قربانی میں شراکت کا بیان

متعدد حضرات اگر مشترکہ طور پر قربانی دینا چاہیں تو یہ جائز ہے اور متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے لیکن یہ مسئلہ کسی قدر تشریح طلب ہے۔ گائے اور اونٹ کے متعلق تو صریح احادیث سے ثابت ہے کہ متعدد اشخاص کی طرف سے قربانی دی جا سکتی ہے۔ ایک گائے میں سات شامل ہو سکتے ہیں اور اسی طرح اونٹ میں بھی۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ میں دس شامل ہو سکتے ہیں ۔
ایک بڑے جانور (جیسے اونٹ ،گائے،بیل ،بھینس اور بچھیا)کی قُربانی میں سات لوگ شریک ہو سکتے ہیں۔ ان میں آٹھ اشخاص شریک نہيں ہوسکتے اس لیے کہ عبادات توقیفی ہوتی ہيں۔
(یعنی اس میں کوئی بھی کمی وبیشی نہيں کی جاسکتی )
ہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی ایک گائے میں سات حصے پورے کرنے کے لئے دو یا دو سے زائد آدمی مل کر دو دو یا تین اور چار حصہ لے کرقربانی ادا کر سکتے ہیں ۔سب کا حصہ یکسا ں ہو کسی ایک کے حصےمیں بھی کمی بیشی سے کسی ایک کی قربانی ادا نہ ہوگی۔جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے:
جابر بن  عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ:
نَحَرنَا مع رسول اللَّہِ ﷺوَسَلَّمَ عَامَ الحُدَیبِیَۃ البَدَنَۃَ عن سَبعَۃٍ وَالبَقَرَۃَعن سَبعَۃہم نے صلح حدیبیہ والے سال رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک ایک اونٹ اور ایک ایک گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے قُربان کی۔ (صحيح مسلم – كتاب الحج، باب الاشتراك فی الهدی وإجزاء البقرة والبدنة كل منهما عن سبعة – حديث:‏1318‏ )
سیدنا عبداللہ بن عباس  فرماتے ہیں:
 كنا مع النبی ﷺفی سفر ، فحضر الأضحى ، فاشتركنا فی البقرة سبعة ، وفی الجزور عشرة   ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الأضحیٰ کا دن آگیا تو ہم سات سات افراد گائے کی قربانی میں اور اونٹ کی قربانی میں دس دس افراد شریک ہوئے۔ (سنن ترمذی  ، أبواب الحج ،باب ما جاء فی الاشتراك فی البدنة والبقرة، حديث:905‏)  (جامع الترمذی  ، أبواب الأضاحی ،باب ما جاء أن الشاة الواحدة تجزی عن أهل البيت ،حديث:‏1505، سنن ابن ماجہ ، کتاب الأضاحی ، باب من ضحی بشاۃ عن أھلہ، حدیث: 3147)
امام ترمذیؒ نے اونٹ کے متعلق دونوں حدیثیں ذکر کی ہیں ۔ لیکن سات والی کو ترجیح دی ہے۔ ایک روایت ابن عباسؓ کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ عید قرباں دورانِ سفر ہی میں آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہو گئے۔ اس کو ترمذی نے حسن غریب یعنی نادر سند کی حدیث کہا ہے۔ دوسری حدیث جابرؓ کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ اور گائے کی سات آدمیوں کی طرف سے قربانی دی۔ اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے حسن اور صحیح کہا یعنی اعلیٰ پائے کی حدیث ہے اس حدیث کی تائید اور بھی بہت سی احادیث سے ہوتی ہے۔ مثلاً
مسلم میں ہے: اِشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِی ﷺ فِی الْحَجِّ وَالْمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِّنَّا فِی بَدَنَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِّجَابِرٍ اَيُشْتَرَكُ فِی الْبَقَرِ مَا يُشْتَرَكُ فِی الْجَزُوْرِ فَقَالَ مَا ھِی اِلَّا مِنَ الْبُدْنِ کہ حج کے موقع پر ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم فی اونٹ سات آدمی شامل ہوئے ایک شخص نے جابرؓ سے دریافت کیا، کیا گائے میں بھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں ؟ تو جابرؓ نے کہا کہ گائے بھی اسی کے حکم میں ہے۔
عن ابن عباس قال بعث رسول اللہ ﷺستۃ عشر بدنۃ مع رجل الحدیثابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے ساتھ ۱۶ اونٹ قربانی کے لئے بھیجے۔ (مسلم)
تو صحیح یہی ہے کہ گائے اور اونٹ میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور یہی مسلک جمہور محدثین کا ہے امام ترمذی نے بھی یہی لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا بالعموم اور ائمہ دین مثلاً سفیان الثوریؒ، ابن المبارکؒ شافعیؒ، احمدؒ اور اسحاقؒ کا اسی پر عمل رہا اور اسی کی تائید مسلم شریف کی روایات سے ہوتی ہے۔
سیدنا حذیفہ بن اسید  بیان فرماتے ہیں کہ :  حملنی أهلی على الجفاء بعد ما علمت من السنة ، كان أهل البيت يضحون ، بالشاة والشاتين ، والآن يبخلنا جيراننا   مجھے میرے گھر والوں نے غلط روی پر ابھارنے کی  کوشش کی جبکہ مجھے سنت کا علم ہوچکا تھا کہ ایک گھرانے والے ایک یا دو بکریاں ذبح کرتے تھے، کہ (اگر اب ہم ایسا ہی کریں گے تو ) ہمارے پڑوسی ہمیں کنجوسی کا طعنہ
دیں گے۔ (سنن ابن ماجه  – كتاب الأضاحي، باب من ضحى بشاة  عن أھلہ- حديث:3147‏ ، سنن البیہقی الکبری268/9، حاکم 254/4 (7550))
سیدنا عبداللہ بن ہشام  بیان فرماتے ہیں کہ :   كان رسول الله ﷺيضحی بالشاة الواحدة عن جميع أهله رسول اللہ ﷺ اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے تھے۔  (مستدرک حاکم255/4 (7555)
سیدنا عبداللہ بن ہشام  خود بھی اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی دیتے تھے۔(صحیح بخاری، کتاب الأحکام ، باب بیعۃ الصغیر (7210)
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ایوب انصاری   سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کو دور مین قربانیاں کیسے ہوتی تھیں تو انھوں نے فرمایا:   كان الرجل يضحی بالشاة عنه وعن أهل بيته ،
فيأكلون ويطعمون حتى تباهى الناس ، فصارت كما ترى  آدمی ایک بکری اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کرتا وہ خود بھی کھاتے اور (لوگوں کو ) کھلاتے بھی حتی کہ لوگوں نے ایک دوسرتے پر فخر (مقابلہ بازی) شروع کر دیا تو پھر وہ ہوا جو تو دیکھ رہاہے۔
بکری کی قربانی میں ایک سے زائد شریک ہو سکتے ہیں یا ایک سے زیادہ کی طرف سے بکری کی قربانی دی جا سکتی ہے یا نہیں ؟
اس مسئلہ میں حنفیہ اور محدثین کا اختلاف ہے۔ حنفیہ کے نزدیک بکری صرف ایک ہی شخص کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے جس کے لئے حضرت عائشہؓ کی حدیث بہترین دلیل ہو سکتی ہے۔
عطاء بن يسار كہتے ہيں كہ ميں نے ابو ايوب انصارى ؓ  سے دريافت كيا كہ رسول كريم ﷺ  كے دور ميں قربانى كس طرح ہوتى تھى ؟
تو انہوں نے جواب ديا: آدمى اپنےاور اپنے گھر والوں كى جانب سے ايك بكرى ذبح كرتا اور وہ خود بھى كھاتا اور دوسروں كو بھى كھلاتا تھا(سنن ترمذى حديث نمبر 1505)
علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح كہا ہےاور داؤد میں ہے کہ آپ نے ایک دنبہ ذبح کیا اور لٹاتے ہوئے یہ کہا:اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُّحَمَّدٍیا اللہ تو اس کو محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کی طرف سے قبول فرما
اور حافظ ذیلعی نے نصب الرایہ میں مستدرک حاکم سے ایک روایت نقل کی ہے کہ: كَانَ النَّبِی ﷺ يُضَحِّی بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيْعِ اَھْلِه  کہ نبی اکرم ﷺ ایک بکری کی تمام گھر والوں کی طرف سے قربانی کرتے۔
اور دوسری روایت ابن ابی شیبہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے دو دنبے ذبح کیے: فَقَالَ ِنْدَ الْاَوَّلِ عَنْ مُّحَمَّدٍوَّاٰلِ مُّحَمَّدٍ وَّعِنْدَ الثَّانِی عَمَّنْ اٰمَنَ بِی فَصَدَّقَنِی عَنْ اُمَّتِی پہلے پر آپ ﷺ نے کہا یہ محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کی طرف سے ہے دوسرے پر کہا کہ یہ ہر اس شخص کی طرف سے ہے جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی میری امّت سے۔ 
مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہواکہ :آپ نے اپنی اور اپنے آل کی طرف سے ایک ہی جانور ذبح کیا بلکہ امّت کو بھی اس میں شامل فرمالیا ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ قربانی کے لیے بکرا لاتے تو ان کے گھروالے کہتے تھے اور ہماری طرف سے ،تو وہ جواب میں فرماتے اور یہ بکرا تماری طرف سے بھی ہے۔
جبکہ فقہ حنفیہ میں بکری،بکرا،دنبہ، بھیڑ اور میڈھے کی قربانی صرف ایک ہی شخص کی جانب سے ادا ہو سکتی ہے ،اگر ایک سے زائد لوگ اس میں شامل ہوئے تو کسی ایک کی بھی قربانی ادا نہ ہوگی۔(بعض لوگ تمام گھر والوں کی جانب سے ایک بکرا یا بکری ذبح کر کے سمجھتے ہیں کہ قربانی ادا ہو گئی، حالانکہ اس طریقے سے کسی ایک کی بھی ادا نہیں ہوتی)
صحیح مسلم میں آیا ہے کہ آپ نے (حجۃ الوداع کے موقعہ پر) یک صد اونٹ قربانی کیے جس کی تفصیل یوں ہے:
ثم انصرف الی المنحر فنحر ثلثا وستین بدنۃ بیدہ ثم اعطی علیا ننحر ما غبر واشرکہ فی ہدیہ ثم امر من کل بدنۃ ببضعۃ نجعلعت نی قدر نطبخت ناکلا من لحمہا وشربا من مرتھا الحدیث یعنی حجۃ الوداع میں آپ قربانی گاہ میں تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ مبارک سے ۶۳ اونٹ نحر کیے۔ سولہ باقی ماندہ حضرت علی کو دیئے۔ انہوں نے ذبح کئے اور آپ نے علیؓ کو اپنی قربانی میں شریک کر لیا اور ہر قربانی سے تھوڑا تھوڑا گوشت لے کر پکایا۔ پھر آپ اور علی نے کھایا اور شوربا پیا۔
اس حدیث سے کثیر تعداد میں قربانیاں دینا بھی ثابت ہوا اور یہ بھی کہ ہر قربانی سے گوشت تھوڑا تھوڑا کھانا مستحب ہے۔ 
مسند امام احمد میں ایک روایت ہے کہ ایک صحابی نے کہا کہ ہم سات آدمیوں کی ایک پارٹی تھی۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم سب ایک ایک درہم ملا کر ایک بکری خرید لیں ۔ چنانچہ اس طرح ہم نے سات درہم جمع کر کے ایک بکری خرید لی۔ پھر آپ کے فرمانے کے مطابق ایک شخص نے ایک پاؤں اور دوسرے شخص نے دوسرا پاؤں ، ایک نے ایک ہاتھ اور دوسرے نے دوسرا ہاتھ، ایک نے ایک  سینگ دوسرے نے دوسرا سینگ بکری کا پکڑ لیا اور ساتویں نے ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر پڑھی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
اَبُو الْاَسَدِ الْاَسْلَمِی عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّه قَالَ كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَّعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ فَاَمَرَنَا نَجْمَعُ لِكُلِّ رَجُلٍ مِّنَّا دِرْھَمًا فَاشْتَرَيْنَا اُضْخِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاھِمِ وَاَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَاَخَذَ رَجُلٌ بِرَجُلٍ اِلٰی قَوْلِه وَذَبَحَھَا السَّابِعُ وَكَبَّرْنَا عَلَيْھَا جَمِيْعًا (مجمع الزوائد جلد ۴ ص ۲۱)
حافظ ابن قیمؒ نے بھی اعلام الموقعین کے آخر میں اس حدیث کو ذکر فرمایا اور لکھا ہے: ’’نزل ھٰؤلاء النفر منزلة اھل البيت الواحد فی اجزاء الشاة عنھم لانھم كانوا رفقة واحدة‘‘ اس جماعت کو آپ نے ایک گھر والوں کی طرح سمجھ کر فتویٰ دیا کہ ایک بکری ان سب کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ سب رفیق اور ایک ساتھ رہنے والے ہیں ۔ 
اور ایک حدیث ابو ایوب انصاری کی ہے کہ: كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّی بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ اَھْلِ بَيْتِه  کہ ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے بکری قربانی کرتا۔
چند اہم مسائل :
شرکاء قربانی میں سب کی نیت قربانی کی ہی ہونا جروری ہے اگر کسی ایک نے بھی صرف گوشت حاصل کرنے کی نیت سے قربانی کی تو کسی ایک کی بھی قربانی ادا نہ ہوگی۔
(نیت کا علم اس شخص کے اظہارِذکر سے ہی حاصل ہو گا نہ کہ کسی کی جانب سے بدگمان ہونا جائز نہیں، لہٰذا شریک کرنے سے پہلے اطمنان کر لیجئے کہ تمام شرکاء کی نیت قربانی کی ہی ہے)
اگر گائے خریدتے وقت دُوسرے لوگوں کو شریک کرنے کی نیت نہیں تھی بلکہ پوری گائے اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت تھی لیکن اب اگر دوسروں کو شریک کیا تو قربانی مکروہ ہوگی،لہٰذا بہتر یہی ہے کہ خریدنے سے پہلے نیت کر لیں کہ ٍقربانی میں دوسروں کی شرکت بھی لوں گا۔( فتاوی عالمگیری)
غیر مالک نصاب (شرعی فقیر )نے قربانی کے لئے جانور خریدا ہو تو وہ دوسروں کو اس میں شریک نہیں کر سکتا(فتاوی عالمگیری)
شرکاء قربانی میں سے کسی کا انتقال ہو گیا اور اس کے ورثہ نے شرکاء سے کہہ دیا کہ تم اس گائے کو اپنی اور اسکی(مرنےوالے کی)طرف سے قربان کرو،انہوں نے کر لی تو قربانی جائز اور اگر ورثہ سے اجازت نہ لی تو قربانی کسی کی بھی نہ ہوگی۔(ھدایہ)
اگر گائے یا اونٹ میں چھ لوگ شریک ہیں اور وہ سب مشترکہ طور پر ساتواں حصہ نبی کریم ﷺ یا کسی بزرگ رحمۃ اللہ علیہ کے نام کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے۔بلکہ ہر صاحب استطاعت مسلمان کو اپنے وجوب قربانی کے ساتھ آپﷺ کے نام مبارک پر بھی قربانی کرنی چاہیئے۔( فتاوی فیض رسولﷺ، ج2ص442)
کیونکہ رسول کریم ﷺ اپنی امّت پر اس قدر مہربان و شفیق تھے کہ آُ ﷺ ہر سال اپنی طرف سے پر سال اپنی طرف سے قربانی کے علاوہ ایک قربانی پوری امّت کے نام سے بھی فرمایا کرتے
جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے: اَللّٰهُمَّ هَذٰا عَنِّیْ وَعَمَّنْ لَّمْ يُضَحِّ مِنْ اُمَّتِیْ یہ قربانی میری طرف سے اور میری امّت کے ہر اس غریب شخص کی طرف سے قبول فرما جو قربانی ادا نہیں کرسکتا۔ (سنن ابی داؤد، جلد 3، باب فی الشاة يضحی بها عن جماعة رقم : 2810)
تمام شرکاء میں گوشت خوب احتیاط سے وزن کرکے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم کرنا جائز نہیں ،کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو زائد اور کسی کو کم گوشت ملے۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اندازے سے تقسیم کرلیا جائے اور اگر کسی کو زائد ملے تو دوسرے شرکاء اسے معاف کر دیں گے۔ یہ طریقۂ کار درست نہیں کیونکہ یہ حقِ شرع ہے اور کسی کو اس طرح معاف کرنے کا اختیار نہیں۔(درِمختار)
البتہ اندازے سے تقسیم کرنے کا ایک شرعی حیلہ یہ ہے کہ جانور کے تمام گوشت، چربی، دل ، گردے،سری اور پائے وغیرہ کو جمع کر لیا جائے ۔اب اندازے سے تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
Advertisements
2 comments
  1. Mulsim said:

    Masha allah vey nyc jzakumulah khyra

  2. Hello Web Admin, I noticed that your On-Page SEO is is missing a few factors, for one you do not use all three H tags in your post, also I notice that you are not using bold or italics properly in your SEO optimization. On-Page SEO means more now than ever since the new Google update: Panda. No longer are backlinks and simply pinging or sending out a RSS feed the key to getting Google PageRank or Alexa Rankings, You now NEED On-Page SEO. So what is good On-Page SEO?First your keyword must appear in the title.Then it must appear in the URL.You have to optimize your keyword and make sure that it has a nice keyword density of 3-5% in your article with relevant LSI (Latent Semantic Indexing). Then you should spread all H1,H2,H3 tags in your article.Your Keyword should appear in your first paragraph and in the last sentence of the page. You should have relevant usage of Bold and italics of your keyword.There should be one internal link to a page on your blog and you should have one image with an alt tag that has your keyword….wait there’s even more Now what if i told you there was a simple WordPress plugin that does all the On-Page SEO, and automatically for you? That’s right AUTOMATICALLY, just watch this 4minute video for more information at. Seo Plugin

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: