سورۃ الفاتحہ (ترجمہ و تفسیر) حصہ ششم

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ایسا معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے مبارک نام سے ہر کام کا آغاز و افتتاح الٰہی سنت اور آداب خداوندی میں شامل رہا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے علم الاسماء سے نوازا گیا۔ حدیث کے مطابق اللہ کی ذات پر دلالت کرنے والے تکوینی اسماء یہی انبیاء علیہم السلام ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہوتے وقت فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ مَجْریہا وَ مُرْسٰھا [11 ہود : 41]
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے نام اپنے خط کی ابتدا بسم اللہ سے کی: اِنَّہ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ [27 نمل : 30 ]
حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر جب پہلی بار وحی نازل ہوئی تو اسم خدا سے آغاز کرنے کا حکم ہوا : اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ-[ علق: 1]
یہ الٰہی اصول ہر قوم اور ہر امت میں رائج ہے: وَ لِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَامَنْسَکاً لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَةِ الْاَنْعَامِ اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک دستورمقرر کیا ہے تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں۔.[ حج : 34]
وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیفَادْعُوْہُ بِھَا۔ اور زیبا ترین نام اللہ ہی کے لیے ہیں پس تم اسے انھی (اسمائے حسنیٰ) سے پکارو۔[اعراف : 190]
وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَةً وَّ اَصِیْلاً۔اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں۔[ دھر: 25]
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے رسول اللہ ﷺسے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی نسبت سوال کیا آپ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بڑے ناموں اور اس میں اس قدر نزدیکی ہے جیسے آنکھ کی سیاہی اور سفیدی میں۔ ابن مردویہ میں بھی یہی کی روایت ہے۔
ابن مردویہ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ نے معلم کے پاس بٹھایا تو اس نے کہا لکھئے بسم اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا بسم اللہ کیا ہے ؟ استاد نے جواب دیا میں نہیں جانتا۔ آپ نے فرمایا “ب” سے مراد اللہ تعالیٰ کا “بہا” یعنی بلندی ہے اور “س” سے مراد اس کی سنا یعنی نور اور روشنی ہے اور “م” سے مراد اس کی
مملکت یعنی بادشاہی ہے اور
“اللہ” کہتے ہیں
معبودوں کے معبود اور اور
“رحمن” کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے کو “رحیم” کہتے ہیں۔ آخرت میں کرم و رحم کرنے والے کو۔ ابن جریر میں بھی یہی روایت ہے لیکن سند کی روسے یہ بے حد غریب ہے ، ممکن ہے کسی صحابی وغیرہ سے مروی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی روایتوں میں سے ہو۔ مرفوع حدیث نہ ہو واللہ اعلم۔
ابن مردویہ میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جو کسی اور نبی پر سوائے حضرت سلیمان علیہ السلام کے نہیں اتری۔ وہ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں جب یہ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم اتری بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے۔ ہوائیں ساکن ہو گئیں۔ سمندر ٹھہر گیا جانوروں نے کان لگا لئے۔ شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے اور پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہو گی۔
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جہنم کے 19 داروغوں سے جو بچنا چاہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے۔ اس کے بھی 19 حروف ہیں۔ ہر حرف ہر فرشتے سے بچاؤ بن جائے گا۔ اسے ابن عطیہ نے بیان کیا ہے اس کی تائید ایک اور حدیث بھی ہے جس میں آپ نے فرمایا میں نے 30 سے اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے یہ حضور ﷺنے اس وقت فرمایا تھا جب ایک شخص نے ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پڑھا تھا اس میں بھی 30 سے اوپر حروف ہیں اتنے ہی فرشتے اترے اسی طرح بسم اللہ میں بھی 19 حروف ہیں اور وہاں فرشتوں
کی تعداد بھی 19 ہے وغیرہ وغیرہ۔
مسند احمد میں ہے آنحضرت ﷺکی سواری پر آپ ﷺنے فرمایا یہ نہ کہو اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا۔ ہاں بسم اللہ کہنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل و پست ہو جاتا ہے۔
نسائی نے اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے نقل کیا ہے اور صحابی کا نام اسامہ بن عمیر بتایا ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ بسم اللہ کہہ کر بسم اللہ کی برکت سے شیطان ذلیل ہو گا۔ اسی لئے ہر کام اور ہر بات کے شروع میں بسم اللہ کہہ لینا مستحب ہے۔ خطبہ کے شروع میں بھی بسم اللہ کہنی چاہئے۔ حدیث میں ہے کہ جس کام کو بسم اللہ
الرحمن
الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکتا ہوتا ہے۔
پاخانہ میں جانے کے وقت بسم اللہ پڑھ لے۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ وضو کے وقت بھی پڑھ لے۔
مسند احمد اور سنن میں ابو ہریرہ، سعید بن زید اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا “جو شخص وضو میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہوتا۔ ” یہ حدیث حسن ہے
بعض علماء تو وضو کے وقت آغاز میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب بتاتے ہیں۔ بعض مطلق وجوب کے قائل ہیں۔
جانور کو ذبح کرتے وقت بھی اس کا پڑھنا مستحب ہے۔ امام شافعی اور ایک جماعت کا یہی خیال ہے۔ بعض نے یاد آنے کے وقت اور بعض نے مطلقاً اسے واجب کہا ہے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔
امام رازی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی فضیلت میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں۔ ایک میں ہے کہ “جب تو اپنی بیوی کے پاس جائے اور بسم اللہ پڑھ لے اور اللہ کوئی اولاد بخشے تو اس کے اپنے اور اس کی اولاد کے سانسوں کی گنتی کے برابر تیرے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جائیں گی” لیکن یہ روایت بالکل بے اصل ہے ، کھاتے وقت بھی بسم اللہ پڑھنی مستحب ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ “رسول اللہ ﷺنے حضرت عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا (جو آپ کی پرورش میں حضرت ام المومنین ام سلمہ کے اگلے خاوند سے تھے ) کہ بسم اللہ کہو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے نو الہ اٹھایا کرو۔ ”بعض علماء اس وقت بھی بسم اللہ کا کہنا واجب بتلاتے ہیں۔
بیوی سے ملنے کے وقت بھی بسم اللہ پڑھنی چاہئے۔ صحیحین میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ “رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ملنے کا ارادہ کرے تو یہ پڑھے بسم اللہ اللھم جنبنا الشیطان و جنب الشیطان ما رزقتنا یعنی “اے اللہ ہمیں اور جو ہمیں تو دے اسے شیطان سے بچا” فرماتے ہیں کہ اگر اس جماع سے حمل ٹھہر جائے تو اس بچہ کو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بسم اللہ کی ”ب” کا تعلق کس سے ہے نحویوں کے اس میں دو قول ہیں اور دونوں ہی تقریباً ہم خیال ہیں۔
بعض اسم کہتے ہیں اور بعض فعل، ہر ایک کی دلیل قرآن سے ملتی ہے جو لوگ اسم کے ساتھ متعلق بتاتے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ
بسم اللہ ابتدائی یعنی اللہ کے نام سے میری ابتداء ہے۔ قرآن میں ہے ارکبوا فیھا بسم اللہ مرجریھا ومرسھا اس میں اسم یعنی مصدر ظاہر کر دیا گیا ہے اور جو لوگ فعل مقدر بتاتے ہیں چاہے وہ امر ہو یا خبر۔ جیسے کہ ابدا بسم اللہ اور ابتدات بسم اللہ ان کی دلیل آیت اقرا باسم دراصل دونوں ہی صحیح ہیں، اس لئے کہ فعل کے لئے بھی مصدر کا ہونا ضروری ہے تو اختیار ہے کہ فعل کو مقدر مانا جائے اور اس کے مصدر کو مطابق اس فعل کے جس کا نام پہلے لیا گیا ہے۔ کھڑا ہونا، بیٹھنا ہو، کھانا ہو، پینا ہو، قرآن کا پڑھنا ہو، وضو اور نماز وغیرہ ہو ان سب کے شروع میں برکت حاصل کرنے کے لئے امداد چاہنے کے لئے اور قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا نام لینا مشروع ہے واللہ اعلم۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں روایت ہے “حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سب سے پہلے جبرئیل علیہ السلام محمد ﷺپر وحی لے کر آئے تو فرمایا اے محمد کہئے استعیذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پھر کہا کہئے بسم اللہ الرحمن الرحیم مقصود یہ تھا کہ اٹھنا، بیٹھنا، پڑھنا سب اللہ کے نام سے شروع ہو۔ ”
صحابہ نے اللہ کی کتاب کو اسی سے شروع کیا۔ علماء کا اتفاق ہے کہ آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سورۃ نمل کی ایک آیت ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ وہ ہر سورۃ کے شروع میں خود مستقل آیت ہے ؟ یا ہر سورۃ کی ایک مستقل آیت ہے جو اس کے شروع میں لکھی گئی ہے ؟ اور ہر سورۃ کی آیت کا جزو ہے ؟ یا صرف سورۃ فاتحہ ہی کی آیت ہے اور دوسری سورتوں کی نہیں؟ صرف ایک سورۃ کو دوسری سورۃ سے علیحدہ کرنے کے لئے لکھی گئی ہے ؟ اور خود آیت نہیں ہے ؟ علماء سلف اور متاخرین کا ان آرا میں اختلاف چلا آتا ہے ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موجود ہے۔ سنن ابو داؤد میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسورتوں کی جدائی نہیں جانتے تھے جب تک آپ پر (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نازل نہیں ہوتی تھی۔ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے ایک مرسل حدیث میں یہ روایت حضرت سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے۔ چنانچہ صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بسم اللہ کو سورۃ فاتحہ کے شروع میں نماز میں پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کیا لیکن اس کے ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ضعیف ہیں اسی مفہوم کی ایک روایت حضرت ابو ہریرہ سے بھی مروی
ہے۔ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم، حضرت عطا، حضرت طاؤس، حضرت سعید بن جبیر، حضرت مکحول اور حضرت زہری رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ
بسم اللہ ہر سورۃ کے آغاز میں ایک مستقل آیت ہے سوائے سورۃ برات(سورۃ توبہ) کے۔
ان صحابہ اور تابعین کے علاوہ حضرت عبد اللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ اور ابو عبیدہ قاسم بن سلام رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ البتہ امام مالک امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں۔ کہ بسم اللہ نہ تو سورۃ فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورۃ کی۔ امام شافعی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ بسم اللہ سورۃ فاتحہ کی تو ایک آیت ہے لیکن کسی اور سورۃ کی نہیں۔ ان
کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سورۃ کے اول کی آیت کا حصہ ہے لیکن یہ دونوں قول غریب ہیں۔ داؤد کہتے ہیں کہ ہر سورۃ کے اول میں
بسم اللہ ایک مستقل آیت ہے سورۃ میں داخل نہیں۔
امام احمد بن حنبل سے بھی یہی روایت ہے ابو بکر رازی نے ابو حسن کرخی کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے جو امام ابو حنیفہ کے بڑے پایہ کے ساتھی تھے۔ یہ تو تھی بحث
بسم اللہ کے سورۃ
فاتحہ کی آیت ہونے یا نہ ہونے کی۔
اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ جزو سورۃ ہے۔ امام شافعی کا نظریہ بھی یہی ہے۔ عہد رسالت میں بتواتر ہر سورۃ کے ساتھ بسم اللّہ کی تلاوت ہوتی رہی اور سب مسلمانوں کی سیرت یہ رہی ہے کہ سورۃ برات کے علاوہ باقی تمام سورتوں کی ابتدا میں وہ بِسْمِ اللّٰہ کی تلاوت کرتے آئے ہیں۔ تمام اصحاب و تابعین کے مصاحف میں بِسْمِ اللّٰہ درج تھی، حالانکہ وہ اپنے مصاحف میں غیر قرآنی کلمات درج کرنے میں اتنی احتیاط ملحوظ رکھتے تھے کہ قرآنی حروف پر نقطے لگانے سے بھی اجتناب کرتے تھے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: