قربانی کے مخصوص جانور

 
 اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے :
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكاً لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ اور ہم نے ہر امّت کے لیے قربانی کی جگہ مقرر کی تاکہ جو مویشی
جانور اللہ نے ان کو دیئے ہیں ان پر اللہ کا نام ذکر کریں۔ (الحج، 34)
اس آیت میں قربانی کے جانور بھیمۃ الأنعام  مقرر کیے گئے ہیں۔ اور بھیمۃ الأنعام  کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے:
وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ۔۔ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ  الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ نَبِّؤُونِی بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ۔۔ وَمِنَ الإِبْلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ قُلْ لآیة، اور  انعام
(چوپایوں)میں سے بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے ۔ کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمھیں رزق دیا اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو ، یقیناً وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ آٹھ اقسام ، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، کہہ دیجئے کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جس پر ددنوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ مجھے کسی علم کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔ اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو۔
(الأنعام،142-۔-144)
احادیث کے مطابق اِنہی مخصوص جانوروں کی قربانی کا ذکر نص میں ملّتا ہے :1-اونٹ ، 2- گائے اور 3- بکری۔ان تینوں قسموں میں ان کی نوعیں بھی شامل ہیں، چنانچہ نر ، مادہ ، خصی و غیرخصی سب کا حکم یکساں ہے۔
اس میں شک نہیں کہ موٹی تازی اور عمدہ قربانی کو آپ پسند کرتے جیسا کہ حافظ نے تلخیص میں یہ مرفوع حدیث نقل کی ہے: اَحَبُّ الضَّحَا يَا اِلَی اللهِ اَعْلَاھَا وَاَسْمَتُھَا خدا کو سب سے زیادہ محبوب قربانی موٹی تازہ اور بلند قامّت یا عمدہ قسم کی ہے۔
اور بعض علماء نے تو آیت وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللهِ کی تفسیر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’قربانی موٹی اور عمدہ ہو۔‘‘ امام بخاریؒ نے بھی ’’البدن‘‘ کی تفسیر میں ایسا ہی ایک قولِ مجاہد نقل کیا ہے۔ ایک حدیث ترمذی ابو داود میں بھی ہے کہ:
خَيْرُ الْاُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ بہترین قربانی دنبہ ہے۔
یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن آپ کا عمل یہی رہا جیسا کہ اکثر سنن نے حضرت انسؓ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ: ضَحّٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِكَبْشَيْنِ
اَقْرَنَيْنِ اَمْلَحَيْنِ ذَبَحَھُمَا بِيَدِه
وَسَمّٰی وَكَبَّرَ آپ ﷺ نے دو دنبوں کی قربانی کی جو دو سینگ والے او چتکبرے تھے۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھا)
اور حضرت علیؓ سے ترمذی میں یہ روایت بھی ہے کہ آپؓ ہمیشہ و دنبوں کی قربانی کرتے تھے، ایک نبی ﷺ کی طرف سے اور ایک اپنے لئے۔ کسی کے سوال کے جواب میں آپ نے کہا مجھ کو نبی ﷺ نے یہ حکم دیا ہے، میں اس کو کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے جس
جانور کی قربانی دی تھی وہ دنبہ ہی تھا۔ اس لئے اکثر علماء نے کہا ہے کہ بہترین قربانی دنبہ ہے۔
جبکہ کئی دوسرے علماء کرام کا کہنا ہے کہ سب سے افضل قربانی اونٹ کی ہے ، اس کے بعد گائے ، اوراس کے بعد بکری کی ، اوراس کے بعد اونٹ یا گائے کی قربانی میں حصہ ڈالنا۔
 اس کی دلیل نبی ﷺکا جمعہ کے بارے میں مندرجہ ذيل فرمان ہے: جوکوئی اوّل وقت میں جائے (نمازِ جمعہ کے لئے)گویا کہ اس نے اونٹ کی قربانی کی۔
یقینا قربانی کے لئے ایسے جانور کا انتخاب کرنا چاہئیے جس میں عیب و نقص نہ ہو، مستحب ہے کہ قربانی کا جانور‘ خوب فربہ ،خوب صورت اور بڑا ہو(فتاوی عالمگیری )
حضرت بقیہ ؓسے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ قربانی وہ ہے جو زیادہ مہنگی او رزیادہ فربہ ہو۔(سنن الکبریٰ)
جانور صحیح و سالم اور فربہ ہو جہاں تک خصی بکرے کی قربانی کا سوال ہے تو چونکہ جانوروں کی خصی کرنا عیب نہیں ہے لہٰذا خصی جانور کی قربانی جائز و درست ہے بلکہ قربانی کے لئے خصی جانور افضل ہے۔
ان رسول الله ﷺ کان اذا اراد ان يضحی اشتری کبشين عظيمين سمينين اقرنين املحين موجوأين فذبح احدهما عن امته لمن شهد لله بالتوحيد و شهد له بالبلاغ و ذبح الاٰخر عن محمد و عن اٰل محمد
حضرت رسول اللہ ﷺجب قربانی کرنے کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، فربہ، سینگ والے، چتکبرے، خصی مینڈھے خریدتے اور ایک اپنی امّت کی جانب سے ان لوگوں کے لئے ذبح فرماتے جنہوں نے اللہ کے لئے توحید کی گواہی دی اور آپ کے لئے تبلیغ رسالت کی گواہی دی اور دوسرا خود اپنی جانب سے اور اپنی اٰل کی جانب سے ذبح فرماتے۔(سنن ابن ماجہ شریف 225۔226 حدیث3113)
عن جابر قال قال رسول اللہ لا تذبحوا الا سنۃ الا یعسر علیکم فتذبحوا جذعۃ من الضان رواہ مسلم یعنی نہ قربانی کرو مگر دو دانت والا۔
کھیر کے دانت جب گرتے ہیں تو سب سے پہلے دو اگلے دانت اُگتے ہیں ۔ یعنی مسنہ وہ حیوان ہے جس کے کم از کم دو دانت نکل آئے ہوں ۔ ہاں اگر دو دانتا جانور نہ ملے تو بھیڑ کا بچہ یا دنبہ کھیرا کر لو۔ ایسا کیرا جو ابھی دو دانتا نہ ہوا ہو اور جس کی عمر سال کی ہو یا کم از کم نو دس ماہ کا ہو۔
والخصی افضل من الفحل لانه اطيب لحما کذا فی المحيط(فتاوی عالمگیری ج5 ص 499)
وعن ابی حنيفة هو اولی لان لحمه اطيب۔ ترجمہ: امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا خصی جانور (کی قربانی) افضل و اولی ہے اس لئے کہ اس کا گوشت عمدہ و لذیذ ہوتا ہے۔( تبین الحقائق ج 6 کتاب الاضحیۃ ص 479)
الموجوء خصی جانور کوکہتے ہيں ، اوریہ گوشت کے اعتبار سے غالبا فحل سے بہتر اوراکمل ہوتا ہے ، اورفحل (سانڈ یعنی نرجانور ) خلقت اورا‏عضاء کے
اعتبار سے کامل ہوتا ہے ۔خصی جانور کی قربانی جائز بلکہ افضل ہے کیونکہ اس میں دوسرے کی بہ نسبت گوشت زیادہ ،عمدہ اور لذیز ہوتا ہے۔
اونٹ،گائے،بھیڑ اور بکری کی قربانی کتاب و سنت سے ثابت ہےجب کہ واجمعوا علی ان حکم الجوامیس حکم البقر اور اس بات پر اجماع ہےکہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے ،اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے۔بھینس کو گائے کے ساتھ، بھیڑ اور دنبہ کو بکری کے ساتھ شامل و شمار کیا جائے گا لہٰذا ان سب کی قربانی بھی ہو سکتی ہے۔(فتویٰ عالمگیری ج5ص297)
یہ مسئلہ کہ قربانی میں بھینس ذبح کی جاسکتی ہے یا نہیں ۔سلف صالحین میں متنازعہ مسائل میں شمار نہیں ہوا چند سال سے یہ مسئلہ اہل حدیث عوام میں قابل بحث بنا ہوا ہے ۔جبکہ ایسے مسئلہ میں شدت پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب بہیمۃ الانعام (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے۔
جہاں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے وہاں یہ الفاظ مرقوم ہیں
قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا(سورۃ الانعام)ان چیزوں کے سواء جس چیز کی حرمت ثابت نہ ہو وہ حلال ہے بھینس ان میں نہیں اس کے علاوہ عرب لوگ بھینس کو بقرہ (گائے )میں داخل سمجھتے ہیں۔
اگر اس (بھینس )کو جنس بقر(گائے کی جنس)سے مانا جائے یا عموم بہیمۃ الانعام پر نظر ڈالی جائے تو حکم جواز قربانی کے لیے یہ علت کافی ہے۔ بھینس بھی بقر میں شامل ہے اس کی قربانی جائز ہے۔
شرعاً بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور اس کی قربانی کرنا درست ہے ۔کیونکہ گائے کی جنس سے ہے گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی جائز و درست ہے اس دلیل کو اگر نہ مانا جائے تو گائے کے ہم جنس بھینس کے دودھ اور اس کا گوشت کے حلال ہونے کی بھی دلیل مشکوک ہو جائے گی۔
خلاصہ
بحث یہ ہے کہ بکری گائے کی(قربانی ) مسنون ہے اور بھینس بھینسا کی قربانی جائز اور مشروع ہے اور ناجائز لکھنے والے کا مسلک واضح نہیں ہے۔تا ہم چونکہ نبی کریمﷺ یا صحابہ کرام ؓسے صراحتا بھینس کی قربانی کا کوئی ثبوت نہیں لہذٰا بہتر یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے بلکہ صرف گائے،اونٹ،بھیڑ اور بکری کی ہی قربانی کی جائے اور اسی میں احتیاط ہے۔(اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور مخصوص ہیں جو یہ ہیں :
اونٹ ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، گائی ، بیل، بھینس، بھینسا اور بچیا ، اگر کسی نے ان کے علاوہ کسی اور جانور کو قربانی کی نیت سے ذبح کیا جیسے خرگوش
یا مرغی ، تو وہ قربانی کرنے والا نہیں کہلائے گا۔اسی طرح وحشی جانور جیسے نیل گائے، بارہ سنگھا اور ہرن کی قربانی بھی نہیں ہوسکتی)
رسول اللہ ﷺ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے اوٹ، گائے، بکری، دنبہ کی قربانی دی ہے۔ گائے کی قربانی اپنے ازواجِ مطہرات کی طرف سے دی تھی اور اونٹ بکری اور دنبہ کی قربانی آپ نے اپنی طرف سے مختلف اوقات میں کی۔ صحابۂ کرامؓ سے بھی انہی جانوروں کی قربانی ثابت ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: