قربانی کا بیچنا اور تبادلہ کرنا:

قربانی کے لئے کسی جانور کو معین کرنے کے بعد اس کا فروخت کرنا یا ہبہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ نے گوشت بنانے والے قصاب کو قربانی کا گوشت اجرت میں دینا منع فرمایا۔ تو جب قربانی کا گوشت اجرت میں دینا منع ہے و اس کا فروخت کرنا بطریق اولیٰ منع ہو گا۔ اور مسند امام احمد میں ہے کہ عبد اللہ بن عمرؓ نے ایک نہایت عمدہ جانور بھیڑ بکری کی قسم سے مکہ مکرمہ قربانی کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا، اس کے بدلے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا:
فَقَالَ اِنِّی اَھْدَيْتُ نَجِيْبًا فَاَبِيْعُھَا وَاَشْتَرِی بِثَمَنِھَا بَدَنَةً قَالَ لَا انْحَرْھَا کہ میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے اونٹ خرید لوں ؟آپ نے فرمایا نہیں ، اسی کو ذبح کرو۔
تو معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ایک دفعہ معین کر لینے کے بعد فروخت کرنا جائز نہیں ، اگرچہ اس فروخت کرنے سے اس کا مقصد اس سے بہتر جنس خرید کر قربانی کرنا ہی ہو کیونکہ جس جانور کو ایک دفعہ اللہ کے نام پر خرید لیا یا اللہ کے نام پر ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہو۔ پھر اس نامزدگی سے اس کو محروم کرنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا۔
اس کی تائید میں حضرت عائشہؓ کی حدیث پیش کی جا سکتی ہے :
فَبَعَثَ ابْنُ الزُّبَيْرِ اِلَيْھَا بِھَدْيَيْنِ فنحرتھما ثُمَّ عَادَ الضَّالَّانِ فَنَحَرَتْھُمَا وَقَالَتْ ھٰذِه سُنّةُ الْھَدْی ابن الزبیر نے دو اور جانور قربانی کے لئے بھیج دیئے۔ حضرت عائشہ نے ان کو ذبح کر لیا تو گم شده مل گئے پھر انهوں نے وه بھی ذبح كر ديئے اور فرمایا کہ یہی سنت قربانی کی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ جب جانور كو قربانی كے لئے ایک دفعہ متعین کر دیا جائے تو کسی حالت میں بھی نیت زائل نہیں ہو سکتی تو پھر اس کی بیع کیونکر جائز ہو سکتی ہے۔ اسی بنا پر قربانی کے لئے متعین شدہ جانوروں کا تبادلہ بھی جائز نہیں جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں :
وَمَنْ عَيَّنَ اُفْحِيَّةً فَلَا يَسْتَبْدِلْ بِھَا جس نے اپنی قربانی کا جانور معین کر لیا پھر اس سے کسی کا تبادلہ نہ کرے۔
یہ روایت اگرچہ ان الفاظ میں بسند صحیح ثابت نہیں لیکن حافظ صاحب تلخیص میں فرماتے ہیں کہ اسی مضمون کی دوسری صحیح روایت ثابت ہے کہ حضرت علیؓ سے قربانی کے جانوروں کے تبادلے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
اَوَ عَيَّنْتُمُوْھَا لِلْاُضْحِيَّةِ فَقَالَ لَعَمْ فَكَرِھَه کیا تم نے اس جانور کو قربانی کے لئے متعین کر دیا ہے سائل نے کہا جی ہاں ۔ پس آپ نے اس کو مکروہ سمجھا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: