ابولہب

ابو لہب كانام عبدالعزیٰ (عزىٰ بت كا بندہ ) اور اس كى كنیت ابولہب تھی۔ اس كے لیے اس كنیت كا انتخاب شاید اس وجہ سے تھا كہ اس كا چہرہ سرخ اور بھڑكتا ہوا تھا،چونكہ لغت میں لہب آگ كے شعلہ كے معنى میں ہے ۔
وہ اور اس كى بیوى ام جمیل جو ابوسفیان كى بہن تھى ، پیغمبر اكرم ﷺ كے نہ آیت بدزبان اور سخت ترین دشمنوں میں سے تھے ۔
طارق محارق نامى ایك شخص كہتاہے : میں ذى المجاز كے بازار میں تھا ۔( ذى المجار عرفات كے نزدیك مكہ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے)
اچانك میں نے ایك جوان كو دیكھا جو پكار پكار كر كہہ رہا تھا: اے لوگو: لاالہ الا اللہ كا اقرار كر لو تو نجات پاجاؤگے ۔ اور اس كے پیچھے پیچھے میں نے ایك شخص كو دیكھا
جو اس كے پاؤں كے پچھلے حصہ پرپتھر مارتاجاتاہے جس كى وجہ سے اس كے پاؤں سے خون جارى تھا اوروہ چلا چلا كر كہہ رہاتھا ۔اے لوگو یہ جھوٹاہے اس كى بات نہ ماننا ۔
میں نے پوچھا كہ یہ جوان كون ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ محمّد، ، ﷺ ہے جس كا گمان یہ ہے كہ وہ پیغمبر ہے اور یہ بوڑھا اس كا چچا ابولہب ہے جو جو اس كو جھوٹا
سمجھتا ہے ۔
ربیع بن عباد كہتا ہے : میں اپنے باپ كے ساتھ تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ كو دیكھاكہ وہ قبائل عرب كے پاس جاتے اور ہر ایك كو پكار كر كہتے : میں تمہارى طرف خدا كا بھیجا ہوا رسول ہوں : تم خدائے یگانہ كے سوا اور كسى كى عبادت نہ كرو اور كسى كو اس كا شریك نہ بناؤ ۔
جب وہ اپنى بات سے فارغ ہوجاتاتو ایك خوبرو بھینگا آدمى جو ان كے پیچھے پیچھے تھا، پكاركركہتا : اے فلاں قبیلے : یہ شخص یہ چاہتاہے كہ تم لات وعزىٰ بت اور اپنے ہم پیمان جنوں كو چھوڑدو اور اس كى بدعت وضلالت كى پیروى كرنے لگ جاؤاس كى نہ سننا، اور اس كى پیروى نہ كرنا ۔
میں نے پوچھا كہ یہ كون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا كہ یہ اس كا چچا ابولہب ہے ۔
ابولہب محمّد ﷺ كا پیچھا كرتارہا
جب مكہ سے باہر كے لوگوں كا كوئی گروہ اس شہر میں داخل ہوتا تھا تو وہ پیغمبر ﷺ سے اس كى رشتہ دارى اور سن وسال كے لحاظ سے بڑاہونے كى بناپر ابولہب كے پاس جاتاتھا اور رسول اللہ ﷺ كے بارے میں تحقیق كرتا تھا وہ جواب دیتا تھا:
محمّد(ﷺ) ایك جادوگر ہے ،وہ بھى پیغمبر سے ملاقات كئے بغیر ہى لوٹ جاتے اسى اثناء میں ایك ایسا گروہ آیا جنہوں نے یہ كہا كہ ہم تو اسے دیكھے بغیر واپس نہیں جائیں گے ابولہب نے كہا :
ہم مسلسل اس كے جنون كا علاج كررہے ہیں : وہ ہلاك ہوجائے ۔
وہ اكثر مواقع پر سایہ كى طرح پیغمبر كے پیچھے لگارہتا تھا اور كسى خرابى سےفروگذاشت نہ كرتا تھا خصوصاً اس كى زبان بہت ہى گندى اور آلودہ ہوتى تھى اور وہ ركیك
اورچبھنے والى باتیں كیا كرتا تھا اور شاید اسى وجہ سے پیغمبر اسلام ﷺ كے سب دشمنوں كا سرغنہ شمار ہوتا تھا اسى بناء پر قرآن كریم اس پر اور اس كى بیوى ام جمیل پر ایسى صراحت اور سختى كے ساتھ تنقید كررہاہے وہى ایك اكیلا ایسا شخص تھا جس نے پیغمبر اكرم ﷺ سے بنى ہاشم كى حم آیت كے عہد وپیمان پر دستخط نہیں كئے تھے اور اس نے آپ كے دشمنوں كى صف میں رہتے ہوئے دشمنوں كے عہد وپیمان میں شركت كى تھی۔
ابو لہب كے ہاتھ كٹ جائیں
 ابن عباس سے نقل ہوا ہے كہ جس وقت آیہ ونذر عشیرتك الاقربین ۔نازل ہوئی اور پیغمبر ﷺ اپنے قریبى رشتہ داروں كو انذار كرنے اور اسلام كى دعوت دینے پر مامور ہوئے،تو پیغمبرﷺ كوہ صفا پرآئے اور پكار كر كہا یا صباحاہ (یہ جملہ عرب اس وقت كہتے تھے جب ان پر دشمن كى طرف سے غفلت كى حالت میں حملہ ہو جاتا
تھاتا كہ سب كو با خبر كردیں اور وہ مقابلہ كے لیے كھڑے ہو جائیں ،لہذا كوئی شخص یا صباحاہ كہہ كر آواز دیتا تھا صباح كے لفظ كا انتخاب اس وجہ سے كیا جاتا تھا كہ عام
طور پر غفلت كى حالت میں حملے صبح كے دقت كیے جاتے تھے۔
مكہ كے لوگوں نے جب یہ صدا سنى تو انہوں نے كہا كہ یہ كون ہے جو فریاد كررہا ہے۔  كہا گیا كہ یہ محمّد ﷺ ہیں ۔ كچھ لوگ آپﷺ كے پاس پہنچے تو آپﷺ نے قبائل عرب كو ان كے نام كے ساتھ پكارا۔ آپﷺ كى آواز پر سب كے سب جمع ہوگئے تو آپﷺ نے ان سے فرما یا:
مجھے بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں كہ دشمن كے سوار اس پہاڑ كے پیچھے سے حملہ كرنے والے ہیں ،تو كیا تم میرى بات كى تصدیق كروگے ۔
انہوں نے جواب دیا: ہم نے آپﷺ سے كبھى بھى جھوٹ نہیں سنا ۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
 انى نذیر لكم بین یدى عذاب شدید ۔  میں تمہیں خدا كے شدید عذاب سے ڈراتا ہوں۔
میں تمہیں توحیدكا اقرار كرنے او ربتوں كو ترك كرنے كى دعوت دیتا ہوں )جب ابو لہب نے یہ بات سنى تو اس نے كہا: 
تبالكا ما جمعتنا الا لھذا؟ ۔ تو ہلاك ہو جائے كیا تو نے ہمیں صرف اس بات كے لیے جمع كیا ہے ؟
اس مو قع پر یہ سورۂ نازل ہوا :
تبت یداا بى لھب وتب ۔(سورۂ مسد آیت 1 تا 2)
اے ابو لہب ! تو ہى ہلاك ہو اور تیرے ہاتھ ٹوٹیں ،تو ہى زیاں كار اور ہلاك ہونےوالاہے،اس كے مال وثروت نے اور جو كچھ اس نے كمایا ہے اس نے، اسے ہر گز كوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اسے عذاب الہى سے نہیں بچائے گا ۔
اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ ایك دولت مند مغرور شخص تھا جواپنى اسلام دشمن كوششوں كے لئے اپنے مال ودولت پر بھروسہ كرتاتھا۔
بعدمیں قرآن مزید كہتا ہے:
وہ جلدى ہى اس آگ میں داخل ہوگا جس كے شعلے بھڑكنے والے ہیں ۔( سورۂ مسد آیت 3)
اگر اس كا نام ابو لہب ہے تو اس كے لئے عذاب بھی بو لہب ہے یعنى اس كے لئے بھڑگتے ہوئے اگ كے شعلہ ہیں ۔
ایندھن اٹھائے ہوئے
قرآن كریم نے اس كے بعد اس كى بیوى ام جمیل كى كیفیت بیان كرتے ہوئے فرمایاہے :
اس كى بیوى بھى جہنم كى بھڑكتى ہوئی آگ میں داخل ہوگى ، جو اپنے د وش پر ایندھن اٹھاتى ہے ۔
فى جیدھا حبل من مسد۔اور اس كى گردن میں خرماكى چھال كى رسى یا گردن بند ہے ۔( سورۂ مسد آیت4)
 مسد (بروزن حسد) اس رسى كے معنى میں ہے جو كھجور كے پتوں سے بنائی جاتى ہے ۔ بعض نے یہ كہا ہے كہ مسد وہ رسى ہے جو جہنم میں اس كى گردن میں ڈالیں گے جس میں كھجور كے پتوں جیسى سختى ہوگى اور اس میں آگ كى حرارت اور لوہے كى سنگینى ہوگى ۔
بعض نے یہ بھى كہا ہے كہ چونكہ بڑے لوگوں كى عورتیں اپنى شخصیت كو آلات وزیورات خصوصا ًگردن كے قیمتى زیورات سے زینت دینے میں خاص بات سمجھتى ہیں ،لہذا خدا قیامت میں اس مضراوروخود پسند عورت كى تحقیر كے لیے لیف خرما كا ایك گردن بند اس كى گردن میں ڈال دے گایا یہ اصلا اس كى تحقیر سے كنایہ ہے ۔
بعض نے یہ بھى كہا ہے كہ اس تعبیر كے بیان كرنے كا سبب یہ ہے كہ ام جمیل كے پاس جواہرات كا ایك بہت ہى قیمتى گردن بند تھااور اس نے یہ قسم كھائی تھى كہ وہ اسے پیغمبراكرم ﷺ كى دشمنى میں خرچ كرے گى لہذا اس كے اس كام كے بدلے میں خدا نے بھى اس كے لئے ایسا عذاب مقرر كردیا ہے ۔
ابولہب كاعبرت ناك انجام
روایات میں آیا ہے كہ جنگ بدر اور سخت شكست كے بعد ،جو مشركین قریش كو اٹھانى پڑى تھى ، ابولہب نے جوخود میدان جنگ میں شریك نہیں ہوا تھا ،ابوسفیان كے واپس آنے پر اس ماجرے كے بارے میں سوال كیا،ابو سفیان كے قریش كے لشكر كى شكست اور سركوبى كى كیفیت بیان كی، اس كے بعد اس نے مزید كہا :
خدا كى قسم ہم نے اس جنگ میں آسمان وزمین كے درمیان ایسے سوار دیكھے ہیں جو محمّد (ﷺ)كى مدد كے لیے آئے تھے ۔
اس موقع پر عباسؓ كے ایك غلام ابورافعؓ نے كہا :
میں وہاں بیٹھاہوا تھا ،میں نے اپنے ہاتھ بلند كیے اور كہا كہ وہ آسمانى فرشتے تھے ۔
اس سے ابولہب بھڑك اٹھا اور اس نے ایك زوردار تھپڑمیرے منہ پر دے مارا ، مجھے اٹھاكر زمین پر پٹخ دیا اور اپنے دل كى بھڑاس نكالنے كے لیے مجھے پیٹے چلے جارہا تھا وہاں عباس ؓكى بیوی ام الفضل ؓبھى موجود تھى اس نے ایك چھڑى اٹھائی اور ابولہب كے سرپر دے مارى اور كہا :
كیا تونے اس كمزور آدمى كو اكیلاسمجھا ہے ؟
ابولہب كا سرپھٹ گیا اور اس سے خون بہنے لگا سات دن كے بعد اس كے بدن میں بدبو پیدا ہوگئی ، اس كى جلد میں طاعون كى شكل كے دانے نكل آئے اور وہ اسى بیمارى سے واصل جہنم ہوگیا ۔
اس كے بدن سے اتنى بدبو آرہى تھى كہ لوگ اس كے نزدیك جانے كى جرات نہیں كرتے تھے وہ اسے مكہ سے باہر لے گئے اور دور سے اس پر پانى ڈالا اور اس كے بعد اس كے اوپر پتھر پھینكے یہاں تك كہ اس كا بدن پتھروں اور مٹى كے نیچے چھپ گیا ۔ 
ابوسفیان وابوجہل چھپ كر قرآن سنتے ہیں
ایك شب ابوسفیان ،ابوجہل اور مشركین كے بہت سے دوسرے سردارجدا گانہ طور پر اور ایك دوسرے سے چھپ كر آنحضرت ﷺ سے قرآن سننے كے لئے آگئے آپ اس وقت نماز پڑھنے میں مشغول تھے اور ہر ایك ، ایك دوسرے سے بالكل بے خبر علیحدہ علیحدہ مقامات پر چھپ كر بیٹھ گئے چنانچہ وہ رات گئے تك قرآن سنتے رہے اور جب واپس پلٹنے لگے تو اس وقت صبح كى سفیدى نمودار ہوچكى تھى ۔اتفاق سے سب نے واپسى كے لیے ایك ہى راستے كا انتخاب كیا اور ان كى اچانك ایكدوسرے سے ملاقات ہوگئی اور ان كا بھانڈا وہیں پر پھوٹ گیا انھوں نے ایك دوسرے كوملامت كى اور اس بات پر زوردیا كہ آئندہ ایسا كام نہیں كریں گے ، اگر ناسمجھ لوگوں كو پتہ چل گیا تو وہ شك وشبہ میں پڑجائیں گے ۔
دوسرى اور تیسرى رات بھى ایسا ہى اتفاق ہوا اور پھروہى باتیں دہرائی گئیں اور آخرى رات تو انھوں نے كہا جب تك اس بات پر پختہ عہد نہ كرلیں اپنى جگہ سے ہلیں نہیں چنانچہ ایسا ہى كیا گیا اور پھر ہر ایك نے اپنى راہ لى ۔
اسى رات كى صبح اخنس بن شریق نامى ایك مشرك اپنا عصالے كر سیدھا ابوسفیان كے گھر پہنچا اور اسے كہا :
تم نے جو كچھ محمّد(ﷺ)سے سناہے اس كے بارے میں تمہارى كیا رائے ہے ؟
اس نے كہا:خدا قسم : كچھ مطالب ایسے سنے ہیں جن كا معنى بخوبى سمجھ سكاہوں اور كچھ مسائل كى مراد اور معنى كو نہیں سمجھ سكا ۔ اخنس وہاں سے سیدھا ابوجہل كے پاس پہنچا اس سے بھى وہى سوال كیا : تم نے جو كچھ محمّد (ﷺ)سے سنا ہے اس كے بارے میں كیا كہتے ہو ؟
ابوجہل نے كہا :سناكیاہے، حقیقت یہ ہے كہ ہمارى اور اولاد عبدمناف كى قدیم زمانے سے رقابت چلى آرہى ہے انھوں نے بھوكوں كو كھانا كھلایا، ہم نے بھى كھلایا ،انھوں نے پیدل لوگوں كو سواریاں دیں ہم نے بھى دیں ، انھوں نے لوگوں پر خرچ كیا، سوہم نے بھى كیا گویا ہم دوش بدوش آگے بڑھتے رہے۔جب انھوں نے دعوى كیا ہے كہ ان كے پاس وحى آسمانى بھى آتى ہے تو اس بارے میں ہم ان كے ساتھ كس طرح برابرى كرسكتے ہیں ؟ اب جب كہ صورت حال یہ ہے تو خداكى
قسم ہم نہ تو كبھى اس پر ایمان لائیں گے اور نہ ہى اس كى تصدیق كریں گے ۔
اخنس نے جب یہ بات سنى تو وہاں سے اٹھ كر چلاگیا (سیرت ابن ہشام جلداول ص337 ، اور تفسیر فى ظلال القرآن جلد6 ص 173)
جى ہاں : قرآن كى كشش نے ان پر اس قدرا ثركردیا كہ وہ سپیدہ صبح تك اس الہى كشش میں گم رہے لیكن خود خواہى ، تعصب اور مادى فوائدان پر اس قدر غالب آچكے تھے كہ انھوں نے حق قبول كرنے سے انكار كردیا ۔اس میں شك نہیں كہ اس نورالہى میں اس قدر طاقت ہے كہ ہر آمادہ دل كو وہ جہاں بھى ہو، اپنى طرف جذب كرلیتا ہے یہى وجہ ہے كہ اس (قرآن)كا ان آیات میں جہاد كبیر كہہ كر تعارف كروایا گیا ہے۔
ایك اور روایت میں ہے كہ ایك دن اخنس بن شریق كا ابوجہل سے آمناسامنا ہوگیا جب كہ وہاں پر اور كوئی دوسرا آدمى موجود نہیں تھا۔تو اخنس نے اس سے كہا :سچ بتائو محمّد (ﷺ)سچاہے ،یاجھوٹا؟ قریش میں سے كوئی شخص سوامیرے اور تیرے یہاں موجود نہیں ہے جو ہمارى باتوں كو سنے ۔
ابوجہل نے كہا:وائے ہو تجھ پر خداكى قسم وہ میرے عقیدے میں سچ كہتا ہے اور اس نے كبھى جھوٹ نہیں بولالیكن اگر یہ اس بات كى بناہو جائے كہ محمّد(ﷺ) كا خاندان سب چیزوں كو اپنے قبضہ میں كرلے، حج كا پرچم ، حاجیوں كو پانى پلانا،كعبہ كى پردہ دارى اور مقام نبوت تو باقى قریش كے لئے كیا باقى رہ جائےگا۔
(مندرجہبالاروایات تفسیر المنار اور مجمع البیان سے سورۂ انعام آیت 33/ كے ذیل میں بیان كردہ تفسیر سے لى گئی ہیں)
Advertisements
2 comments
  1. Asad Qureshi said:

    MashaAllah, amazing story loved it. Jazakallah Khair

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: