قربانی کی مشروعیّت اور منکرینِ سُنّت کا موقف-2

اسلامی نظام پر بے اعتمادی:

ہمارے ملک میں اس گروہ کے سرغنہ مسٹر غلام احمد پرویز ہیں۔ انہوں نے ’’ادارہ طلوعِ اسلام‘‘ کے نام سے ہم خیال حضرات کو اپنے گرد جمع کر رکھا ہے اور انہی مسائل پر مشتمل لٹریچر شائع کرنے میں مصروف ہیں۔ آگے بڑھنے سے پیشتر ہم آپ کو مسٹر پرویز کے خیالات کی ایک جھلک دکھانا ضروری خیال کرتے ہیں۔
پرویزؔ صاحب اپنے ایک مضمون میں قربانی کو غیر اسلامی رسم ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اس قربانی کے لئے کوئی حکم اور کوئی سند موجود نہیں تو ہزار برس سے یہ کس طرح متواتر چلی آرہی ہے اور اس کے خلاف کسی نے آواز کیوں نہ اُٹھائی؟ یہ سوال بہت اہم ہے اور اس کا جواب اس وقت ملے گا جب کوئی مردِ حق گو اسلام کی تاریخ لکھے گا۔
اس لئے کہ یہ سوال ایک قربانی تک ہی محدود نہیں یہ تو پورے کے پورے اسلامی نظام کو محیط ہے۔ وہ دین جو محمد رسول اللہ ﷺ نے دنیا تک پہنچایا تھا اس کا کونسا گوشہ اور کونسا شعبہ ایسا ہے جس میں تحریف نہیں ہو چکی۔‘‘ (ملاحظہ ہو قرآنی فیصلے مجموعہ مضامین پرویز ص 65-66)
چند اقتباسات:
اس سے قبل کہ ہم قربانی کی شرعی حیثیت واضح کریں اور ان حضرات کے موقف کو زیر بحث لائیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پرویز صاحب کے خیالات کو ان کے اصل الفاظ میں پیش کر دیں:’’حضرت خلیل اکبر اور حضرت اسماعیل کے تذکارِ جلیلہ کے ضمن میں قرآن نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اس واقعہ عظیمہ کی یاد میں جانوروں کو ذبح کیا کرو۔ حتیٰ کہ حضرت اسماعیل کی جگہ مینڈھا ذبح کرنے کا واقعہ بھی قرآن میں نہیں تورات میں ہے۔‘‘ (قرآنی فیصلے ص 54)
’’ساری دنیا میں اپنے طور پر قربانیاں ایک رسم ہیں اسی طرح حاجیوں کی وہ قربانیاں جو وہ آج کل کرتے ہیں۔ محض ایک رسم کی تکمیل رہ گئی ہے۔‘‘ (ایضاً ص 56)
’’قرآن کریم میں جانور ذبح کرنے کا ذِکر (نہیں صاحب حکم؟) حج کے ضمن میں آیا ہے۔ عرفات کے میدان میں جب یہ تمام نمایندگانِ ملّت ایک لائحہ عمل طے کر لیں گے تو اس کے بعد منیٰ کے مقام پر دو تین دن تک ان کا اجتماع رہے گا۔ جہاں یہ باہمی بحث و تمحیص سے اس پروگرام کی تفصیلات طے کریں گے۔ ان مذاکرات کے ساتھ باہمی ضیافتیں بھی ہوں گی، آج صبح پاکستان والوں کے ہاں! شام کو اہل افغانستان کے ہاں! اگلی صبح اہل شام کی طرف سے (وقس علٰی ذٰلک) ان دعوتوں میں مقامی لوگ بھی شامل کر لیے جائیں گے، امیر بھی اور غریب بھی! اس مقصد کے لئے جو جانور ذبح کیے جائیں گے، قربانی کے جانور کہلائیں گے۔ چونکہ اس اجتماع کا مقصد نہایت بلند اور خالصۃً لوجہ اللہ ہے اس لئے پروگرام کی ہر کڑی خدا کے قریب تر لانے کا ذریعہ ہے۔
یہ ہے قربانی کی اصل! اس لئے قرآن نے صراحت فرمائی ہے کہ قربانی کے جانوروں کی منزل مقصود بیت اللہ ہے، ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ(ص 55)
’’تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خود رسول اللہ نے بھی مدینہ میں قربانی نہیں دی۔ حج       9     ؁ھ میں فرض ہوا۔ حضور اس سال خود تشریف نہیں لے گئے لیکن اپنی طرف سے کچھ جانور امیرِ کارواں حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ کر دیئے کہ وہاں مصرف میں لائے جائیں۔ اگلے سال خود حضور حج کے لئے تشریف لے گئے اور وہیں جانور ذبح کئے لہٰذا ہر جگہ قربانی دینا نہ حکمِ خداوندی ہے نہ سنتِ ابراہیمی اور سنتِ محمدیﷺ‘‘ (ص 65)
’’حضرت ابراہیم کے متعلق قرآن میں ہے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ آپ نے سمجھا کہ یہ اشارہ غیبی ہے اس لئے اس کی تعمیل ضروری ہے۔ بیٹے سے ذکر کیا تو اس نے بھی کہا کہ اگر یہ حکم ہے تو اس کی تعمیل میں قطعاً تامل نہ کیجئے۔ میں ذبح ہونے کو تیار ہوں۔
آپ نے بیٹے کو لٹا دیا۔ اس کے گلے پر چھری رکھ دی تو اللہ نے پکارا کہ اے ابراہیم! تم نے خواب کو حکم خداوندی پر محمول کر کے اس کی پوری تعمیل کر دی۔ اس لئے ظاہر ہے، اگر تمہیں بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے بھی حکم دیا گیا تو تم اسے بلا تامل پورا کرو گے۔ یقیناً باپ اور بیٹا دونں اطاعت و تسلیم کے بلند ترین مقام پر فائز ہو۔ اس بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی تولیت کے لئے منتخب کر لیا۔ قرآن میں بس اتنا ہی واقعہ ہے۔ تورات میں البتہ یہ بھی ہے کہ جبریل نے جنت سے ایک مینڈھا لا کر بیٹے کی جگہ لٹا دیا اور چھری بیٹے کی جگہ مینڈھے پر چل گئی۔ لیکن یہ تو اسرائیلی انسانوں میں سے ایک فسانہ ہے۔ قرآن اس کی تائید نہیں کرتا۔‘‘ (ص 65، 64)
مذہبی رسومات کی ان دیمک خوردہ لکڑیوں کو قائم رکھنے کے لئے طرح طرح کے سہارے دیئے جاتے ہیں۔ کہیں قربانی کو سنتِ ابراہیمی قرار دیا جاتا ہے کہیں اسے تقرب الٰہی کا ذریعہ بتایا جاتا ہے کہیں دوزخ سے محفوظ گزر جانے کی سواری بنا کر دکھایا جاتا ہے۔‘‘ (ص 64)
معذرت:
تقاضائے اختصار کے باوجود پرویزؔ صاحب کے قتباسات نقل کرنے میں تفصیل سے کام لیا۔ یہ تفصیل ناگزیر تھی۔ اس کے بغیر بات کو آگے چلانا مناسب نہیں تھا ویسے ضروری ہے کہ فریقِ ثانی کے خیالات کے اظہار میں بخل و اختصار سے کام نہ لیا جائے بلکہ حریف کے نظریات کو بسط اور وضاحت کے ساتھ مخاطب کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ اسے ردّ و بدل اور ترمیم و تحریف کا گلہ نہ رہے۔
تنقیدی گزارشات:
اب ذرا پرویزؔ صاحب کے ارشادات پر تنقیدی نگاہ ڈالیے اور انصاف کیجئے کہ بات کہاں سے کہاں پہنچ رہی ہے؟ انہوں نے فقرہ نمبر 1 میں حضرت ابراہیم کی طرف سے حضرت اسماعیل کی قربانی پر آمادگی کو ’’واقعہ عظیمہ‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ حالانکہ ان کی رائے میں خداوندِ قدوس نے بیٹے کو ذبح کرنے کا کوئی حکم دیا ہی نہ تھا۔ خواب میں جو کچھ کہا گیا تھا جناب ابراہیم اس کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہے اور مجاز کو حقیقت سمجھ بیٹھے۔
چنانچہ پرویزؔ صاحب اپنی ایک دوسری کتاب ’’جوئے نور‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’آپ (حضرت ابراہیم) خواب کے ایک اشارے سے یہ سمجھے کہ حکم ملا ہے کہ بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا جائے۔ ہر چند یہ حکم نہ تھا۔ محض خواب میں ایسا دیکھا تھا لیکن انہوں نے اس کو کچھ ’’اوپر کا اشارہ‘‘ سمجھ لیا اور ایسی تحیر انگیز اور ہوش ربا قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔ بیٹے سے پوچھا، کہو تمہارا کیا خیال ہے؟ اب بیٹے کا جواب بھی سن لیجئے۔ عرض کیا یٰآاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآءَ اللہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ابا جان! جس بات کا اشارہ آپ کو ملا ہے اسے بلا تامّل کر گزریے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔‘‘ (ص 150، 155)
’’حضرت ابراہیم کو اس قربانی کا حکم نہ دیا گیا تھا انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اپنی محبت اور شیفتگی کے جوش میں خواب کو حقیقت سمجھ بیٹھے اور بیٹے کی قربانی کے لئے آمادہ ہو گئے لیکن جس وقت انہوں نے چھری ہاتھ میں لے لی تو اس وقت آپ کو بتایا گیا کہ خواب کے مجاز کی حقیقت کیا تھی۔‘‘ (ص 155، 156)
غور فرمائیے!
غور فرمائیے کہ جب ذبح کا حکم ہی نہ ہوا تھا بلکہ خلیل اللہ نے منشاء الٰہی سمجھنے میں غلطی کی تھی تو اس پر تحسین و مرحبا کا کیا مطلب؟ یہاں تو یہ چاہئے تھا کہ فوری طور پر حضرت ابراہیم کی اجتہادی غلطی پر توجہ دلائی جاتی اور انہیں اپنے الہام کے اصل منشاء پر اطلاع دی جاتی۔ مزید غور فرمائیے کہ حضرت اسماعیل تو یٰآ اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ کے الفاظ میں والد محترم کے خواب میں دیکھے نظارے کو امرِ الٰہی سے تعبیر فرما رہے ہیں لیکن پرویزؔ صاحب قرآنی الفاظ کے برعکس کس دیدہ دلیری سے کہہ رہے ہیں کہ:’’حضرت ابراہیم کو اس قربانی کا حکم نہ دیا گیا تھا۔‘‘
قرآن دانی کا ماتم:
پھر ان کا کمال اور ہاتھ کی صفائی ملاحظہ فرمائیے کہ اسماعیلی الفاظ ’’اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ کا ترجمہ ان الفاظ ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ: ’’ابا جان! جس بات کا اشارہ آپ کو ملا ہے اسے بلا تامل کر گزرئیے۔‘‘ ہم پرویز صاحب اور ان کے عقیدت مندوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ’’تُؤْمَرُ‘‘ کا معنی ’’اشارہ ملا‘‘ کس لغت میں لکھا ہے؟ اگر آپ کو اپنے ترجمہ پر اصرار ہے تو لغتِ عرب سے ثبوت دیجئے اور اگر اس لفظ (تُؤْمَرُ) کا مادہ امر ہے تو ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم آپ کی قرآن دانی کا ماتم کریں، آپ کو مفسرِ قرآن کی بجائے محرّفِ قرآن تصور کریں اور آپ کے طبع زاد ’’معارف القرآن‘‘ کو پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہ دیں۔ ہاں یہ بھی فرمائیے کہ آپ کے پاس اپنے اس دعویٰ پر کیا دلیل ہے کہ اس خواب کے مجاز کی حقیقت کچھ اور تھی۔ پھر آپ نے فقرہ نمبر 5 میں ان الفاظ کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ: ’’اگر یہ حکم ہے تو اس کی تعمیل میں قطعاً تامل نہ کیجئے۔‘‘
براہِ نوازش فرمائیے کہ ’’اگر یہ حکم ہے‘‘ قرآن مجید کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ ہاں یہ بھی بتا دیجئے کہ آپ کو لغت عرب سے آزاد ترجمہ کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ اور آپ کس برتے پر مفسرینِ قرآن اور  محدّثینِ عظام کے منہ آرہے ہیں۔ پھر آپ نے انہی آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اس بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی تولیت کے لئے منتخب کر لیا۔‘‘ (فقرہ نمبر 5)
محترم! یہ فقرہ کن الفاظ کا ترجمہ اور کونسی آیت کا مفہوم ہے؟ قرآن کریم کے بیان کے مطابق تو اس وقت کعبہ کا نام و نشان بھی نہ تھا اور حضرت ابراہیم کو بنائے کعبہ کا حکم ہی اس واقعہ کے کافی عرصہ بعد ہوا۔ چلتے چلتے یہ بھی فرما دیجئے کہ آپ کا یہ فقرہ کہ: ’’اللہ نے پکارا اے ابراہیم! تم نے خواب کو حکمِ خداوندی پر محمول کر کے اس کی پوری تعمیل کر دی۔‘‘ کن الفاظ کا ترجمہ ہے؟
ذبحِ عظیم سے مراد؟
پھر آپ نے لکھا ہے کہ: ’’حضرت اسماعیل کی جگہ مینڈھا کرنے کا واقعہ بھی قرآن میں نہیں توراۃ میں ہے۔‘‘
براہِ مہربانی اتنا تو بتا دیجئے کہ وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْم کا مطلب کیا ہے؟ لیکن اس کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرتے ہوئے ذرا قواعدِ عرب کا احترام رہے۔ پھر آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ: ’’قرآن نے
یہ کہیں نہیں کہا کہ اس واقعہ عظیمہ کی یاد میں جانور ذبح کیا کرو۔‘‘
پرویز صاحب! ہم آپ کی خدمت میں خود آپ کی کتاب ’’جوئے نور‘‘ سے ان آیات کا ترجمہ پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں: ’’اور دیکھو ہم نے ایک بہت بڑی قرانی کے عوض اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچا لیا اور ہم نے بعد کو آنے والی نسلوں کے لئے اس واقعہ کی یاد کو باقی رکھا۔‘‘ (ص 156)
جنابِ من! یہی وہ نکتہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے قربانی کی حقیقت دریافت کرنے پر بیان فرمایا۔ پوچھنے والوں نے پوچھا ما ھذہ الا ضاحی یا رسول اللہ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: سنة ابیکم ابراھیم۔ یہ تمہارے جدِّ اعلیٰ حضرات ابراہیمؑ کی سنت و یادگار ہے۔ ہم حیران ہیں کہ جو شخص قرآن مجید کے ایک ہی مقام کے ترجمہ میں اس قدر غلطیاں اور اس کی تشریح میں اس قدر ہیرا پھیری کرتا ہے اس کے ’’عقیدت مند‘‘ آخر کس بنا پر اسے دورِ حاضر کا عظیم انسان اور قرآنی علوم و معارف کا بہترین ترجمان کہتے ہیں؟
ائمۂ تفسیر قرآن مجید کا مفہوم متعین کرنے میں قرآنی تصریحات، فرامینِ نبویﷺ، آثارِ صحابہؓ اور لغاتِ عرب سے استمداد کرتے ہیں۔ لیکن پرویزؔ صاحب مفسرین سلف سے ناراض ہیں کہ انہوں نے کتابِ الٰہی کو چیستان بنا دیا ہے لیکن خدا جانے ان کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ جملہ قرآنی علوم اور قواعدِ عرب سے بے نیاز ’’معارف‘‘ کے نام پر جو چاہیں کہتے چلے جائیں اور ان کو
توجہ دلانے والا گردن زونی قرار پائے
جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: