جانورذبح کرنے کا طریقہ

اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا:
مرد ہو یا کہ عورت بہتر یہ ہے کہ اپنی قربانی یعنی ذبح خود اپنے ہاتھ سے کرے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ میں عام طور پر اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور خود ذبح کرتے اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ نے ۶۳ اونٹ خود ذبح کئے اور ۳۷ اونٹ حضرت علیؓ نے ذبح کیے کیونکہ آپ نے ۱۰۰ اونٹ کی قربانی دی تھی،
تو معلوم ہوا کہ قربانی دینے والوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہئے اور یہی افضل ہے اور کسی کی طرف سے وکالتاً ذبح کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ حضرت علیؓ نے کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی عورتوں کی طرف سے گائے کی قربانی جمعۃ الوداع کے موقعہ پر دی تھی۔ اگر کوئی شخص خود اپنے ہاتھ سے ذبح نہیں کر سکتا تو اسے اس وقت حاضر رہنا چاہئے اور یہ مستحب ہے جیسا کہ فتح الباری میں حافظ صاحبؒ نے لکھا ہے اس میں حضرت عائشہ سے بھی ایک روایت ہے کہ آپ اپنی بیویوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ اپنی قربانی کے جانوروں کے ذبح کے وقت حاضر رہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ہاں ! ابو موسیٰ اشعریؒ سے امام بخاریؒ نے تعلیقاً ذِکر کیا ہے
: اَمَنَ اَبُوْ مُوْسٰی بَنَاتِه اَنْ يُضَحِّيْنَ بِاَيْدِيْھِنَّ (ابو موسیٰ نے اپنی لڑکیوں کو حکم دیا کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کریں )
سیدنا کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ: أن امرأة ذبحت شاة بحجر ، فسئل النبی ﷺعن ذلك فأمر بأكلهاایک عورت نے ایک بکری(تیز دھار) پتھر کے ساتھ ذبح کردی تو اس کے بارہ میں نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺنے اس کے کھانے کا حکم دیا۔(صحيح البخاری – كتاب الذبائح والصيد، باب ذبيحة المرأة والأمة – حديث:‏5504)
مسندِ حاکم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہؓ کو بھی حکم دیا تھا: قُوْمِی يَا فَاطِمَةُ اِلٰی اُضْحِيَّكِ فَاشْھَدِيْھَا اےفاطمۃؓ! اپنی قربانی کی طرف جا کر کھڑی ہو جا اور اس کے پاس حاضر رہو۔
ذیلعی نے تخریجِ ہدایہ میں اس روایت کو تین مسندوں سے ذکر کیا ہے۔ مسندِ بزاز کی حدیث کو سب پر ترجیح دی ہے۔ بہرحال ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہتر تو یہ ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے اور اگر دوسرے سے ذبح کرائے تو بہتر اور افضل ہے کہ خود پاس کھڑا ہو۔ ابو موسیٰ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بھی ذبح کر سکتی ہیں اور کوئی نص شرعی اس کے خلاف نہیں ۔
اگر قربانی کا جانور خریدنے یا متعین کر لینے کے بعد بچہ جنے تو اس کو بھی ذبح کرنا ہو گا۔
تلخیص میں حضرت علیؓ کا ایک واقعہ ذِکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کی اونٹنی اور اس کا ایک بچہ لیے جا رہا ہے تو آپ نے فرمایا: لَا تَشْرَبْ مِنْ لَّبَنِھَا اِلَّا مَا فَضَل عَنْ وَّلَدِھَا اس کا دودھ صرف اتنا ہی پی سکتے ہو جس قدر اس بچہ سے بچ جائے۔
اور مسند ابن ابی حاتم ميں یہ لفظ بھی ہیں ، فَاِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحَرِ فَانْحَرْھَا ھِی وَوَلَدَھَا عَنْ سَبْعَةٍ (قربانی کے دن اس کو اور اس کے بچہ کو سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرو۔ مگر ذبح کرنے کے بعد مردہ بچہ بر امد ہو، تب تو سوائے امام ابو حنیفہ کے اکثر صحابہ، تابعین اور ائمہ دین کے نزدیک بغیر ذبح کیے ہوئے حلال اور جائز ہے۔ کیونکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ صحابہ نے آپ سے دریافت کیا کہ ہم بعض دفعہ گائے، اونٹنی یا بکری ذبح کرتے ہیں تو اس کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے کیا ہم اسے کھا لیا کریں یا پھینک دیں ؟ آپ نے فرمایا: كُلُوْهُ اِنْ شِئْتُمْ فَاِنَّ ذَكَاتَه ذَكَاةُ اُمِّه اگر جی چاہے تو بیشک کھاؤ، اس کی ماں کا ذبح کر لینا اس کے لئے بھی کافی ہے۔
ذیلعی نے تخریجِ ہدایہ جلد ۲ ص ۲۶۵ میں آٹھ دس کے قریب اسی مضمون کی حدیثیں نقل کی ہیں اور ان میں سے اگرچہ بعض پر جرح کی ہے، لیکن بعض صحیح بھی ہیں اور انہوں نے بھی اس مشکل کو محسوس کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ کا قول اس مسئلہ میں صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ اس لئے تمام احادیث کے آخر میں ابن المنذر کا قول نقل کر دیا ہے۔ کسی صحابی نہ کسی تابعی نہ کسی عالم کا یہ قول ہے کہ ذبح کے بعد پیٹ سے نکلا ہوا بچہ ذبح کیا جائے، سوائے ابو حنیفہؒ کے اور مجھے اُمید نہیں کہ ان کے شاگردوں نے ان سے اتفاق کیا ہو۔

جانورذبح کرنے کا طریقہ:
ذبح کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانورکو بائیں پہلو لٹاکر اس کا منہ قبلہ رخ کر کے بسم اللہ اکبر کہتے ہوئے اس کے گلے پر چھری اس طرح پھیری جائے کہ اس کی شہہ رگ، نرخرہ اورسانس کی نالی
کٹ جائے اس کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جائے ،اس سے زیادہ اضافی تکلیف دینا مثلاً گدی تک چھری پھیرنایا دل پرچھری مارنا یہ سب امور خلاف سنت ہیں اگرچہ جانورحلال ہو جائے گا لیکن اس طرح کرنا مکروہ ہے یعنی اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ جانور کو تکلیف کم سے کم ہو۔
ایک حدیث میں منقول ہے کہ :نبی کریم ﷺنے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ ، اللہ اکبر پڑھا ۔
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ:حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے قربانی کے لئے بکرا منگوایا اور مجھے فرمایا عائشہ چھری لے آؤ، حضور ﷺ نے چھری کو دیکھا تو فرمایا کہ اسے پتھر پر رگڑ کر تیز کرو، حضرت عائشہ ؓ نے پتھر پر چھری کو رگڑ کر تیز کیا۔(صحيح مسلم، جلد 3، باب استحباب الضحيه و ذبحها، رقم : 1967)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ :جب میں نے چھری تیز کردی تو حضور ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے جانور کو زمین پر گرا لیا اور اس کے پہلو پر اپنا قدم مبارک رکھا۔ (ایضاً)
جانور ذبح کرتے وقت کی دُعا:
آنحضرت ﷺنے قربانی کرتے ہوئے یہ دو آیتیں پڑھیں:
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ
اور
قُلْ اِنَّ صَلَااتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ ِللهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنا اوّل الْمُسْلِمِیْنَ
اور پھر یہ دُعا پڑھی:اللّٰھم منک ولک عن محمد  وأمّتہ
اور پھر بسم الله، الله اکبرکہہ کر ذبح فرمایا۔ (مجمع الزوائد ج:4 ص:21 میں اور بھی متعدّد احادیث ذکر کی ہیں)ذبح کے بعد بسم الله، الله اکبرایسے کہیں کہ بسم الله اور الله اکبرکے درمیان واؤ نہ آئے۔
جانور ذبح کرنے کے بعد کی دُعا:
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّد وَخَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھمَا السَّلَامُ
اے اللہ! اس قربانی کو مجھ سے قبول فرما، جیسے کہ آپ نے قبول کیا اپنے حبیب حضرت محمد ﷺسے اور اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰة والسلام سے۔
اگر قربانی کسی دوسرے کی جانب سے یا شرکت میں قربانی ہو رہی ہے تو لفظ مِنِّیْ کے بجائے مِنْ کہےاس کے بعد اس شخص یا بالترتیب تمام شرکاء کا نام لئے جائیں گے جن کی جانب سے قربانی کی ہے ۔
اگر کسی دوسرے نے جانور ذبح کیا لیکن بوقتِ ذبح خود اپنا ہاتھ چھر ی پر رکھ دیا کہ دونوں نے مل کر ذبح کیا تو دونوں پر بسم الله، الله اکبرکہنا واجب ہے(درِمختار)
اگر کسی ایک نے بھی جان بوجھ کر چھوڑ دی تو جانور حلال نہ ہو گا۔اتنی آواز سے بسم الله، الله اکبرکہنا ضروری ہے کہ خود کے کان سن لیں ، ورنہ جانورحلال نہ ہو گا۔لہٰذا خود بھی تیز آواز یں  پڑھیں اور قصائی کو بھی تیز آواز میں پڑھنے کی تلقین کریں۔
ذبح میں چار رگوں کا کٹنا کافی ہے۔اگر چار میں سے اکثر کٹ گئیں تو تب بھی جانور حلال ہو گا، لیکن اگر تین سے کم یا آدھی کٹیں اور آدھی نہ کٹیں تو جانور اب حلال نہ ہوگا۔
قربانی کے بعد کی دُعا کا ثبوت:

حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ:آنحضرت ﷺنے ایک سیاہ رنگ کا سینگوں والا مینڈھا ذبح فرمایا، پھر یہ دُعا فرمائی:

بسم الله اللّٰھم تقبل من محمد واٰل محمد ومن أمّة محمد باری تعالٰی تیرے نام پر میں نے قربانی ادا کی اسے اپنی بارگاہ میں محمد ﷺ کی طرف سے، آل محمد ﷺکی طرف سے اور پوری امّت محمدی ﷺکی طرف سے قبول فرما۔ (مشکوٰة شریف :باب فی الأضحیة،ص:127)

رات کے وقت ذبح کرنا:
بعض اہل علم نے قرآن کے لفظ ’’فی ایام معلومات‘‘ (معلوم و معین دنوں میں ) سے یہ استدلال کیا ہے کہ رات کے وقت قربانی کرنا جائز نہیں لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآنِ حکیم نے ’’ایام‘‘ کا لفظ دن اور رات دونوں کے لئے آیا ہے جیسا کہ فرمایا:
فَتَمَتَّعُوْا فِی دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اس لئے سوائے امام مالکؒ کے اور اکثر ائمہ دین کے نزدیک رات کے وقت قربانی کرنا جائز ہے۔ ابن عباسؓ کی ایک روایت طبرانی میں ہے کہ رات کے وقت آپﷺ نے ذبح کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص میں بیہقی کی ایک روایت نقل کی ہے کہ:
نَھٰی عَنْ جُذَاذِ اللَّيْلِ وَحَصَادِ اللَّيْلِ وَالْاَضْحٰی بِاللَّيْلِ رات کے وقت کھیت کاٹنے اور کھجور کا درخت کاٹنے اور قربانی کرنے سے منع فرمایا۔
لیکن اس کا کچھ حال معلوم نہیں اور اگر صحیح بھی ہو تو حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہی تحریمی نہیں کیونکہ رات کے وقت کھیت کاٹنے سے اس لئے اغلباً منع کیا ہے
کہ کہیں موذی جانور ایذا نہ دے اور کھجور رات کے وقت کاٹنے سے مساکین اور فقراء کے محروم رہ جانے کا خطرہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اسباب محرمات نہیں ہو سکتے۔ زیادہ سے
زیادہ نہی تنزیہی ہو گی۔
چنانچہ ثابت ہوا کہ قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے اگرچہ رات کو بھی ذبح کرسکتے ہیں ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: