قربانی واجب ہے یا سنت؟

 قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ : فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا نما زپڑھئے اپنے رب کے لئے اور قربانی کیجئے (سورۃ الکوثر)
فَصَلِّ لِرَبِّکَ  وَانْحَرْ۔دَلَالَتُھَا عَلٰی وُجُوْبِ صَلٰوۃِ الْعِیْدِ وَانْحَرْ اَلْبُدْنَ بَعْدَھَا ظَاھِرَۃٌ۔ ’’ فَصَلِّ لِرَبِّکَ ‘‘سے جس طرح نماز عید کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے اسی طرح ’’وَانْحَرْ ‘‘ سے قربانی کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ:وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوْااسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَارَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔ ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کردی تاکہ اللہ نے جو چوپائے انہیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام لیا کریں۔(سورۃ الحج)
عَنْ زَیْدِ ابْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا ھٰذَا الْاَضَاحِیُّ؟ قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ۔ قَالُوْا فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ۔حضرت زید بن ارقم ؓ نے بیان فرمایا کہ صحابہ ؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے ۔ صحابہ ؓ نے کہا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرام ؓ نے (پھر سوال کیا) یا رسول اللہ ﷺ !اون (کے بدلے میں کیا ملے گا؟)فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔(سنن ابن ماجۃ ص 266)
قربانی کے متعلق علماء کا اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا سنت؟ لیکن احادیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تک مدینہ منورہ رہے قربانی کرتے رہے اور دوسرے مسلمان بھی قربانی کرتے رہے کسی حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے قربانی کے لئے وجوبًا حکم دیا ہو۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا قربانی واجب ہے؟ آپ نے جواب دیا: ضَحّٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَالْمُسْلِمُوْنَ کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی دی اور مسلمان بھی قربانی دیا کرتے تھے۔
سائل نے جواب ناکافی سمجھ کر (وجوب وغیرہ کا لفظ نہ دیکھ کر) دوبارہ وہی سوال کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا۔ ’’تم سمجھتے نہیں ؟ میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ حضور ﷺ نے بھی قربانی دی اور عام مسلمان بھی قربانی دیا کرتے تھے۔‘‘ مقصد عبد اللہ بن عمرؓ کا یہ تھا کہ کوئی حدیث ایسی نہیں ، جس میں حکم دیا ہو۔ صرف آپ ﷺ کا عمل ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ  قربانی دی۔
چنانچہ دوسری روایت میں فرماتے ہیں : اَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالْمَدِيْنَةِ عَشْرَ سِنِيْنَ يُضَحِّی (ترمذی)کہ نبی کریم ﷺ مدینہ میں دس سال رہے اور ہمیشہ قربانی دیتے رہے۔ 
امام ترمذیؒ ابن عمرؓ کا قولِ اول نقل کر کے فرماتے ہیں وَالْعَمَلُ عَلٰی ھٰذَا عِنْدَ اَھْلِ الْعِلْمِ اَنّ الْاُضْحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ وَلٰكِنَّھَا سُنَّةٌ مِّنْ سُنَنِ النَّبِی ﷺکہ اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ قربانی واجب تو نہیں لیکن یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
ابن ماجہ کی ایک حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قربانی واجب ہے کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں يٰاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّ عَلٰی كُلِّ اَھْلِ بَيْتٍ فِی كُلِّ عَامٍ اُضْحِيَّةً (لوگو ہر گھر پر ہر سال میں ایک قربانی ہے)
لیکن اس حدیث کے راویوں میں ’’امر ابو رملہ‘‘ مجہول راوی ہے اور اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے مراد یہ ہو گی کہ ہر گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہو گی، نہ یہ کہ ہر شخص کی طرف سے ایک قربانی۔ اس کی تائید ابو ایوب انصاریؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ عطا بن یسار نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے دریافت کیا کہ آپ کے زمانہ میں قربانی کس طرح دی جاتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی دیتا، وہ خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تا آنکہ لوگوں نے اس میں فخر و ریا شروع کر دی یعنی کثرت سے قربانی دینے لگ گئے۔ یہی قول امام احمدؒ، اسحاقؒ اور امام شافعیؒ کا ہے۔
امام شافعیؒ نے اس حدیث اِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ فَاَرَادَ اَحَدُكُمْ اَنْ يُّضَحِّی سے بھی استدلال کیا ہے کہ قربانی واجب نہیں کیونکہ اس میں قربانی کو ارادے پر معلق کیا ہے اور وجوب ارادہ کے منافی ہوتا ہے۔ اسی طرح ابن ماجہ کی دوسری حدیث (جس میں عبد اللہ بن عیاش منکر الحدیث راوی ہے) بھی قابل استدلال نہیں ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : ’’مَنْ کَانَ لَه سَعَةٌ وَلَمْ يُضِحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلّٰنَاکہ جس کو گنجائش ہو اور پھر قربانی نہ دے وہ ہمارے عید گاہ میں نہ آئے
عبد اللہ بن عیاش کو ابو داود اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منکر الحدیث اور غلط روایت کرنے والا ہے جیسا کہ علامہ سندھیؒ نے حاشیہ ابن ماجہ میں اور حافظ صاحب نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے۔ امام مسلمؒ نے اس سے روایت متابعات اور شواہد میں کی ہے۔ اس لئے اس سے توثیق نہیں ہو سکتی، حافظ صاحبؒ نے فتح الباری میں اس روایت کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ اکثر ائمہ حدیث کے نزدیک یہ مرفع ثابت نہیں بلکہ موقوف ہے اور صحابہ سے مختلف آثار اس مسئلہ میں مروی ہیں اور ابوبکرؓ، عمرؓ، ابو مسعودؓ اناری اور عبد اللہ بن عباسؓ سے بھی منقول ہے کہ قربانی سنت ہے۔ اس لئے اکثر محدثین کا اس مسئلہ میں یہی فتویٰ ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے۔ کیونکہ آپ نے ہمیشہ قربانی دی۔
Advertisements
1 comment
  1. دُوسری صورت یہ ہے کہ سربراہ پر شرعی طور پر قربانی واجب تو نہیں ہے لیکن وہ کسی دُوسرے کی طرف سے قربانی کرتا ہے تو اس صورت میں جس کی طرف سے قربانی کی ہے اس کی طرف سے قربانی صحیح ہوگی، اور گھر کے سربراہ پر چونکہ قربانی واجب نہیں تھی اس لئے اس کو مستقل قربانی کی ضرورت نہیں، واللہ اعلم بالصواب!

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: