحج:36)
سیدنا سلمہ بن اکوع  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثالثة وبقی فی بيته منه شيء   فلما كان العام المقبل ، قالوا :يا رسول الله ، نفعل كما فعلنا عام الماضی ؟ قال    كلوا وأطعموا وادخروا ، فإن ذلك العام كان بالناس جهد ، فأردت أن تعينوا فيها     جس نے تم میں سے قربانی کی ہے وہ تیسرے دن بعد اس حال میں صبح نہ کرے کہ اس کے گھر می قربانی کے گوشت سے کوئی چیز باقی ہو۔   آئندہ سال صحابہ نے کہا:  اے اللہ کے رسولﷺ! جس طرح ہم نے پچھلے سال کیا تھا، کیا اب بھی اسی طرح کریں؟؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم کھاؤ اور کھلاؤ اور ذخیرہ کرو،  اس سال لوگوں کو مشقت تھی تو میں نے چاہا کہ تم اس میں ان کی مدد کرو۔ (صحيح البخاری – كتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحی وما يتزود منها – حديث:5569)
مذکورہ بالا ادلہ سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت بندہ خود بھی کھائے ، دوست ، احباب کو تحفہ بھی دے اور صدقہ بھی کرے۔ یہ تینوں کا م کرے لیکن حصوں کی تحدید و تعین کتاب و سنت میں وارد نہیں ہوئی لہٰذا جو تناسب سمجھتا ہو، رکھے ، اللہ نے آزادی دی ہے۔
 قربانی کے گوشت کی تقسیم سے متعلق شریعت اسلامیہ کا حکم یہ ہے کہ اس کے تین حصے کئے جائیں:
1-ایک حصہ غرباء میں تقسیم کیا جائے ۔2-ایک حصہ رشتہ داروں میں تقسیم کیا جائے۔3-ایک حصہ خود استعمال کریں۔(فتاوی عالمگیری )
حدیث مبارک ہے: عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺمَنْ ضَحَّی مِنْکُمْ فَلاَ یُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَۃٍ وَفِی بَیْتِہِ مِنْہُ شَیْء ٌ ۔ فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ نَفْعَلُ کَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِی قَالَ کُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِکَ الْعَامَ کَانَ بِالنَّاسِ جَہْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِینُوا فِیہَا:سیدنا سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایاکہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن اس کے گھر میں قربانی کا کچھ حصہ بھی بچا نہ رہے،جب دوسرے سال قربانی کا مرحلہ آیا تو حضرات صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ !کیاہم اس سال بھی قربانی کا گوشت
گذشتہ سال کی طرح استعمال کریں ؟حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:قربانی کاگوشت تم کھاؤ،دوسروں کو کھلاؤاور ذخیرہ کرلو!کیونکہ گذشتہ سال لوگ مشقت میں تھے اسی لئے میں نے ارادہ کیا کہ تم ایّام قربانی میں ان کی مدد کرو (صحیح بخاری، 5569)
 قربانی کی کھال ،رسّی اور ہار کا حکم 
سیدنا علی  ؓفرماتےہیں کہ مجھے نبی کریمﷺ نے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور ان کا گوشت اور کھالیں سب تقسیم کردوں اور (قصاب کو) اس کی مزدوری اس( گوشت یا کھال) کی صور ت میں نہ دوں۔(بخاری، کتاب الحج، باب یتصدق بجلود الھدی ، 1717)
اس حدیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کھالیں صدقہ ہیں اور صدقہ کے مصارف اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں:  إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِی سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ صدقات
ایک حدیث میں کھال کے بارے میں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے:جس نے اپنی قربانی کی کھال بیچ ڈالی اس کی قربانی ہی نہيں ( صحیح الجامع 6118 )
یقیناً صرف اور صرف فقراء ، مساکین (صدقہ کے) عاملین اور تالیف قلب اور گردنوں کو آزاد کروانے اور غارمین (جن کو چٹی پڑ جائے) اور فی سبیل اللہ (جہاد) اور مسافروں کےلیے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ تعالیٰ خوب  جاننے والا، حکمت والا ہے۔{التوبۃ:60}
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صدقات کے آٹھ مصارف بیان کیے ہیں لہٰذا قربانی کی کھالیں بھی ان آٹھ مصارف پر ہی خرچ کی جائیں۔
قربانی کا چمڑا، اس کی جھول، رسّی اور گلے میں ڈالے گئے ہار کو صدقہ کر دینا چاہیئے ۔قربانی کی کھال کو یا گوشت یا اس کی کوئی بھی چیز قصائی کو بطور اجرت نہیں دے سکتےقربانی کی کھال کسی کو خیرات کے طور پر دے یا فروخت کرکے اس کی قیمت فقراء کو دے۔ البتہ اگر کسی دینی تعلیم کے مدرسہ اور جامعہ کو دے دے تو سب سے بہتر ہے کیونکہ علم دین کا احیاء سب سے بہتر ہے۔
ثابت ہوا کہ جو حکم گوشت کا ہے وہی حکم کھال کا ہے۔  لیکن ہاں بغیر حیلے کے قربانی کی کھال کو مساجد میں دینا جائز اور باعث اجر و ثواب ہوگا۔
قربانی کے جانور میں عقیقہ کا حصہ ملا نا
جی ہاں ! قربانی کے بڑے جانور میں جیسے اونٹ، گائے، بیل بچھیا اور بھینس میں عقیقے کا حصہ ملا لیا جائے تو قربانی اور عقیقہ دونوں درست ہوں گے۔
نوٹ : اسی طرح ولیمہ کے جانور میں بھی عقیقہ کا حصہ ملا لیا جائے تو ولیمہ اور عقیقہ ادا ہو جائیں گے۔
(آج ہم جن اسلامی رسم و رواج کو چھوڑ رہے ہیں ، ان میں ایک عقیقہ بھی ہے۔بچے کی پیدائش کے چھٹے دن جو چھٹی کی رسم ادا کی جاتی ہے اور رشتے داروں کو بلا کر گانے بجانے کی قبیح محفل برپا کی جاتی ہے ان کی ضیافت(مہمان نوازی)میں ہزاروں روپے صرف کیئے جاتے ہیں۔یہ سب غیر شرعی افعال ہیں۔اگر ان کے بجائے ساتویں دن عقیقہ کر دیا جائے تو نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ بھی ادا ہو جائے گی بلکہ مہمانوں کے کئے بھی کھانے کا بہترین انتظام بھی ہو جائے گا)
قربانی کا گوشت کافر کو دینا :
انسان کے لیے کافر پرقربانی کا گوشت ایک شرط کے ساتھ صدقہ کرنا جائز ہے کہ وہ کافر مسلمان کوقتل کرنےوالوں میں شامل نہ ہوتا ہو ، اوراگروہ کافر مسلمانوں کوقتل کرنے والوں میں شامل ہے تواسے کچھ بھی نہيں دیا جائے گا کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارہ میں لڑائی نہيں لڑی اورتمہیں جلاوطن نہیں کیا اس کے ساتھ اللہ تعالی تہمیں ان سے حسن سلوک اوراچھا برتاؤ اوران کے ساتھ انصاف کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اللہ تعالی توانصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔بلکہ اللہ تعالی توتمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سےروکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے لئے لڑائياں لڑی اورتمہیں تمہارے گھروں سے دیس نکالا دیا اورتمہیں دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی  جولوگ ایسے کفار سے محبت کریں وہ ہی ظالم ہیں الممتحنۃ ( 8 – 9 )
میت کی طرف سے قربانی
اصل تویہی ہے کہ قربانی کرنا زندہ لوگوں کے حق میں مشروع ہے جیسا کہ نبی ﷺاوران کے صحابہ کرام ؓ اپنی اوراپنے اہل وعیال کی جانب سے قربانی کیا کرتے تھے ، اورجوکچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ قربانی فوت شدگان کے ساتھ خاص ہے تواس کی کوئی اصل نہيں ۔کیونکہ میت کی  طرف سے قربانی کرنے کی کوئی خاص دلیل موجود نہیں۔
پھر بھی اگر فوت شدگان کی جانب سے قربانی کی جائے تو اس کی تین اقسام ہيں :
پہلی قسم:کہ زندہ کے تابع ہوتے ہوئے ان کی جانب سے قربانی کی جائے مثلا : کوئی شخص اپنی اوراپنے اہل وعیال کی جانب سے قربانی کرے اوراس میں وہ زندہ اورفوت شدگان کی نیت کرلے ( تویہ جائز ہے ) ۔
اس کی دلیل نبی ﷺکی قربانی ہے جوانہوں نے اپنی اوراپنے اہل وعیال کی جانب سے تھی اوران کے اہل وعیال میں کچھ پہلے فوت بھی ہوچکے تھے ۔
دوسری قسم:یہ کہ فوت شدگان کی جانب سے ان کی وصیت پرعمل کرتے ہوئے قربانی کرے ( اوریہ واجب ہے لیکن اگراس سےعاجز ہوتوپھر نہيں ) اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے:توجوکوئی بھی اسے سننے کے بعد تبدیل کرے تواس کا گناہ ان پر ہے جواسے تبدیل کرتے ہيں یقینا اللہ تعالی سننے والا جاننے والا ہے
تیسری قسم: زندہ لوگوں سے علیحدہ اورمستقل طور پرفوت شدگان کی جانب سے قربانی کی جائے ( وہ اس طرح کہ والد کی جانب سے علیحدہ اوروالدہ کی جانب سے علیحدہ اورمستقل قربانی کرے ) تویہ جائز ہے ، فقھاء حنابلہ نے اس کوبیان کیا ہے کہ اس کا ثواب میت کوپہنچے گا اوراسے اس سے فائدہ ونفع ہوگا ، اس میں انہوں نے صدقہ پرقیاس کیا ہے ۔لیکن نبی مکرم ﷺنے اپنے فوت شدگان میں سےبالخصوص کسی ایک کی جانب سے بھی کوئی قربانی نہیں کی ، نہ توانہوں نے اپنے چچا حمزہ ؓ کی جانب سے حالانکہ وہ ان کے سب سے زيادہ عزيزاقرباء میں سے تھے ۔
اوراسی طرح نبی ﷺنے اپنی زندگی میں فوت ہونے والی اپنی اولاد جن میں تین شادی شدہ بیٹیاں ، اورتین چھوٹے بیٹے شامل ہیں کی جانب سے قربانی کی ، اورنہ ہی اپنی سب سے عزيز بیوی خدیجہ ؓ کی جانب سے حالانکہ وہ آپ ﷺکو سب سےپیاری تھیں ۔اوراسی طرح نبی ﷺکے عہد مبارک میں کسی بھی صحابی سے بھی یہ عمل نہيں ملّتا کہ انہوں نے اپنے کسی فوت شدہ کی جانب سے قربانی کی ہو ۔
ابو رافع  کی روایت کہ:   ضحى رسول الله ﷺبكبشين أملحين موجيين خصيين ، فقال :   أحدهما عمن شهد بالتوحيد ، وله بالبلاغ ، والآخر عنه وعن أهل بيته   رسول اللہ ﷺ نےدوموٹے تازے خصی مینڈھوں کی قربانی کی ایک اپنی امّت کے ان لوگوں کی طرف سے جنھوں نے اللہ توحید اور آپﷺ کے لیے پیغام پہنچانے کی گواہی دی اور دوسرا اپنی اور اپنی آل کی طرف سے۔ (مسند احمد (26649)، 391/6، 392 (23348)، مجمع الزوائد22,21/4،  سنن البیہقی268,259/9،
معجم الکبیر للطبرانی 311/1 (920)، 312/1 (921)، شعب الایمان474/5، المجروحین4/2باب العین(522)، مسند البزار319/9)
اس  روایت کی تمام ترا سانید عبداللہ بن محمد بن عقیل پر جمع ہوجاتی ہیں جو کہ لین الحدیث ہے اس کے علاوہ مسند احمد والی ایک سند میں زہیر بن محمد سوء الحفظ  ہے اور ایک سند میں شریک بن عبداللہ بن ابی شریک کثرت خطا اور سوء حفظ کا شکار ہے۔ لہٰذا یہ روایت قابل احتجاج نہیں ہے۔
اسی طرح کی ایک اور روایت حذیفہ بن اسید  سے مروی ہے جسے حاکم نے مستدرک 686/3 (6521)میں اور علامہ ہیثمی مجمع الزوائد 23/4میں ذکر کیاہے ۔ اس کی سند میں یحییٰ بن نصر بن حاجب نامی راوی ضعیف ہے۔
حضرت علی  کے بارہ میں روایت  ہے کہ :   أنه كان يضحی بكبشين أحدهما عن النبی ﷺ، والآخر عن نفسه ، فقيل له : فقال :     أمرنی به     – يعنی النبی ﷺ- فلا أدعه أبدا  وہ دو مینڈھے ذبح کیا کرتے تھے ، ایک نبیﷺ کی طرف سے اوردوسرا اپنی طرف سے ، جب ان سے پوچھا گیا تو کہنے لگےکہ: مجھے اس کا حکم نبیﷺ نے دیا تھا لہٰذا میں یہ کام کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ (جامع الترمذی  ، أبواب الأضاحی ،باب ما جاء فی الأضحية عن الميت، حديث:1495، سنن أبی داؤد ، کتاب الضحایا، باب الأضحیۃ عن المیت، حدیث: 279)
اس کی سند میں شریک بن عبداللہ بن شریک کثیر الخطاء ہونے کی وجہ سے ضعیف اور اس کا شیخ ابوالحسناء حسن کوفی مجہول ہے ۔ لہٰذا یہ روایت بھی قابل احتجاج نہیں ہے۔
حضرت علیؓ ہمیشہ دو دنبوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: اِنَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ اَوْصَانِی اَنْ اُضَحِّی عَں هُ َاَنَا اُضَحِّی عَنْهُ کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت کی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں سو اس کی تعمیل میں قربانی کرتا ہوں ۔ (ترمذی، ابو داؤد)
چونکہ اس حدیث میں بعض راویوں پر جرح ہے، اس لئے بعض ائمہ نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن مبارکؒ کا قول امام ترمذیؒ نے نقل کیا ہے کہ ان کے نزدیک قربانی تو میت کی طرف سے جائز نہیں لیکن صدقہ جائز ہے اور اگر قربانی کرے بھی تو خود اس میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارے کا سارا صدقہ کر دے لیکن کسی حدیث سے ایسا ثابت نہیں ۔
ترمذی  کی حدیث میں اگرچہ ایک راوی پر جرح ہے۔ لیکن یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ ایک قربانی تمام امّت کی طرف سے دیتے جیسے کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ، تو امّت میں زندہ اور مردہ سب شامل ہیں جو آپ کے سامنے فوت ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہیں اور یہ حدیث مسلم، دارمی، ابو داؤد، ابن ماجہ، احمد اور حاکم وغیرہم سب نے روایت کی ہے اور متعدد صحابہ سے مروی ہے لیکن یہ کسی روایت سے ثابت نہیں ہوتا کہ جو قربانی آپ امّت کی طرف سے دیتے وہ ساری کی ساری صدقہ کر دیتے تھے اور اس میں سے آپ یا آپ کے گھر والے کچھ نہیں کھاتے تھے۔ بلکہ مسندِ امام احمدؒ کے الفاظ تو بہت زیادہ واضح ہیں ، اس میں تو یہ ہے: فَيُطْعِمُ مِنْھُمَا جَمِيْعًا الْمَسَاكِيْنَ وَيَاْكُلُ ھُوَ وَاَھْلَه مِنْھَا کہ آپ دونوں قربانیوں میں سے مساکین کو بھی کھلاتے اور آپ اور آپ کے گھر والے سب ان دونوں میں سے کھاتے(عن ابی رافع) 
اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ میت کی طرف سے قربانی دی جا سکتی ہے اور اس میں سے کچھ صدقہ کرنا اور کچھ کھا لینا جائز ہے۔
اکر میت کی طرف سے وصیت تھی تو اب قربانی کا تمام گوشت صدقہ کرنا واجب ہے۔اگر وصیت نہ تھی اور محض ایصالِ ثواب کے لئے ان کی طرف سے کی تو گوشت غنی اور فقیر سب کھا سکتے ہیں۔(ردِالمختار)
Advertisements
1 comment
  1. You have become "Faqeeha and I am looking for a place to hide being a "Do Jamaat Pass”. I think a person can keep all the meat for himself but it is better to follow one-third formula. What about such persons:
    1. Who do not give Qurbani bein "Sahib-i-Nisaab”
    2. Pay money for all the Qurbani to some welfare organisation to give Qurbani on his behalf

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: