قربانی کی مشروعیّت اور منکرینِ سُنّت کا موقف-4

موجودہ دور میں حجاج کی قربانی:
پرویزؔ صاحب نے فقرہ نمبر ۲ میں جس طرح عام دنیائے اسلام کی قربانیوں کو رسم کہا۔ اسی طرح موجودہ دور میں مکہ مکرمہ میں حجاج کی قربانی کو بھی ’’محض ایک رسم کی  تکمیل‘‘ قرار دیا ہے۔ اس سے ان کا منشاء غالباً یہ ہے کہ مراسمِ حج میں قربانی مقصود  بالذات نہ تھی اور نہ ہی براہِ راست تقربِ الٰہی کا وسیلہ، بلکہ اس سے اصل غرض بین
الاقوامی ہی تھی چونکہ آج کل اس ضیافت کا اہتمام نہیں ہو رہا۔ اس لئے مکہ مکرمہ میں حجاج کی قربانی بھی غیر ضروری اور محض ایک رسم کی تکمیل ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ
کل کو یہی صاحب یہ کہیں گے کہ حج کا اصل مقصد نمائندگانِ ملت کا بین الاقوامی اجتماع اور پوری امتِ مسلمہ کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنا تھا جو اس دور میں نہیں ہو
رہا۔ لہٰذا آج کا حج بے مقصد اور محض ایک رسم کی تکمیل ہے۔ 
بہرحال ہم گذشتہ پیرا گراف میں ان کی بنیاد یعنی بین الاقوامی ضیافت کے نظریہ کو ان کے مسلمات کی روشنی میں غلط ثابت کر آئے ہیں۔ لہٰذا اس فقرہ پر مزید بحث کی ضرورت نہیں اور اگر اس سے ان کی مراد صرف یہ ہے کہ آج ہمارے اعمال میں اخلاص کا جوہر کم ہو گیا ہے تو ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں لیکن عدمِ اخلاص یا قلتِ اخلاص کے سبب احکامِ قطعیہ اور اعمال ثابتہ کا انکارِ عقلِ سلیم اور نقل صحیح کے خلاف ہے۔
پرویز کا اپنا اعتراف:
مندرجہ بالا تصریحات کے برعکس پرویزؔ صاحب نے فقرہ نمبر ۴ میں جو کہا ہے اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ غیر حاجی بھی قربانی کر سکتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ جب حج کے لئے مکہ نہ جا سکے تو بھی آپ نے قربانی بھیجی ہے۔ پرویز صاحبؔ کے اس اعتراف کے بعد ہمارا اور ان کا اختلاف کافی گھٹ گیا ہے۔ پہلے تو وہ قربانی کی اجازت صرف حجاج کو دیتے تھے لیکن اس بیان میں انہوں نے قربانی کو حجاج کی بجائے مکہ مکرمہ سے مخصوص کر دیا ہے۔ ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر ہم آج رسول کے اتباع میں قربانی کے جانور کعبۃ اللہ
بھیج دیں تو آپ ناراض تو نہ ہوں گے؟ اور اگر آپ خود بھی ایسا کر سکیں تو ہم آپ کو منکرِ قربانی کہنا چھوڑ دیں گے۔ خدا کرے کہ آپ اس بیان پر قائم رہیں۔
اب ہمارا اور ان کا جھگڑا صرف اتنا ہے کہ جو مسلمان کسی شرعی عذر کے سبب حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جا سکے وہ اپنے وطن میں قربانی کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں ہم ان سے وضاحت چاہتے ہیں کہ ان کے اس فقرہ میں تاریخ سے کیا مراد ہے؟ اگر کتب حدیث اس میں شامل ہیں تو پھر ان میں آنحضرت ﷺ کا مدینہ منورہ میں قربانی کرنا اور صحابہ کرامؓ کو اس کے لئے حکم دینا پوری تفصیل سے موجود ہے۔ بلکہ قربانی کے ایام، قربانی کے جانور، قربانی کا ثواب، قربانی کے گوشت کے مصارف اور دوسری ہدایات کا ایک دفتر موجود ہے اور ان تمام امور کا تذکرہ بھی ہے جن کا مذاق آپ نے فقرہ نمبر 6 میں اُڑایا ہے۔ پھر اس تاریخ کے ایک حصہ سے استدلال اور دوسرے حصہ کا بلا وجہ استرداد ہماری سمجھ سے بالا ہے۔
اور اگر ان کے فقرہ میں تاریخ سے مراد کچھ اور ہے تو اس کی تعیین فرمائیں۔ ہم ان شاء اللہ وہیں سے ثابت کر دیں گے کہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں اور صحابہ کرامؓ نے اپنے اپنے وطن میں عید الاضحیٰ پر قربانی دی ہے۔ البتہ اس صورت میں ہم پرویزؔ صاحب سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ اگر حدیث قالِ اعتبار نہیں ہے تو تاریخ میں کیا اضافہ ہے کہ اسے مستند مانا جائے؟ ہاں یہ بھی بتائیے کہ تاریخ نبوی کے ماخذ کیا ہیں؟ اس کے ساتھ آپ کو یہ بھی بتانا ہو ا کہ نبی اکرم ﷺ کے اس فعل کی بنیاد کیا ہے؟ اور حضور ﷺ نے قرآن مجید کے کس کم کی تعمیل میں قربانی کے جانور مکہ شریف بھیجے؟ اور کیا آپ کے زمانہ میں بین الاقوامی ضیافت کا اہتمام ہوا تھا؟
حاصل کلام:
ہم نے پرویزؔ صاحب اور ان کے ’’دلائل‘‘پر مناسب حد تک تنقید کر دی ہے جس سے ان کے معتقدات کی خامی اور ان کے استدلال کی کمزوری بلکہ ان کے اندازِ فکر کی کجی بخوبی ظاہر ہے اور یہ امر بخوی روش ہے کہ وہ اپنا مدعا ثابت نہیں کر سکے بلکہ اپنے مزعومہ دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کے غلط ترجمہ اور غلط تشریحات کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے کتنی باتیں ایسی کہی ہیں جن کا ثبوت انہوں نے نہیں دیا اور نہ ہی قیامت تک دے سکیں گے (وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا) اور جب تک وہ ان امور کا اثبات نہ کر سکیں ان کے لئے زیبا نہیں کہ پوری امت کے مدِ مقابل بنیں اور ڈیڑھ ہزار سال کے عملی تواتر کو ملوکیت او پیشوائیت کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ اور پورے اسلامی نظام کو محرّف قرار دیں۔
بحث کے دوسرے پہلو:
ہم نے اس بحث کے چند پہلو عمداً نظر انداز کر دیئے ہیں اور اس کا سبب خوفِ طوالت کے علاوہ یہ خیال بھی ہے کہ ان پہلوؤں پر دوسرے اہل قلم روشنی ڈالیں گے۔ ہم نے پرویزی دلائل پر تنقید کو اس لئے ترجیح دی ہے کہ اکثر معاصرین بحث کے اس انداز کو نظر انداز کر جاتے ہیں اور اکثر مقالہ نگار اپنے خیالات کو مثبت انداز میں کہنے کے عادی ہیں۔ مخالف فریق کے دلائل کو اس کے مسلمات کی رُو سے ردّ کرنا اگرچہ مشکل نہیں لیکن ہمارے احباب اس طرف کم سے کم توجہ دیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اس انداز کو ضروری سمجھا۔ 
اقتصادی نقطہ نگاہ:
منکرینِ سنت اور کچھ اباحت پسند حلقے قربانی کو معاشی اور اقتصادی حیثیت سے بھی نقصان دہ خیال کرتے ہیں اور بعض حضرات جانوروں کی قلت کا رونا بھی روتے ہیں۔ ان کے اس اعتراض کو صحیح باور کرنے کا لازمی  نتیجہ یہ ہے کہ ہم اس امر کا اعتراف کریں کہ اسلام کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ وہ دینِ کامل ہے بلکہ یہ ہماری معاشیات کے لئے مضر اور  اقتصادیات کے لئے تباہ کن ہے۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم ماہرِ اقتصادیات نہیں لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اقتصادی استحکام کے لئے یہ امر بے حد ضروری ہے کہ امراء کی دولت غرباء کو منتقل ہوتی رہے۔ اگر یہ اصول ٹھیک ہے تو پھر ملک میں لاکھوں افراد کا ذریعہ معاش یہی ہے کہ وہ ریوڑ پالیں اور عید الاضحیٰ کے موقعہ پر ان کو مہنگے داموں فروخت کریں۔ پھر لاکھوں قصاب ہیں جو ان ایام میں ذبح کرنے کی معقول اجرت پاتے ہیں۔ پھر لاکھوں غریب خاندان ہیں جو کم از کم تین دن عمدہ غذا سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور چرمہائے قربانی سے بیسیوں ضرورتیں پوری کرتے ہیں پھر ہزاروں یتیم خانے اور رفاہی ادارے ہیں جن کا سالانہ بجٹ قربانی کی کھالوں سے مستحکم ہوتا ہے۔ پھر ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کا ذریعہ معاش چمڑے کی رنگائی ہے۔
ذرا ان سے پوچھئے کہ ان کی معاش میں قربانی کی کتنی اہمیت ہے اور ان کی اقتصادی پوزیشن کے استحکام میں قربانی کو کتنا دخل ہے۔ پھر کتنے افراد وہ ہیں جو ہڈی وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ پھر ذرا اپنی حکومت کے شعبۂ تجارت سے معلوم فرمائیے کہ قربانی کی کھالوں، ہڈیوں اور اون وغیرہ سے کس قدر زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ پھر اندرونِ ملک کتنی مصنوعات ہیں جن کا انحصار چمڑے، ہڈی، سینگ اور انتڑیوں پر ہے۔ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس نے ان تمام فوائد کو لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌ کے جملہ میں سمیٹ لیا ہے۔ 
قلّت کا بہانہ:
اِس مقام پر جانوروں کی قلت کا بہانہ بھی غیر مناسب ہے۔ حکومت اگر مویشیوں کی قلت دور کرنا چاہتی ہے تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ افزائشِ نسل کی کوشش کی جائے۔ مویشی فارم کھولے جائیں۔ مویشی پالنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ چراگاہیں عام ہوں اور سبزیوں کو ترقی دے کر ذبیحہ پر مناسب پابندی عائد کی جائے۔ پھر بھی قلت دور نہ ہو تو بقولِ محترم مودودی صاحب: ’’ہفتہ میں پورے سات دن گوشت کا ناغہ ہونے لگے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو مستقل طور پر ختم کر دیا جائے۔‘‘ 
کیونکہ قربانی قرآنی الفاظ میں شعائر اللہ میں داخل ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ شعائر اللہ کے احترام میں ہر ممکن قربانی کریں۔

یہ بھی یاد رہے

ایامِ قربانی میں ذبح ہونے والے جانوروں کے مبالغہ آمیز اعداد و شمار دیئے ہوئے یہ بات بھی یاد رہنی چاہئے کہ قربانی کے تین چار دن عام مذبح خانے یکسر بند رہتے ہیں اور عید سے کئی دن قبل اور بعد بھی ذبیحہ کی رفتار خاصی کم رہتی ہے کیا اچھا ہو کہ اعداد و شمار ترتیب دیتے ہوئے اس بحث کو میزان سے منہا کر لیا جائے۔ امید ہے کہ جمع و تفریق کا یہ عمل کسی نہ کسی درجہ میں ان خطرات کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہو گا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: